Original Articles Urdu Articles

دھشت گردی کے گول مول ڈسکورس پرپختون دانشورخادم حسین کی گول مول تنقید

kh

خادم حسین  پختون قوم پرست دانشور ہیں اور عوامی نیشنل پارٹی کے حامیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا شمار ان لوگوں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے نائن الیون سے پہلے اور نائن الیون کے بعد پختون معاشرے کے اندر بڑھنے والی انتہا پسندی اور دھشت گردی کے اسباب بارے تحقیق کرنے کی کوشش کی اور اس حوالے سے پختون قوم پرستانہ سانچے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کیا،ہم ان کا شمار فرحت تاج جیسے پختون قوم پرست دانشوروں میں کرسکتے ہیں

ان کا ایک آرٹیکل انگریزی معاصر اخبار روزنامہ ڈان کی 24 مارچ بروز جمعہ کی اشاعت میں شایع ہوا ،اس مضمون کا عنوان انہوں نے “گول مول ڈسکورس یا ابلاغ” رکھا ہے اور اس میں وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی ریاست،میڈیا اور سول سوسائٹی کے ایک حصّے نے طالبان کے حوالے سے جو اچھے اور برے ظالبان کی تقسیم کی اس نے دھشت گردی اور انتہا پسندی کے بارے میں ابلاغ یا ڈسکورس کو کنفوژن کا شکار کردیا اور اسے گول مول بنادیا

وہ کہتے ہیں کہ پشاور میں حال ہی میں جو 14 مارچ کو خودکش بم دھماکہ ہوا اس کی زمہ داری احرارالہند نامی ایک گروپ نے قبول کی اور اس کے بعد میڈیا کے اندر ابہام،اشتباہ کا ایک نیا دور شروع ہوگیا

ان کا کہنا ہے کہ

پولیٹکل اکنامی کے علم کے مطابق یہ صرف ایک نئے ابلاغ کی تعمیر ہی نہیں ہوتی جو کسی بھی کمیونٹی کو محکوم بنانے کے لیے ایک کنٹرول اتھارٹی جنم دیتا ہے بلکہ پہلے سے موجود ڈسکورس کم مشتبہ اور مبہم بناکر بھی یہ کام لیا جاتا ہے اور ان کے خیال میں یہ پروسس بہت سے سماجی-معاشی پیچیدہ پروسسوں کے ساتھ گندھا ہوا ہوتا ہےاور ہم اسے اس انتہا پسند تشدد میں دیکھ سکتے ہیں جس نے مذھبی دائیں بازو کو بہت زیادہ طاقت ور بنا دیا ہے جس کا ماضی میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا خاص طور پر اس طاقت کا مشاہدہ ہم ٹقافت،سیاست،معشیت اور لیگل فریم ورک میں کرسکتے ہیں

وہ مزید لکھتے ہیں کہ

جہاد اور خلافت ماورائے سرحد ،شہادت جیسے تصورات کو استعمال کرتے ہوئے اور دھشت گرد نیٹ ورک کو ان تصورات کی مدد سے تعمیر کرتے ہوئے ابلاغ کے تمام طریقوں اور زرایع کو ابلاغ کی منطق کو تضاد کا شکار کرنے کے لیے استعمال کیا اور اس نے مستقل طور پر یہ مقصد پاکستان کے مین سٹریم ذھنوں میں ابہامات کو پیدا کرنے کے زریعے حاصل کیا اور خاص طور پر پنجاب کے متوسط طبقے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو

خادم حسین کے خیال میں مبہم ڈسکورس پیدا کرنے کا پہلا عمل وہ تھا جب عسکریت پسندوں کو اچھے اور برے میں تقسیم کیا گیا کہ پاکستانی میڈیا عسکریت پسندی کے عالمی نیٹ ورک کو کلّی حثیت میں لینے کے کشمیر،افغانستان میں لڑنے والوں کو اچھا کہا جارہا تھا اور ان کی عظمت کے قصیدے پڑھے جارہے تھے

خادم حسین کہتے ہیں کہ افغان طالبان کو پہلے حریت پسند گوریلے کہا گیا پھر ان کو پختون قوم پرست کہا گیااور ساتھ ساتھ پختونوں کے بارے میں نوآبادیاتی حاکموں نے جو تعصبات اور کلیشے گڑھے تھے ان کو بھی اس مبہم ڈسکورس کا حصّہ بنادیا گیا

خادم حسین کہتے ہیں پھر اچھے طالبان کی اصطلاح سامنے آئی اور ان کو پختون ولی کی روائت کے ساتھ نتھی کردیا گیا

خادم حسین کہتے ہیں کہ پختونوں پر،ان کے معاشرے پر اور ان کی ثقافت پر یہ مذھبی انتہا پسندی اور دھشت گردی باہر سے مسلط کی گئی تھی لیکن اسے پختون سماج کا جزو لاینفک بتایا جاتا رہااور اسے دھشت گردی کے خلاف درست بیانیہ بںاکر پیش کیا جاتا رہا

جب پاکستان کے اندر دھشت گردی بڑھی تو پاکستانی میڈیا ،اینکر پرسن،تجزیہ نگار،محقق سازشی نظریات کے ساتھ حاضر ہئے اور انھوں نے عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے یہ بلیک واٹر،سی آئی اے،را،موساد کرارہی ہے اور اس کا الزام ٹی ٹی پی اور دیگر دھشت گردوں پر دھرنے سے صاف انکار کیا جاتا رہا اگرچہ ان حملوں کی زمہ داری ٹی ٹی پی اور دوسرے مقامی دھشت گرد نیٹ ورک قبول کرتے رہے

اس دوران ہمارے پروفیسرز محقق حضرات جہاں دھشت گردی اور انتہا پسندی کے پیجھے غربت کو بنیادی سبب قرار دیتے رہے وہیں وہ اس کا سبب کلچر کو بھی ٹھراتے رہے اور انہوں نے دھشت گردوں کے اندر سندھی،پنجابی،براہوی ،عرب، چیچن، چینی ،پنجابی، سندھی وغیرہ موجود ہونے کے باوجود پختون جننیات کو دھشت گردی اور انتہا پسندی کا جنم داتا قرار دیتے رہے

خادم حسین کہتے ہیں کہ مبہم اور اشتباہ پسندی کا تیسرا دور اس وقت شروع ہوا جب دھشت گردوں کے میڈیا سے براہ راست رابطے شروع ہوئے اور ان کے سربراہوں اور ترجمانوں کے انٹرویوز اور بیانات آنا شروع ہوئے تو کہا جانے لگا کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دھشت گرد جو کچھ کررہے ہیں اس کے پیچھے انتقام اور بدلے کی آگ ہے اور اس کی وجہ ڈرونز،فوجی آپریشنز کے دوران سیکورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں یہ ڈسکورس آف ریونج جماعت اسلامی ،پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں دائیں بازو کے لوگوں نے دینا شروع کیا

خادم حسین کہتے ہیں کہ گول مول یا مبہم ابلاغ کا چوتھا دور شروع ہوچکا ہے اور اس چوتھے دور میں دھشت گردی کی کاروائیوں کا زمہ دار گمنام اور اجنبی گروپوں کو قرار دیا جارہا ہے

خادم حسین کہتے ہیں کہ احرار الہند نامی گمنام گروپ نے تینوں حملوں کی زمہ داری قبول کرتے ہوئے بنیاد جہاد کو قرار دیا اور ان کے طریقہ کار بھی طالبان سے ملتا جلتا تھا

ہم نے یہاں خادم حسین کے پورے آرٹیکل کا مدعا اور مقصد ان کی اپنی منشاء کے مطابق اور قریب قریب اصل کی طرح سے پیش کردیا ہے

ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا کا غالب حصّہ ہی نہیں بلکہ خود خادم حسین جیسے پختون قوم پرست دانشور بھی دھشت گردی اور انتہا پسندی کے بارے میں جو ڈسکورس پیش کرتے ہیں وہ گول مول ،چھپانے والا اور ابہام کو جنم دینے والا ہے

خادم حسین جیسے پختون قوم پرست بعض سندھی،بلوچ،پنچابی،سرائيکی قوم پرستوں کی طرح دھشت گردی اور انتہا پسند آئیڈیالوجی کے بارے میں مطلق طور پر یہ مبالغہ آمیزی کرتے ہیں کہ یہ انتہا پسندی اور آئیڈیالوجی ان کے معاشرے میں صرف 80ء کی دھائی میں سعودیہ عرب-پاکستان-امریکہ کے سٹریٹجک تغاون کے تناظر میں سامنے آنے والے جہادی پروجیکٹ سے پختون معاشرے میں داخل ہوئی اور وہ اس حوالے سے اپنے داخلی عوامل کو نظر انداز کردیتے ہیں

خادم حسین جیسے قوم پرست دانشور جہاد،خلافت عالمی،شہادت کے تصورات کے پختون معاشرے میں سرایت کرجانے کے عمل کو پنجابی اسٹبلشمنٹ اور پنجابی مسلم لیگی جاگیردار سیاست دانوں کی پختونوں کے خلاف سازش بھی قرار دیتے ہیں

جبکہ یہ حقیقت ہے کہ جہاں تک انتہا پسندی سے جڑی جہاد، شہادت، خلافت وغيرہ کے تصورات کا تعلق ہے اور اس کے پختون معاشرے میں وجود کی تاریخ کا سوال ہے تو یہ تاریخ تو بہت دور تک جاتی ہے اور ہم اسے شاہ ابدالی کے دور تک لیجاسکتے ہیں اور پھر سید احمد بریلوی کی تحریک جہاد اور اسی خیبر پختون خوا سے لوگوں کا بنگال کے اندر جاکر شریعتی اور فرائضی تحریک کو تحریک جہاد کی بنیاد پر منظم کرنے تک دیکھ سکتے ہیں تو کیا تیتو میر اور ان کے دیگر پٹھان ساتھیوں کے جہاد اور وہابی تحریک کو ہم ان کے نسلی پس منظر کی وجہ سے بنگال میں انتہا پسندی اور دھشت گردی کی بنیاد پختون سماج کے کلچر کو کہہ سکتے ہیں ہر گز نہیں ،یہ بالکل اسی طرح سے غلط ہے جس طرح سے ہم مذھی بنیادوں پر دھشت گردی کو پنجابی پروڈکٹ، یا سندھی پروڈکٹ یا عرب پروڈکٹ یا وسط ایشیائی پروڈکٹ قرار دیں اس طرح سے دھشت گردی اور بنیاد پرستی کی جڑوں کی تلاش کرنا دھشت گردی اور انتہا پسندی کے بارے میں ایک اور طرح کا گول مول ڈسکورس پیدا کرنا ہے

دوسری بات جو خادم حسین جیسے پختون قوم پرستوں سمیت بہت سے سیکولر، لبرل، بائیں بازو کے دانشوروں کے انتہا پسندی اور دھشت گردی کے بارے میں باین کردہ ڈسکورس یا ابلاغ کو مبہم بناتی ہے وہ اس مقام پر دائیں بازو کی عمومی اصطلاح کے زریعے دھشت گردی اور انتہا پسندی کی تشریح کرنے کا عمل ہے

آگر ہم انتہا پسندی اور دھشت گردی کی تاریخ کو 80ء کی دھائی سے ہی شروع کریں تو بھی سارے کا سارا دایاں بازو پختون، سندھی،پنجابی، بلوچ ، سرائیکی، گلگتی بلتی، کشمیری سماج کے اندر دھشت گردی اور انتہا پسندی کے ڈسکورس کو پھیلانے والا نہیں تھا اور نہ ہی وہ سارے کا سارا پاکستانی سماج کے کلچر، سایست،قانون وغیرہ کے اندر فیصلہ کن حثیت اختیار کرنے جیسی طاقت کا حامل ہوا کیونکہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ دیوبندی اور سلفی مکتب فکر تھا جس سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں عالمی جہاد،ماورائے سرحد خلافت عالمی ،شہادت وغیرہ کے تصورات سامنے لیکر آئیں اور ان مکاتب فکر کے اندر سے افغانستان اور کشمیر کے لیے گوریلے تیار کئے گئے اور دیوبندی مکتبہ فکر تھا جس میں سے سپاہ صحابہ پاکستان جیسی دھشت گرد ،تکفیری خارجی جماعت کا جنم ہوا

خادم حسین پورے مضمون میں یہ شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کا مین سٹریم ميڈیا اور سیاسی جماعتوں نے طالبان سمیت دیگر دھشت گرد نیٹ ورکوں کو بچانے کے لیے ان کی شناخت کو مبہم کرتا ہے اور عوام کی سوچ کو پراگندہ کرتا ہے لیکن وہ خود بھی تو جہاں موقعہ ملا دھشت گردوں اور انتہا پسندوں کو دائيں بازو سے تعبیر کرتے رہے جیسے وہ خود بھی اور ان کی طرح بعض اور پختون قوم پرست طالبان، سپاہ صحابہ پاکستان/اہل سنت والجماعت،لشکر جھنگوی کو کبھی تو سنّی دھشت گرد تو کبھی محض وہابی دھشت گرد کہتے رہے یہ اسی طرح کا ابہام اور گول مول طریق بیان شناخت ہے جس طرح دیوبندی مولوی ہمیشہ دھشت گردوں کی اگر مذھبی شناخت بارے باین کرنا پڑجائے تو یا تو تکفیری کہہ کر بس کرجاتے ہیں یا وہابی کہہ کر بس کرجاتے ہیں

انتہا پسندی،دھشت گردی اور عسکریت پسندی کا اطلاق مطلق دائیں بازو پر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس میں دائیں بازو کی ان جماعتوں اور افراد کو بھی شامل کردیتے ہو جو دھشت گردوں اور انتہا پسندوں کا نام لیکر ان کی مذمت کرتے ہیں

کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کی اہل سنت بریلوی اور اہل تشیع کی جماعتیں جن میں سنّی اتحاد کونسل، جے یو پی ، جماعت اہل سنت، تحریک منھاج القران ، مجلس وحدت المسلمین، شیعہ علماء کونسل ، جعفریہ الائنس ، تحریک نفاز فقہ جعفریہ وغیرھم شامل ہیں جو ظاہر ہے دائیں بازو کی بریلوی و شیعہ قدامت پرست جماعتیں ہیں کیا وہ بھی دھشت گردی اور انتہا پسندی کے نیٹ ورک کا حصّہ ہیں؟ کیا وہ پاکستان کی سیاست،معشیت،لیگل فریم ورک میں فیصلہ کن کردار اور انتہائی طاقت ور عنصر کے طور پر موجود ہیں؟

دائیں بازو میں تو خود احمدی، ہندؤ،عیسائی ،پارسی، سکھ ، دلت وغیرہ کی مذھبی پارٹیاں بھی شامل ہیں کیا ہم ان کو بھی اس صف میں شامل کریں گے ؟

یقینی  بات ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہی ہوگا ، تو کیا امر مانع ہے کہ طالبان ہوں، اہل سنت والجماعت ہو، لشکر جھنگوی ہو یہاں تک کہ احرارالہند ہو یہ سب کی سب جماعتیں دیوبندی مکتبہ فکر کے اندر تکفیری اور خارجی لہروں کی ترجمان ہیں جن کی دیوبندی شناخت بیان کرتے ہوئے خادم حسین جیسے قوم پرست ، سیکولر، لبرل، نام نہاد مارکسی شرماتے ہیں

بلکہ پختون قوم پرستوں کے ہاں دھشت گردی اور انتہا پسندی کے جینٹک میک اپ کو پنجابیت سے موسوم کرنے کا اتنا ہی شوق ہے جتنا یہ شوق ہم بعض سرائیکی قوم پرستوں یا سندھی قوم پرستوں کے ہآں دیکھتے ہیں

جئے سندھ قومی محاذ کے مرکزی چئیرمین صنعان قریشی نے تبت سنٹر کے سامنے 23 مارچ کو فریڈم مارچ سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی طاقتوں کو پکارا اور کہا کہ

آپ کو پختون طالبان ملے گا، پنجابی ملے گا کوئی سندھی طالبان نہیں ملے گا

کیسی عجیب مماثلت ہے پاکستان کے اندر مختلف اقوام کے قوم پرست دانشوروں میں کہ وہ سب کے سب دھشت گردی اور انتہا پسندی کا ڈسکورس دوسری قوم کے جینٹک میک اپ سے کرنا چاہتے ہیں اور ان میں سے کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ

دھشت گردی اور انتہا پسندی کا جینٹک میک اپ نہ تو پختون ہے، نہ سندھی ہے، نہ پنجابی ہے نہ ہی بلوچ ہے نہ ہی عرب ہے نہ ہی چیچن ہے نہ ہی ازبک ہے بلکہ پاکستان کے اندر انتہا پسندی کا جینٹک میک اپ سلفی دیوبندی تکفیری ہے اور اس کا جو دھشتگردی کا مظہر ہے یہ دیوبندی کلنگ مشین کی دین ہے کیونکہ تادم تحریر پاکستان میں کوئی بریلوی کلنگ مشین نہیں ہے نہ ہی شیعہ کلنگ مشین ہے اور نہ ہی کوئی ہندؤ یا احمدی یا عسائی کلنگ مشین ہے

خادم حسین جیسے دانشور جب دائیں بازو کو دھشت گردی اور انتہا پسندی کا مطلق زمہ دار قرار دیتے ہیں تو وہ یہ حقیقت نظر انداز کردیتے ہیں کہ پختون معاشرے میں شیعہ اور بریلوی علماء، مذھبی دانشور اور شیعہ، بریلوی دائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کا نشانہ بنی ہے بلکہ بہت سے اعتدال پسند دیوبندی اور اہل حدیث اس دھشت گردی اور انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھے ہیں

اگر مطلق دایاں بازو بشمول بریلوی و شیعہ دھشت گردی اور تکفیری انتہا پسندی میں شامل ہوتے تو پھر پختون معاشرے میں شیعہ اور بریلوی لوگوں کی نسل کشی نہ ہورہی ہوتی اور نہ ہی ان کی امام بارگاہیں، مزارات اور خانقاہیں نشانے پر ہوتی ہیں اور اگر یہ پنجابی شاؤنسٹ قوم پرستی سے برآمد ہونے والی انتہا پسندی اور دھشت گردی ہوتی تو پھر پنجابی بریلوی ، پنجابی شیعہ اور ان کی امام بارگاہیں اور مزارات نشانہ نہ بنتے

تو اس تنقید کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دھشت گردی اور انتہا پسندی کو دائیں بازو کا ڈسکورس کہنا بذات خود گول مول اور ابہام پسندانہ ڈسکورس ہے اور یہ ایک طرح سے دیوبندی تکفیری ڈسکورس بارے لوگوں کو الجھانے کا ویسا ہی طریقہ ہے جیسے سنّی شدت پسند یا سنّی دھشت گرد کی اصطلاح شدت پسندی یا دھشت گردی کے موجودہ مظہر کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جائے

باقی ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اچھے اور برے عسکریت پسندوں کی تقسیم ، اچھے اور برےطالبان کی تقسیم، بلیک واٹر ، موساد، را جیسی سازشی تھیوریز اور پھر گمنام قسم کے ناموں سے دھشت گردی کو منسوب کرنا واقعی دھشت گردی اور انتہا پسندی کے ڈسکورس کو گول مول، مبہم ، مشتبہ اور کنفوژڈ ڈسکورس میں بدلنا ہے لیکن اس ڈسکورس کو شدت پسند سنّی یا محض تکفیری یا محض دائیں بازو کا ڈسکورس کہنا اور لکھنا بھی تو  مبہم ،مشتبہ اور کنفیوژڈ ڈسکورس کو جنم دینا ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ بلواسطہ طریقے سے دیوبندی طالبان، اہل سنت والجماعت، لشکر جھنگوی ،جنود الحفصّہ جیسے دھشت گرد نیٹ ورکس کو بچانے اور ان کے بارے میں رائے عامہ کو متفق نہ ہونے دینے اور انتشار پھیلانے میں مدد دیتے ہیں اور یہ ویسا ہی کام ہے جیسا کام نجم سیٹھی، حامد میر، جاوید چودھری، اوریا جان مقبول ، اعجاز حیدر جیسے لوگ دائیں یا بائيں سمت کے کاسٹیوم پہن کر کرہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ خادم حسین جیسے دانشوروں نے پختون قوم پرستی کا کاسٹیوم پہن رکھا ہے اور یہ سب ملکر دھشت گردوں کی دیوبندی تکفیری شناخت کو چھپانے ، اس کو مبہم بنانے یا اس حوالے سے کنفیوژن پھیلانے کا کام کررہے ہیں

,تعمیر پاکستان ایسے سب گول مول ڈسکورس کو بیان کرنے والوں کی فاش غلطی عوام کے سامنے بے نقاب کرتا رہے گا اس سے قبل بھی ہم نے پختون لبرل قوم پرستوں کے بارے میں کہا تھا کہ یہ لوگ بعض سندھی ، پنجابی،سرائيکی ، مہاجر اور بلوچ قوم پرستوں کی طرح اپنے  پختون عناصر کی جانب سے پختون معاشرے میں دھشت گردی پھیلانے اور انتہا پسندی کو پروان چڑھانے میں مددگار بننے والوں کے گردار کو دھندلا کرتے ہیں،اس پر ابہام کے پردے ڈالتے ہیں اور اشتباہ پیدا کرتے ہیں کیونکہ ان کو یہ لگتا ہے کہ اگر انہوں نے کئی ایک پختونوں کے کردار کو دھشت گردی کا ڈسکورس تشکیل دینے اور اس کو پھیلانے میں ممد و معاون مان لیا تو ان کی قوم پرست آئیڈیالوجی کا جواز ختم ہوجائے گا

ہم سوشل میڈیا پر دیکھ چکے کہ بہت سے ایسے عوامی نیشنل پارٹی یا پختون قوم پرست ہیں جو دھشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے دیوبندی یا سلفی تکفیری دھشت گردوں کے نکتہ  نظر کو سپورٹ کرتے ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جب ایسے لوگوں کی نشاندھی کی جاتی ہے تو اسے دھشت گردوں کی پشتونائزیشن کہہ دیا جاتا ہے جیسے ایک مضمون میں فرحت تاج اور خادم حسین نے ایک تبصرے میں کیا تھا

“After the construction of the discourse using the concepts of ‘khilafat’ sans frontiers, ‘jihad’ and ‘shahadat’, the religious right, in connivance with the militant network, has used all communication modes and sources at its disposal to create contradictions in the logic of the discourse. It has been able to accomplish the task through its consistent effort to create ambiguities in the mind of mainstream Pakistan, consisting primarily of Punjab’s middle-class, educated youth.”

Note: to read original article of Khadim Hussain you can visit

http://www.dawn.com/news/1094941|

Related English Version: https://lubpak.net/archives/309745

About the author

Muhammad Bin Abi Bakar

1 Comment

Click here to post a comment
  • اس ملک میں یہ لڑائی طالبان کے آنے سے پہلے کی ہے۔ محمد حنیف

    یہ لڑائی طالبان کے آنے سے پہلے کی ہے۔ طالبان 1990 میں بنی مگر اس ملک میں شیعوں پر حملے 1980 سے شروع ہو گئے تھے، ہمارے ملک میں صرف طالبان مصلہ نہیں۔ پہاڑوں میں بیٹھا ہوا طالبان ہی مصلہ نہیں ہمارے شہروں کے اندر بھی طالبان کی سوچ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ ہمارے ملک میں ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے والوں کو مارا جاتا ہے اور انکو مارنے والے خود کو بہتر مسلمان سمھجتے ہیں۔ محمد حنیف

    https://www.facebook.com/photo.php?v=287914888032583&set=vb.126403864183687&type=2&theater