Original Articles Urdu Articles

زید حامدکا تجزیہ : سعودی عرب، دیوبندی طالبان سے ڈیل، ملٹری اسٹبلشمنٹ کیا سوچتی ہے؟

Screen Shot 2014-03-28 at 4.26.09 PM

بہت سے واقعاتی شواہد ایسے مل رہے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر مڈل ایسٹ،طالبان سے بات چیت وغیرہ کے ایشوز پر واضح تقسیم موجود ہے اور اس حوالے سے ملٹری اسٹبلشمنٹ کا ایک دھڑا ایک طرف تو سعودی عرب کی مڈل ایسٹ اور ایشیا میں لڑائی کا حصّہ دار بننے کا سخت مخالف ہے اور وہ پاکستانی فوج ،انٹیلی جنس ایجنسیوں اور اس کے زیر اثر دیوبندی اور وہابی دھشت گرد پراکسی کو ایران،قطر،شام وغیرہ میں استعمال کرنے کا مخالف ہے

ملٹری اسٹبلشمنٹ میں اس دھڑے کی نمائندگی کون کررہا ہے اس کی تو ابھی خبر نہیں ہے لیکن آثار سے پتہ چلتا ہے کہ تقسیم گہری ہوتی چلی جارہی ہے

اگر ملٹری اسٹبلمنٹ سے فوائد اٹھانے والے تجزیہ نگاروں،کالم نگاروں اور صحافیوں پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں زید حامد ایک ایسا کردار نظر آتا ہے جس پر ماضی میں اس کے اپنے ایک جوئنیر نے طویل پریس کانفرنس کی تھی اور اسے پاکستان کی سلامتی کا دشمن قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ فوج میں تقسیم کا خواہاں ہے وغیرہ وغیرہ

اس وقت جب زید حامد کے خلاف ایک مہم جیو ٹی وی اور دیگر چینل پر زور و شور سے جاری تھی تو بھی زید حامد بہت دھڑلے سے بیانات اور ٹی وی چینلرز پر تبصرے فرمارہے تھے جبکہ ان پر جو الزامات فریق مخالف لگارہا تھا اس کے بعد ان کا فوج اور ایجنسیوں کی گرفت سے بچنا یا اس قدر لائم لائٹ میں رہنا ممکن نہیں تھا

ان کے لائم لائٹ میں رہنے سے باخبر حلقوں نے یہ مطلب نکالا تھا کہ زید حامد اور ان کے ایک اسسٹنٹ کی باہمی لڑآئی اور زید حامد کی اسٹبلشمنٹ کے قریبی لوگوں میں سے ایک حصّے کی لڑائی ملٹری اسٹبلشمنٹ میں دھڑے بندی کا شاخسانہ ہے

آج بھی ایسا لگ رہا ہے کہ سعودی عرب-نواز شریف-دیوبندی دھشت گرد کی جو تکون بننے جارہی ہے ملٹری اسٹبلمنٹ کا ایک دھڑا اس تکون کا مخالف ہے اور وہ شاید ملٹری اسٹبلمنٹ میں نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے لوگوں سے سعودی عرب-پاکستان کی موجودل سٹریٹجک پارٹنر شپ اور دیوبندی دھشت گرد مشین کے ساتھ ممکنہ ڈیل کی جہت کے خلاف ہے

یہی وجہ ہے کہ زید حامد ایک طرف تو بہت کھلے طریقے سے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے بہت سی سچی باتیں کررہا ہے ،

ادارہ تعمیر پاکستان زید حامد کی تین مختلف ٹی وی پروگراموں میں کی گئی گفتگو کے تین وڈیو کلپس اپنے قاری کے لیے پیش کررہا ہے جس سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ سعودی عرب اور دیوبندی کلنگ مشین کے بارے میں ایک متفقہ رائے نہیں رکھتی ہے اور اس میں ایسے لوگ اور بااثر لوگ موجود ہیں جو سعودی عرب کی پراکسی میں پاکستان کی ٹانگ پھنسانے کے حق میں نہیں ہے

زید حامد نے دیوبند مکتبہ فکر کے اندر سے دھشت گرد تنظیموں کے ظہور،پاکستان میں مذھب کے نام پر دھشت گردی کرنے والوں کی مسلکی شناخت اور دیوبند میں قائم دارالعلوم دیوبند کی نمائندہ تنظیم جمعیت العلمائے ہند کی ماضی میں کانگریس سے وابستگی اور پاکستان کے قیام کی مخالفت اور اب ایک مرتبہ پھر اپنی تاریخی کانگریس نوازی سے قلابازی کھاتے ہوئے گجرات کے ہندؤ فاشسٹ اور مسلمانوں کے خون کی گجرات میں ہولی کھیلنے والے نریندر مودی کے ساتھ اتحاد اور پاکستان میں حکومت کی دیوبندی طالبان سے بات چیت کو اتفاق نہ ماننے والی بات،لشکر جھنگوی/اہل سنت والجماعت کا ہاکی گراؤنڈ کوئٹہ میں شیعہ-بریلوی،عیسائی،احمدی اور ہندؤں کے قاتلوں کو ایوارڑ دینے کی تقریب اور جلسے میں شیعہ-بریلوی نعرے والی بات کا تذکرہ بھی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر جہادی پراکسی- جس کا ٹھیکہ پاکستان کے اندر زیادہ تر دیوبندی مکتبہ فکر کے پاس ہے –پر پیدا ہونے والے اختلاف کی نشاندھی کرتی ہے

لیکن یہ ایک طرح سے وہ سچ ہے جو اس سے پہلے پاکستانی مین سٹریم میڈیا پر نہیں آتا تھا بلکہ ایک باخبر دوست کا کہنا ہے کہ زید حامد تو کیونکہ واضح طور پر پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ایک دھڑے کا آدمی ہے تو اس لیے میڈیا پر آسانی کے ساتھ اس طرح کی باتيں کررہا ہے لیکن ملٹری اسٹبلشمنٹ کی اس تقسیم کا براہ راست فائدہ ان بریلوی علماء اور بریلوی بے باک سیاست دانوں کو بھی پہنچا ہے جو بہت پہلے سے دیوبندی فرقے کے اندر سے تکفیری دھشت گرد تنظیموں کے ظہور ،اس کی نیٹ ورکنگ اور دیوبندی مولویوں کی جانب سے ان کی طرف جھکاؤ پر تنقید کررہے تھے لیکن اکثر وبیشتر ان کو مین سٹریم میڈیا میں وہ جگہ نہیں ملتی تھی جو دیوبندیوں کو ملتی تھی

لیکن کسی حد تک اس رجحان میں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے دیوبندی طالبان و دیگر دھشت گردوں کے سخت ترین ناقد بریلوی عالم صاحبزادہ حامد رضا،پاکستان سنّی تحریک کے ثروت قادری ،مولانا حنیف قریشی اب کئی ٹی وی چینلوں کے پرائم ٹائم پروگراموں میں نظر آنے لگے ہیں اور دیوبندی تکفیری دھشت گرد اور دارالعلوم دیوبند سے وابستہ ان تکفیریوں کے حامی دیوبندی مولوی اور تنظیمیں اور ان کے سعودی رابطے ایکسپوز ہورہے ہیں

اگرچہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر جو دھڑا سعودی عرب،دیوبنداور نواز تکون کے ایجنڈ ے کے خلاف اپنے حامیوں کو ہلّہ شہری دے رہا ہے اس دھڑے کے اس کے پس پردہ عناصر میں نواز شریف کے بھارت سے ٹریڈ اور موسٹ فیورٹ نیشن جیسے عوامل بھی ہوسکتے ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ خود ملٹری اسٹبلشمنٹ کا ایک دھڑا سعودی عرب-طالبان –فوج اشتراک کے خوفناک نتائج کا ادراک بھی رکھتا ہے

میاں نواز شریف کی دیوبندی کلنگ مشین سے جلد از جلد ڈیل کی کوشش اور پھر دیوبندی کلنگ مشین کے بڑے حصّے کو شام،ایران،لبنان،عراق بھجوانے کا منصوبہ ایسا ہے جو براہ راست مغربی ملکوں اور امریکہ کے سعوی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بھی فاصلے بڑھا سکتا ہے اور پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ کا ایک دھڑا امریکی سمت کے مخالف سمت میں سفر کرنے پر راضی نہیں ہے اور یہ آنے والے دنوں میں خود ملٹری کے اندر کسی بڑی تبدیلی کہ شاخسانہ ہوسکتا ہے

زید حامد کی سعودی عرب کی تنہائی ،قطر سے اس کا تنازعہ اور امریکیوں کا سعودی عرب کی بجائے قطر کی جانب جھکاؤ ،قطر کو انوسٹمنٹ کا مرکز بنانا اور سعودی عرب اور امریکیوں کی دور جیسے معاملات کا زکر بتاتا ہے کہ امریکہ کا مڈل ایسٹ میں جو پالیسی شفٹ ہے اور قطر جو اہم کھلاڑی کی حثیت سے ابھر رہا ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں میں سے ایک دھڑے کا جھکاؤ مڈل ایسٹ میں ہونے والی اس پالیسی شفٹ کی جانب ہو

مطلب یہ کہ پاکستان کی مقتدر طاقتوں کا یہ دھڑا مڈل ایسٹ میں قطر کی قیادت میں ابھرنے والے طاقت کے نئے مرکز کے ساتھ جائے جو ایک طرف تو شام میں حکومت اور حزب اختلاف میں بات چیت کا حامی ہے تو دوسری طرف وہ ایران کے کیمپ سے بھی خاص مخاصمت نہیں رکھتا

ویسے زید حامد سعودی عرب کی تنہائی اور اس کے ملک ملک پھر کر دوست تلاشنے کے عمل پر اپنے تجزیے کے حق میں یہ بات بھی آشکار کرتا ہے کہ آل سعود نے اپنے اقتدار کی حفاظت اور انے شاہی خاندان کی حفاظت کے لیے پاکستان سے ہی نہیں بلکہ ہندوستان سے بھی باہمی دلچسپی کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں اور اس کے مطابق یہ سب اس نے پاکستان سے مشاورت کے بغیر کیا ہے ،زاہد حامد بین السطور بتاتا ہے کہ کیسے ملٹری کے اندر اس بات پر بے چینی پائی جاتی ہے ،وہ کہتا ہے کہ میں سعودی شاہی خاندان سے ملا اور ان سے قطری حاکموں کے بارے میں پوچھا تو ان میں سے کچھ نے کہا کہ قطری مجنون ہوچکے ہیں پاگل ہوچکے ہیں ،زید حامد کے بقول قطری تو یہاں تک کہتے ہیں کہ سعودی عرب ان کا حصّہ ہے یہ ان کو ملنا چاہئیے ،زید حامد کہتا ہے کہ اگر سعودی عرب ہندوستان سے معاہدے کرسکتا ہے تو ہمارا معاہدہ ایران سے دفاع و سلامتی پر کیوں نہیں ہوسکتا اس کے یہ سوال بھی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر تقسیم کو ظاہر کرتے ہیں

وہ یہ کہتا ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان سیکورٹی فراہم کرسکتا ہے اور پاکستان کی ملٹری اس پر تیار بھی ہے لیکن پاکستان کی ملٹری سعودی عرب کی خاطر شام وغیرہ میں نہیں لڑے گی اور وہ کہتا ہے کہ اس پر فیصلہ ہوچکا ہے گویا وہ یہ خبر دیتا ہے کہ پاکستانی ملٹری کی قیادت سعودی عرب کی سلامتی ،آل سعود کی سلامتی،مکّہ و مدینہ کی حفاظت کے لیے فوجی خدمات فراہم کرنے کو تیار ہے لیکن اس سے آگے کے رول میں اختلاف پایا جاتا ہے

ویسے نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ خود کہہ چکے کہ انھیں مڈل ایسٹ میں تیزی سے بدلتی صورت حال میں اپنی پالیسی میں توازن برقرار رکھنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے یہ بیان خود ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر سے آنے والے دباؤ کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے

زید حامد سعودیہ عرب اور ایران کے حوالے سے پاکستانی حکومت کی غیر متوازن پالیسی پر تنقید کرتا ہے اور وہ شاید فوج کے اندر پائی جانے والی اصل بے چینی کا زکر بھی کرجاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ

پاکستان سعودی عرب سے تعلقات بنائے مگر ایران کی قیمت پر نہیں کہ سعودی عرب کے لیے ایران سے تعلقات اس قدر خراب کرلیے جائيں کہ افغانستان سے فرقہ وارانہ جنگ پاکستان کے اندر پہنچ جائے اور بڑے پیمانے پر خون ریزی ہو

زید حامد انکشاف کرتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے اپنی نیوی کی تعمیر کا خواہش مند ہے اور اس کے لیے اسے میرینز ہی نہیں تربیت یافتہ لوگ بھی درکار ہیں اور وہ یہ بھی پاکستان سے ہی مانگ رہا ہے ،وہ کہتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی حکومتوں کے درمیان جو سیکورٹی بات چیت اور قول و قرار ہوئے ان کا قوم کو پتہ چلنا چاہئیے