Featured Original Articles Urdu Articles

زوالفقار بھٹو سے بلاول بھٹو تک – از عامر حسینی

10003374_10203601424784563_424484040_n

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اب کجھ ایام ایسے ہیں جن میں ایسے واقعات ظہور میں آئے جن کی وجہ سے پاکستان کے ایک مضبوط فیڈریشن ہونے کے تاثر کو سخت نقصان پہنچا
ایسا ہی ایک دن 4-اپریل 1979ء کا تھا جب ملک کے پہلے جمہوری آئین کے خالق منتخب وزیر اعظم زوالفقار علی بھٹو کو ایک انتہائی مشکوک قسم کے مقدمے میں تختہ دار پر لٹکادیا گیا

بھٹو کا جسد خاکی جس دن پنڈی سے سی-130 طیارے میں ان کے آبائی گاؤں نوڈیرو پہنچا تو سندھ کی سیاست میں نفرت اور دھوکہ دئے جانے کے احساسات گہرے ہوگئے یہ اور بات کہ اس وقت زوالفقار علی بھٹو کی بیوہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کی نئی قائد نصرت بھٹو نے سندھ کی عوام کو یہ پیغام دیا کہ بھٹو نے جان فیڈریشن توڑنے کے لیے نہیں بلکہ اس کو بچانے کے لیے دی تھی

بھٹو اور ان کے سیاسی جانشینوں کی یہ خاصیت ہے کہ انہوں نے پاکستان کے طالع آزماؤں اور مٹھی بھر جابر اقلیت کے ظلم و جبر کا سامنا ہونے پر پاکستان مخالف سیاست کو اپنا قبلہ نہیں بنایا اور نہ ہی پنجاب کے اندر اپنے جمہوریت پسند ساتھیوں کو علیحدگی پسند سیاست اختیار کرکے مایوس کیا بلکہ اور زیادہ شدت کے ساتھ وفاق پرست جمہوری سیاست کا علم بلند کیا اور پاکستان کی وحدت کے اندر جمہوریت،سماجی انصاف اور معاشی مساوات کے اقدار کو سینے سے لگائے رکھا

اس کے برعکس اگر ہم بنگالی ،بلوچ اور پختون علاقوں سے اٹھنے والے بڑے قدکاٹھ کے لیڈروں کی تاریخ کو دیکھیں تو وہ کہیں نہ کہیں پنجاب میں اپنے ساتھیوں کو آخرکار الوداع کہہ کر خود کو صرف و صرف بلوچ،پختون و بنگالی سیاست تک محدود کرگئے اور اپنی اقوام کی آزادی کا حل انہوں نے صرف و صرف علیحدگی کی صورت میں چانچنا شروع کردیا،بلوچ نوروز خان کے قتل سے لیکر اکبر بگٹی کے قتل تک یہ مناظر بلوچ سیاست میں ہمیں دیکھنے کو ملے تو مشرقی پاکستان کے اندر جب 70ء کے انتخابات میں انتقال اقتدار نہ ہوسکا تو شیخ مجیب نے فیصلہ کیا کہ اب بنگالیوں کے حقوق کی بازیابی آزادی کے سواء ممکن نہیں ہے ،ثور انقلاب افغانستان میں آیا تو یہ اجمل خٹک اور دوسرے لوگ تھے جو جلال آباد گئے اور آزاد پختونستان کا خواب دیکھنے لگے

لیکن خود زوالفقار علی بھٹو نے اپنی پھانسی کے دن تک بےپناہ جبر،زیادتیوں کے باوجود جس کا تذکرہ انہوں نے بہت ہی تلخی کے ساتھ سپریم کورٹ میں اپنے آخری بیان میں کیا جو تاریخیدستاویز کی حثیت رکھتا ہے کسی ایک جگہ بھی پاکستانی فیڈریشن سے ہٹ کر کسی اور طرح کی سیاست کرنے کا عندیہ تک نہ دیا اور ان کا یہ یقین رہا کہ پاکستان ایک سوشلسٹ فیڈرل جمہوریت کے طور پر قائم رہ سکتا ہے اور وہ اس ملک کے مزدوروں،کسانوں،مظلوم اقوام،مذھبی اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی اور ان سے ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرسکتا ہے

ان کی پھانسی کے بعد جب سندھ کے اندر سے علیحدگی پسند آوازوں نے سراٹھانا شروع کیا تھا اور نہ کھپے پاکستان نہ کھپے کی آواز آئی تھی اور اس کا مظاہرہ بھٹو کے چہلم پر چند لوگوں نے کیا تھا ،اب یہ معلوم نہیں کہ وا آمر ضیاء الحق کے ایجنٹوں کی شرارت تھی یا چند جذباتی کارکنوں کے جوش جذبات اور انتہائی صدمے میں نکلے الفاظ تھے لیکن بیگم نصرت بھٹو نے اس موقعہ پر انتہائی ضبط اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاقی جمہوری سیاست کو جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا

مجھے اکثر حیرانگی ہوتی ہے کہ جنرل ضیاءالحق کی پروپیگنڈا ساز مشینری کو بہت شوق تھا اور اس کی خواہش تھی کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک طرف تو ضیاءالحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد میں پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ ترک کردے،دوسرا پی پی پی اور انیٹی پی پی پی حقیقی سیاسی قوتوں کے درمیان خلیج اسی طرح سے قائم رہے جس طرح سے یہ 5-جولائی 1977 ء کے وقت موجود تھی ،تیسرا یہ پاکستان پیپلزپارٹی سندھ سے باہر پنجاب،خیبرپختون خوا،بلوچستان ،گلگت بلتستان،فاٹا اور آزاد کشمیر میں اپنے حامیوں کی بڑی تعداد کی خواہشات اور آرزؤں کے برعکس صرف و صرف سندھ کی قوم پرست پارٹی کے طور پر ابھرے اور سندھ کی علیحدگی کا نعرہ لگاڈالے تاکہ پی پی پی کو بری طرح سے پاکستانی ریاستی مشینری کچل ڈالے اور ویسا ہی فوجی آپریشن کرنے کا موقعہ ملے جیسا مشرقی پاکستان میں کیا گیا تھا

بیگم نصرت بھٹو ،محترمہ بے نظیر بھٹو اور پی پی پی کے کارکنوں اور حامیوں نے اس منصوبے کو ناکام بنایآ اور بھٹو کی پھانسی کے تین سال کے اندر اندر ہی یہ بیگم نصرت بھٹو و بے نظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا نتیجہ تھا کہ 70 کلفٹن میں حزب آختلاف کی تمام اہم جماعتوں کے قائدین نے ایم آر ڈی کی تشکیل کرلی تھی اور بحالی جمہوریت کی یہ تحریک بہت سے درخشاں حوالوں سے ایوب کے خلاف بنے کمبائنڈ اپوزیشن اتحاد سے بہت زیادہ ریڈیکل اور بہت زيادہ طاقتور تھی اور پاکستان کے سیاسی کارکنوں نے اس تحریک میں بے مثال قربانیوں اور جدوجہد کی داستان رقم کی ضیاءالحق کی آمریت کے خلاف پی پی پی کو گیارہ سال کے دوران مسلسل ریاستی و غیر ریاستی پروپیگںڈا مشینری کے زریعے سے وفاق دشمن،فاشسٹ،غیر جمہوری،مذھب دشمن،بھارتی ،روسی ایجنٹ بتلایا جاتارہا اور بار بار مشرقی پاکستان کے سانحے کی تمام تر زمہ داری بھٹو کے کاندھوں پر ڈالی جاتی رہی

ضیاءالحق کی پوری کوشش تھی کہ پنجاب کے نوجوانوں اور عام شہریوں کے اندر سے بھٹو اور بھٹو کے زیر اثر پروان چڑھنے والے جمہوری،اشتراکی،سیکولر،لبرل،ترقی پسند خیالات کی بیخ کنی کی جاسکے اور پنجاب کے کسانوں،مزدوروں اور طالب علموں،خواتین اور مذھبی اقلیتوں کے اندر بنی پی پی پی کی ساکھ کو گرایا جاسکے اور اس مقصد کی خاطر ضیاء الحق نے پنجاب کے اندر فرقہ پرستی کے زہر کو پنجاب کی سیاست میں گھولنا شروع کردیا اور اس کا اسے اور زیادہ موقعہ پڑوسی ملک میں انقلاب آنے اور افغانستان میں سعودی عرب پلس امریکہ پلس پاکستانی جرنیل شاہی کے اتحاد ثلاثہ کے زیر سایہ نام نہاد افغان جہاد پروجیکٹ سے زیادہ میسر آگیا اور پنجاب کی سڑکیں ،گلیاں،مساجد،محلے ،مدرسے یہاں تک کہ اسکول،کالج اور جامعات تک میں ہمیں پہلی مرتبہ بہت شدت کے ساتھ شیعہ-دیوبندی تنازعے اور جھگڑے کے واقعات تواتر کے ساتھ ہونے دکھائی دینے لگے

آج ہمیں لشکر جھنگوی،احرارالہند سمیت یہ جو معصوم شہریوں کے خون سے ان کے عقیدے کی وجہ سے ہولی کھیلنے والی عفریت نظر آتے ہیں تو یہ ضیاء الحق کی ہوس اقتدار اور پی پی پی دشمنی کا تحفہ ہیں
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ پی پی پی اور بائیں بازو کی چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے کارکنوں نے فرقہ واریت ،نسل پرستی کی اس بھڑکتی آگ کو بھجانے کی بہت کوشش کی لیکن ایم آرڈی کی کئی اتحادی جماعتیں اس آگ کا حصّہ بنتی جلی گئیں ،کسی کو گلف ریاستوں سے آنے والے پیسے نے اس آگ میں کود پڑنے پر مجبور کیا تو کسی کو اہل فارس کے تومان کی کشش کھینچ کر لے گئی اور کسی کو امریکی ڈالروں کی کشش نے نام نہاد جہادی چولہ زیب تن کرنے پر مجبور کردیا اور وہ مذھبی جماعتیں جو کسی زمانے تک اپنی سامراج دشمنی پر ناز کرتی تھیں سامراج کے چرنوں ميں بیٹھ گئیں اور سامراج کے غلام عرب حاکموں کی پراکسی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیکر اپنے مدارس کے بچوں کو اس جنگ کا ایندھن بنانے لگ گئیں

زرا سوچیں کہ 4اپریل 1979ء کو ایک بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے کا عمل اصل میں پاکستان کے اندر پوری جمہوری غیر فرقہ وارانہ پرامن سیاست کو تختہ دار پر لٹکانے کی علامت بن گیا اور ہم آج تک اپنی سیاست کو پرامن نہیں بناسکے بلکہ میں کہتا ہوں کہ اگر پاکستانی سماج میں آج بھٹو کے مخآلف مفتی محمود ،میر غوث بخش بزنجو یہاں تک کہ چوہدری ظہور اللہی زندہ ہوکر آجائیں اور پاکستانی سیاست میں فرقہ واریت پر مبنی لگی آگ کو دیکھیں تو وہ شاید صدمے سے دوبارہ مرجائیں
پاکستانی سیاست میں بھٹو کے

قتل کی تلخی کے اثرات کم ہونے لگے تھے شاید جب بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت پر سائن ہوئے تھے لیکن یہ تلخی اس وقت بڑھ گئی جب بے نظیر بھٹو لیاقت باغ کی اسی سڑک پر ماری گئیں جہاں سے چند قدم کے فاصلے پر بھٹو کی پھانسی کی یادگار بنی ہوئی ہے اگرچہ پی پی پی کے نئے قائد آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر وفاقی سیاست پر اپنے ایمان کو متزلزل ہونے سے روکا لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ وفاقی جمہوری سیاست کے راستے پر بارودی سرنگیں بچھانے کا کام اسلام آباد میں ضیاء کی باقیات نے ترک نہیں کیا ہے

ضیاءالحق کی باقیات بلاول بھٹو زرداری کو پنجاب کے اندر داخلے سے روکنے کی کوشش کررہی ہے اور ضیاءالحق کے بگڑے بچوں کی دھشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی بلاول بھٹو زرداری کو پرواز کرنے سے پہلے ہی ختم کرنے کے درپے ہے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کہتے ہیں کہ اگر بلاول بھٹو زرداری کو کچھ ہوگیا تو بہت تباہی پھیلے گی تو وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں کیونکہ سندھ میں تو سندھ کی بے روزگار پڑھی لکھی نوجوان نسل کا ایک حصّہ اور سندھ کی ابھرتی ہوئی پروفیشنل مڈل کلاس کی ایک بڑی تہہ جسقم کے ساتھ ہمدردی رکھتی نظر آرہی ہے اور سندھ کے اندرون اور کراچی کے حاشیوں پر بیٹھی سندھی آبادی کے اندر سے ایک ایسی تحریک اٹھتی نظر آرہی ہے جو شاید پی پی پی سے زیادہ مرکز پرست سیاست کے لیے خطرے کا الارم ہے ،پاکستان کے حکمرانوں کے لیے بلوچستان میں جو ہمدردی رکھنے والے ڈاکٹر مالک جیسے سیاست دان ہیں وہ 500 سے 700 ووٹ لے پاتے ہیں اور اگر سندھ میں بھی یہی رجحان ترقی کرگیا تو وفاق پرست سیاست کرنا گھاٹے کا سودا ہی رہ جائے گا

ویسے بھی بلاول بھٹو زرداری اگر پنجاب ،خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں پیپلزپارٹی کے پاکٹس کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ان کو سب سے پہلے اپنے آپ کو شیری رحمان اینڈ کمپنی جیسے لبرل اشرافیہ کے گروہوں سے جان چھڑانا ہوگی وہ اگر سندھ میں پی پی پی کی سیاست کو بچانا چاہتے ہیں توم ان کو سندھ کے اندر مندر،مسجد،مزارات،امام بارگاہوں پر حملہ کرنے والوں اور مذھبی بلوؤں کو منظم کرنے اور سندھ کی صوفی ثقافت کی جگہ وہاں پر شدت پسندی کو رائج کرنے والے لشکر جھنگوی جیسے گروہوں کی بیخ کنی کرنے کے ساتھ ساتھ ان لشکروں کو آئیڈیالوجیکل سپورٹ کرنے والوں کے نیٹ ورکس پر پابندی عائد کرنا ہوگی

میرے لیے یہ بات باعث حیرت ہے کہ پی پی پی کے چئیرمین اور ان کی جماعت کے دیگر لیڈر پنجاب کے اندر لشکر جھنگوی کے150 خاموش سیلوں کو بند کرانے کی قراداد تو لیکر آتے ہیں لیکن ان کے جو سیل سندھ میں اور کراچی میں کام کررہے ہیں اس پر سندھ کی حکومت کی غفلت یا نااہلی کا یہ نوٹس لینے سے قاصر ہیں ،یہ دوہرا پن ختم کرنا ہوگا اور انتہا پسندی و دھشت گردی کے خلاف یکساں اور برابر طرح کا تنقیدی ڈسکورس اپنانا ہوگا
کچھ باتیں پنجاب کے اندر پی پی پی کی تںطیموں کے حوالے سے بھی کرلی جانی چاہئيں،منظور وٹو کہتے ہیں کہ ان کی پنجاب کے اندر ضلعی تنظیموں میں خالی عہدے پر کرلئے گئے ہیں اور پنجاب میں پی پی پی کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے

جہاں تک میری معلومات ہیں تو وہ یہ ہیں کہ اپنے دور حکومت میں پی پی پی نے آئی بی کے زریعے سے پی پی پنجاب کے ضلعی عہدے داروں کی کارکردگی اور اہلیت بارے آگاہی کی ایک کوشش کی تھی اور اس حوالے سے آئی بی نے جو رپورٹ مرتب کی تھی اس کے مطابق اکثر اضلاع میں ضعلی ،سٹی اور پی پی حلقہ جات کی تنظیموں کو ڈمی ،ان کے عہدے داروں کو فوٹو سیشن مافیا قرار دیا گیا تھا ان میں ضلعی صدر ملتان،ضلعی صدر خانیوال ،ضلعی صدر ساہیوال ،ضلعی صدر ثوبہ ٹیک سنگھ ،ضلعی صدر فیصل آباد ،ضلعی صدر بہاول نگر ،ضلعی صدر ڈیرہ غازی خان کے بارے میں رپورٹس پڑھنے کے بعد مںطور وٹو کی باتوں پر ہنسی آتی ہے اور اس حوالے سے منظور وٹو پورے پنچاب کے 34 اضلاع کو کلیم کرتے ہیں تو پھر یہ جو جنوبی پنجاب کی تنظیم ہے اس کی کیا حثیت رہ جاتی ہے؟
میں نے پہلے بھی اپنے بھائی عامر ڈوگر سے کہا تھا کہ وہ ایک بے اختیار اور نمائشی عہدے کو اپنے پاس رکھکر کیوں اپنی بھد اڑارہے ہیں ،انہیں عزت کے ساتھ یہ عہدہ اپنے مربی سید یوسف رضا گیلانی کو واپس کردینا چاہئیے