Featured Original Articles Urdu Articles

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں موجود لال مسجد کی لائبریری کو عالمی دہشت گرد اسامہ بن لادن کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے.

 

1982080_701854903211575_5091634397305602367_n

This is appalling. The Lal Masjid library has been renamed the “Usama Bin Ladin Shaheed” library.Every peace-loving Pakistani should condemn this. We will not let our mosques, roads or schools revere mass murderers and barbarian criminals. We will not let even an INCH of our soil be used to promote aperson who is responsible for the murder of innocents around the world and Pakistan.
We are not war-mongering people. We are the children of Bulleh Shah and Hazrat Shah Inayat who preached religious harmony and love.The very name Osama Bin Ladin evokes disgust in the human soul that yearns for peace and respect for human life and dignity.As for referring to this barbarian as “shaheed” one can only repeat in Jalib’s words:
Changez Khan shaheed, Halaaku shaheed hai.
Aayay jo iss zameen par har daaku shaheed hai.

اسی پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوے لیٹ اس بلڈ پاکستان کے ایڈیٹر جناب محمد بن ابی بکر کا کہنا ہے کہ ” طالبان سے حکومت کی ڈیل کا ایک مطلب اور پہلو یہ بهی ہے یعنی جہاں اس کا مطلب دہشت گردوں کو اعلانیہ اپنا اتحادی اور ان کو شیعہ نسل کشی کا پروانہ راہداری دینا ہے وہیں اس کا مطلب ان کے هیروز کو اعلانیہ عزت و احترام دینا بهی ہے یہ نام دیوبندیت کے تکفیری و خارجی وہابیت سے نکاح کی کهلی نشانی بهی ہے ”

اس سے پہلے بھی لال مسجد کے خارجی تکفیری دیوبندی ریاست پاکستان کے آئین کو نہ ماننے کا کھلے بندوں اعلان کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود نواز شریف کی دہشت گرد نواز حکومت کی جانب سے سے لال مسجد کے فتنہ پرداز ملا عبدل عزیز کو نا صرف کمیٹی میں شامل رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا بلکہ اسے ناشتے کے بعد ظہرانے پر بھی بلایا گیا جہاں نواز شریف اور ملا عبدل عزیز نے پاکستان کی مزید ” سعودی زیشن  ” کے منصوبے کو عملی جامعہ پہنانے کے گھناونے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا

پاکستان کے بریلوی ، شیعہ اور احمدی حضرات کے ساتھ ساتھ ہندو اور باقی اقلیتیں بھی اب یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے حکومت میں آنے کا دعوا کرنے والی نواز حکومت در اصل کس کے اشارے پر حکومت میں لایی گیی اور اب بھی وہ کس ملک کے اشاروں پر پاکستان کو دہشت گردوں کے حوالے کرنے پر تلی ہے؟

ستر ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں سے مذاکرات اور دنیا بھر میں لاکھوں بے گناہوں کے قتل عام کی وجہ بننے والے وہابی تکفیری دہشت گرد اسامہ کے نام سے سرکاری لائبریری کو منسوب کرنا اس بے حس اور دہشت گرد نواز حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے جو ایٹمی ریاست کے عوام کی نمائندگی کا دعوا کرتی ہے

  لال مسجد کے تکفیری دیوبندی فسادی مولوی کی جانب سے جیو ٹی وی پر یہ اعتراف کے ہم جہاد کے لئے ذہن سازی کرتے ہیں اور پھر لائبریری کو عالمی دہشت گرد کے نام سے منسوب کرنا اس بات میں کوئی شک نہیں چھوڑتا کہ بلا شبہ لال مسجد ہی پاکستان میں موجود تمام دیوبندی مسجدوں اور مدرسوں کے ” ضرار ” نیٹ ورک کی سرخیل ہے – جب تک لال مسجد کو ان دیوبندی تکفیری دہشت گردوں اور ان کی نا پاک سوچ سے پاک نہیں کیا جاتا اسلام آباد سمیت پورے پاکستان میں امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا –

About the author

Shahram Ali

6 Comments

Click here to post a comment