Original Articles Urdu Articles

عالمی دیوبندی-وہابی جہادی نیٹ ورک اور نئی شاہراہ ریشم کا چینی خواب

چین کے مغربی صوبے جس کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ الحاق رکھنے والی ریاست گلگت-بلتستان سے ملتی ہیں کے دارالحکومت میں گذشتہ دنوں بم دھماکے ہوئے اور چاقوؤں سے حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوا اور 80 کے قریب لوگ زخمی ہوگئے

چین میں یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے جب چینی صدر نے سنکیانگ کا دورہ کرنا تھا
چینی حکام کے مطابق اس حملے میں مشرقی ترکستان اسلامک پارٹی ملوث ہے اور یہ وہ پارٹی ہے جو 80ء کے عشرے میں سنکیانگ میں ان ترکستانی دیوبندی-وہابی عسکریت پسندوں اور شدت پسند مولویوں نے بنائی تھی جو افغانستان سے مسلح تربیت لیکر آئے تھے اور ان میں سے اکثر نے پاکستان ،افغانستان میں دیوبندی مدارس اور سعودی عرب میں مکّہ کے اندر وہابی مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی اور بعد ازاں اس پارٹی کے بہت گہرے مراسم پاکستان اور افغانستان میں دیوبندی جہادیوں کے ساتھ استوار ہوگئے

حال ہی میں اسلامک ترکستان موومنٹ نام کی خارجی دیوبندی -وہابی تکفیری دھشت گرد تنظیم کے سربراہ عبداللہ منصور نے رائٹر خبر رساں ایجنسی کو افغان سم سے فون کیا اور اس میں کہا تھا کہ ان کی تنظیم چین میں بڑے پیمانے پر دھشت گردانہ حملے کرے گی اور ان کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ سنکیانگ کو اسلامی امارت ترکستان میں بدلنے تک جاری رہے گا
پاکستان اور افغانستان میں دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کے جو ٹھکانے ہیں وہاں پر سنکیانگ صوبے سے تعلق رکھنے والے دیوبندی-وہابی ترکستانی دھشت گردوں نے پناہ لی ہوئی ہے اور یہ دھشت گرد وہآں پر مسلح تربیت اور دیگر دھشت گردی کرنے کے طریقے سیکھتے ہیں
چودہ مارچ 2014ء کو پی پی پی کے دور میں وفاقی وزیر داخلہ رہے رحمان ملک نے میڈیا پر یہ انکشاف کیا تھا کہ ان کی وزرات کے دور میں 20 ترکستانی دھشت گردوں کو گرفتار کرکے چینی حکام کے حوالے کیا گیا تھا
جبکہ انٹیلی جنس زرایع نے رائٹر خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ 1000 کے قریت ترکستانی چینی دھشت گردوں نے شمالی وزیرستان کے دوردراز علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے اور یہ براہ راست ٹی ٹی پی اور لشکر جھنگوی جیسی دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کے مہمان ہیں اور ان ایجنسی زرایع کا کہنا تھا کہ بہت سے ترکستانی دیوبندی مدارس میں بھی پڑھ رہے ہیں
جبکہ افغان انٹیلی جنس حکام کے مطابق افغانستان کے سرحدی علاقے کنڑ اور نورستان جن کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں وہاں پر بھی طالبان کے ساتھ 300 کے قریب ترکستانی دھشت گرد موجود ہیں اور یہ وہی علاقے ہیں جہآں ملاّ فضل اللہ اور ان کے دیگر ساتھی بیٹھ کر پاکستان کے اندر کاروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں
سنکیانگ جہاں ترکستانی نسل کے مسلمانوں کی اکثریت ہے شنشہائیت کے دور سے علیحدگی پسند رجحانات کا حامل رہا ہے جب ماؤزے تنگ کا اشتراکی انقلاب آیا تو ترکستانیوں نے ایک مختصر سی مدت کے لیے یہاں پر عوامی جمہوریہ ترکستان کا اعلان بھی کیا اور پھر جب چینی حکام نے اسے سنکیانگ کا نام دیا اور اس کی آزادی و خودمختاری کا مطالبہ رد کرڈالا تو نیشنل ترکستان پارٹی وجود میں آئی جس نے قومی آزادی کی تحریک چلائی اور یہ نیشنل ترکستان پارٹی روشن خیال ،ترقی پسند اور اشتراکی خیالات کی جماعت تھی جسے چینی حکام نے بھی کچلنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور ان کے مقابلے میں 80ء کی دھائی میں سنکیانگ میں ترکستانی دائیں بازو کے مذھبی گروہوں کو لاکر کھڑا کرنے کی کوشش کی اور اس زمانے میں اچانک ترکستانی باشندوں کو سعودی عرب،پاکستان اور افغانستان کے دیوبندی و وہابی مدرسوں میں پڑھنے کی اجازت دی گئی اور اس طرح سے سنکیانگ میں دیوبندی-وہابی نظریات کی حامل عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کی بنیادیں رکھنے میں خود چینی حکام کا بھی ہاتھ تھا
افغانستان،سعودی عرب اور پاکستان میں چینی حکام کی رضامندی سے آنے والے یہ انتہا پسند جس زمانے میں یہاں آئے تو پاکستان میں ضیاء الحق کی حکومت تھی جبکہ امریکہ میں صدر ریگن اور سعودی عرب میں شاہ فہد تھے
یہ تینوں حکمران سویت یونین کے خلاف ایک عالمی جہادی فرنٹ دیوبندی-وہابی خارجی فکر کے ساتھ بنا اور چلارہے تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خود چین بھی اس پروجیکٹ میں سویت روس کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے رہا تھا
سنکیانگ میں ترکستان نیشنلسٹ تحریک کو سویت روس کی حمائت حاصل تھی اور سویت روس آزاد ترکستان کی حمائت کرتا تھا جوکہ ایک سیکولر قومی آزادی کی تحریک تھی جس کو قومی ترکستان پارٹی چلارہی تھی اور اس تحریک کا زور توڑنے کے لیے چین نے اس زمانے میں ضیاءالحق اور شاہ فہد کی خدمات حاصل کیں جو بعد میں خود ان کے گلے پڑگئیں
نائن الیون سے پہلے ہی اسامہ بن لادن کے افغانستان آجانے کے بعد اسلامک ترکستان موومنٹ کے تعلقات جہاں افغان طالبان سے استوار ہوئے وہیں ان کے تعلقات القائدہ سے بھی بنے اور پھر جب نائن الیون کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تو اس تنظیم کی قیادت اور بہت سے سارے دھشت گرد وزیرستان چلے آئے اور بہت سے لوگ دیوبندی مدارس میں اساتذہ یا طالب علموں کی شکل میں آگئے اور اب ٹی ٹی پی سے ان کے رشتے بہت مستحکم بتائے جات ہیں اور اس تنظیم کی دھشت گردانہ کاروائیوں میں بھی اضافے کی اطلاعات ہیں
برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ترکستان اسلامک موومنٹ اب محض چین کے صوبے سنکیانگ میں لو پروفائل کی ایک انتہا پسند تنظیم نہیں رہی بلکہ یہ دھشت گردی کے عالمی دیوبندی-وہابی جہادی نیٹ ورک کا حصّہ ہے اور اس کے اراکین صرف چین ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں سرگرم ہیں

یاد رہے کہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ پر حملہ کرنے والے افراد میں سے دو کے بارے میں یہ شک ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ترکستانی تھے
القائدہ،ٹی ٹی پی اور اسلامک ترکستان موومنٹ کے باہمی اشتراک کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ اشتراک ملکر چین کے مجوزہ نئے سلک روڈ کی تعمیر کے منصوبے کو تباہ کرسکتا ہے
کیتھ جانسن کا ایک انتہائی اہم آرٹیکل امریکہ کے انتہائی اہم جریدے فارن پالیسی اور معروف امریکی احبار واشنگٹن پوسٹ اور پاکستان کے انگریزی اخبار روزنامہ ڈان میں شایع ہوا ہے
کیتھ جانسن کا کہنا ہے کہ چین اپنی انرجی سپلائی کے راستوں کو امریکی ناکہ بندی یا حملوں سے بچانے کے لیے اور سفری لاگت میں کمی لانے کے لیے تنوع بخش بنانا چاہتا ہے اور اس کا ایک حصّہ نئے سلک روڑ کی تعمیر ہے اور چین کا یہ خواب خواب ہی رہے گا اگر وہ ترکستانی وہابی -دیوبندی دھشت گردوں کے اس نئے عالمی ظہور کو ختم نہیں کرتا
1990ء سے چین کو تیل و گیس کی سپلائی افریقہ سے مڈل ایسٹ کے ساحلوں سے مشرقی چین کے ساحلوں تک کرنا ہوتی ہے اور اسی سپلاائی پر چین کی تمام تر معشیت کا انحصار ہے جبکہ چین ان زمینی راستوں کے زریعے تیل کی سپلائی کا روٹ بحال کرنے کا خواہش مند ہے جن کے زریعے چین سے مڈل ایسٹ تک تجارت ہزاروں سال سے ہوتی رہی اور اسے شاہراہ ریشم بھی کہا جاتا ہے
چین قازقستان،ازبکستان اور پاکستان کے ساتھ زمینی راستوں سے ایک نئی شاہراہ ریشم بنانا چاہتا ہے اور یہ نیا سلک روڈ نئی موٹر ویز اور ریل روڈز و انرجی پائپ لائنوں کا مقتاضی ہے جس پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے
چین-پاکستان اکنامک کوریڈور اس نئی شاہراہ ریشم کا ایک جزو ہے جس پر چین 30 بلین ڈالر خرچ کرے گا اور یہ کوریڈور چین کے صوبے سنکیانگ سے لیکر گوادر تک سڑکیں اور ریل روڈ کی تعمیر پر مشتمل ہوگا
اس چین-پاکستان معاشی راہداری کے راستے میں اس وقت سب سے بڑی روکاوٹ دیوبندی-وہابی دھشت گرد نیٹ ورک ہے جو ایک طرف تو خود چین کے صوبے سنکیانگ میں تیزی سے اپنی جڑیں مضبوط بنارہا تو دوسری طرف سنکیانگ سے ملحق گلگت بلتستان میں بھی دیوبندی دھشت گرد نیٹ ورک بہت مضبوط ہوکر سامنے آیا ہے اور یہ سلسلہ اس پورے کوریڈور ميں آخر گوادر تک موجود ہے
چین پاکستان کی موجودہ حکومت اور فوجی اسٹبلشمنٹ کے اوپر زور دے رہا ہے کہ وہ اسلامک ترکستان موومنٹ اور اس کے مددگاروں کے خلاف سخت آپریشن کرے
لیکن پاکستان کی ملٹری اور موجودہ سول منتخب حکومت ایک گھن چکر میں کھڑی ہوئی ہے کہ ایک طرف تو وہ دیوبندی-وہابی عسکریت پسند تںظیموں کے ایک بڑے حصّہ کو ہندوستان،افغانستان میں اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کررہی ہے تو دوسری طرف اسے شام کے اندر سعودی عرب کے من چاہے نتائج حاصل کرنے کے لیے دیوبندی-وہابی کلنگ مشین کی ضرورت ہے ليکن یہ جو دیوبندی-وہابی کلنگ مشین کے ساتھ القائدہ و اسلامک ترکستان موومنٹ جیسے عناصر کی رشتہ داری ہے اس نے اس سارے معاملے کو بہت پیچیدہ بناڈالا ہے ،اسی لیے ملٹری اور سول حکومت دیوبندی-وہابی دھشت گردوں کے ساتھ کہیں اتفاق میں اور کہیں تنازعے میں گھری نظر آتی ہے
لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر فوج اور سول حکومت دیوبندی-وہابی کلنگ مشین کے ساتھ اپنی رشتہ داری ختم نہیں کرتی اور اسے اچھے اور برے دھشت گردوں میں بانٹ کردیکھتی رہتی ہے تو پھر 30 بلین ڈالر کی لاگت کا یہ پاکستان-چین راہداری پروجیکٹ ایک خواب ہی رہے گا

http://www.theguardian.com/commentisfree/2014/may/06/terrorism-china-uighur-militants-afghanistan-pakistan
http://en.wikipedia.org/wiki/Terrorism_in_China
http://www.reuters.com/article/2014/03/14/us-pakistan-uighurs-idUSBREA2D0PF20140314
http://www.foreignpolicy.com/articles/2014/05/01/rough_ride_on_the_silk_road