Original Articles Urdu Articles

خوش ہیں دیوانگی میر سے سب – از عامر حسینی

1

آج میرا ارادہ تهاکہ ملتان آرٹس کونسل میں ادبی بیٹهک سخنور کی کالم نگاروں کے نام ایک شام میں ضرور شریک ہوں گا لیکن پہلے میرے دوست امین وارثی کا فون کبیروالہ سے آگیا کہ وہ مجه سے ملنے آرہے ہیں تو ان کے ساته میں نے کافی وقت گزارا اور اسی دوران میرے سیاسی گرو اعظم خان کا حکم آگیا اور مجهے ان کی خدمت میں حاضری دینا پڑی

یہاں پر بات چهڑ گئی میری کالم نگاری کی اور میں نے جو مضمون ادبی بیٹهک کے لیے لکها تها اسی سے بات شروع کردی کراچی میں اپنی زمانہ طالب علمی میں روزنامہ جرات مختار عاقل کے اخبار سے میں نے کالم لکهنے کا آغاز کیا اخبار میں پہلے دن سے کالم لکهنے کا مقصد شہرت کی ہوس نہیں تها بس سوچا کہ اپنے خیالات و نظریات کی ترسیل کا اسے زریعہ بنایا جائے

اس دوران میں نے کئی قسم کے رسائل و جرائد میں بهی لکها پهر جب گهر کے مخصوص حالات نے مجهے خانیوال واپس آنے پر مجبور کردیا تو حالات میں اس قدر گرفتار ہوا کہ صبح نکلتا اور رات کے بارہ ایک بجے واپسی ہوتی تو تهکن سے چور ہوتا اور بستر پر گرتا تو کوئی ہوش نہ رہتا

یہ سلسلہ کوئی پانچ سال چلا اور اس دوران چهوٹے بهائی کچه کرنے کے قابل هوچلے تو مجهے کچه فرصت میسر آئی اور میں نے پهر سے کتابیں کهولیں ادبی ،سیاسی جرائد پڑهنا شروع کئے اور پاس ملتان تها تو وہیں قلم آزمائی کرنا شروع کردی بہت سے لوگ شاید اس امر سے ناواقف ہوں گے کہ میں نے ملتان میں ایک سال تک کالم روزنامہ نوائے وقت میں لکهے محمد عامر کے نام سے اور اس وقت میری مونچهوں اور گهنی داڑهی والی تصویر شایع ہوا کرتی تهی جبکہ چہرے پر ایک عدد موٹے شیشے اور پرانے سے فریم کی عینک شیخ پرویز اور پهر جبار مفتی صاحب کو میری تحریروں میں بائیں بازو کے جراثیم کو نکالنے کی بہت جلدی ہوا کرتی اور وہ ایسا آزادانہ طور پر کرتے تهے لیکن میں نے بهی بین السطور اپنی بات کہنے کا ڈهنگ سیکه لیا تها جسے وہ چیک نہیں کرپاتے تهے اور میگزین انچارج سلیم ناز سے مجهے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تها کیونکہ وہ اکثر میرے الفاظ کی ثقالت اور بهاری بهر کم اصطلاحی زبان کے رعب تلے دب جایا کرتے اور کوئی لائن حذف نہ کرپاتے

پهر ایک دن یوں ہوا کہ میں نے طلباء سیاست پر ایک کالم لکها جس میں جنرل ضیاء کی طلباء سیاست میں تشدد کو فروغ دینے کے لئے قبضوں کی روائت کے اجراء پر بات کی تهی اور جمعیت بارے سخت تنقید کی تهی جبار مفتی جو ملتان میں لاء کالج میں جمعیت کے امیدوار برائے صدارت طلباء یونین تهے اور هارے تهے ان کے دل سے یہ بات نکالے نہ نکلتی تهی تو انہوں نے میرے کالم کی شکل بگاڑ دی اور جنرل ضیاء کی جگہ زوالفقار علی بهٹو کو مجرم بنا ڈالا تو نوائے وقت سے میری علیحدگی کی وجہ یہ تحریف و مسخ شدگی بنی

میں نوائے وقت ملتان کی حسن پروانہ کالونی میں واقع دفتر سے نکلا اور روزنامہ خبریں ملتان کے پرانے دفتر آگیا اور یہاں پہلی مرتبہ میں ایم اے شمشاد سے ملا اور میں نے جب ان کے سامنے اپنا ایک کالم رکها تو کہنے لگے
نوجوان!دب کر اور بین السطور کیو لکهتے ہو پریس ایڈوایسز کا زمانہ چلا گیا کهل کر لکهو سچی بات یہ ہے کہ میں نے روزنامہ خبریں ملتان سے وابستہ ہوکر قدرے آزادی سے لکهنے کی لذت پائی

ایم اے شمشاد کی وفات ہوگئی تو وہاں ان کی بیٹی سارہ شمشاد آگئیں اور سجاد جہانیہ میرے ساته ایک مسئلہ ہمیشہ سے رہا کہ میں لکهتے ہوئے عنوان کے باب میں ہمیشہ سے مشکل کا شکار رہتا ہوں تو اس سلسلے میں سارہ شمشاد کا شکر گزار ہوں

اول اول الفاظ کی مقررہ حد کو چهونا اور اس سے آگے نہ بڑهنا میرے لئے بہت مشکل تها تو ایم اے شمشاد سے لیکر سارہ شمشاد اور سجاد تک سب کو بہت کانٹ چهانٹ سے کام لینا پڑتا تها روزنامہ خبریں ملتان کے ساته ساته میں نے روزنامہ آج کل لاہور میں بهی دو سو کے قریب کالم لکهے اور یہاں مدیر خالد چوہدری و وجاهت مسعود نے مجهے کاغذ کی بجائے کمپوز کرکے آرٹیکل لکهنے کی تربیت و ترغیب بهی دی

وجاہت مسعود کہتے تهے کہ کامریڈ تم کیسے ترقی پسند ہو کہ اب بهی پرانے زمانے کی طرح کاغذ پر لکهتے ہو اور پهر اسے سکین کرتے ای میل کرتے ہو ان کی کوشش پہیم سے یہ جو یونی کوڈ میں اردو لکهنے کا فن مجهے آیا اور میں نے پهر بلاگ سپاٹ ڈاٹ کوم پر اپنا بلاگ لیل و نہار کے نام سے بنایا اور اس میں کالم لکهنے کا آغاز کیا
اس دوران روزنامہ مشرق لاہور ،روزنامہ توار اور روزنامہ انتخاب کوئٹہ میں بهی لکها مگر سچی بات ہے کہ جو پہچان روزنامہ خبریں ملتان نے وسیب میں بنائی وہ کسی اور جگہ چهپنے سے نہیں بنی اور ویسے بهی یہاں اس اخبار کی اشاعت اس قدر زیادہ تهی کہ مجهے اپنے خیالات کی تشهیر اور پهیلاو کے لئے اس سے بہتر فورم نظر نہیں آتا اس لئے شاید سستی کا شکار بهی ہوگیا

سوشل میڈیا آیا تو میں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اپنے خیالات کو شایع کرنا شروع کیا اور اس طرح سے پوری دنیا میں خیالات کی ترویج ہونا شروع ہوگئی ایک بات مجهے یہ کہنا ہے کہ رندی و مستی کی جو بے پناہ کیفیت سچے راہ حق کے طالب علم پر منازل معرفت طے کرتے ہوئے ایک رند خرابات پر طاری ہوتی ہے اس کے اثر میں پوری آزادی کے ساته پرنٹ میڈیا میں لکهنا ممکن نہیں ہوتا اور جذب و انجذاب کی پوری کیفیت اگر کوئی رند خرابات کے قلم سے قرطاس پر منتقل نہ ہو اور کیفیت سنسر کے قبض کی نظر ہوجائے تو حال اضمحلال کا شکار ہوجاتا ہے

اور اگر اس کو دبانے کی کوشش کی جائے تو پهر اس سے نفسیاتی عوارض بهی جنم لیتے ہیں اور ایک حساس طبعیت خے غیرمتوازن ہونے یا اچانک پهٹ پڑنے کا اندیشہ بهی ہوتا ہے میں سمجهتا ہوں کہ سوشل میڈیا نے بہت حد تک اس جبر اور اس سے جنم لینے والے ہسٹریا سے بچانے کا سامان پیدا کرڈالا ہے

فیس بک سے میری واقفیت کا واقعہ بهی ہوسکتا ہے کہ میرے پڑهنے والوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہو
ایک نوجوان میرے پاس اکثر کتابیں لینے آیا کرتا تها اور مجه پر اعتماد بهی کرتا تها ایک مرتبہ اس نے اپنا پی سی آن کیا اور مجے فیس بک کے میل باکس میں آئے اپنی محبوبہ کے منظوم پریم پتر کی زیارت کرائی اور مجه سےاشعار کا مطلب دریافت کیا اور پهر درخواست کی کہ میں اس کا جواب بهی کچه اشعار کی صورت اسے لکه دوں
میں نے اسے کہا کہ نوجوان اگر محبت واقعی سچی ہے تو اپنے جذبات کا سادگی سے اظہار کرڈالو مطلب اشعار میں تمہیں بتا ہی چکا

مجهے فیس بک بہت پسند آئی اور میں نے اسے جوائن کرلیا ان دنوں مجهے اردو کمپوز کرنا نہیں آتی تهی تو رومن اردو میں لکهتا یا انگریزی میں یا پہلے اردو میں هاته سے لکهتا پهر سکین کراکے اس کا عکس پوسٹ کرتا تها
میرے اولین نوٹس اور پوسٹوں میں یہ رجحان دیکها جاسکتا ہے

کالم نگاری جو کبهی اولین اول ہمارے عظیم ادیبوں نے ایجاد کی تهی سچی بات یہ ہے کہ میں اس طرز اور سٹائل کو کبهی اپنے مزاج کا حصہ نہ بناسکا اور بار بار میرے کالموں کا طرز انشائیہ نگاری و مضمون نگاری یا پهر کبهی کبهی فکشن کی سرحدوں کو چهونے لگتا ہے

حالانکہ خود مجهے چراغ حسن حسرت،شاہد دہلوی،مجتبی حسین.اسلم فرخی ،اشرف صبوحی ،انتظار حسین ،ساجد رشید ،ڈاکڑ انوار احمد ،وجاهت مسعود کا طرز اور سٹائل اور جی ہاں شاہد حمید ،رضی الدین رضی اور شاکر کا طرز پسند ہے رضی اور شاکر کے یہاں نام ویسے ہرگز نہیں آئے جیسے رضی کے ہاں چند نام اور شاکر کے ہاں چند نام یاروں کی بزم سے تواتر سے ضرور آتے ہیں اور میں سمجهتا ہوں کہ پکے ٹهکے شاعروں اور ادیبوں کے لئے قبیلے کے چهوٹے بڑے ناموں کا تزکرہ کیوں ضروری ہوا کرتا ہے

اور میں نے رضی و شاکر کے نام یہاں اس لئے بهی نہیں لئے کہ مجهے کالم نگاروں کے نام گزر جانے والی شام میں اپنی تحریر پڑهنا ہے تو میں جب گیا ہی نہیں تو مجه پر خوشامد کا الزام بهی نہیں آئے گا کالم نگاری کے دوران بہت سے لطیفے بهی جنم لیتے رہے

میں ملتان اور اس کے گرد و نواح میں ادبی ،سیاسی گروہ بندیوں،معاصرانہ چشمک کے قصے کہانیوں سے یکسر ناواقف تها اکثر ایساہوتا کہ کسی کے کسی مخصوص خیال کو ہدف تنقید بناتا تو مجهے اس کے معاصر گروپ یا شخص کے مخالف کیمپ کا آدمی قرار دے دیا جاتا اور تعریف کرتا تو اسی آدمی کے داد و تحسین کے فون بهی وصول کرتا ویسے تحریر وتقریر کے میدان میں آپ کےساته ہوں یوتا ہے کہ

اپنے بهی خفا مجه سے بیگانے بهی ناخوش
میں زهرهلال کو کبهی کہہ نہ سکا قند

ویسے ایک غلطی کا مجهے آج اعلان کرنا ہے کہ ہمارا معاشرہ قبیل داری پر سختی سے عمل پیرا ہوتا ہے اور اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ جن کو دوست کہتے ہو ان سے اختلاف کرنے یا ان کے کسی خیال پر تنقید کرنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئیے ورنہ قبیل داری والے آپ کو قبیلے سے باہر کرنے میں دیر نہیں لگاتے اگرچہ وہ لفظوں میں عجز و انکساری کو عادت کرلینے کے دعوے دار ہوا کرتے ہیں اور اختلاف و تنقید کی آزادی کے گهنٹہ گهر بهی لیکن جیسے ہی آپ نے ان کے دعوے کو سچ مانتے ہوئے اختلاف و تنقید کا حق استعمال کیا تو وہ اسے تنقیص و عناد اور مخالف کیمپ سے اتحاد سے تعبیر کرنے لگتے ہیں

لیکن یہ غلطی ایسی ہے کہ مجهے اس سے عشق ہوچلا ہے اور میں اختلاف کرنے اور تنقید کرنے کی آزادی سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہوں میرے نزدیک لکهنا اور پڑهنا سچ جاننے کی ایک کوشش ناتمام ہے اور اس کوشش ناتمام کے ساته ساته اپنے عجز و معذوری کا اعتراف بهی ہےکہ ہم سب جوں جوں معرفت کی منزل میں آگے بڑهتے ہیں ہمیں اپنے جہل و بے خبری کا ویسے ہی شدت سے احساس ہونے لگتا ہے

خیام کہتا ہے کہ
اسرار ازل را نہ تو دانی و نہ من
ویں حرف معما نہ تو خوانی و نہ من
ہست از پس پردہ گفتگوے من و تو
چوں پردہ برافتد نہ تو مانی و نہ من
واقعی جب پردہ اٹه جاتا ہے تو پهر نہ ہم رہتے ہیں نہ وہ
میں نےسوچا تها کہ میں اپنی دیوانگی کا زکر کرتے ہوئے

میر صاحب کا یہ شعر اپنے حق میں پڑهوں گا کہ
خوش ہیں دیوانگی میر سے سب
کیا جنوں کرگیا شعور سے وہ

لیکن مجهے خیال آگیا کہ میری دیوانگی سےخوش ہونےوالے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جبکہ ناراضگی سے بهی زیادہ بهڑک جانے والوں کی تعداد زیادہ اور میں ابهی اس بات کا تعین کرنے سے بهی قاصرہوں کہ شعور سے جنوں کرنے کا کارنامہ سرانجام بهی دے سکا ہوں کہ نہیں

نوٹ:میں اشعار کا حافظ نہیں ہوں اور نہ ہی اتنا زیرک کہ ان کا اپنی تحریروں برجستہ ان کو موتیوں کی طرح پرو سکوں یہ تو اجمل کمال کی زیرادارت شایع ہونے والے رسالے “آج ” کے شمارہ نمبر 80 مہں بیدار بخت کے شایع چهے مضامین کا اثر ہے جو خیام و میر کے اشعار درج کئے سوچا کہ ساته ساته اشعار کے لئے استفادہ کا زکر کردوں تاکہ کسی حد تک بیدار بخت کا شکریہ ادا کیا جاسکے