Newspaper Articles

ہندوستان کے صوفی بریلوی مسلمان دیوبندیوں کی سیاسی بالا دستی کو چلینج کرنے کے لئے سیاسی طور پر منظم ہو رہے ہیں

131212054647_narendra_modi_muslim_304x171_afp_nocredit

بھارت کا پارلیمانی انتخاب دنیا کا سب سے بڑا اننتخاب ہے جس میں درجنوں قومی اور علاقائی جماعتیں حصہ لیتی ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ بھارتی جمہوریت میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی بہت سی مذہبی تنظیمیں بھی براہ راست اور بالواسطہ طور پر انتخاب میں حصہ لیتی رہی ہیں۔

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس، بی جے پی کی نظریاتی تنظیم ہے۔ آر ایس ایس اگرچہ خود کو ایک ثقافتی تنظیم قرار دیتی ہے لیکن وہ اپے وجود کی ابتدا سے ہی بھارت کے سیاسی نطام کو اپنے طرز کے ہندو نظام میں ڈھالنا چاہتی رہی ہے۔

آر ایس ایس بی جے پی میں خاصا اثر رکھتی ہے اور اس کے صدر کے انتخاب سے لے کر امیدواروں کے انتخاب تک ہر فیصلے میں آر ایس ایس اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس مرتبہ کے انتخاب کے لیے آر ایس ایس نے بی جے پی کی تشہیر کے لیے اپنے ہزاروں کارکن پورے ملک میں بھیجے ہیں جوگھر گھر جا کر بی جے پی کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں تاہم حالیہ برسوں میں تنظیم کے طور پر آر ایس ایس کمزور ہوئی ہے۔

آر ایس ایس کی ہی طرح بھارت میں مسلمانوں کی بھی کئی مذہبی جماعتیں اور ادارے انتخابی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔

ان میں سب سے اہم جماعت اسلامی اور جمیعت العلماء ہند ہیں۔

کئی عشرے پہلے جماعتِ اسلامی ایک مضبوط تنظیم ہوا کرتی تھی اور اس کے ارکان پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے۔اس نے انتخابی سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

جماعت اسلامی اگرچہ ایک خالص اسلامی جماعت ہے اور اس کا نصب العین اپنی طرز کا اسلامی نظام نافذ کرنا ہے لیکن چونکہ بھارت میں یہ ممکن نہیں اس لیے اب وہ جمہوری نظام کی حمایت کرتی ہے۔

یہ تنظیم انتخابات میں بی جے پی کے خلاف کسی بھی جماعت یا امیدوار کی حمایت کا اعلان کرتی ہے تاہم اس کا دائرہ اثر کافی محدود ہے اور بھارتی انتخابی سیاست میں اس کا کردار کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

تاہم ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی اور کانگریس جیسی جماعتیں ضرورت پڑنے پر اپنے مفاد کے لیے اسے کبھی کبھی استعمال کرتی ہیں۔

جمیعت العلمائے ہند آزادی کے وقت سے ہی سیاست میں سرگرم رہی ہے اور اس کا تعلق دیوبند سے ہے ۔ یہ تنظیم روایتی طور پر کانگریس کے ساتھ تھی لیکن جمعیت میں اندرونی اختلافات اور سیاست میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے سبب یہ تنظیم اب کسی ایک جماعت سے منسلک نہیں ہے۔

انتخابی اعتبار سے یہ تنظیم سب سے کامیاب ہے لیکن اب سے غیر دیوبندی صوفی تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے چیلنج کا سامنا ہے اور اس کے علاوہ بریلوی مسلک کے حامیوں نے بھی گزشتہ ایک دو برس سے خود کو منظم کرنا شروع کیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کے سول لا اور مذہبی امور سے متعلق ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ چند برس قبل تک یہ ادارہ بہت بااثر ہوا کرتا تھا تاہم اب یہ اختلافات کا شکار ہے اور اس کا سیاسی اثر بھی باقی نہیں رہ گیا ہے۔

بھارت کی سیاست میں مسلمانوں کی مناسب نمائندگی نہ ہو پانے کے سبب یہ مسلم تنظیمیں مسلمانوں اور سیاست کے درمیان خلا کو پُر کرنے کا اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں حالانکہ اس عمل سے ان کا اپنا سیاسی اور مذہبی مفاد بھی وابستہ ہوا کرتا تھا۔

بدلتے ہوئے بھارت اور اس کی انتخابی سیاست میں بہت سی سیاسی جماعتوں کی طرح یہ مذہبی جماعتیں بھی اپنا اثر بتدریج کھو رہی ہیں۔

آج کے انتخابات انتہائی جدید طرز پر لڑے جاتے ہیں اور رائے دہندگان اپنی رائے کسی کی اپیل پر نہیں اپنی سوچ سمجھ اور حقائق کی بنیاد پر قائم کر رہے ہیں۔ ماضی میں ان مذہبی جماعتوں نے انتخابات میں رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن اپریل اور مئی میں ہونے والے انتخابات کے بعد نہ صرف بہت سی مذہبی جماعتیں بےمعنی ہو جائیں گی بلکہ متعدد سیاسی جماعتوں کا وجود بھی خطرے میں ہوگا۔

 

Source :

http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/03/140315_doosra_pehlu_india_religious_parties_zs.shtml