Original Articles Urdu Articles

سعودی جہادی کی شام سے واپسی

 

10155270_10202326353620018_1191382168600763352_n

 

“All of those calling for jihad in Syria are liars. The Free Syrian Army brings in women and liquor, Al-Nusra Front pretends to be honest, but I felt otherwise and left them.”-Misfer, a former “jihadist” from Syria.

جبہ نصرۃ اور فری سیرین آرمی جہاد کے نام پر لوگوں سے جھوٹ بول رہے ہیں، ان کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان نام نہاد جہادیوں کے درمیان شراب و شباب کا استعمال عام ہے۔

سابقہ “جہادی” کےانکشافات

یہ کہنا تھا مفسر کا جو جو سعودی عرب سے شام ” جہاد ” میں شریک ہونے گیا تھا – سعودی عرب کی حمایت یافتہ القاعدہ اور قطر کی حمایت یافتہ فری سیرین آرمی جو کہ اسلامی  نظام کے نفاز کی بات کرتے ہیں یہ اسی طرز کی شریعت ہے جس کا مطالبہ پاکستان میں تکفیری دیوبندی طالبان کر رہے ہیں

مفسر کا کہنا تھا کہ شام میں جاری فساد کے برپا کرنے والے فسادی دنیا کو اپنی تحریک اور دہشت گردی کا مقصد اسلام کا نفاز بتاتے ہیں جبکہ یہ لوگ در اصل اسلام کے نفاز کے لئے نہیں اپنی تکفیری سوچ کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور جو صرف اور صرف منافقت پر مبنی ہے –

سعودی مفتی ال عریفی کے فتوے کے بعد شام جانے والی عائشہ نے بھی واپسی بھی جو اپنے ساتھ بیٹنے والی دل دہلانے والی داستان سنائی اس کے الفاظ اور خیالات بھی شام میں جاری فساد اور فسادیوں کے بارے میں یہی تھے

القاعدہ سے تعلق رکھنے والے وہابی تکفیری جو کہ منافقت میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے اس سے پہلے بھی وہ شام میں اپنی حمایت کے لئے آنے والے الجزیرہ چینل کی تین رپورٹرز کے ساتھ اجتماعی زیادتی کر چکے ہیں – شراب اور شباب ان جہادیوں کے ہاں عام ہے –

کیی ایسی ویڈیوز منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں ان درندہ صفت وہابی تکفیریوں   کو سر کاٹنے ، جگر چبانے کے علاوہ خواتین سے زیادتی کرتے اور سعودی اور قطر سے ملے ڈالر تقسیم کرتے ہوے بھی دیکھا جا سکتا ہے – آخر یہ کس قسم کا جہاد ہے جس میں خواتین سے اجتماعی زیادتی اور شراب و شباب کی رنگینیوں من کھو جانے کو شریعت  کے لبادے میں چھپا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکا جا رہا  ہے؟

اس سے پہلے ان تمام خبروں کو مغربی  ابلاغ کی جانب سے دنیا بھر میں سامنے لایا گیا لیکن اس بار ان تمام خبروں کو سعودی میڈیا  نے خود منظرعام پر لایا ہے جو کہ اس بات کی علامت ہے کہ اب سعودی عرب میں بھی ان تکفیری وہابی دہشت گردوں کی حمایت سے ہاتھ کھینچنے کی پالیسی پر عمل درآمد شروع ہو رہا ہے –

سعودی عرب اور باقی عرب ملکوں نے اپنے ممالک میں موجود تمام دہشت گردوں کو شام کی راہ دیکھا کر خود چین کا سانس لیا ہے اور جب ان میں سے کوئی دہشت گرد مرتا ہے تو سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک کی حکومتیں اس بات پر شکر ادا کرتی ہیں کہ ان کے گھر کا گند کہیں اور جا کے صاف ہو رہا ہے –