Featured Original Articles Urdu Articles

جماعت اسلامی کو اخوان المسلمون سے زیادہ سعودی ریال عزیز ہیں

عرب لیگ کا سالانہ اجلاس کویت کے دارالحکومت میں ہوا اور اس اجلاس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ کویت ،سعودیہ عرب،متحدہ عرب امارات،سعودیہ عرب اور مصر نے توقع کے مطابق قطر کی جانب سے اخوان المسلمون کی حمائت جاری رکھنے کی پالیسی پر سخت تنقید کی اور اخوان المسلمون کو دھشت گرد تنظیم قرار دینے پر اصرار جاری رکھا اور بنیاد یہ بنائی کہ عرب ملکوں کو اس وقت دھشت گردی سے سے سب سے بڑا جو خطرہ لاحق ہے اس میں اخوان المسلمون کا بڑا کردار ہے ،سعودی عرب نے قطر پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ یمن میں بھی باغیوں کی مدد کررہا ہے

مڈل ایسٹ میں اخوان المسلمون کے خلاف سعودی عرب زیادہ سے زیادہ پابندیاں لگانے کی کوشش کررہا ہے اور قطر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے زیر عتاب جن وجوہات کی وجہ سے ہے ان میں اخوان المسلمون ایک ہے

سعودی عرب نے اخوان المسلمون کی حکومت کا تختہ الٹنے والی مصری فوجی آمریت عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں برسراقتدار آئی تو امریکہ نے مصر پر فوجی امداد پر پابندی کا عندیہ دیا اور اس اقدام کی حمائت کرنے سے انکار کیا تو یہ سعودی عرب تھا جو فوری طور پر السیسی کے کام آیا اور اسے 12 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی اور سعودی عرب مصری آمر کو مزید بھی امداد دینے کا ارادہ رکھتا ہے

http://www.reuters.com/article/2014/03/25/us-arabs-summit-open-idUSBREA2O0FR20140325

مصری حکومت نے اخوان کے اراکین ،رہنماؤں اور حامیوں کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جب کہ ایک فوجی عدالت نے دوسری سماعت پر اخوان المسلمون کے 479 رہنماؤں کو بشمول اخوان کے مرشد عام سزائے موت سنادی ہے

اس سزائے موت سنائے جانے پر امریکی صدر باراک اوبامہ،سیکرٹری خارجہ جان کیری،برطانوی وزیراعظم سمیت دنیا بھر سے  انسانی حقوق کی تنظیموں کی بیانات سامنے آرہے ہیں اور اسے انصاف کا خون قرار دیا جارہا ہے

لیکن سعودیہ عرب،بحرین،کویت،متحدہ عرب امارات نے اس پر خاموشی اختیار کررکھی ہے اور مصری فوجی آمر کی حمائت کی جارہی ہے

لیکن پاکستان کی جماعت اسلامی اور کشمیر میں جماعت اسلامی کی جانب سے اس حوالے سے جو رد عمل سامنے آیا ہے اس میں جنرل السیسی کی حکومت اور اس کی قائم کردہ فوجی عدالت کے ان فیصلوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک لفظ بھی نام لیکر سعودی عرب کی مذمت نہیں کی گئی جبکہ ان فیصلوں کو صہنیوں اور امریکہ و مغرب کی سازش قرار دیا جارہا ہے اگر یہ صہیونی و مغربی سازش بھی ہو تو اس کا صاف صاف مطلب یہ بنتا ہے کہ آل سعود سمیت عرب ریاستوں کے حکمران جو السیسی حکومت کی حمائت کررہے ہیں وہ مغرب اور صہونیت کے ایجنٹ ہیں

سید علی گیلانی جو کشمیر میں حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے چئیرمین ہیں اور کشمیر میں دوسرے جماعت اسلامی ہیں نے اگرچہ اخوان المسلمون کی مصر میں حکومت کے خاتمے کے حوالے سے اشارہ دیا ہے کہ اس میں ایک وجہ ان آمروں اور بادشاہوں کا اقتدار کو خطرہ میں پڑجانا بھی تھا لیکن انہوں نے بھی سعودیہ عرب کا نام لینا پسند نہیں کیا

اخوان المسلمون کی سعودی عرب سے جو عناد کی جو صورت حال بنی ہے اس نے جماعت اسلامی پاکستان کی منافقت،موقعہ پرستی کا پول کھولنا شروع کردیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ جماعت اسلامی کے لیے سعودی ریالوں کی اہمیت کس قدر زیادہ ہے

اس مرتبہ جماعت اسلامی پاکستان نے ایرانی انقلاب کی سالگرہ کی تقریبات میں بھی امیر جماعت اسلامی پروفیسر منور حسن کو بھیجنے کی بجائے لیاقت بلوچ کو بھیجا اور اس خبر کو بھی خود اپنے رسائل و جرائد میں زیادہ کوریج نہیں دی اور نہ ہی جماعت اسلامی کو عبدالغفار عزیز جوکہ جماعت اسلامی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے نگران ہیں نے بھی کوئی مضمون اس حوالے سے ميڈیا کو جاری نہیں کیا

جبکہ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے عین اسی وقت عمرے کے نام پر سعودی عرب یاتراء کی جب سمیع الحق سعودی عرب گئے تھے اور وہاں سے واپسی کے بعد منور حسن کی جانب سے نواز شریف کے بارے میں خاص طور پر طالبان مذاکرات کے حوالے سے رویہ موافقانہ ہوگیا اور اخوان کے باب میں انہوں نے خاموشی اختیار کرلی اور اب وہ اخوان کے مخالف السیسی کو اسرائیل اور امریکہ کے ایجنٹ کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہیں اور اس کے آل سعود سے رشتہ داری اور آل سعود کی اخوان دشمنی پر ایک لفظ بھی نہیں بول رہے

جماعت اسلامی کے اخبارات و رسائل اور جرائد یہ حقیقت بھی اپنے چھپارہے ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی غزہ کی پٹی میں قائم حماس کی حکومت کی امداد اور وہاں پر رہنے والی فلسطینی آبادی کے لیے ایک بلین ڈالر کے فنڈ کا قیام کرنے میں بھی روکاوٹ ڈال رہی ہیں اور جو بھی اس دوران ان حکومتوں نے مدد کی ہے وہ محمود عباس کے اکاؤنٹ میں گئی ہے ،اس کا تذکرہ عرب لیگ کی سالانہ کانفرنس میں ہوا جب قطر کے وزیر خارجہ شیخ تمیم بن حماد التھانی نے اس فنڈ کے جدل از جلد قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ گذشتہ سال اس کے قیام کا وعدہ کیا تھا اور ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا