Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ: دیوبندی وہابی عسکریت پسندی کی ملٹری سپانسر شپ کا خاتمہ سنّی بریلوی، شیعہ و دیگر کو محفوظ کرسکتا ہے

 - Reuters/File

ووڈرو ولسن امریکی سنٹر کے جنوبی ایشیا کے اندر عسکریت پسندی کے امور کے ماہر ایسوسی ایٹ مائیکل کوگلمان نے اپنے حالیہ خصوصی مضمون میں پاکستان کے اندر دیوبندی -وہابی عسکریت پسندی کے پاکستانی ریاست سے پیچیدہ اور زگ زیگ رستے کے حامل تعلق اور رشتے پر روشنی ڈالی ہے اور پاکستانی دیوبندی -وہابی عسکریت پسندی کے مستقبل میں بننے والے ممکنہ رجحانات کو پانچ ایسے دیوبندی-

وہابی عسکریت پسندوں کی پروفائل کے زریعے سمجھنے کی کوشش کی ہے جو اس کے بقول اگرچہ حافظ سعید اور ملّا فضل اللہ سے کم مشہور اور پاکستانی میڈیا کی شہ سرخیوں مں کم جگہ پاتے ہیں لیکن وہ آنے والے دنوں ميں پاکستانی عسکریت پسندی کے مقامی ،علاقائی اور بین الاقوامی رجحانات کے عکاس اور علمبردار ہیں اور مائیکل کوگلمان کے مطابق ان پانچ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے

وہ پاکستانی ریاست کو خبردار کرتا ہے کہ اگر اس نے دیوبندی وہابی عسکریت پسندوں کو سپانسر کرنے کی پالیسی ترک نہ کی تو اسے آنے والے دنوں میں مزید یوبندی-وہابی عسکریت پسندوں کے منحرف ہونے جیسی بدترین صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جوکہ اس کو ہی اپنا ہدف اولین قرار ے سکتے ہیں جس طرح سے مست گل ،عصمت اللہ معاویہ اور الیاس کشمیری وغیرہ نے کیا

بین السطور وہ پاکستانی ریاست کو باور کراتا ہے کہ دیوبندی-وہابی عسکریت پسندی پر اس کی سرمایہ کاری کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ القائدہ کے گلوبل جہاد کو مزید زندگی ملی ہے اور علاقائی جہاد بھی ترقی کررہا ہے لیکن ساتھ ساتھ خود پاکستانی ریاست کے لیے سخت خطرات بڑھ گئے ہیں اور وہ جہاد کشمیر ،جہاد افغانستان ،جہاد شام کے ساتھ ساتھ جہاد پاکستان کو بھی عسکریت پسندوں کا اہم ہدف بتلاتا ہے اور ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اس طرح کے پاکستانی فوکس جہاد میں کس طرح سے شیعہ ،سنّی بریلوی اور دیگر غیر دیوبندی-

وہابی مذھبی برادریاں اور نسلی اقلیتیں سخت خطرات کا شکار ہیں اور وہ اسی تناظر میں پانچ اہم عسکریت پسندوں میں دیوبندی خارجی تکفیری جماعت اہل سنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ احمد لدھیانوی کو شامل کرتا ہے اور اس سے موجودہ پاکستانی حکومت کے روابط اور سٹرٹیجک تعلقات پر روشنی ڈالتا ہے

پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور موجودہ سول حکومت جو بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ پاکستانی ریاست میں پاور شئيرنگ کے معاملے میں سرد جںک کا شکار نظر آتی ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر دونوں کے درمیان دیوبندی-وہابی عسکریت پسندی کو سپانسر کرنے میں اتفاق نظر آتا ہے اور دونوں افغانستان،کشمیر ،بلوچستان ،سندھ ،پنجاب ،گلگت بلتستان کے اندر دیوبندی-

وہابی عسکریت پسندوں کو اہم ترین تزویراتی اثاثے کے طور پر برقرار رکھنے اور ان کو سپانسر کرنے پر متفق دکھائی دیتے ہیں جبکہ سعودی عرب کو سٹریٹجک و دفاعی سپورٹ دینے اور شام میں سعودی عرب کے حامیوں کی جیت کو یقینی بنانے پر بھی دونوں میں اتفاق نظر آتا ہے لیکن دیوبندی عسکریت پسندوں میں جو گروپ اور شخصیات مخالف سٹریٹجک اثاثوں کی صورت اختیار کرگئے ہیں اور جن کا فوکس پاکستان ہوچکا ہے اور وہ پاکستانی ریاست پر چڑھائی کررہے ہیں اور ان کو دیوبندی مدارس کے اندر سے مدد مل رہی ہے اس بارے ریاست کے ملٹری اور سول حکام کے درمیان کسی متفقہ پالیسی پر اتفاق تاحال ہوتا نظر نہیں آرہا ہے

پاکستان میں دیوبندی مدارس کی صورت حال کس قدر سنگین ہوچکی ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی میں مدرسہ طاہریہ میں جوکہ دیوبندی مدرسہ ہے کے اندر نوعمر طالب علموں کو بم چلانے اور بم کی پن نکال کر اسے اپنے ہدف پر پھینکنے کی تربیت کے دوران بم پھٹ جانے سے چار نوعمر مدرسے کے طالب ہلاک ہوگئے جبکہ وزرات داخلہ کی کئی ایک رپورٹوں میں یہ کہا گیا ہے کہ دیوبندی مدرسوں میں دیوبندی اساتذہ اور طلباء کے اندر عسکریت پسندی اور شیعہ،بریلوی،کرسچن ،احمدی ،ہندو،سیکولر لبرل مسلمان ،پاکستانی سیکورٹی اداروں اور پولیس وغیرہ کے خلاف ریڈیکل خیالات ہی نہیں پھیل رہے بلکہ یہ مدارس دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کے لیے بھرتی سنٹر،چندہ مراکز ،لاجسٹک و ریکی سپورٹ سیل کی صورت اور بارود ڈمپ کرنے کے اڈے بن چکے ہیں لیکن اس کے باوجود نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومتیں جن مدارس کے بارے میں پکّی رپورٹس ہیں وہآں کریک ڈاؤن کرنے سے قاصر ہیں جبکہ اس دوران شیعہ نسل کشی،بریلوی علماء کا قتل،مزارات و مجالس عزا پر حملے جاری ہیں

پاکسان میں دیوبندی عسکریت پسندی اور اس کے دیوبندی مدارس سے رشتہ و تعلق پر کئی ایک حالیہ واقعات سے مزید روشنی پڑتی ہے ،روزنامہ ڈان لاہور نے اپنی یکم مئی 2014ء کی اشاعت میں ایک نیوز سٹوری شایع کی جس میں روزنامہ ڈان نے خبر دی کہ کس طرح دیوبندی مدارس تحریک طالبان پاکستان کو تاوان اور بھتہ خوری کے اندر مدد دے رہے ہیں اور کیسے خود پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایسے دیوبندی مدارس موجود ہیں جو ٹی ٹی پی اور اور ان کے متاثرین کے درمیان تاوان وغیرہ کے لیے ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں جبکہ یہ مدارس ٹی ٹی پی کو ایسے مقامات تک رقم بھی فراہم کرتے ہیں جہاں سے آکر وہ اسے لیجاسکیں

 

Seminaries playing courier for TTP in ‘fund-raising drive’

تین دن قبل روزنامہ ڈان نے ہی انٹیلی جنس زرایع سے خبر دی تھی کہ دیوبندی عسکریت پسندوں نے دریائے سندھ سے ایسے مقامات کو اپنی گزگاہ بنانے کے لیے ہوم ورک مکمل کرلیا ہے جہاں پاکستانی فورسز کی چیک پوسٹس موجود نہیں ہیں جبکہ انہوں نے میانوالی چشمہ ایٹمی بجلی گھر میں کام کرنے والی چینی اور پاکستانی فورسز کے افسران کو اغواء کرنے اور ان کو کشتیوں کے زریعے لکی مروت کے راستے وزیرستان لیجانے کی منصوبہ بندی کی ہے جبکہ تادم تحریر پاکستان کی دریاؤں پر صرف تین مقامات پر ہی چیک پوسٹ ہیں ،ایک سکھر بیراج،دوسرا کوٹری بیراج اور تیرا چیک پوسٹ مقام گدو بیراج پرہے

 

Militants planning to use Indus River for movement between provinces

ان چند ایک خبروں سے بھی ہم اندازہ کرسکتے ہیں کا جب مائیکل کوگلمان یہ کہتا ہے کہ نیٹو فروسز کے انخلاء کے بعد جہاں افغانستان میں افغان طالبان کے ساتھ مقامی طالبان آپریشنل تعاون میں اضافہ کریں گے وہیں پر وہ پاکستانی ریاست کو گرانے اور اس کی جگہ دیوبندی ویاست کے قیام کی کوشش کو بھی تیز کردیں گے تو وہ کس قدر درست خطوط پر سوچ رہا ہوتا ہے

ہمیں ایسا لگتا ہے کہ مائیکل کوگلمان نے پانچ عسکریت پسندوں کی پروفائل کو زیر بحث لاتے ہوئے بین السطور شاید مسعود اظہر جیسے کشمیر و ہندوستان پر فوکس رکھنے والے،عاصم عمر جیسے گلوبل جہاد کے دا‏عی ،عمر خراسانی جیسے پاکستانی ریاست پر دیوبندی شریعت کو ہر حال میں نافذ کرنے کے شیدائی ،مست گل جیسے منحرف اور لدھیانوی جیسے فرقہ پرست ریاستی تعاون سے بہروہ ور ہونے والوں کے درمیان مستقبل قریب میں اتحاد ہونے کے امکان کو بھی ظاہر کیا ہے جبکہ ابھی دیوبندی عسکریت پسند بظاہر ریاستی سٹریٹجک اثاثوں اور ریاست مخالف سٹریٹجک اثاثوں میں بٹے نظر آتے ہیں لیکن جب وہ مست گل کے انحراف کو آحری انجراف نہ ہونا بتلاتا ہے تو اس کا اشارہ اسی ممکنہ اتحاد کی جانب ہوتا ہے

لیکن کیا پاکستان کی سیکولر لبرل سیاسی جماعتیں جیسے پاکستان پیپلز پارٹی ،اے این پی ،ایم کیو ایم وغیرہ ہیں ان کو اس خطرے کا واقعی احساس ہے ؟اور کیا پاکستان میں سنٹر رائٹ بریلوی اور سنٹر رائٹ شیعہ پارٹیاں پاکستان کو دیوبندی -وہابی عسکریت پسندی سے آنے والے دنوں میں درپیش چیلنچز سے واقف ہیں؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا تاحال جواب نفی میں ہے کیونکہ پاکستان کی سنٹر شیعہ و بریلوی رائٹ جماعتوں کی قيادت کے بارے میں یہ تاثر پختہ ہوتا جارہا ہے کہ ان کی حثیت بھی اسٹبلشمنٹ کے ہاں ویسے ہی مہروں کی ہے جیسا ایک مہرہ دفاع پاکستان کونسل ،پاکستان علماء کونسل جیسی دیوبندی-ہابی مراکز ہیں اور سنّی بریلوی اور شیعہ رائٹ جماعتوں کی قیادت پاکستانی ریاست کی جانب سے دیوبندی -وہابی عسکریت پسندی کو سپانسر کرنے کی پالیسی کو ختم کرانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اور مربوط پالیسی دیکھنے کو نہیں ملی اور لیڈر شپ کا خلاء بھی نظر آرہا ہے

مسعود اظہر جیسے لوگوں کا دوبارہ فعال ہونا ،حافظ سعید کے نیٹ ورک کا بتدریج پھیلاؤ سمیت بہت سے ایسے اقدامات ہیں کہ جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے انخلاء کے بعد پوری قوت سے کشمیر اور ہندوستان فوکس عسکریت پسندی کا باب دوبارہ سے کھولے گی اور اس کی جانب سے کشمیر فوکس اور انڈیا فوکس دیوبندی -وہابی عسکریت پسندوں کو پوری سپورٹ دی جانے والی ہے اور مودی سرکار بنی تو یہ کام اور آسان ہوجائے گا لیکن اس کا سائیڈ ایفکٹ یہ ہے کہ اس سے پاکستان کے اندر بھی دیوبندی عسکریت پسندی اور دھشت گرد مشین ک اور زندگی ملے گی اور اس کا مطلب پاکستان کے شیعہ،اہل سنت بریلوی اور غیر مسلم اقلیتوں کو دیوبندی دھشت گرد مشین کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہوگآ

اس کی ایک اور ضمنی حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور آئی ایس آئی اور زیادہ منظم طریقے سے لشکر جھنگوی،جیش محمد،لشکر طیبہ جیسی دھشت گرد تںظیموں کو بلوچ اور سندھی آزادی پسندوں اور مزاحمت کاروں کے خلاف استعمال کرے گی جبکہ ابھی اہل سنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان /لشکر جھنگوی کے دھشت گردوں کو جنگ اور جیو کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے

 

http://www.thenews.com.pk/Todays-News-13-30109-Jang-GroupGeo-employees-offices-under-threat

سنٹر رائٹ بریلوی سیاسی جماعتیں جو آج بہت زیادہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کی حمائت میں آگے آگے ہیں اور شیعہ سنٹر رائٹ بھی پیچھے نہیں ہے ان کو یہ ضرور خیال کرنا چاہئیے کہ آج ان کے مکاتب فکر کو سب سے زیادہ خطرات کا سامنا جس دیوبندی -وہابی عسکریت پسندی سے لاحق اس کی سپانسر شپ ملٹری اسٹبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کے پاس ہے اور تاحال وہ اسے جاری رکھے ہوئے ہے

دفاع پاکستان کونسل ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے بارے میں ایسی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یہ مرکز خود آئی ایس آئی نے تشکیل دیا اور اس میں حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کا ہونا بھی اس شبہ کو تقویت پہنچاتا ہے تو جو ایجنڈا دفاع پاکستان کونسل کا ہے وہی اگر سنٹر رآغٹ بریلوی اور سنٹر رائٹ شیعہ کا نظر آئے تو اسے سوائے بے بصیرتی کے اور کیا کہا جائے گا

ان جماعتوں کو چاہئیے تھا کہ یہ فوجی اسٹبلشمنٹ اور پاکستان کی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے کہ وہ اچھے مجاہدین کے نام پر دیوبندی-وہابی عسکریت پسندوں کی سپانسر شپ سے دست بردار ہو اور جن دیوبندی وہابی گروپوں کو اپنے سٹریٹجک اثاثوں کے طور پر گود لیا ہوا ہے ان کی حمآئت سے دست بردار ہو اور ان کو غیر مسلح کرے جیساکہ یہ جماعتیں ٹی ٹی پی کے حوالے سے کہتی آئی ہیں لیکن سنٹر رائٹ شیعہ اور سنٹر رائٹ بریلوی سیاسی جماعتوں نے ملٹری اسٹبلشمنٹ کی جہادی پراکسی کے بارے میں پراسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے اور ہم سمجھتے ہیں یہ بلّی کو دیکھ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کی پالیسی کام نہیں دے گی

پاکستان کی لبرل سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو بھی دیوبندی-وہابی عسکریت پسندی کی ملٹری سپانسر شپ بارے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا ہوگا اور مصلحت پسندی کو ترک کرنا ہوگا جبکہ پی پی پی ،اے این پی اور ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کو نواز لیگ کی حکومت پر واضح کرنا چاہئیے کہ اسے اگر جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو ممکن بنانے کے لیے ان کا تعاون درکار ہے تو اسے دیوبندی-وہابی عسکریت پسندی کے ساتھ اپنے سٹرٹیجک اتحاد پر نظر ثانی کرنا پڑے گی اگرچہ موجود صورت حال میں جس قدر سیاسی منظر نامے پر ناعاقبت اندیشی کی فضاء طاری ہے اس میں یہ مشورے نقار خانے میں توتی کی آواز لگتے ہیں

پاکستان میں شیعہ،بریلوی اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں کو کس قدر خطرات کا سامنا ہے اس کا اندازہ اقلیتیں خطرے کی زد میں نامیگروپ کی حالیہ رپورٹ کو پڑھ کر کیا جاسکتا ہے ،یہ رپورٹ اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہے

آخری بات یہ کہ ابھی کچھ روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے خاتمے کی طرف واضح اشارہ دیا ہے اور ابتک کی ساری مشق کو ایک طرح سے بے کار کہا ہے ،ہم نے اپنے کذشتہ اداریوں اور اس ویب سائٹ کے دیگر اور بلاگز میں جب سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا کہا تھا کہ کس طرح سے اس سے کسی مثبت تبدیلی کے برآمد ہونے کے اقدامات نہیں ہیں اور ہم نے چند روز پہلے معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی شمالی افریقہ میں ںمائندہ برطانوی صحافی کارلوٹا گیل کا انٹرویو بھی شایع کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان مذاکرات سے کچھ برآمد ہونے والا نہیں ہے اور ان کی کتاب رانگ اینمی ،امریکہ ان افغانستان میں بھی بہت واضح انداز میں پاکستانی ملٹری اور انٹیلی جنس حکام کی جانب سے دیوبندی عسکریت پسندی کی حمائت کو امن کے راستے میں سب سے بڑی روکاوٹ قرار دیا تھا ،اب بھی جب خود وفاقی منسٹر برائے داخلہ اپنی مایوسی کا اظہار کرچکے تو اس سپانسر شپ کو ختم ہوجانا چآہئیے

 

https://lubpak.net/archives/312907

http://warontherocks.com/2014/05/five-pakistani-militants-we-should-be-paying-more-attention-to/