Original Articles Urdu Articles

ایک سعودی سنی شہری کی سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کے مساوی حقوق کے لئےعظیم جدوجہد

سعودی عرب اور عراق کی سرحد پر آباد شمّر قبیلے کا سربراہ مخلف الاشمّری سعودی عرب کا وہ سنی شہری ہے جو شیعہ کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کی سعودی حکومت کی کوششوں کا سب سے بڑا مخالف اور شیعہ سنّی برابری کا داعی ہے

وہ اپنے اس موقف کی وجہ سے کئی مرتبہ جیل گیا ہے ،اس کا کاروبار تباہ کردیا گیا ،اس کے بیٹے نے چار مرتبہ اس کو مرتد کہہ کر گولی ماری لیکن اس کے باوجود وہ کہتا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت اور وہابی شہریوں کو شیعہ کے ساتھ برابر کا سلوک کرنا چاہئیے

سعودی عرب کے حکمران اور سعودی وہابی تکفیری خارجی ملاّ ایک طرف تو مڈل ایسٹ میں شیعہ اور سنّی صوفی مسالک کے خلاف شر انگیز پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں دوسری طرف خود سعودی عرب میں حکومت ،سعودی وہابی مولوی اور سعودی کنٹرول میں رہنے والا میڈیا شیعہ جوکہ سعودی عرب کی آبادی کا 10 فیصد بنتے ہیں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگںڈا اور ان کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھتے ہیں

شمّر قبیلے کا سربراہ مخلف 8 سال سے سعودی عرب میں شیعہ برادری کےحقوق اور ان کے برابر کے شہری ہونے کا مقدمہ لڑ رہا ہے اور وہ خود بھی سلفی عقیدے سے تعلق رکھتا ہے مگر تکفیری ،خارجی وہابیت سے سخت الرجک ہے اور وہ شیعہ کے ساتھ جاکر نمازیں اا کرتا ہے اور ان کی اکثریت والے علاقوں میں جاتا ہے

سعودی حکومت اور وہابی تکفیری مولوی اس کی اس مہم کے سخت خلاف ہیں اور اس کو کافر ،گمراہ اور حکومت کے منحرفین کے ساتھ روابط رکھنے کے الزامات عائد کرتے ہیں ،وہ دو مرتبہ ان الزامات کی پاداش میں جیل کاٹ چکا ہے اور جب اس نے شیعہ-سنّی اتحاد کا بیڑا اٹھایا تھا تو اس کی سعودی تیل کمپنی کے ساتھ سب کنٹریکٹ کمپنی کے خلاف سعودی حکومت سرگرم ہوگئی،اس کے ملازمین کو ڈرا دھمکا کر الگ ہونے پر مجبور کردیا گیا اور اسے دیوالیہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس نے ہمت نہ ہاری

مخلف الاشمّری کا کہنا ہے کہ وہ سلفی مکتبہ فکر کا مخالف نہیں ہے لیکن کچھ چیزوں کا درست ہونا بہت ضروری ہے اور وہ کہتا ہے کہ سعودی ریاست میں شیعہ کو بھی وہی حقوق اور آزادی حاصل ہونی چاہئیے جو اس ملک کے وہابی سعودی باشندوں کو حاصل ہے اور وہ انسانی حقوق کی پاسداری کرنے کی آواز اٹھاتا ہے

مخلف وہ سلفی باشندہ ہے جس نے سعودیہ عرب میں شیعہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک پر آواز اٹھائی ہے ا سے قبل ہاشمی قبیلے سے تعلق رکھنے والے سنّی عالم جوکہ مکّہ میں رہتے تھے مولانا سید محمد علوی مالکی نے آل سعود اور وہابیت کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور محمد بن عبدالوہاب کے ںظریات کو خوارج کے مشابہہ کہا تھا لیکن انہوں نے بھی شیعہ کے حوالے سے آواز نہیں اٹھائی تھی

سعودیہ عرب کے اندر شیعہ کے بارے میں وہابیوں اور سعودی حکومت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کی وجہ سے خود سنّی لوگوں میں بھی شیعہ کے خلاف عمومی نفرت پھیلی ہوئی ہے

وہابی سعودی باشندے جو ریاض جیسے کاسموپولیٹن شہروں میں رہتے ہیں شیعہ کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور وہابی تکفیری مولوی شیعہ کو یہودیوں سے بھی بدتر مخلوق قرار دیتے ہیں

سعودی حکومت نے سعودیہ عرب کے اندر مذھبی تعصب اور مذھبی جبر کے خلاف کام کرنے والےسعودی باشندوں عبداللہ الحامد اور محمد القحطانی کو دس سال قید کی سزا سنائی تھی

شمّر قبیلے کے سربراہ اور اتحاد بین المسلمین کے داعی مخلف الاشماری کا کہنا ہے کہ حجاز میں شیعہ کے خلاف اس قدر پروپیگنڈا اور ان کے خلاف جارحانہ رویہ سعودی عرب کی حکومت کی باقاعدہ سٹریٹجی کے نتیجے میں سامنے آیا ہے

شمّر قبیلے کے سربراہ مخلف کی سعودی حکومت کی تفرقہ انگیز اور منافرت پر مبنی مہم کی مخالفت کی وجہ سے سعودی حکومت اس قدر بوکھلا گئی کہ اس ںے محلف کے 28 سال کے بیٹے عادل کو گرفتار کیا اور وہآں اس کی برین واشنگ کی گئی اور اسے یہ باور کرایا گیا کہ اس کا والد مرتد ہوچکا ہے

مخلف کے بقول جب عادل باہر آیا تو وہ مکمل تبدیل ہوچکا تھا اور اس نے مخلف ک دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے شروع کردئے تھے

عادل کو تکفیری وہابی بنادیا گیا اور وہ عراق میں لڑنے بھی گیا اور واپس لوٹا تو اسے سعودی حکومت کی جانب سے وہابی عسکریت پسندوں کو القائدہ سے ناطہ توڑنے کے لیے برین واشنگ کے عمل سے کزارا گیا اور عادل وہاں سے لوٹنے کے بعد مزید انتہا پسندی کی جانب جھک کیا

مخلف نے ایک مرتبہ عادل سمیت اپنے سارے خاندان کو مکّہ لیجانے کا قصد کیا تاکہ ایک جگہ اکٹھے ہوکر مفاہمت کی طرف جایا جائے لیکن ریاض میں ایک ہوٹل کی لابی میں عادل نے مخلف پر فائر کھول دیا اور کئی ماہ کے تک زخمی مخلف بستر پر پڑا رہا

مخلف کا تعلق شمّر قبیلے سے ہے جوکہ اصل میں قبیلہ طے کی ایک شاخ ہے اور طئے وہی قبیلہ ہے جس سے حاتم طائی کا تعلق تھا اور معروف صحابی رسول عدی بن حاتم طائی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا

شمّر قبیلہ سعودیہ عرب اور عراق کے دونوں طرف آباد ہے اور اس قبیلے کی اصل جنم بھومی کوفہ کے قریب مقام حرا بتلائی جاتی ہے اور یہ قبیلہ 1885ء تک عراق سے شام تک ایک وسیع سلطنت پر حکمرانی کرتا رہا

شمر قبیلے کے اندر مذھبی اعتبار سے شیعہ اور سنّی دونوں مسالک کے ماننے والے پائے جاتے ہیں اور اس قبیلے نے نجد میں آل رشید کے ساتھ ملکر ابن سعود اور اس کی وہابی فورس کو شکست دی تھی مگر آل رشید اور شمّر قبیلہ 20 صدی میں اسس وقت ابن سعود کے ہاتھوں شکست کھا گیا جب ابن سعود کو برطانوی سامراج نے مدد دی اور سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کردئے

اس موقعہ پر پہلے آل سعود نے شمّر قبیلے کے ساتھ بہت سخت رویہ اپنایا ،کیونکہ شمّر قبیلے کے زیادہ لوگ عراقی سرحد کے اندر رہتے تھے تو ان کی وفاداریوں کو مشکوک بتلایا گیا

شمر قبیلے کی اکثریت نے پہلے آل سعود کی اطاعت کو قبول نہیں کیا تھا اور شمر کے اندر وہابیت بھی جڑ نہ پکڑ سکی تھی لیکن شمر قبیلے کے ایک بزرگ نے آل سعود کے آگے سرجھکا دیا اور ابن سعود نے اس بزرگ کی بیٹی سے شادی بھی کرلی اور اس کے بعد دوسرے حجازی قبیلوں کی طرح ان پر بھی وہابیت کو مسلط کردیا گیااور شمّر قبیلے کی ایک بڑی تعداد کو عراق اور دیگر دوسوے علاقوں میں ہجرت کرنے پر مجبور کردیا گیا،شمّر قبیلہ کٹّر سنّی صوفی عقائد رکھنے والا قبیلہ تھا

شمّر قبیلہ کے 15 لاکھ لوگ سعودیہ عرب میں اور 30 لاکھ لوگ عراق میں آباد ہیں اور ان کے ممبران کی بہت بڑی تعداد کویت،شام اور اردن میں بھی رہتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کویت،شام اور اردن میں اس قبیلے کے غیر شیعہ ارکان وہابی نہیں بلکہ اہل سنت ہیں اور عراق میں شمّر قبیلے سے تعلق رکھنے والے غازی الیاور عبوری عراقی حکومت کے صدر بنائے گئے تھے

In the 17th century, a large section of the Shammar left Jabal Shammar under the leadership the of Al Jarba and settled in Iraq, reaching as far as the northern city of Mosul, their current stronghold. The Shammar are currently one of Iraq’s largest tribes and are divided into two geographical, as opposed to genealogical, subsections. The northern branch, known as Shammar al-Jarba, is mainly Sunni, while the southern branch, Shammar Toga, converted to Shia Islam around the 19th century[2][3][4] after settling in southern Iraq.

The Shammar that remained in Arabia had tribal territories extending from the city of Ha’il northwards to the frontiers of the Syrian Desert. The Shammar had a long traditional rivalry with the confederation of ‘Anizzah, who inhabited the same area. The city of Ha’il became the heart of the Jabal Shammar region and was inhabited largely by settled members of Shammar and their clients. Two clans succeeded each other in ruling the city in the 19th century. The first clan, the Al Ali, were replaced by the Al Rashid.

During the civil war that tore apart the Second Saudi State in the late 19th century, the emirs of Ha’il, from the house of Al Rashid, intervened and gradually took control of much of the Saudi realm, finally taking the Saudi capital Riyadh in 1895 and expelling the Saudi leaders to Kuwait. The Bedouin Shammari tribesmen provided the majority of the Al Rashid’s military support. Later, in the first two decades of the 20th century, Al Rashid were defeated by Ibn Saud and his Wahhabi forces during his campaign to restore his family’s rule in the Arabian Peninsula, with Jabal Shammar falling to Saudi rule in 1921. Following Al Rashid’s defeat, the clan of their uncles, Al Sabhan, eventually pledged allegiance to Ibn Saud in Riyadh. Ibn Saud also married a daughter of one of the Shammari chiefs, who bore him one Saudi King, Abdullah.

After the establishment of modern borders, most Bedouins gradually left their nomadic lifestyle. Today, most members of the Shammar live modern, urbanised lifestyles in Saudi Arabia and Iraq, and some sections settled in Syria and Jordan. Despite this, the vast majority of Shammar continue to retain a strong tribal identity and loyalty to their tribe. Many also participate in Bedouin Cultural Festivals to learn about their ancient lifestyles, and to take part in traditional activities like folk dance and tent-weaving.

House of Al Rashid

The House of Rasheed (Arabic: آل رشيد Āl Rashid or Alrasheed) were a historic Shammar dynasty on the Arabian Peninsula. They were the most formidable enemies of the House of Saud in Nejd. They were centered in Ha’il, a city in northern Nejd that derived its wealth from being on the route of the Hajj.

The Al Rasheed derived their name from the grandfather of Abdullah, the first Rasheedi amir of Ha’il, who was named Rasheed. The Rasheedi emirs cooperated closely with the Ottoman Empire. However, this cooperation became problematic as the Ottomans lost popularity.

As with many Arab dynasties, the lack of a generally accepted rule of succession was a recurrent problem with Rasheedi rule. The internal dispute normally centered on whether succession should be horizontal (i.e. to a brother) or vertical (to a son). These divisions within the family led to bloody infighting. In the last years of the nineteenth century six Rasheedi leaders died violently. Nevertheless The Al Rasheed family continued to rule and fight together against Ibn Saud.

Saudi Arabia- The first twenty years of the 20th century on the Arabian Peninsula featured a long-running series of wars as the Saudis and their allies sought to unite the peninsula. While the Al Rasheed rallied the majority of other tribes to their side, the effort proved futile, and by 1921 Ha’il was captured and given to Ibn Saud’s army by the British command. Some members of the Rasheed family left the country and went into voluntary exile, mostly to Iraq. By the 1990s only a handful were still outside Saudi Arabia.

References: http://en.wikipedia.org/wiki/Emirate_of_Jabal_Shammar

http://en.wikipedia.org/wiki/Shammar

http://www.nytimes.com/2014/03/15/world/middleeast/saudis-lonely-costly-bid-for-sunni-shiite-equality

The Toga clan of the Shammar who settled in the Southern parts of Iraq adopted Shia Islam

The Shammar are an Arabian Bedouin tribe. the tribe once ruled most of Arabia, and they had a state known as Jebal Shammar in Northern Arabia under quasi-independence however there loyalty to the Ottoman Empire was unquestioned. Unlike other Arabians tribes the Shammar did not partake in the Arab revolt, but wanted to crush it. The Sauds and the British would force the Shammar to be expelled from their ancient homeland into what is now Iraq.

note:for whole article on Shammar tribe you can visit:http://www.forumbiodiversity.com/showthread.php/28341-The-Shammar-Bedouin-Tribe-of-Iraq-Syria-and-Arabia