Featured Original Articles Urdu Articles

لاہور میں گرفتار ہونے والے لشکر جھنگوی کے دہشت گرد کالعدم دیوبندی تنظیم سپاہ صحابہ المعروف اہلسنت والجماعت کے کارکن نکلے

a

لاہور سی آئی ڈی پولیس نے لشکر جھنگوی (جو کہ کالعدم دیوبندی تنظیم سپاہ صحابہ کا ہی ایک نام ہے) کے جن 6 دھشت گردوں کو اے ایس ڈبلیو جے پنجاب کے صدر شمس معاویہ، شیعہ عالم ناصر عباس، شیعہ وکلا شاکر رضوی اور راشد شاہ، سنی بریلوی عالم مولانا قادری ،شیعہ ڈاکٹر علی حیدر اور ان کے بیٹے کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور جن میں سرغنہ اشفاق گجر دیوبندی نے صحافیوں کے سامنے یہ اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے شمس معاویہ سمیت دیگر قتل اہل سنت والجماعت کے مرکزی نائب امیر ملک اسحاق دیوبندی کے کہنے پر کئے کے بارے میں اہل سنت والجماعت کی قیادت کی جانب سے ایک وضاحتی بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے کارکنوں سے پولیس نے تشدد کرکے یہ بیانات دلوائے ہیں

اہل سنت والجماعت جوکہ دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان کا دوسرا نام ہے کی قیادت کی جانب سے اس بیان کے جاری ہونے سے یہ تصدیق تو ہوگئی ہے کہ یہ واقعی اس دیوبندی تکفیری جماعت کے کارکن ہے جبکہ ان کے بارے میں سی پی او لاہور چوہدری شفیق نے جو پریس کانفرنس کی اور اس کے دوران جو حقائق بیان کئے و ہ ان کے جرم کا منہ بولتا ثبوت ہیں
سی ائی اے لاہور کی جس خصوصی انوسٹی گیشن ٹیم نے لاہور میں شیعہ حضرات کی ٹارگٹ کلنگ اور اے ایس ڈبلیو جے کے مولودی لدھیانوی گروپ کے لوگوں کی ٹارگٹ گلنگ میں ملوث دیوبندی تکفیری دھشت گرد ملک اسحاق گروپ کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا اس کی سربراہی ایس پی سی آئی اے عمر چیمہ کررہے تھے ہمارے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ
اہل سنت والجماعت کی لاہور تنظیم میں لدھیانوی اور ملک اسحاق گروپ کے درمیان تقسیم اور بڑھتے ہوئے اختلافات پر ان کے محکمے نے نظر رکھی ہوئی تھی اور جب شمس معاویہ کا قتل ہوا تو تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ اے ایس ڈبلیو جے کے صوبائی صدر شمس معاویہ کے ساتھ ملک اسحاق گروپ کا رویہ بہت سخت ہوتا جارہا تھا اور شمس معاویہ نے مقامی پولیس حکام کو اطلاع کی تھی کہ نامعلوم افراد موٹر سائیکلوں پر اس کی گاڑی کا تعاقب کررہے ہیں اور ایک زریعہ کے مطابق شمس معاویہ نے ملک اسحاق گروپ کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا تھا تو جب ان خطوط پر تفتیشش آگے بڑھی تو ان کے ہاتھ ٹریفک وارڈن شفیق لگا جس سے اس پورے گروپ کا سراغ لگانے میں کامیابی ملی
اہل سنت والجماعت دیوبندی تنظیم کے اندرونی زرایع کا کہنا ہے کہ پورے پنجاب کے اندر ہر ضلع میں اہل سنت والجماعت عملی طور پر دو گروپوں میں تقسیم ہے ایک گروپ کی سربراہی ملک اسحاق اور دوسری کی محمد احمد لدھیانوی کے پاس ہے اور دونوں گروپوں میں وقفے وقفے سے تصادم ابھرتا ہے اور جو کسی وقت بھی پھیل سکتا ہے
وزرات داخلہ کی جانب سے حال ہی میں دھشت گرد تنظیموں کی جو لسٹ جاری کی گئی ہے اس میں اہل سنت والجماعت کا نام دوسرے نمبر پر موجود ہے لیکن اس کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس جماعت کے دفاتر بند کرنے اور اس کی قیادت کو گرفتار کرنے سے گریزاں ہے
انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس اس بات کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ اہل سنت والجماعت اور لشکر جھنگوی اصل میں ایک ہی ہیں
پنجاب حکومت کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کی جانب سے لدھیانوی گروپ کو مکمل حمائت دی جاری ہے جبکہ سابق آرمی چیف نے ملک اسحاق کو اپنا ہی بچہ کیا تھا اور اہل سنت والجماعت/لشکر جھنگوی بلوچستان کو پاکستانی آرمی،آئی ایس آئی اور ایف سی کی حمائت حاصل ہے اور ادھر سندھ حکومت اورنگ زیب فاروقی کو سرکاری پروٹوکول دئے ہوئے ہے
مسلم لیگ نواز کی وفاق اور پنجاب میں حکومت ہو یا سندھ میں پی پی پی کی ،خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی یا بلوچستان میں بلوچ قوم پرست عبدالمالک کی حکومت ہو سب کی سب دیوبندی دھشت گرد جماعت اہل سنت والجماعت کے خلاف راست اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں اور اپنے ہاں شیعہ نسل کشی،بریلویوں کے قتل،ہندؤ،عیسائیوں ،احمدیوں کی مذھبی بنیادوں پر پراسیکیوشن کے زمہ داروں کو گرفتار کرنے اور ان کو سزا دلوانے میں ناکام ہیں

ab

یہ جو نام نہاد سنّی کلنگ پر اس پوسٹ کے آخر میں میں اور آپ چپ کیوں ہیں جیسا سوال ہے اس میں دراصل لدھیانوی گروپ کی خاموشی کو بنیاد بنایا گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ پنجاب پولیس لاہور کے سی پی او نے اپنی پریس کانفرنس میں لشکر جھنگوی کا لفظ استعمال کیا اور ملک اسحاق پر اس کا الزام عائد کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ لدھیانوی سمیت اہم ترین عہدے دار خاموش ہیں جن کی خاموشی معنی خیز ہے

1

2