Featured Urdu Articles

پانچ دیوبندی عسکریت پسند اور مستقبل کا پاکستانی عسکریت پسندی کا تناظر -مائیکل کوگلمان

عمر خالد خراسانی

تحریک طالبان پاکستان کی مومند قبائلی ایجنسی میں تنظیم کا سربراہ عمر خالد خراسانی شاید پاکستان میں طالبان کے سب سے خطرناک رہنماؤں میں سے ایک ہے
یہا ں تک کہ پاکستانی طالبان کے بربریت پر مبنی معیارات کے اعتبار سے بھی خراسانی غیر سمجھوتہ باز ظالم ہے
حالیہ مہینوں میں جب اس کی تنظیم ٹی ٹی پی اسلام آباد سے مذاکرات کی کوشش کررہی تھی تو اس سابق صحافی کو کئی ہائی پروفائل حملوں میں نامزد کیا گیا -فروی میں اس نے اپنی تحویل میں 2010ء سے موجود 23 پاکستانی فوجیوں کو ذبج کرنے کا حکم دے دیا تھا -پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ وہ اپریل میں اسلام آباد میں فروٹ منڈی میں ہونے والے بم دھماکوں میں بھی ملوث ہے اور وہ مارچ کے مہینے میں اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس پر ہونے والے حملے میں بھی اسی کے گروپ کو ملوث بتلاتے ہیں
اسلام آباد عدالتوں پر حملے کی زمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک گروپ نے خود کو احرارالہند کا نام دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ حکومت سے ٹی ٹی پی کی بات چیت سے اختلاف کی وجہ سے الگ ہونے والا گروپ ہے جبکہ خراسانی کے مذاکرات کے خلاف دئے جانے والے بیانات کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ احرار الہند اصل میں ٹی ٹی پی مہمند ایجنسی کا ہی ایک کور نام ہے
خراسانی جیسے ہی قتل و غارت گری کرتا ہے تو وہ تمسخر اور ہنسی بھی اڑانے لگتا ہے-19 اپریل 2014ء کو پاکستان میں جیو جنگ گروپ سے منسلک معروف صحافی حامد میر پر حملہ ہوا تو خراسانی کے ترجمان نے میر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر یہ پیغام دیا کہ
اصل میں اس پر حملہ ناگزیر ہوگیا تھا (اگرچہ اس نے اس حملے کی زمہ داری قبول نہ کی)
خراسانی نے بہت صریح طور پر یہ بیان دیا کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ لازمی ہونا چاہئیے ،اس نے اس ماہ میں جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ اس بات پر بھی راضی نہیں ہیں کہ 99 فیصد شریعہ نافذ کریں اور ایک فیصد نہ کریں جبکہ ایک انٹرویو میں اس نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا سب سے بڑا دشمن ہندوستان یا امریکہ نہیں بلکہ پاکستان ہے اور اس نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا
ایسے خیالات بتارہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ٹی ٹی پی کے لوگ افغان طالبان سے ملکر اپنے آپریشنل تعاون کو بڑھائیں گے جبکہ بعض تبصرہ نگاروں کے خیال میں ایسے خیالات طالبان کے انٹرنیشنل عزائم کی خبر دیتے ہیں جیسے کہ یہ شام میں اپنے عسکریت پسندوں کو بھیجنا شروع ہوگئے ہیں

خراسانی تاہم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستانی طالبان میں جو سب سے زیادہ خون آشام دھڑے ہیں جن میں وہ بھی شامل ہیں جو وزیرستان سے باہر اپنے ٹھکانے رکھتے ہیں کا زیادہ فوکس پاکستانی ریاست کو گرانا ہے اور خراسانی پاکستانی حکومت سے مذاکرات کرنے والوں کے لیے بھی چیلنچز لیکر آنے والا شخص بن گيا ہے کیونکہ اس کا امن مذاکرات کے خلاف غیر لچک دار اور سخت موقف طالبان کے اندر گہری دراڑوں کا باعث بن گیا ہے جسے ایک ہوشیار و دانا پاکستانی حکومت(فوج)مزید ہوا دے سکتی ہے

عمر عاصم

عمر عاصم القائدہ کا پروپیگنڈا کرنے والا دھشت گرد ہے جبکہ وہ پاکستانی طالبان سے بھی منسلک ہے جبکہ وہ ابھی کم ہی جانا جاتا ہے لیکن وہ ایک ابھرتا ہوا ستارہ لگتا ہے اور 9/11 کی گیارویں برسی کے موقعہ پر القائدہ کی طرف سے جاری ہونے والی فلم میں بھی وہ نمایاں نظر آیا اور اس ماہ القائدہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک اوپن انٹرویو کا موضوع ہوگا جو مئی کے وسط میں آن ائر ہوگا

عمر کی آئیڈیالوجی کلاسیکل القائدہ ہے اور وہ امریکہ مخالف نظریہ کے ناگزیر بیج تلاش کرتا ہے جیسا کہ اس نے بلیک واٹر پر ایک کتاب لکھی جس کو اس نے اینٹی کرائسٹ لشکر کا نام دیا اور وہ جہاد کے گلوبل اور امریکہ فوکس سمت اور جہت پر زور دیتا ہے -گذشتہ سال اس نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں امریکہ کے ستونوں کو آخری دھکہ دینے کے لیے گلوبل جہاد پر زور دیا اور اس نے کہا تھا کہ
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ہر جگہ شکست دینے کے لیے جانوں کی قربانیاں دی جارہی ہیں

اب جبکہ عاصم عمر ایک پروپیگنڈا باز ہے لیکن اس کے پیغامات وہ جھروکہ ہیں جس میں جھانک کر القائدہ کی سوچ کو پکڑا جاسکتا ہے اور اس اعتبار سے یہ بات بہت واضح ہے کہ یہ تنظیم کم از کم نعرے کی حد تک امریکہ کو اپنا مرکزی ہدف بنائے ہوئے ہے
القائدہ کے افغانستان اور پاکستان میں کمزور پڑجانے والی کور اور مڈل ایسٹ سے شمالی افریقہ تک اس سے الحاق کرنے والے متعدد گروپس جن کا فوکس مقامی معاملات ہیں اور ایک طویل عرصہ سے اس کے پاکستان کے اندر تک جانے کے عزائم سمیت سب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ القائدہ کا مرکزی ہدف ہے

عمر ہند فوکس جہاد کی دعوت بھی دیتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی القائدہ کا فوکس نزدیک ترین دشمن بھی ہے اور اسی لحاظ سے میں نے اپنے ایک سابقہ آرٹیکل میں یہ لکھا تھا کہ القائدہ کو بہت زیادہ حمائت اپنے ساتھ منسلک جنوبی ایشیا کے دیوبندی -وہابی عسکریت پسندوں سے بھی ملتی ہے جیسے لشکر طیبہ ،لشکر جھنگوی اور پاکستانی و افغانی دونوں طالبان ہیں

مسعود اظہر
اظہر جیش محمد کا سربراہ ہے جوکہ ہندوستان مخالف دھشت گرد گروپ ہے جس کے بارے میں ہندوستان سمیت بہت سے ملکوں کے خیال میں پاکستان کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی سے مدد ملتی ہے
مسعود اظہر 1990ء میں ہندوستانی جیل میں بند تھا اور وہ 1999ء میں جب جیش محمد کے دھشت گردوں نے ہندوستانی ائرلائن کا طیارہ اغواء کرکے افغانستان پہنچادیا تو ایک ڈیل کے نتیجے میں رہا ہوا اور ہندوستان کو یقین ہے کہ مسعود اظہر نے ہی 2001ء میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملہ منظم کیا تھا اور اس پر پاکستانی صدر پرویز مشرف کو 2003ء میں قتل کرنے کی کوشش میں بھی ملوث ہونے کا الزام ہے ،اس پر الزام لگا تھا کہ اس نے پاکستان کی ائر فورس کے منحرف ٹیکنیشن عدنان رشید کے ساتھ ملکر یہ سازش کی تھی
ان واقعات کے بعد مسعود اظہر پردہ سکرین سے غائب ہوگیا اور اس کی غیبت اس سال تک رہی اور جنوری میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت میں ایک ہندوستان مخالف ریلی میں مسعود اظہر کی ریکارڑ شدہ تقریر سنائی گئی اور فروری میں اس کا پروگرام ایک یونیورسٹی کی تقریب میں بطور مہمان شرکت تھا لیکن پھر عجلت میں یونیورسٹی انتظامیہ کو اسے کینسل کرنا پڑگی
اپنی غیبت سے دوبارہ مںظر عام پر آنے کے دوران مسعود اظہر نے ہندوستان پر حملہ کرنے کے لیے اپنے تین سو خودکش بمبار تیار کئے ہوئے ہیں اور اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر نریندر مودی ہندوستان کا وزیر اعظم بنا تو وہ اس کو ماردے گا
اس سال انٹرنیشنل فوجی دستوں میں زیادہ تر دستے افغانستان سے چلے جائیں گے تو بہت سے عسکریت پسند گروپس جن میں لشکر طیبہ بھی ہے جس کا اصل فوکس ہندوستان محالف سرگرمیاں ہیں اپنی توجہ پھر سے ہندوستان کی طرف کریں گے اور ہندوستان میں اپنے آپریشن کو وسعت دیں گے
مسعود اظہر کا دوبارہ منظر عام پر آنا اور ہوسکتا ہے یہ دوبارہ ظہور پاکستانی سیکورٹی حکام کی رضامندی سے ہوا ہو اسی بنیادی شفٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور خاص طور پر عاصم عمر کے بیانات سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے
عاصم عمر نے ہندوستانی مسلمانوں کو جہاد کے لیے متحرک ہونے کو کہا
“جب دنیا بھر کے مسلمان جاگ رہے ہوں تو کیسے خواب غفلت میں پڑے اونگھتے رہ سکتے ہو
ظاہر ہے کہ مسعود اظہر جیسے اگر ہندوستان میں اپنی لڑائی دوبارہ شروع کرنے جارہے ہیں تو ان کو وہاں ہندوستان میں اپنے بہت سے آلہ کار مل جائیں گے اور حالیہ ہفتوں میں ہندوستانی سیکورٹی ماہرین نے ملک بھر میں نئے عسکریت پسند مسلم سیل کے کھلنے کی خبر بھی دی
احمد لدھیانوی

خراسانی اور مسعود اظہر عسکریت پسند دیوبندی لیڈر ہیں جبکہ عاصم عمر پروپیگنڈا باز جہادی ہے اور لدھیانوی ایک دیوبندی فرقہ پرست انتہا پسند ہے جو اس ماہ کے کچھ عرصہ تک پارلیمنٹ کا ممبر بھی رہا

لدھیانوی دیوبندی انتہا پسند فرقہ پرست تنظیم اہل سنت والجماعت جوکہ سپاہ صحابہ پاکستان کا کور نام ہے کا سربراہ ہے اور یہ جماعت پاکستان میں شیعہ اور اہل سنت بریلوی کے خلاف دھشت گردی کو سپانسر کرتی ہے اور اس کا ہی ایک بچہ لشکر جھنگوی ہے جوکہ پاکستان میں فرقہ پرستانہ دھشت گردی کی خوفناک وارداتوں میں ملوث ہے ،اگرچہ لدھیانوی کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی دھشت پسندی کا استعمال نہیں کیا لیکن اس کے خیالات امن سے کوسوں دور ہیں اور اس کے فرقہ پرست عسکریت پسند پیروکاروں کا لشکر ہتھیاروں کے زور پر اس کے شیعہ مخالف خیالات کا زبردستی نفاز کرتا ہے

صوبہ پنجاب میں گذشتہ سال جھنگ سے لدھیانوی نے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور ناکام رہا پھر اس نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا کہ اس کا مخالف جیتنے والا امیدوار اکرم شیخ بینک نادھندہ ہے اور اس لیے اسے نااہل قرار دیا جائے .
10 اپریل 2014ء کو پاکستان کے الیکشن ٹربیونل نے اس کے حق میں فیصلہ سنایا مگر دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دینے کی بجائے لدھیانوی کی کامیابی کا فیصلہ سنادیا گیا اور الیکشن کمیشن نے بھی اس کی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری کردی یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے 21 اپریل 2014ء کو مخالف امیدوار اکرم شیخ کی درخواست پر اس کی کامیابی کے نوٹیفیکشن کو کالعدم قرار دے دیا
پاکستانی ریاست کی جانب سے لدھیانوی کو قومی اسمبلی میں نشست دئے جانے پر کوئی حیرانی نہیں ہونی جاہئيے کیونکہ موجودہ حکومت لدھیانوی کو اپنا سٹریٹجک اثاثہ خیال کرتی ہے اور اس سے بہت سی حمائت بھی لی ہے جس میں افغان طالبان تک امن مذاکرات کے لیے رسائی سے لیکر ہمسائیگی میں تناؤ کو کم کرنے تک،پھر مزید یہ کہ مسلم لیگ نواز کے ہائی رینک رہنماؤں نے سپاہ صحابہ پاکستان سے ملکر مشترکہ انتحآبی مہم تک چلائیں اور کذشتہ قومی انتخابات میں سیٹ ایڈجسمنٹ معاہدے کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں
ایک ایسی قوم جس میں فرقہ پرست خیالات کو پبلک سپورٹ بھی حاصل ہو اس میں ایسے پول سروے بھی سامنے آئے کہ پاکستان کے 40 فیصد لوگ یہ خیال رکھتے ہیں کہ شیعہ مسلمان نہیں ہیں -لدھیانوی کے اگلے اقدامات کو بہت غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے
آکرچہ اس کا کردار حکومتی ثالث کا ہے اور ایک سیاسی مقام کی تلاش کا ہے لیکن بظاہر وہ نرم ترین امیج پیدا کرنے کے پروجیکٹ پر کام کررہا ہے ،ہوسکتا ہے کہ وہ بہت سے پاکستانی عسکریت پسندوں کی جانب سے عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو سرخرو کرنے اور ان کی حمائت کے حصول کا شروع گئے جانے والے پروجیکٹ کا حصہ ہو ،جیسے پاکستانی طالبان کی امن کوششیں اور خراسانی کی حانب سے خشک سالی کا شکار تھر کے لوگوں سے اظہار ہمدردی اس کی اضافی مثالیں ہیں ،ایک ایسا معاشرہ جس میں لوگ تیزی سے ریڈیکل ہورہے ہوں اس میں ایسی ہمدردیوں کا سمیٹا جانا چنداں مشکل نہ ہے
مست گل

مست گل جیسے پراسرار آدمی کا پروفائل ظاہر کرتا ہے کہ کیا ہوتا ہے جب ایک پاکستانی عسکریت پسند اپنے سپانسر سے منحرف ہوجاتا ہے
نوے کے عشرے میں مست گل ایک حریت پسند تھا اور جیساکہ پاکستانی و ہندوستانی مبصروں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ بہت قریبی تعلقات رکھتا تھا جبکہ ایک پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے بھیجا جانے والا سفارتی پیغام جوکہ وکی لیکس میں ظاہر ہوا یہ بتاتا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کا سابق میجر ہے
اظہر کی طرح مست گل بھی حالیہ سالوں میں لو پرفائل میں رہا اگرچہ اس دوران چند ایک انٹرویوز میں اس نے کشمیر میں جہاد جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا
اظہر کی طرح وہ بھی دوبارلہ چند ماہ قبل ایک انتہائی مختلف گیم پلان کے ساتھ دھماکہ خیز انداز میں مںظر عام پر آیا -فروری میں اس نے دعوی کیا کہ پشاور میں ایک ریستوران میں حملہ اس کے گروپ نے کیا تھا پشاور میں پاکستانی طالبان کے ایک رہنما مفتی حسن سواتی نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ مست گل کو یہ ٹاسک تنطیم کی اعلی قیادت نے دیا تھا اور اس پریس کانفرنس میں مست گل سواتی کے پہلو میں بیٹھا تھا اور پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ سواتی اور کۂ کا تعلق احرار الہند گروپ سے ہے

ایک ترجمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کوہاٹ بس ٹرمینل پر فروری میں شیعہ پر جو حملہ ہوا تھا وہ بھی مست گل نے کیا تھا اور پشاور میں ایرانی قونصلیٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی زمہ داری بھی ترجمان کے مطابق مست گل کی تھی جس میں دو ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے
حزب المجاہدین جس سے میجر مست گل خود کو منسلک بتاتا تھا جوکہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی سے مضبوط روابط رکھتی ہے نے میجر مست گل سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے
پاکستانی عسکریت پسندی میں بہت سے مشکلات پیدا کرنے والی جہات ریاست مخالف دھشت گردی سے لیکر فرقہ پرستانہ وحشیانہ پن سے لیکر علاقائی اور بین الاقوامی فوکس دھشت گردی تک موجود ہیں لیکن پھر بھی یہ دیکھنا بہت مشکل نہیں ہے کہ پاکستان کے نام نہاد سٹریٹجک اثاثے خود اپنے آ‍‍‍‍قاؤں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور اس میں بہت سے عفریت کے شیطانی بجے ایسے ہیں جوکہ خود ریاست نے جنم دئے تھے‎
مست گل پہلا عسکریت پسند نہیں ہے جس نے اپنے تخلیق کرنے والوں سے بغاوت کی ہو بلکہ اس سے پہلے الیاس کشمیری جوکہ پہلے ہندوستان مخالف جنگجو تھا اور آئی ایس آئی کا ایک اثاثہ شمار ہوتا تھا لیکن 9/11 کے بعد وہ القائدہ کا اہم کمانڈر بن گیا اور اس سے پہلے عصمت اللہ معاویہ جوکہ جیش محمد سے تعلق رکھتا تھا جوکہ 2007ء میں تحریک طالبان پنجاب کا سربراہ بن گیا اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ مست گل اس طرح کے انحراف کی آخری مثال بھی نہیں ہے لیکن اس وقت اس کا پاکستانی انٹیلی جنس کے سٹریٹجک اثاثہ سے اینٹی سٹریٹجک اثاثہ مں بدل جانے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے کہ ایک طرف تو افغانستان سے انٹرنیشنل فورسز کا انخلاء ہورہا ہے تو دوسری طرف پاکستانی قوم کی سیکورٹی کو مشکل وقت دیکھنے کا کا لمحہ بھی قریب آرہا ہے
اسلام آباد کے لیے اپنے اثاثوں پر کنٹرول کھودینے سے زیادہ بدترین وقت کوئی اور نہیں ہوسکتا ہے -جب تک عسکریت پسندی کو سپانسر کرنے کی ریاستی پالیسی جاری رہتی ہے تو اس وقت تک ایسے المیوں سے دوچار ہونا یقینی ہے جیسے مست گل کے معاملے پر ہوا
مائيکل کوگلمان ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سنٹر فار سکالرز واشنگٹن ڈی سی میں جنوبی ایشیا کے سیئنر پروگرام ایسوسی ایٹ ہیں

http://warontherocks.com/author/michael-kugelman/