اداریہ: پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان ایشو پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سندھ میں اورنگزیب فاروقی کو خوش کرنا بند کرے

چار اپریل 1979ء پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ کا ہی نہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم ترین دن ہے اور اس دن زوالفقار علی بھٹو کی ایک طالع آزماء کے ہاتھوں شہادت نے اس سارے بحران کی بنیاد رکھی جس کو آج ہم پورے عروج کے ساتھ پاکستان کے اندر کارفرماء دیکھ رہے ہیں

پاکستان پیپلزپارٹی کی روائت ہے کہ وہ ہر سال چار اپریل کو بھٹو کی برسی کا اجتماع گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں کرتی ہے اور جلسے سے پہلے اس پارٹی کی سب سے بڑے پالیسی ساز ادارے سنٹرل ایگزیگٹو کمیٹی (سی ای سی)کا اجلاس ہوتا ہے اور اس اجلاس میں ملک کو درپیش چیلنچز اور اس پر پارٹی کے آفیشل موقف بارے بحث کے بعد کوئی راہ متعین کی جاتی ہے اور اسے عمومی طور پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل یا سیکرٹری اطلاعات پاکستانی عوام کو پارٹی کے موقف بارے سی ای سی کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہیں

اس سال بھی سی ای سی کا اجلاس نوڈیرو لاڑکانہ میں منعقد ہوا اور اس اجلاس کے انعقاد کے بعد پی پی پی کے سیکرٹری اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے پریس کو بتایا کہ سی ای سی نے تحریک طالبان پاکستان سے حکومت کی بات چیت کی حمائت کی اور اس پر یہ ضرور کہا گیا کہ سی ای سی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت اس حوالے سے ان کو اعتماد میں لے ،سی ای سی نے مسلم لیگ نواز کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے جبکہ پارٹی کی سی ای سی نے مزدوروں ،کسانوں اور ہاریوں کی حمائت جاری رکھے گی

ادارہ تعمیر پاکستان یہ خیال کرتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سی ای سی کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان سے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی حمائت کا ایک مرتبہ پھر سے اعادہ اس ملک کی دیوبندی تکفیری دھشت گردی کے متاثرہ گروہوں (اہل سنت بریلوی ، شیعہ، ہندؤ، عیسائی ،احمدی، سیکولر بلوچ و پختون و دیگر)کے لیے واضح مایوسی کا سبب بنا ہے اور اس کے نتائج خود پیپلزپارٹی کے حق میں بہتر نہیں نکلیں گے کیونکہ یہ دھشت گردی کے متاثرہ گروہوں کو اپنی سیاسی راہ پیپلزپارٹی سے ہٹ کر بنانے کی طرف راغب کرنے کے مترادف ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کی سی ای سی کی دھشت گردی اور دیوبندی پاکستان تحریک طالبان کی جانب جو روش ہے اور بلاول بھٹو زرداری چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے جو تقریر کی اس میں بہت زیادہ تضاد موجود ہے کیونکہ ایک طرف سی ای سی تحریک طالبان پاکستان سے حکومتی مذاکرات کے عمل کی حمائت کرتی ہے تو دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری نے طالبان سے مذاکرات کے عمل بارے جس قدر سخت تنقید کی اور جو باتیں کیں اس سے یہ ثابت ہوا کہ دیوبندی طالبان دھشت گردوں سے مذاکرات کا مطلب سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہے اور اس بنیاد پر انہوں نے بجاطور پر مسلم لیگ نواز کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

لیکن ان کی پارٹی نے آل پارٹیز کانفرنس میں طالبان سے مذاکرات کی حمائت کی ،پی پی پی کے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور اب ان کی پارٹی کی سی ای سی ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے عمل کی حمائت کرتی ہے تو ان کی تقریر میں ٹی ٹی پی کے خلاف تمام تر انقلابی گرج بے کار معلوم ہونے لگتی ہے اور ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب پی پی پی کےپارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف ،پارٹی کی سی ای سی مذاکرات کی حمائت کررہی ہے تو اس پارٹی کا چئیرمین اس بات چیت کے خلاف آتشیںتقریریں کیوں کررہے ہیں ؟

بلاول بھٹو زرداری نے مذھبی اقلیتوں اور مسلمانوں(انہوں نے نجانے کیوں اہل سنت بریلوی، شیعہ ،احمدی وغیرہ کا نام لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہ کی ) پر دھشت گردوں اور انتہا پسندوں کے حملے کے جواب میں یہ کہا کہ وہ ان دھشت گردوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اقلیتوں اور مسلمانوں کے خلاف لڑنے سے پہلے ان کو بلاول بھٹو سے لڑنا ہوگا

لیکن اب اس کا کیا کجئیے کہ جب وہ یہ تقریر کررہے تھے تو اس وقت ضلع خیرپور میں دیوبندی دھشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت کا مرکزی ترجمان اورنگ زیب فاروقی اہل سنت بریلوی و اہل تشیع کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز تقریر کرہا تھا اور وہ ایران کا نام لیکر اس کے خلاف زہر اگل رہا تھا یہ خیرپور سندھ کے موجودہ چیف منسٹر قائم علی شاہ کا ضلع ہے

یہ اورنگ زیب فاروقی وہ ہے جس پر قتل،بلوے سمیت متعدد ایف آئی آر کراچی کے مختلف تھانوں میں درج ہیں اور یہ لشکر جھنگوی کا کراچی میں گاڈ فادر ہے لیکن یہ نہ صرف سندھ بھر میں مذھبی اشتعال اور نفرت کو پھیلارہا ہے بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی وہ یہ کام کررہا ہے لیکن سندھ حکومت اس کو نظربند کرنے کی بجائے اس کی حفاظت کے لیے وی آئی پی سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے جو وزیروں کو حاصل ہے

پھر پیپلزپارٹی کے چئیرمین اپنے ٹویٹس میں یہ کہہ چکے ہیں لشکر جھنگوی اور ٹی ٹی پی ایک ہی ہیں تو پھر ان کی پارٹی کی حکومت اورنگ زیب فاروقی کو وی آئی پی سکواڈ کیوں فراہم کررہی ہے اور اہل سنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان، لشکر جھنگوی اب تک آزادی کے ساتھ سندھ میں مذھبی منافرت پھیلا رہی ہے اور اس کی قیادت آزاد کیوں پھررہی ہے

سندھ میں دیوبندی تکفیری دھشت گرد نیٹ ورک کے سیاسی چہرے اہل سنت والجماعت کی سرگرمیاں اور ان کی جانب سے امام بارگاہوں، مساجد، خانقاہیں ، مندر، دھرم شالے ، مراکز احمدیہ پر حملے اور اہل سنت بریلوی،شیعہ، عیسائی، ہندؤ اور احمدیوں کے خلاف مہم بلاول بھٹو ،آصف علی زرداری اور قائم علی شاہ کے دھشت گردی کے خلاف عزم اور بیانات پر سوالیہ نشان لگادیتی ہے

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں دبے دبے لفظوں میں 70ء کے عشرے میں پی پی پی کی جانب سے رجعت پسندوں اور بنیاد پرستوں سے سمجھوتے کی غلطی کو تسلیم کیا اور یہ کہا کہ وہ دھوکہ نہیں کھائیں گے لیکن ان کی قومی اسمبلی میں موجود پارٹی ٹی ٹی پی سے مذاکرات کو سپورٹ دے رہی ہے تو سندھ میں حکومت اورنگ زیب فاروقی جیسے دھشت گردوں کو کھلی چھٹی دئے ہوئے وہ جن اقدامات کی بنا پر پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ویسے ہی اقدامات سندھ حکومت بھی اٹھارہی ہے

بلاول بھٹو اور ان کی پارٹی کو زوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی جانب سے رجعت پسندوں کے ساتھ سمجھوتوں کا انجام بھی یاد رکھنا چاہئیے

لیکن آج پاکستان کے دائیں بازو میں واضح طور پر جو اہل سنت بریلوی اور اہل تشیع کی دائیں بازو کی سیاسی مذھبی قیادت اور جماعتیں ہیں وہ دیوبندی اور وہابی تکفیری و جماعت اسلامی سے الگ راہ پر کھڑی ہیں اس لیے اس مرتبہ انتہا پسندی و دھشت گردی کے خلاف پوزیشن لینا اتنا مشکل اور کٹھن کام نہیں ہے جتنا یہ بھٹو صاحب کے زمانے میں تھا لیکن افسوس کہ پی پی پی کی قیادت دائیں بازو کی اس واضح تقسیم سے کوئی فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نظر نہیں آتی ہے

ادارہ تعمیرپاکستان بلاول بھٹو زرداری اور سی ای سی کے ہاں بلوچ اور بلوچستان کا زکر گول کرنے کو بھی قابل افسوس بات سمجھتا ہے اور جبکہ چند دن پہلے خضدار کی اجتماعی قبر سے مسخ شدہ ناقابل شناخت لاشوں کے ملنے کی خبریں آئیں اور گوادر و تربت میں کتابوں اور سی ڈیز کی دکانوں پر چھاپوں کی اطلاع ملی لیکن بلوچ قوم کی نسل کشی بارے ایک لفظ بھی سی ای سی کے اجلاس میں سننے کو نہیں ملا اور نہ ہی بلاول بھٹو اور نہ ہی آصف زرداری نے بلوچ قوم پر ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ نہیں کیا

ہمیں ایسا لگتا ہے کہ پی پی پی کی قیادت شاید یہ خیال کئے بیٹھی ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان سے نواز شریف کے مذاکرات بارے تیزتر پروپیگنڈا کرکے شاید فوج کی قیادت کو نواز شریف سے فاصلے پر رکھے گی اور اس لیے وہ ملٹری اسٹبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسیوں کی متوازی حکومت اور بلوچستان کے اندر ماورائے قانون اور آئین کاروائیوں پر خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر خیال کررہی ہے جبکہ یہ سنگین غفلت اور ایک جمہوری عوامی پارٹی ہونے کی دعوے دار جماعت کے شایان شان بات نہیں ہے

اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی نے نام نہاد تحفظ پاکستان بل پر جس مصلحت کوشی کا مظاہرہ کیا اور اس کی منظوری کے لیے راہ ہموار کی اس سے بھی انسانی حقوق کے حامیوں اور جمہوریت پسندوں میں بہت سے خدشات نے سراٹھایا ہے

جب یہ اداریہ لکھا جارہا تھا تو کراچی سے خبریں آنے لگیں کہ کراچی پولیس اور رینجرز کی بھاری نے جئے سندھ قومی محاذ کے چئیرمین صنعان بشیر قریشی کی گلشن حدید میں رہائش گاہ کو گھیرے میں لیا اور شاید چئیرمین جسقم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی جو جسقم کے کارکنوں کی شدید مزاحمت کی وجہ سے ناکام بنادی گئی تو سندھ حکومت کی جانب سے اس قسم کے اقدامات بفسوس ناک امر ہیں کہ وہ اورنگ زیب فاروقی جیسے دیوبندی دھشت گردوں کو کھلی چھٹی دے اور جس جماعت کے کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہو اور لاشیں تک جلادی جاتی ہوں اور وہ پھر بھی اپنی سیاسی جدوجہد پرامن طریقے سے چلانے کا اعلان کرے اس کے خلاف پولیس و رینجر گردی سیاسی بے بصیرتی کی علامت ہے

ہم پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سے کہتے ہیں کہ جس طرح سے اس نے سعودی عرب سے ڈیڑھ ارب کی امداد ،مڈل ایسٹ کی جنگ میں نواز حکومت کے کود پڑنے کی بے صبری پر بہت واضح موقف کے ساتھ سٹینڈ لیا ہے اسے دیوبندی تکفیری دھشت گردی کے خلاف اپنے صوبے سندھ ،قومی اسمبلی ،سینٹ ،سی ای سی وغیرہ میں بھی سٹینڈ لینا چاہئیے اور بلوچستان کے ایشو پر ملٹری اسٹبلشمنٹ کو خوش کرنے کی پالیسی کو ترک کردینا چاہئیے

PPP’s Qamar Zaman Kaira’s secret love affair with ASWJ-LeJ

lubpak.com

ٹنڈو اللہ یار میں احمدیوں کے ساتھ کئے گئے ایک ظلم کا منظر
ASWJ's @MAhmadLudhyanvi after burning #Christian houses
پال بھٹی کو اب بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین سمیت مرکزی قیادت کا اعتماد حاصل ہے

Comments

comments

Latest Comments
  1. ahad
    Reply -
  2. khattak the great
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*