Newspaper Articles Urdu Articles

عرب نیشنل گارڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بشار الاسد کی حمائت میں ایک نئی گوریلا فورس قائم

شام میں جاری تصادم میں ایک نئی پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے اور وہ یہ ہے کہ مڈل ایسٹ میں عرب قوم پرستوں نے ملکر عرب نیشنلسٹ گارڑ (اے این جی)کے نام سے بشار الاسد کی حمائت میں لڑنے کے لیے قائم کی ہے
25 سالہ قوم پرست لبنانی جنگجو جس کا تعلق اے این جی سے ہے نے لبنانی اخبار الاکبر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ
جب امریکہ نے 2013ء میں شام پر حملے کی آواز اٹھائی تو ٹی وی دیکھتے ہوئے اس نے حزب اختلاف کے مضبوط گڑھ شام کے قصبے حماء میں ایک ہجوم کو امریکی جھنڈا لہراتے دیکھا تھا اور کیا کوئی شام میں اس طرح سے امریکی چھنڈا لہرائے جانے کی ذلت برداشت کرسکتا ہے
ندال نے ایش ٹرے میں اپنی سگریٹ کے آخری ٹوٹے کو مسل کر بجھاتے ہوئے مصر کے پہلے قوم پرست صدر جمال عبدالناصر کا یہ معروف فقرہ دوہرایا
اگر امریکہ مجھ سے مطمئن ہے تو جان لو کہ میں غلط راستے پر ہوں
اے این جی کے ایک اور پرانے جنگجو اور ندال کا دوست جس نے شامی جھنڈے والی شرٹ پہنی ہوئی تھی ندال کی بات کو یوں آکے بڑھایا کہ
جب 2013ء میں امریکہ نے شام پر حملے کا ارادہ کرلیا تھا تو یہ واضح ہوگیا تھا ہم جو عرب نوجوان ہیں جو ہمیشہ عرب قوم پرست تحریک (اے این ایم )کے راستے پر چلے ہیں غیرجانبدار نہیں رہ سکتے کیونکہ یہ لڑائی صرف شام کی بقاء یا اس کے تقسیم ہونے کی نہیں بلکہ پوری عرب قوم کی بقاء کی لڑائی ہے
اے این جی مئی 2013ء میں شام پر اسرائیلی فضائیہ کے حملوں کے بعد لبنان کے جنوب میں واقع جبل عمل کے شہر کے باسی ابو عید نے عرب نیشنلسٹ یوتھ کیمپ کے ساتھیوں کے ساتھ ملکر قائم کی اور اس کا مقصد عرب قوم پرستی کی فکر کو باقی رکھنا تھا جو شام پر مغربی مداخلت کی وجہ سے تباہی کے خطرے سے دوچار تھی
ابو عید جوکہ 35 سال کا ہے لو پروفائل مں رہتا ہے اور لبنانی حکام سے بچتا ہے اور اسے کئی مرتبہ لبنانی حکام نے نظر بند کیا اور اس سے شام میں اس کی سرگرمیوں کے بارے پوچھ گچھ کی مگر ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اسے رہا کرنا پڑا جبکہ وہ امریکہ کے عراق پر حملے کے خلاف بھی لڑچکا ہے لیکن اب وہ اپنا زیادہ وقت شام میں گزارتا ہے
اے این جی کے زیادہ تر گوریلے اے این وائی سی کے موجودہ اور سابقہ رکن ہیں اور اے این وائی سی 1990ء میں بنی تھی اور مقصد عرب نیشنل ازم کا احیاء تھا اور یہ کیمپ سالانہ کانفرنسیں سماجی اور سیاسی ایشوز پر کرتا رہتا ہے
اے این وائی سی عرب نیشنلسٹ موومنٹ -اے این ایم سے متاثر ہے جوکہ فلسطینی نژاد مارکسی انٹلیکچوئل جارج حباش نے 1940ء میں شروع کی تھی اور جارج حباش کے گروپ نے 1950 ء میں شامی دانشور کانسٹینین زوریق سے اتحاد کیا تو یہ اے این ایم ہوگئی جس کا زیادہ فوکس سامراجیت اور صہیونیت کو مسترد کرنے اور ایک واحد عرب قوم کے تصور کو عمل کا روپ دھارنے پر ہے اور یہ فرقہ واریت،نسل پرستی اور مذھبی انتہا پسندی کو رد کرتی ہے
عرب قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ ہم بشارالاسد کی بقاء کی لڑائی نہیں لڑرہے بلکہ ہم عرب قوم کی بقاء کی لڑائی لڑرہے ہیں
ندال کا بھائی کہتا ہے کہ شامی فوج کی شراکت سے اے جی این نے جبل قاسیون پر اپنے فوجی کیمپ لگائے اور اس طرح سے ہم لڑائی میں داخل ہوگئے
اے این جی کی چار بٹالین ہیں جن کے نام چار شہید رنماؤں کے نام پر ہیں
واضح حداد بٹالین -واضح حداد فلسطینی لبریشن فرنٹ کا رکن تھا جس نے 60 اور 70 کے آخری عشروں میں جہاز اغواء کرنے میں مہارت حاصل کرلی تھی
محمد براہیمی بٹالین-یہ تیونس کا سیکولر سیاست دان تھا جس نے آمر بن علی کے گرنے کے بعد نیشنلسٹ و سوشلسٹ تحریک بناائی تھی اور اسے 2013ء میں قتل کردیا گیا تھا
حیدر العاملی بٹالین-حیدر ایک جدید عرب قوم پرست لیڈر تھا اور وہ لبنان سے تعلق رکھتا تھا ،2006ء میں اسراغیلی حملے میں وہ زخمی ہوا اور پھر دم توڑ گیا
جویلس جمال بٹالین-جویلس جمال ایک شامی نیوی افسر تھا جس نے جنگ نہر سویز کے دوران ایک فرانسیسی جہاز ڈبودیا تھا 1958ء کے دوران
اے این جی کے کامریڈز کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم میں مصر،فلسطین سے لوگ آکر بھرتی ہوئے جب امریکہ نے شام پر ہوائی حملے کی دھمکی دی تو اس پروسس میں تیزی آگئی
عرب نیشنل گارڑ شامی فوج اور نیشنل ڈیفنس فورسز کے ساتھ بہت تعاون کرتی ہے اور یہ شام کے بہت سے علاقوں میں آپریٹ کررہی ہے جن میں دمشق ،دراء،حمص اور الیپو صوبے شامل ہیں اور اے این جی میں فلسطین،تنزانیہ،مصر ،یمن اور شام کے قوم پرست گوریلے شامل ہیں
عرب نیشنل گارڑ میں شامل ہونے والوں کو صرف مسلح تربیت ہی نہیں دی جاتی بلکہ ان کو عرب قوم پرست آئیڈیالوجی سمیت دیگر سیاسی نظریات و افکار کی کلاسوں میں شرکت لازم ہے
اے این جی 1000 گارڑز پر مشتمل ہے اور اب تک اس کے 49 گوریلے اپنی جانون سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں
اے این جی کی عمر صرف ایک سال ہے مگر اس کے اراکین فلسطین ،عراق اور لیبیا میں لڑ چکے ہیں
اے جی این میں 70 خواتین فائٹر بھی ہیں اور اے جی این کا کہنا ہے کہ شام کا تنازعہ اب علاقائی یا مقامی تنازعہ نہیں ہے بلکہ یہ تنازعہ بین الاقوامی ہوچکا ہے اور اس میں ایک کمیپ تو سامراجی قوتوں اور ان کے دوستوں اور گماشتے عرب ملکوں کا ہے جو شام میں مذھبی دھشت گردوں اور سامراجی امریکی پھٹوؤں کو پوری مدد دے رہے ہیں دوسرا کیمپ عرب قوم پرست ،شامی افواج اور ان کے حامیوں کا ہے جو سامراجی قبضے کے خلاف لڑرہے ہیں

 

Arab nationalists take up arms in the battle for Syria