اردو کراس پوسٹ پوسٹ

طالبان کی نو عمر لڑکوں سے جنسی زیادتی

paktaliban1

سال 2009 کی اس تصویر میں طالبان افغانستان میں کسی نا معلوم مقام پر دکھائی دے رہے ہیں۔ طالبان پر نو عمر لڑکوں کے جنسی استحصال کا الزام لگایا جاتا ہے۔ [رائیٹرز]

اسٹاف رپورٹ2013-08-13

اسلام آباد – پاکستان اور افغانستان کے بعض علاقوں میں طالبان کے ہاتھوں نو عمر لڑکوں کا جنسی استحصال عام ہے۔ یہ بات سینٹرل ایشیا آن لائن کو تجزیہ کاروں، فوجی افسران، علماء اور ایک سابق عسکریت پسند سے کیے گئے انٹرویوز میں پتا چلی ہے۔

پشاور میں مقیم تجزیہ کار اور مصنف عقیل یوسف زئی نے اگست کے اوائل میں سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ میں نے خود اس چیز کی تحقیقاتی رپورٹنگ کی ہے کہ وہ مبینہ طور پر اسکولوں سے نو عمر لڑکوں کو جنسی تفریح کے لیے لے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس بات کی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں میں عسکریت پسند نو عمر لڑکوں کا استحصال کر رہے ہیں۔

عقیل نے کہا کہ عسکریت پسند باقاعدگی سے خیبر پختونخواہ کے سرحدی علاقوں میں واقع اسکولوں میں جا کر خوبصورت نو عمر لڑکوں کو منتخب کرتے ہیں۔ ضلعی افسر تعلیم نے اس معاملے کی اطلاع متحدہ مجلس عمل (2002 تا 2007) کی صوبائی حکومت کو دی تھی مگر مسئلہ برقرار رہا۔

خوف کے باعث جاری رہنے والا راز

پاکستان میں ایک سابق عسکریت پسند کمانڈر نے جو بعد میں پھل فروش بن گیا سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں جنسی زیادتیوں کی تصدیق کی تاہم اس نے کہا کہ “معاشرے میں بدنامی” کے خوف سے بیشتر واقعات کی اطلاع نہیں دی جاتی۔

کمانڈر نے اپنا نام صرف مہمند بتاتے ہوئے کہا کہ سماجی خوف کی وجہ سے متاثرہ لڑکا اسے راز رکھتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ہمیشہ متاثرہ بچے پر ہی اس کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس نے جنسی فعل کا ارتکاب اپنی مرضی سے کیا یا اس کے ساتھ زبردستی کی گئی۔ ایک بار جب وہ زیادتی کا شکار ہو جاتا ہے تو پھر اسے دوسروں کی بلیک میلنگ یا استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں کمانڈر یا ان کے ساتھی بھی شامل ہیں۔

مہمند نے کہا کہ زیادتی کا نشانہ بنانے والے بعض کمانڈر اکثر اس فعل میں دوسروں کو بھی شریک کرتے ہیں اور اپنے ہم عصروں اور ساتھیوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ متاثرہ بچے کو “استعمال” کریں۔

اس نے مزید کہا کہ طالبان کی سینئر قیادت نے اس زیادتی کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ مہمند کے بقول سینئر کمانڈروں کو اس بات کا احساس ہے کہ عسکریت پسند اپنے اہل خانہ اور گھروں سے دور ایک سخت زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر ایسے واقعے کی اطلاع ملے تو اس میں ملوث افراد کی محض سرزنش کے ذریعے معاملے کو حل کر لیا جاتا ہے۔

اسلام میں جنسی زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں

یہ عمل اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ عسکریت پسندوں کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ دینی علماء کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند دوسروں کے لیے سخت اخلاقی پیمانے مقرر کرتے ہیں مگر وہ خود اسلام کے بنیادی اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

پشاور میں واقع مرکز اسلامی نامی مدرسے کے مہتمم مولانا عبد الاکبر چترالی نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی سے بڑا جرم کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ ان شہوانی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے فعل کا ارتکاب کرنے سے کوئی شخص “دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے”۔

پشاور کے ایک ممتاز عالم دین اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا راحت حیسن نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی دینی علماء اور حقیقی جہادی کبھی بھی اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتے۔ اس طرح کی قبیح حرکت کا ارتکاب کرنے والے افراد مسلمان نہیں ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ہر جگہ کچھ کالی بھیڑیں ہوتی ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں بھی منافقین موجود تھے۔

اس کے باوجود اسلام میں نو عمر لڑکوں کے ساتھ جنسی تعلق کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یہ سلسلہ کئی دہائیوں پرانا ہے

پاکستانی فوج کے سینئر افسر ریٹائرڈ بریگیڈیر سید نذیر نے “بچہ بازی” یا “لڑکوں کو جنسی تفریح” کے لیے استعمال کرنے کے رواج کی تصدیق کی۔

نذیر نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ میں سرحدی علاقوں میں فورسز کے کمانڈر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے چکا ہوں اور اچھی طرح جانتا ہوں کہ نو عمر لڑکوں کا کیسے جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور انہیں اغوا کر لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان جہاد [1979 سے 1989 تک سوویت یونین کے خلاف جاری رہنے والی جنگ] کے دوران جہادی کمانڈر اچھی شکل و صورت کے نو عمر لڑکوں کو مال غنیمت سمجھ کر لے جاتے تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں، ثقافت بھی وہی ہے اور لڑائی ابھی جاری ہے، جس کی وجہ سے یہ رواج چل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی لڑائی میں خواتین، نو عمر لڑکوں اور بچوں کو سب سے زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عقیل کے مطابق دونوں ملکوں میں یہ مسئلہ کافی عام ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں میں خواتین کی بجائے خوبصورت لڑکوں کو ساتھ رکھنا فیشن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

 

Source :

http://centralasiaonline.com/ur/articles/caii/features/pakistan/main/2013/08/13/feature-01?format=mobile&mobile=true