Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ : حکومت طالبان ڈرامے کی کہانی کے مقاصد اور نتائج کیا ہیں

nawaz

اداریہ: حکومت-طالبان ڈرامے کی کہانی کے مقاصد اور نتائج کیا ہیں؟ مسلم لیگ نواز کی حکومت دیوبندی دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے آگے قدم بقدم سرنڈر کررہی ہے اور اس سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہے کہ وہ ہر قیمت پر ٹی ٹی پی سے معاہدہ کرنا چاہتی ہے چاہے بدلے میں دہشت گردی کے متاثرہ سیکشن اور گروہوں کی حالت اور کتنی بدتر کیوں نہ ہوتی چلی جائے تازہ خبر اس حوالے سے یہ ہے کہ وزیر محمد نواز شریف نے بارہ طالبان دہشت گردوں کو رہا کرنے کی منظوری دے ڈالی ہے –

روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت ان دہشت گردوں کو لو پروفائل دہشت گرد قرار دے رہی ہے ہمیں بہت زیادہ یقین ہے کہ لو پروفائل دہشت گردوں سے اس حکومت کی مراد ایسے دیوبندی دہشت گرد ہوں گے جنهوں نے پولیس ،سنی بریلوی ،شیعہ پر حملے کئے ہوں اور ان کی نسل کشی میں تندہی سے حصہ لیا گیا ہوگا کیونکہ اس سے قبل وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ نے جن بیس دیوبندی طالبان دہشت گردوں کو بے گناہ قرار دیکر رہا کیا ان میں چلاس گلگت بلتستان میں شیعہ و بریلویوں کو بس سے اتار کر زبح کرنے والے دہشت گرد بهی شامل تهے جس سے ہم یہ یقین کرنے پر مجبور ہیں لوپروفائل دہشت گردوں سے مراد بهی ایسے ہی دہشت گرد ہوں گے

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے حواری اعظم چوہدری نثار علی خان نے مزاکرات کی رٹ لگاتے ہوئے دو بڑے دعوے کئے تهے ایک دعوی یہ تها کہ اگر ٹی ٹی پی سے مزاکرات شروع ہوئے تو سیز فائر سے پورے ملک میں امن ہوجایے گا اور اس کا سب سے بڑا فایدہ اہل تشیع اور اہل سنت بریلوی سمیت دہشت گردی کا شکار گروہوں کو ہوگا دوسرا دعوی اسلام آباد کی فول پروف سیکورٹی کا تها اب زرا ہم ان دونوں دعاوی کا زمینی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں صرف چهے ہفتوں میں اسلام آباد میں دہشت گردی کی دو بڑی وارداتیں ہوئی ہیں اور ان چهے ہفتوں میں پاکستان کے باسیوں کو چوہدری نثار علی خان کی وہ طویل پریس کانفرنس نہیں بهولی ہوگی جس میں انہوں نے اسلام آباد کو سیف سٹی بنانے کا اعلان کیا اور پهر ایک ہفتے کے اندر ہی ڈسڑکٹ کورٹ اسلام آباد پر حملہ ہوا اور اس میں ایک سنی بریلوی جج ،شیعہ نوجوان خاتون وکیل سمیت درجنوں افراد شہید و زخمی ہوگئے

جبکہ چوہدری نثار علی خان نے شہید ہونے والے جج کے قتل سے طالبان کو جس طرح سے بری کرانے کی کوشش کی وہ سب کے سامنے ہے پهر اسلام آباد فروٹ منڈی میں آر ڈی ایکس مواد کے ساته دهماکہ ہوا جس میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں ،آر ڈی ایکس مواد نے اس حملے میں دیوبندی طالبان کے ملوث ہونے کے امکانات بڑها دئے لیکن وزیرداخلہ تو پہلے سے ہی طالبان کو اس سےبری کرچکے تهے روزنامہ ڈان اسلام آباد نے 13اپریل کی اشاعت میں ایک خبر میں لکهتا ہے کہ پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے 180کمانڈوز کا دستہ کیپٹل پولیس کی درخواست پر اسلام آباد پہنچ گیا ہے جبکہ اس سے پہلے رینجرز کے دستے بهی اسلام آباد پہنچے ہیں خفیہ اداروں کی رپوٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نام بدل کر اسلام آباد ،پنڈی اور واہ کینٹ پرخوفناک دہشت گرد حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے –

اس سے پہلے آئی بی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور پنڈی کے دو مدرسے ابتک ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں اہم لنک کی حثیت رکهتے ہیں جن میں کمانڈر فضل الرحمان خلیل کا مدرسہ بهی شامل ہے جوکہ ٹی ٹی پی سے مزاکرات میں ثالث کے طور پر شامل ہیں ان زمینی حقائق اور خود حکومتی اعترافات و اقدامات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ قیدیوں کی رہائی اور سیز فائر سے سے اسلام آباد کو بهی محفوظ نہیں بنایا جاسکا بلکہ اس کے بعد صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے

کراچی میں مارچ کے آخری ہفتے اور اپریل کے تیرہ دنوں میں ایک درجن کے قریب شیعہ پروفیشنل کی ٹارگٹ کلنگ دیوبندی کلنگ مشین کے هاتهوں ہوئی ہے روزنامہ دنیا لاہور کی خبر کے مطابق لاہور میں ایک بریلوی مدرسے کو دیوبندی دهشت گردوں کے ہاتهوں تباہ ہونے سے بچا لیا گیا ہے اور دیوبندی دہشت گردوں سے دهماکہ خیز مواد اور اسلحہ بهی برآمد کیا گیا ہے حیدر آباد ،لاڑکانہ ،مٹهی تهرپارکر میں دیوبندی دہشت گردوں نے ہندوں کے مندروں پر حملے کئے ہیں جبکہ اس دوران ہندو لڑکیوں و عیسائی لڑکیوں کے اغوا اور زبردستی نکاح کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ،

ایک رپورٹ میں زبردستی نکاح و اغوا کا شکار ہونے والی عیسائی لڑکیوں کی تعداد ہزار اور ہندوں کی ایک سو ہے اسی دوران جوزف کالونی کے ساون مسیح اور گوجرہ کے عیسائی میاں بیوی کوسزائے موت سنادی گئی ہے جبکہ گوجرہ اور جوزف کالونی لاہور پر حملہ کرنے والے آزاد پهر رہے ہیں اہل سنت بریلوی کی ٹاپ لیڈر شپ دیوبندی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہے صحافی امتیاز عالم کو جان سے مارنے کی دهمکی بهی دی گئی ہے انسانی حقوق کمیشن ملتان ٹاسک فورس کے رہنما اور آئی اے رحمان کے بهتیجے راشد رحمان کو لیکچرر جنید حفیظ پر جهوٹے توهین کیس کی پیروی کرنے پر قتل کی دهمکیاں دوران سماعت جج کے سامنے دی گئیں اور دهمکیاں دینے والے آزاد پهر رہے ہیں

اس ساری تفصیل سے یہ ظاہر ہوتا ہے نواز شریف اور ان کے حواریوں نے دیوبندی کلنگ مشین کے ساته جو مذاکرات شروع کئے اور ان کو جن رعایتوں سے نوازا ان سے پاکستان کے شهر تو کیا محفوظ ہوتے بلکہ خود وفاقی دارالحکومت سخت غیر محفوظ ہوگیا ہے اور ان مزاکرات نے اہل سنت بریلوی و شیعہ کی نسل کشی اور غیر مسلم اقلیتوں کی پراسیکیوشن میں کوئی کمی نہیں کی بلکہ حکومت اور مزاکرات کے جملہ حامیوں کی روش سے لگتا ہے کہ ان کو دیوبندی کلنگ مشین سے ممکنہ ڈیل شیعہ و سنی بریلوی کی نسل کشی اور مزہبی اقلیتوں کی دیوبندی کلنگ مشین کے هاتهوں پراسیکیوشن کی قیمت پر قبول ہے اور ریاستی مشینری کو وہ ان مظلوموں کے تحفظ کے لئے استعمال کرنے سے گریزاں ہے مزاکرات کی منادی کاروں نے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کی جو مشہوری کی تهی اس کا پول بهی کهل گیا ہے اور اس تنظیم کے سب سے بڑے گڑه وزیرستان کے کنٹرول کی لڑائی متحارب گروپوں میں تیز ہوگئی اور سوال یہ اٹهتا ہے کہ اگر ڈیل ہوتی ہے

تو اس پر عمل درآمد کی ضمانت کہاں سے آئے گی ہمیں نواز حکومت اور ان مزاکرات کے حامی دیوبندی سلفی سیاسی جماعتوں اور گروپوں کی روش اور اس اتحاد میں نئے جوش و جزبے کے ساته سعودی عرب کے شریک ہونے سے یہ لگ رہا ہے کہ ان مزاکرات میں کہیں بهی شیعہ-بریلوی نسل کشی ،غیر مسلم اقلیتوں کی پراسیکوشن ایک هاٹ ایشو کے طور پر موجود نہیں ہے اور یہ مزاکرات ڈرامہ ان سب مزکورہ بالا متاثرہ برادریوں کو یہ پیغام بهی دے رہا ہے کہ حکومت اہل تشیع،بریلوی، ہندو،کرسچن ،احمدیوں کی مزهبی آزادیوں،ان کی شناخت کی قربانی دیکر اور ان کی نسل کشی و پراسیکیوشن سے نظریں چرا کر دیوبندی کلنگ مشین سے کوئی ڈیل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ اس کے نزدیک گهاٹے کا سودا نہیں ہے

اب تک مزاکرات کی سائیڈ پر حاشئے میں واقعات رونما ہورہے ہیں ان کو بهی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جیسے پنجاب میں محمد احمد لدهیانوی کی قومی اسمبلی میں دخول اور اکرم شیخ کی نااہلی ہے اور اس سے ہم یہ کہنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں کہ کراچی سے اورنگ زیب فاروقی اور بلوچستان سے رمضان مینگل،شفیق مینگل وغیرہ کو ایوان میں لانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے اور یہ سعودی عرب سے نواز حکومت کی ممکنہ ڈیل اور اس کی پاکستان میں تعمیل کی کوششوں کا حصہ ہے اور یہ پاکستان میں جعلی نام نہاد سنی سیاسی فورس سامنے لانے کا منصوبہ ہے جوکہ اصل میں سنی لبادے اور سانگ میں سعودی نواز دیوبندی دہشت گرد آواز کو سامنے لانے کا منصوبہ ہے

About the author

Taj

Ali Abbas Taj is the Editor of Let Us Build Pakistan.
@aliabbastaj on Twitter

2 Comments

Click here to post a comment
  • سعودیہ کی جبری بادشاہت ختم ہوتے ہی ان کے پالے  ہوے پاکستان کے قاتل گروپ اور ان کے  سرغننہ الٹے لٹکا دئے جاینگے .
    کوئی ١٠٠٠٠ حرامی مرنے پڑینگے.
     لسٹیں ہیں رنجرز کے  پاس. وہ ہی رنجرز جو آج کل اس منحوس اسلامی چڈھا حکومت کے  لیے کام کر رہے ہیں کراچی