راولپنڈی اسلام آباد تکفیری دیوبندی مدارس کی دہشت گردی کے نشانے پر

 

10330473_10202325905528816_1104623003780571313_n

 

 

اسلام آباد اور راوالپنڈی میں موجود مدارس کالعدم خارجی تکفیری دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان کے لیئے دہشتگردی، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی، پیغام رسانی اور دیگر کاروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ ہم حکومت وقت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دینی تعلیم کے بہانے دہشتگردی کے ان اڈوں (مدرسوں) کے خلاف سخت ترین آپریشن کر کے ان کو نیست و نابود کر دے ورنہ جلد ہی پاکستانی عوام خود یہ کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ہم دیوبند کے وفاق المدارس سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کو وہ یہ پرانا لاگ الاپنا بند کریں کے مدارس دہشتگردی میں ملوث نہیں بلکہ ان مدارس کی رجسٹریشن منسوخ کر کے ان کے خلاف تادیبی کاروائی کرے۔ صرف راولپنڈی شہر میں ایسے مدارس جو دہشتگردی میں ملوث ہیں ان کی تعداد ۲۰ کے قریب ہے۔

اس سے پہلے بھی ڈان کی رپورٹس کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد میں قائم دہشت گردوں کے گڑھ تکفیری دیوبندی مدارس جڑواں شہروں میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں میں بطور اسلحہ خانہ اور بطور مورچہ استعمال ہوتے آرہے ہیں جہاں تکفیری دیوبندی دہشت گرد اپنا اسلحہ ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت کے وقت پناہ بھی لیتے ہیں اور جڑواں شہروں میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی بھی انہی مدارس میں بیٹھ کر کرتے ہیں

گزشتہ چند مہینوں میں ان مدرسوں میں بیرونی علاقوں سے آنے والے افراد کی آمد و رفت میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور با خبر حلقے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ان مدرسوں میں دہشت گردوں کی آمد و رفت اور اسلحہ کی آمد راولپنڈی اسلام آباد میں کسی بڑی اور خطرناک صورت حال کی وجہ بن سکتے ہیں

-نواز لیگ کے چودھری نثار جہاں ایک طرف اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے وہیں دوسری جانب ان کی ناک کے نیچے اسلام آباد راولپنڈی کی یہ صورت حال یقیناً کیی سوالوں کو جنم دیتی ہے – آخر وہ کون سی مجبوریاں ہیں جو مرکزی حکومت کو اپنی ناک تلے جاری ان دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنے سے روک رہی ہیں –

آخر مرکزی حکومت کن اندرونی اور بیرونی عناصر کے دباؤ تلے ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی قدم نا اٹھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ؟ کیا سعودی عرب سے ملنے والے ڈالرز کی شرائط میں اسلام آباد راولپنڈی سمیت پورے پاکستان کو بھی دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی شرط بھی شامل تھی ؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*