Featured Original Articles Urdu Articles

وفاق المدارس کا ملتان میں اجتماع دیوبندی دہشت گرد تنظیموں کے دفاع میں تھا: سعودی وزیر اور احمد لدھیانوی کی شرکت

a1

دیوبندی مدارس کی تنظیم وفاق المدارس نے ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم میں “تحفظ مدارس دینیہ و امن کانفرنس ” کے نام سے ایک بھرپور قسم کا پاور شو کیا

یہ کانفرنس کرنے سے پہلے ملتان میں خیرالمدارس میں وفاق المدارس کا مرکزی اجلاس منعقد کیا تھا جس میں میں وفاق المدارس کے چیدہ چیدہ نمایاں لوگ موجود تھے اور اس اجلاس کے اندر یہ فیصلہ کیا گیا کہ دیوبندی مکتبہ فکر پر پورے ملک میں سے جو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس کے خلاف منظم مہم چلائی جائے اور اسے امیج بلڈنگ کی ایک کوشش بھی قرار دیا گیا

لیکن وفاق المدارس کی اس میٹنگ میں ایک مرتبہ بھی اس بات پر غور نہیں کیا گیا کہ آخر پاکستان میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم دیوبندی مکتبہ فکر اور دھشت گردی ے باہمی تعلق اور رشتے کو زیر بحث کیوں لایا جارہا ہے ؟اور دھشت گردی کی جڑیں دیوبند مدارس اور تنظیموں سے کیوں جوڑی جارہی ہیں؟

وفاق المدارس کی مرکزی قیادت اور دیوبندی مولویوں کی جملہ اکثریت نے مذکورہ بالا مہم کی حقیقی وجوہات پر غور و فکر کرنے کی بجائے سازشی مفروضوں کو عین حقیقت قرار دیکر ان کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کرلیا

سب کو معلوم ہے کہ دیوبندی مکتبہ فکر پر عمومی تنقید کی وجہ دیوبندی مکتبہ فکر کے اندرتکفیری دھشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک کا پھیلاؤ ہے اور اس نیٹ ورک کا سلفی تکفیری نیٹ ورک کے ساتھ ملکر عالمی دھشت گرد نیٹ ورک کی تشکیل ہے جس نے مڈل ایسٹ میں عراق، شام، لبنان کے اندر دھشت گردی کا بازار گرم کیا ہوا ہے تو ایسا ہی کردار افریقہ میں صومالیہ،الجزائر، لیبیا، صومالیہ ،ٹمبکٹو جبکہ مشرق بعید میں ملائيشیا،انڈویشیا وغیرہ میں اور جنوبی ایشیا میں ایران،افغانستان،بنگلہ دیش اور پاکستان میں اپنایا ہوا ہے

یہ تنقید اس لیے بھی زیادہ ہوئی ہے کہ دیوبندی مدارس کی تنظیم وفاق المدارس نے دیوبندی کلنگ مشین کے بنیادی ستون جن میں اہل سنت والجماعت سرفہرست ہے اور دیوبندی تحریک طالبان اور دیگر دھشت گرد تنظیموں کے زیر اثر چلنے والے مدارس کو پورا پورا تحفظ فراہم کیا ہوا ہے اور اپنے مدارس و مساجد کے دروازے ان تحریکوں کی شیعہ،اہل سنت بریلوی ، عیسائی، ہندؤ اور احمدی مخالف تحریکوں اور تنظیموں کے لیے کھول رکھے ہیں اور کسی بھی موقعہ پر ان سے اظہار نفرت یا ان سے لاتعلقی کا آظہار نہیں کیا گیا

دیوبندی وفاق المدارس ،دیوبندی سیاسی مذھبي تنظیموں نے دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کی دھشت گردی کا نام لیکر مذمت نہیں کی بلکہ ان کے استاد اور گرو ہونے اور ان دھشت گردوں کے شاگرد ہونے کے تذکرے فخر سے کئے جاتے رہے ہیں

یہ بات اب کھلا راز بن چکی ہے کہ کراچی کا جامعہ بنوریہ جہاں طالبان اور اہل سنت والجماعت کی بڑی پناہ گاہ ہے وہیں دار العلوم کبیروالہ بھی ان دھشت گردوں کی نظریاتی فکری تربیت کی آمجگاہ بنا ہوا ہے اور جامعہ فاروقیہ کراچی جس کا انتظام و انصرام وفاق المدارس کے صدر مولوی سلیم اللہ خان کے پاس ہے بھی دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے

مولوی سلیم اللہ خان،قاری حنیف جالندھری، مفتی تقی عثمانی ، مفتی رفیع عثمانی ، مولوی سمیع الحق، مولوی فضل الرحمان سمیت دیوبندی مولویوں کی فرنٹ لائن دیوبندی تکفیری دھشت گرد نیٹ ورک کے بارے میں جو رویہ اپنائے ہوئے ہیں وہ کسی بھی لحاظ سے ایسا نہیں ہے جس کو دیکھ کر یہ کہا جائے کہ وہ اس دھشت گرد نیٹ ورک کی تکفیری خارجی آئیڈیالوجی سے کوئی اختلاف رکھتے ہیں

یہ سب کہتے ہیں کہ طالبان کا نفاز شریعت کا مطالبہ ٹھیک ہے جبکہ ان کو اخوبی علم ہے کہ طالبان جب نفاز شریعت کی بات کرتے ہیں تو ان کی مراد تکفیری خارجی آئیڈیالوجی کا نفاز ہوتا ہے جس کی شیعہ،بریلوی مخالف بنیادیں ظاہر وباہر ہیں اور یہ ویسی ہی ریاست کے قیام کا مطالبہ ہے جس طرح کی ریاست القائدہ،اسلامی سٹیٹ آف عراق،اسلامک فرنٹ اور دیگر سلفی تکفیری گروپ عراق،لبنان،شام وغیرہ میں کررہے ہیں ،یہ بظاہر ہتھیار اٹھانے کو غیر شرعی کہتے ہیں لیکن دیوبندی دھشت گرد تنظیموں سے ہتھیار ڈال دینے اور مسلح جدوجہد ترک کرنے کا مطالبہ بھی نہیں کرتے اور دیوبندی مکتبہ فکر مین جو کھلے عام خود کو طالبان،لشکر جھنگوی کے ایجنڈے سے متفق بتلاتے ہیں ان کے دیوبندی مسلک سے خارج ہونے کا فتوی بھی نہیں دیتے

یہی وجہ ہے کہ ملتان میں وفاق المدارس نے جو پاور شو کیا اس میں اہل سنت والجماعت کی فرقہ پرست،دھشت گرد قیادت کو وی آئی پی پروٹوکول ملا اور اس جماعت کے سربراہ کا خطاب دھڑلے سے رکھا گیا اور یہ جماعت جلسے میں ریلی کی شکل میں آئي تو زبردست گرم جوشی سے اس کا سواگت کیا گیا

گویا وفاق المدارس کی قیادت نے پاکستان اور دنیا بھر کو یہ پیغام دیا کہ دیوبندی مکتبہ فکر اپنے اندر سے اٹھنے والے تکفیری خارجی دھشت گرد لہروں اور ان کے حامیوں کو اجنبی خیال نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے الگ ہونے کا تاثر دینے کو تیار ہیں

aa

اس کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں سعودی عرب کے نائب وزیر مذھبی امور نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اس تاثر کو پختہ کردیا کہ سعودی عرب پاکستان کے اندر دیوبندی مکتبہ فکر کے قریب خیال کرتا ہے اور دیوبندی مولویوں نے عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ عالم اسلام آج جس پرآشوب دور سے گزر رہا ہے اس میں دیوبندی مکتبہ فکر سعودی عرب کے حکمرانوں اور سعودی مذھبی پیشوائیت کے خیالات سے ہم آہنگ ہے

کالعدم دیوبندی دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی (نام نہاد اہلسنت والجماعت) کے سربراہ احمد لدھیانوی نے مولانا سمیع الحق اور مفتی رفیع عثمانی کی خصوصی خواہش پر اس کانفرنس میں شرکت کی اور سنی بریلویوں اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی

دیوبندی مکتبہ فکر کی نمائندہ تنظیم وفاق المدارس کا یہ اجتماع اس بات کو ثابت کرگیا کہ اس وقت عالم اسلام میں جو سلفی –دیوبندی تکفیری آئیڈیالوجی کے جھنڈے تلے گلوبل دھشت گرد اور انتہا پسند لڑائی ہورہی ہے اسے جہاد اور عین اسلام تصور کیا جارہا ہے اور سعودی عرب پورے عالم اسلام اور مڈل ایسٹ میں شیعہ توسیع پسندی کا مفروضاتی خوف پھیلا رہا ہے اس میں دیوبندی مکتبہ فکر سعودی عرب کا حامی ہے

مجھے اس بات کا یقین ہوچلا ہے کہ سعودی عرب شیعہ کی توسیع پسندی اور ایران ،شام ،حزب اللہ،اخوان المسلمون کے خلاف جو نئی ڈرائیو پاکستان کے ساتھ ملکر چلانا چاہتا ہے اس کے لیے پاکستان میں راہ ہموار کرنے کا ٹھیکہ وہ دیوبندی مکتبہ فکر کے مولویوں کے خوالے کرچکا ہے

اس حوالے سے شیعہ ، بریلویوں کے خلاف جس طرح کی نام نہاد علمی نظریہ سازی مفتی رفیع عثمانی ،تقی عثمانی اور مفتی نعیم وغیرہ کررہے ہیں تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ دیوبندی مذھبی پیشوائیت و ملائیت سعودی عرب کے ہاتھوں سارے مکتبہ فکر کو نیلام کرچکی ہے اور موجودہ حکومت جس طرح سے مڈل آیسٹ کے تنازعے میں کود پڑی ہے اس کے لیے رائے ہموار کرنے کا ٹھیکہ بھی دیوبندی مولویوں کے پاس ہے اور یہ جو نام نہاد جہادی پروجکیٹ ہے یہ مغرب یا امریکہ مخالف نہیں بلکہ شیعہ، سنّی بریلوی ، ہندؤ، کرسچن ،احمدی مخالف ہے پاکستان کی حکومت،پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور پاکستانی مین سٹریم میڈیا کا غالب حصّہ اس عمل میں دیوبندی مذھبی پیشوائیت کا ساتھ دے رہا ہے اور وہ شیعہ توسیع پسندی کے مفروضے،ایران-سعودی عرب بائنری اور شیعہ-سنّی تنازعے جیسی گمراہ کن اصطلاحیں استعمال کرکے دھشت گردی کی سلفی-دیوبندی تکفیری جڑوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں برابر کا شریک ہے

اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وہ دھشت گردی کی سلفی-دیوبندی جڑوں کو بے نقاب کرنے والی سیاسی مذھبی قوتوں کی کوریج کرنے سے انکاری ہے

 مین سٹریم میڈیا کا غالب حصّہ شیعہ نسل کشی بارے اعداد و شمار کو چھپانے اوراکثر واقعات کو رپورٹ ہی نہ کرنے یا ان کی شیعہ شناخت کو ظاہر نہ کرنے کی روش پر عمل پیرا ہے جیسے ابھی حسن ابدال میں شیعہ ڈی ایچ او کے قتل کو چھپایا گیا اور اس سے قبل ایک کمپنی کے سی ای او کے قتل کے پس پردہ شیعہ نسل کشی کی مہم کے کارفرما ہونے پر پردہ ڈالا گیا تھا

پاکستان کی شیعہ،اہل سنت بریلوی ، ہندؤ، عیسائی،احمدی اور سیکولر اور ریڈیکل لیف قوتوں کو سلفی-دیوبندی عالمی دھشت گرد نیٹ ورک کے مقابلے میں مزاحمتی اتحاد بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے اور پاکستان کی حکومت کے سعودیہ عرب،بحرین،متحدہ عرب امارات کے ساتھ ملکر سلفی دھشت گرد پروجیکٹ میں شامل ہونے کے فیصلے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی طرف بڑھنا چاہئیے

a2

a4

a5

3-20-2014_13868_1

http://jang.com.pk/jang/mar2014-daily/20-03-2014/updates/3-20-2014_13868_1.gif

Previous pictures: Proof of abetting of Deobandi terrorists of Sipah-e-Sahaba (ASWJ) by senior Deobandi clerics

5

6

7

8

About the author

Muhammad Bin Abi Bakar

8 Comments

Click here to post a comment
  • I am 100% sure that the writer of this blog is rafzii(shia)..who is worst kafir of this universe.If the deobandis are against the Ahmedis(kafir) and are fighting for the namos-e-Rasalat..then i m with them. if they are fighting for the nam0s-e-shaba i m with them.if they are fighting against the shirk i m with them.but if they kill innocent people then i m not with them..

  • agar madaris na ho to musalman ka dushman bagair kisi dar kay shirk karay ga. madaris nabi ka aur sahaba ra ka sunnat hai

  • jab shia kay imam bara mein khudkash tayyar kiya jata hai us waqt tum beghairat log kidhar so jatay ho?

  • ذکا اللہ ذرا یہ تو بتانا کہ ملک میں کتنے خود کش دھماکے شیعہ بمباروں نے کیے ہیں۔ کسی ایک کا نام بتادو یا پھر جھوٹ بولنے پر معافی ماگو۔ تمہاری یہ منطق بھی عجیب ہے کہ مدرسہ نہ ہو تو مسلمان شرک کریں گے۔ کیا تم نماز روزہ مدرسے والوں کے کہنے پر یا ان کے خوف سے کرتے ہو؟

    حسن صاحب اب وقت بہت آگے چلا گیاہے جبکہ آپ جیسے لوگ ابھی تک نفرت اور جہالت کی گندی نالی میں ٹامل ٹوٗیاں مار رہے ہیں۔ آپ کو حضور کب اور کیسے یہ یقین آئے گا کہ سپاہ صحابہ اور طالبان دہشت گردی میں ملوث ہیں؟ 60، 70 ہزار لاشیں تو گرالیں آپ کے بھائیوں نے اب اور کتنا خون بہانا ہے؟

    میں سنی ہونے کے باوجود اس مضمون سے بہت حد تک متفق ہوں۔ جہاں میرا اتفاق نہیں اس کے جواب میں ، میں کسی کو گالیاں نہیں دیتا، کافر قرار نہیں دیتا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ سارے دیو بندی شدت پسند نہیں لیکن وہ دہشت گردوں سے خود کو علیحدہ کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔

  • Very nice analysis…Well done LUBpak team. really very excellent article…
    Ager moderate deobandiun ne apne aap ko terrorists group se alahida nahi kia tu Deoband maslak safa e hasti se mit jaye ga anqareeb….

  • Iss baat maen shako shubey ki koi gunjaEsh nahin k Pakistan ki tatal dehshat gardi ka 90% sirf aur sirf Deobandi maslak se jura hua hai aur jo deo bandi apne aap ko aman pasand kehte b haen wo ager direct dehshat gardi mein mulawis nai tou unn (dehshat gardon) ko asleha supply ya pnah dene mein zroor shamil haen.
    Pakistanion ka hafiza itna kamzoor nai hai,sub ko yaad hai Sri lankan team k hamla aawar kahan se aaye they ,Manawan Police training centre k hamla aawar kahan se aaye thay, Mansura waley aur Raiwind waley tou apne aap ko civilised DEOBANDI kehte haen na tou inn hamla aawaron ko wahan q thehrne dia.
    Chorye sari behas ko aap ,apne aap ko main stream Deeni jama’ton k rahnuma kehne waley ye Mash-hur DEOBANDI molvi kitni dhitai aur be-sharmi se 50 hzar se zayed pakistanion ko qatl krne walon k wakeel baney hoye haen aur na siraf onn ko bachaney ki koshish kr rahe haen balkeh onn ko inami raqam dilwaney ki koshish b ki ja rahi hai k jese onhon ne GHQ,MEHRAN BASE aur KAMRA BASE pe hamla kr k mulk ki bohat bari khidmat ki ho.Ye sub issi liye kia ja raha hai na k ye sub yani dehshat gard b aur ye naam nihad commityon waley b, DEOBANDI haen, inko na kal QUAID k Pakistan se koi hamdardi thi na aaj hai aur na kabhi ho gi………….