Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ تعمیر پاکستان: بلاول بھٹو زرداری کی ہم پر تنقید- زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمیں بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ادارہ تعمیر پاکستان کی ویب سائٹ پر تنقید کرتے ہوئے جب یہ لکھا

تو ہمیں فوری طور پر یہ شعر یاد آگیا کہ

زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا

اور کافر یہ کہے ہے کہ مسلمان ہے تو

زرا ملاحظہ کیجئے کہ دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت کا ٹوئٹر پر آفشل پیج ادارہ تعمیر پاکستان کے بارے میں کن مغلظات کا اظہار کررہا ہے ،صرف یہی بات کافی ہے میرے ایماں کے لئے

ایکسپریس چینل کے اینکر رضا رومی پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی ادارتی ٹیم نے مناسب جانا کہ ان پر اس حملے کی فوری مذمت ہونی چاہئیے اور تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی ادارتی ٹیم کی رکن سارہ خان نے اس حوالے سے شہ
‎سرخی کے طور پر رضا رومی پر قاتلانہ حملے کی خبر بھی چلائی اور تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے اس حملے کے مرتکب مبینہ دھشت گردوں کی شناخت ایک مرتبہ پھر بے نقاب کی جب رضا رومی کے ٹی وی چینل کی انتظامیہ، صحافتی برادری کے نمایاں لوگ اور خود رضا رومی اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کی ممکنہ شناخت کے بارے میں کوئی بات کرنے سے ہچکچارہے تھے

ادارہ تعمیر پاکستان کے مدیر کی حثیت سے میں نے ادارہ تعمیر پاکستان کی جانب سے رضا رومی پر ہونے والے حملے کے حوالے سے اپنے پڑھنے والوں تک ایک تحریر کے زریعے یہ پیغام بھی پہنچایا کہ پاکستان کے اندر جو سیکولر، لبرل ، بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صحافی یا دانشور ہیں اگر وہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ دھشت گردوں کی دیوبندی تکفیری شناخت کو چھپانے اور ان کے حامیوں سافٹ امیجنگ سے حالات کی سنگینی کو کم کیا جاسکے گا تو وہ غلط فہمی کا شکار ہیں یا وہ بہت بری موقعہ پرستی کے مرتکب ہورہے ہیں

اعجاز حیدر، نجم سیٹھی اور اس قبیل کے جو دیگر نام نہاد سیکولر، لبرل دانشور صحافی ہیں ان کے آئی ایس آئی کے ساتھ جو مبینہ روابط ہیں، وہ مسلم لیگ نواز کی دیوبندی کلنگ مشین اور ان کے حامیوں کی طرف نوازشات پر جو خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں،اور وہ دھشت گردوں کی دیوبندی تکفیری شناخت اور شیعہ،بریلوی نسل کشی پر جس طرح سے گول مول ڈسکورس اختیار کرتے اور اس حوالے سے بنیادی حقائق کو دھندلانے کی کوشش کرتے ہیں ،اس پر ادارہ تعمیر پاکستان کی جانب سے اور ادارہ تعمیر پاکستان سے اتفاق رکھنے والے لکھاریوں کی جانب سے جو بھی تنقید تعمیر پاکستان ویب سائٹ پر شایع ہوتی رہی اس میں کہیں بھی زاتی عناد،عدوات کا شائبہ تک موجود نہیں تھا اور ٹھوس حقائق پر اس کی بنیاد رکھی گئی

ہم نے پاک ٹی ہاؤس نامی بلاگ پر پاکستان کی مظلوم مذھبی برادریوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے والے مضامین کی اشاعت پر ان مضامین کی اشاعت کرنے والوں کے مذموم مقاصد کو بے نقاب کیا اور پاکستان کے اندر مظلوم مذھبی برادریوں اور نسلی گروہوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے والوں کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے تمام مظلوموں کو دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کرنے کا درس دیا تو اس پر ہمیں کسی قسم کی شرمندگی نہیں ہے

ادارہ تعمیر پاکستان نے اپنی ویب سائٹ،سماجی رابطے کی ویب سائٹ اور ٹوئٹر پر بنے اپنے مختلف اکاؤنٹس اور آفیشل پیجز پر اس حوالے سے جو کچھ بھی تحریر کیا وہ سب کے سامنے ہے اور ہمارے موقف کو دن بدن تقویت حاصل ہورہی ہے

لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری ایسے لوگوں کے نرغے میں آگئے ہیں کہ جو ان سے دیوبندی تکفیری دھشت گردوں اور ان کی حامی تنظیموں کے خلاف ایک وسیع تر اتحاد میں پل کا کردار ادا کرنے اور پاکستان کے اندر دیوبندی تکفیری دھشت گردی کے عفریت سے نجات دلانے والے مشترکہ محاذ کی قیادت کرنے کی بجائے ان کے ہاتھوں دھشت گردی کے مخالف کیمپ کے سرگرم مورچوں کو نقصان پہنچانے کا کام لینا چاہتا ہے

بلاول بھٹو زرداری چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ادارہ تعمیر پاکستان کی جانب سے رضا رومی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرنے کا ٹوئٹ چلانے اور اس پر اپنی ویب سائٹ پر تحریر لانے کی مذمت کی اور ادارہ تعمیر پاکستان کو “شرم کرنے کو کہا”

بلاول بھٹو زرداری کا یہ ٹوئٹ پیغام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہوں نے ادارہ تعمیر پاکستان کی جعلی سیکولر، جعلی لبرل، جعلی بایاں بازو اور جعلی سول سوسائٹی پر کی جانے والی تنقید کو یا تو پڑھا ہی نہیں یا وہ جان بوجھ کر اس تنقید کے مغز کو نظرانداز کررہے ہیں

ادارہ تعمیر پاکستان نے اگر شیری رحمان ،ان کے ادارے اور ان کے ساتھ کھڑے لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تو اس کی وجہ ان کے اور ان کے ادارے کے آئی ایس آئی کے ساتھ مبینہ تعلقات اور آئی ایس آئی سمیت ملٹری اسٹبلشمنٹ کی دوسرے ممالک میں تزویراتی گہرائی ڈھونڈنے کی پالیسی کی تائید اور جہادی پراکسی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش وغیرہ تھی اور ہم نے عائشہ صدیقہ اور ملک کی دیگر معتبر صحافتی برادری کی طرح یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ کس طرح سے پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ انگریزی اور اردو میڈیا میں اپنے مطلب کی چیزیں مینیج کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اس عمل کو ممکن بنانے میں صرف دائيں بازو کے صحآفی و تجزیہ نگار شامل نہیں ہیں بلکہ بظاہر لبرل اور سیکولر امیج کے حامل صحافی، تجزیہ کار بھی یہ کردار ادا کررہے ہیں اور وہ پاکستان میں سول اتھارٹی کے کنٹرول کو مکمل ہونے میں روکاوٹ کا باعث ہیں

ادارہ تعمیر پاکستان نے پی پی پی کے اندر اور پی پی پی کے حامیوں کا لبادہ اوڑھے بہت سے لوگوں کو بے نقاب کیا کہ کس طرح سے ان کے دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے ساتھ تعلق،رشتے اور روابط ہیں اور پی پی پی کو ان کالی بھیڑوں سے نجات حاصل کرنی چاہئیے

پی پی پی کی سندھ میں حکومت ہے اور اس سے پہلے یہ وفاق میں بھی حکومت میں رہے لیکن اس سارے عرصے میں اس حکومت نے دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت پر پابندی نہیں لگائی اور آج بھی سندھ کے اندر اس تنظیم کا نیٹ ورک اندرون سندھ اور کراچی میں پوری طرح سے فعال ہے اور یہ اس تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی اورنگ زیب فاروقی کو پرٹوکول اور پولیس سیکورٹی کے ساتھ آزادانہ کام کرنے کی اجازت دئے ہوئے ہے اور اس کی دیوبندی تکفیری دھشت گرد تںطیم اہل سنت والجماعت کو کھلی چھٹی دینے کا نتیجہ اندرون سندھ کے اندر بھی کراچی کی طرح فضاء اہل سنت بریلوی،اہل تشیع ،ہندوؤں کے لیے انتہائی ناسازگار ہوتی جارہی ہے

دیوبندی تکفیری دھشت گرد جماعت اہل سنت والجماعت نے بدین کے قریب ایک گاؤں میں بھیل ہندؤ برادری کے قبرستان میں دفن ہونے والے نوجوان کی لاش کی بے حرمتی کی،رنکل کماری سمیت بہت سی ہندؤ لڑکیوں کو  زبردستی اغواء کرکے جبری تبدیلی مذھب کرکے ان سے شادی رچانے اور پھر اس پر ہندؤ برادری کے احتجاج کو دبانے کے لے دھشت گردی،خوف ہراس اور تشدد کرنے کے حوالے سے اہل سنت والجماعت کا کردار اور ان کی پی پی پی کے بعض ممبران قومی و صوبائی اسمبلی و عہدے داران کی جانب سے سرپرستی کی خبریں بھی عام ہیں

اس کے ساتھ ساتھ اہل سنت بریلوی کی ومساجد پر قبضے،مزارات پر حملے ،خانقاہوں پر حملوں میں دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں

ایک طرف فرحت اللہ بابر حافظ سعید اور مسعود اظہر اور ان کی جماعتوں پر پابندیوں کا زکر سینٹ میں کرکے مسلم لیگ نواز کی دیوبندی دھشت گردوں کی سرپرستی کا پول کھولتی ہے لیکن دوسری طرف پورے سندھ میں جما‏عۃ الدعوۃ اور اس کی تنظیمیں کھلے عام کام کررہی ہیں

بلاول بھٹو زرداری اب تک پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت کی جانب سے دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیموں کو کام کرنے سے نہ روکنے جیسی سنگین نااہلی کا نوٹس لینے کی بجائے ان کی نشاندھی کرنے میں سب سے آگے ہونے والے ادارے کو ہدف تنقید بنارہے ہیں تو بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی

بلاول بھٹو زرداری ملک ریاض ،تاجی کھوکھر گینگ کے ساتھ دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے روابط کی نشاندھی کرنے پر عائشہ صدیقہ جیسی بے باک صحافی کے ساتھ انتہائی ترش رویہ اپناتے ہیں اور ان کو جھوٹا کہنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی ادارہ تعمیر پاکستان سخت مذمت کرتا ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کو کہتا ہے کہ وہ عائشہ صدیقہ سے معافی مانگیں

ادارہ تعمیر پاکستان اپنا جمہوری حق سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر سیکولر،لبرل سیاسی جماعتوں کی سیکولرازم کے منافی،لبرل اقدار کی نفی کرنے یا جمہوری اقدار سے انحراف کرنے والی کسی بھی پالیسی یا کسی اقدام کو ہدف تنقید بنائے

دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیموں اور ان کے حامیوں کے ساتھ روابط رکھنے ،ان پر پابندی لگانے میں سستی برتنے یا ان کی سافٹ امیجنگ میں ملوث کسی بھی سیاست دان،کسی تجزیہ کار،کسی صحافی،کسی دانشور الغرض کہ جو بھی ہو ایسا کرے گا تو اس پر تنقید اور اسے بے نقاب کرنے کا فریضہ ادارہ تعمیر پاکستان ادا کرتا رہے گا

پاکستان پیپلز پارٹی کو شعیہ ،بریلوی نسل کشی،عیسائی ،ہندؤ،احمدیوں کی مذھبی پراسیکیوشن پر دوغلہ موقف اپنانے اور اس کی زمہ دار دیوبندی تکفیری کلنگ مشین کو اس الزام سے بری کرنے کی کوششیں کرنے والی اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں اور ان کے مشیر کا درجہ اختیار کرنے والے گھس پیٹھیوں کو نکال باہر کرنا چاہئیے یا ان کی دھشت گرد نواز پالسیوں کو الٹا پھرنا چاہئیے  نہ کہ اپنے ناقد دوستوں کی کردار کشی کرنے پر تل جانا چاہئیے

ppp

ہم بلاول بھٹو کو یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ ادارہ تعمیر پاکستان ہے جس نے ان کی جانب سے حقیقی سیکولر،لبرل موقف اپنانے اور دھشت گردوں کے خلاف انتہائی صاف زھن سے آگے آنے کی تعریف کی اور جب پہلی مرتبہ انہوں نے لندن میں سلمان تاثیر شہید کے قاتلوں کے خلاف ان کا نام لیکر ان کی مذمت کی تو ہم نے ان کا خیرمقدم ان کو اپنی ویب سآئٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سآئٹس پر بنے اپنے آفیشل پیجز پر کوریج دے کرکیا اور ہماری ٹیم سے وابستہ بہت سے لوگ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کے معروف اداروں سے وابستہ ہیں انہوں نے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بلاول بھٹو کی امیج بلڈنگ میں حصّہ ڈالا

خود میں نے بطور مدیر اس ویب سائٹ پر اور بطور تجزیہ کار،مبصر،بہت سے تجزیوں میں اور دوران ٹی وی ٹاک شوز اور کالموں میں ان کی جرات اور بے باکی کی داد دی اور ان کے وژن کو سراہا

ادارہ تعمیر پاکستان نے ہر اس سیاست دان، صحافی،وکیل، رکن سول سوسائٹی کو سراہا اور اس کی امیج بلڈنگ و پروجیکشن کی ہے جس نے پاکستان کے اندر انتہا پسندی، دھشت گردی ،فرقہ پرستی، نسل پرستی سمیت انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے نظریات و افکار اور اعمال کے خلاف غیرمصالحانہ جنگ کی ہے لیکن اس دوران اگر کہیں نظریاتی ڈنڈی ماری گئی یا موقعہ پرستی دکھائی گئی تو اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا

ادارہ تعمیر پاکستان پاکستانی میڈیا اور اس سے تغلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت کے دیوبندی دھشت گردی پر ڈسکورس یا بیانیہ کے بارے میں یہ رائے رکھتا ہے کہ وہ گول مول،مبہم، دھندلانے والی اور موقعہ پرستانہ ہے اور یہ رائے ادارے نے ٹھوس دلائل اور ثبوت کے ساتھ اختیار کی ہے اور اس کا یہ ماننا ہے کہ اگر کوئی شیعہ ،بریلوی نسل کشی ،عیسائی،ہندؤ،احمدیوں کی مذھبی بنیادوں پر ہونے والی پراسیکوشن کی زمہ داردیوبندی دھشت گردی پر نہیں ڈالتا تو وہ ڈھلمل،گول مول مبہم ،دھندلادینے والے ڈسکورس پر چل رہا ہے اور اگر وہ خود کو ترقی پسند،سیکولر،لبرل، بائیں بازو والا کہتا ہے تو وہ اصل میں جعلی سیکولر ،لبرل ،بائيں بازو والا ہے اس کا حقیقت میں ترقی پسندی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے

an

u3

u5

u6

u7

u8

u9

u12

u19

sk1

u22

u20

u23

About the author

Muhammad Bin Abi Bakar

39 Comments

Click here to post a comment