Original Articles Urdu Articles

مہاجروں کے مسائل 18 مارچ 1984 سے پہلے

مہاجروں کے ساتھہ  تعصب کا آغاز تو اس وقت ہی ہوگیا تھا جب وہ ہجرت کرکے پاکستان پہنچے تھے.اس وقت بھی بہت سے لوگ مہاجرین کی آبادکاری کی خلاف تھے.اس وقت کے سندھ کےوزیر اعلی ایوب کھوڑو بھی سندھ میں مہاجرین کی آباد کاری کے خلاف تھے.ایوب کھوڑو نے مہاجرین کی ٹرین کے انجن پر فائرنگ کرکے اپنی پولیس فورس سے کہا کہ ٹرین کو واپس بھیجو.جس کی وجہ سے قائد اعظم بہت ناراض ھوۓ اور  قائد اعظم نےکراچی کو علحیدہ حیثیت دی. لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے سرحدیں بند کرکے نظریہ پاکستان کی نفی کردی گئی کہ پاکستان ہندوستان کے سب مسلمانوں کا وطن ہوگا.خواجہ ناظم الدین نے اس کی مخالفت کی تو ان کو بھی ان کو وزیر اعظم کےعھدے سے ہٹا دیا گیا

 

مہاجروں پر پہلا کاری وار ایوب خان نے کیا جب اس نے کراچی جس کو قائد اعظم نے دار الحکومت بنایا تھا ختم کرکے اسلام آباد لے گیا.اس طرح کراچی کی وہ خصوصی حیثت ختم کردی کہ جوقائد اعظم نے دی تھی

 

  جب مہاجروں نے ایوب خان کے مقابلے پر صدارتی الیکشن میں فاطمہ جناح کی حمایت کی تو اس گناہ کی پاداش میں گوہر ایوب نے پٹھانوں کو مسلح کر کے ان پر چھوڑ دیا گیا اور ان کے عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو ہندوؤں نے بھی نہ کیا تھا۔  گجر نالہ میں مہاجروں کے گھر جلائے گئے.مہاجر آبادیوں پر حملے کرکے بے تحاشہ مہاجروں کا خون بہایا گیا.اس وقت اس سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوا اور گوہر ایوب کو بچالیا گیا

 

سابق آئی جی حافظ صباح الدین جامی  1964ء میں کراچی پولیس کی اسپیشل برانچ میں ایس پی اور روئیداد خان کمشنر تھے۔وہ اپنی کتاب ”پولیس ،کرائم اینڈ پالیٹکس“ میں   لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی سے ہرا دیا۔ والد کی فتح پر گوہر ایوب نے کراچی میں ایک جلوس نکالا۔ کراچی پولیس کے مختلف افسروں نے وائر لیس پر ایک دوسرے سے کہا کہ گوہر ایوب کو روکو ورنہ خون خرابہ ہو گا ۔ گوہر ایوب نہیں رکے اور کراچی میں زبردست خون خرابہ ہوا۔ گوہر ایوب کے خلاف قتل کے مقدمے درج ہو گئے۔ انہیں بچانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ خون خرابے والے دن پولیس افسروں کے وائر لیس پیغامات والی لاگ بک کو تبدیل کیا جائے۔ یہ کام مغربی پاکستان کے وزیر قانون غلام نبی میمن نے کیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے نئی لاگ بک تیار کر لی اور جعل سازی کر کے گوہر ایوب کو بچا لیا۔

 

 سندھ کے اندر لسانیت کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے ڈالی . سندھ میں ان کے ٹیلینٹڈ کزن ممتاز بھٹو نے لسانی بل پیش کیا.اور سندھی کو سندھ کی سرکاری زبان بنادیا گیا.جس پر رئیس امروہی نے نظم بھی لکھی تھی کہ اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے.8 جولائی 1972 کو اس لسانی بل کے خلاف لیاقت آباد میں مظاہرہ ہوا تو پیپلز پارٹی کی متعصب حکومت نے ان نہتے مہاجروں پر گولیاں برسادیں جس سے درجنوں مہاجر  شہید ہوۓ.  اس واقعے کے بعد اندروں سندھ میں مہاجروں کا قتل عام شروع ہوا لاڑکانہ، قمبرعلی خان،شہدادکوٹ، دادو،سہون جو کبھی مہاجر اکثریتی شہر کھلاتےتھے ان تمام علاقوں سے مہاجروں کو بیدخل کر دیا گیا ان کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا اور بڑی تعداد میں مہاجر اپنی جائیدادیں چھوڑ کر  نقل مکانی کرکے کراچی آگئے

 

مہاجروں پر ایک اور ظلم 1973 میں سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کی بنیاد کوٹہ سسٹم کا نفاذ ہے .جس کے بعد مہاجروں پر تعلیم اور روزگار کے دروازے کافی حد تک بند کردئیے گئے.کوٹہ  سسٹم کے نفاذ کے بعد دیہی سندھ سے آرٹس میں سی گریڈ میں پاس  کو میڈیکل کالج میں کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر داخلے ملے. جبکھ شہری علاقے میں  اے گریڈ سائنس میں پاس میڈیکل کالج میں داخلے سے محروم رہا

 

کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے بعد اخبارات میں نوکریوں کے اشتہارات میں تو یہ لکھا آتا تھا کہ کراچی حیدرآباد اور سکھر میں رہنے والے نوکریوں کے لئے درخواست نہ دیں. کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے بعد مہاجروں پر سرکاری نوکریوں کے دروازے اتنے بند ہوۓ کہ آج سرکاری ملازمتوں میں بمشکل پانچ سے دس فیصد ہی مہاجر ملے گا جبکہ  سندھ کی آبادی کا نصف حصّہ مہاجر ہیں 

 

ایک مسئلہ محصورین مشرقی پاکستان کا بھی تھا۔بھٹو نے سانگھڑ میں ایک جلسے میں محصورین کی آمد کی مخالفت  کرتے ھوئے کہا تھا کہ میں سندھیوں کو ریڈ انڈین نہیں بننے دوں گا۔چنانچہ آج بھی لاکھوں محصورین ریڈ کراس کے کیمپوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔

 

مہاجروں نے ہمیشھ اپنے آپ کو پاکستانی کہا مگر پاکستان میں ان کو نفرت انگیز خطابات سے نوازا جاتا تھا۔ان کو مکڑ،بھیا،تلیر،بکھاری،بھاری،پناہ گیر اور مٹروا اور پتہ نھیں کیا کیا کہا جاتا تھا۔ایک مثال میرے پڑوسی پروفیسر علی رضا نقوی کی ہے.پروفیسر علی رضا نقوی ھالھ کالج کے پرنسپل تھے۔ 1972کے لسانی فسادات کے دوران ان کو قوم پرست آکر دھمکیاں دیتے تھے کھ او مکڑ تو ھمارا پرنسپل نھیں ہوسکتا۔ان کو ھالا کالج کی پرنسپل شپ چھوڑ کر کراچی آنا پڑا۔ اس طرح بہت سی مثالیں موجود ھیں کھ کس طرح مہاجروں کو اندرون سندھ سے اپنی جانیں بچا کر نقل مکانی کرنا پڑی

 

مہاجروں نے ہمیشہ اپنے آپ کو پاکستانی کہا اور وہ کہتے تھے کہ ہم پاکستان کی قومی زبان اردو بولتے ہیں . وہ اتنے کھلے دل کے تھے کہ باہر سے آنے والوں کو اپنا نمائندہ منتخب کرتے تھے. چنانچہ  کراچی کی عوام نے اصغر خان اور میاں اختر پگانوالہ جسے لیڈروں کو جو کراچی سے باہر سے تعلق رکھتے تھے کراچی سے منتخب کروایا

 

تحریک نفاذ نظام مصطفی کے نام پہ مہاجروں کی قربانیوں کے عوض ضیاء کے مارشل لاء کے مزے اڑنے والی نام نہاد اسلامی جماعتوں نے اردو بولنے والوں کوسخت مایوس کیا .دو بار میئر شپ کے مزے اٹھانے ولوں نے ووٹ تو مہاجروں سے لیئے پر آباد “افغانیوں” کو کیا۔۔۔ کیا “افغانی” مسلمان تھے اور بنگلہ دیش میں محصور بہاری ” کافر” تھے ۔۔؟؟؟؟ یہ کھلا تضاد محرومیوں اضافے کا باعث بنا۔۔۔

 

اسلام کے نام پہ بننے والے ملک میں تحریک پاکستان کے وارثوں اور ان کی اولادوں کو اتنا حق بھی نہ دیا گیا کہ وہ کسی دوسرے شہر میں جا کے تعلیم حاصل کر سکیں۔۔

مہاجروں نے  جن نمائندوں کو کراچی میں ووٹ دیا انہوں نے مہاجر عوام کے مسائل کے لئے آواز نہیں اٹھائی.نہ  کبھی کوٹہ سسٹم کی مخالفت کی اور نہ انہوں نے محصورین کے لئے کچھ  آواز اٹھائی اور نہ وہ سرکاری ملازمتوں میں مہاجروں کے ساتھہ ہونے والے نا انصافی پر کچھ بولے اور نہ 1972میں اندرون سندھ میں مہاجروں کے بدترین قتل عام کے خلاف کچھ بولے.1983میں جب  ضیاء الحق نے کوٹہ سسٹم میں مزید دس سال کی توسیع کردی تو کوئی اس کے خلاف نہیں بولا اس وقت مہاجروں نے سوچا  کہ ان کے ساتھہ ہونے والی نا انصافی کے خلاف بولنے والا کوئی بھی نہیں ہے.چنانچہ اٹھارہ مارچ 1984کو جب ایم کیو ایم وجود میں آئ اور مہاجروں کے مسائل کے لئے آواز اٹھائی تو مہاجروں نے اس جماعت  اور الطاف حسین کو اپنا مسیحا سمجھا اور  مہاجروں نے ایم کیو ایم  اور الطاف  حسین کا بھرپور  ساتھہ دیا اور آج تک ایم کیو ایم  اور الطاف حسین عوام کے دلوں پر راج کر رہے ہیں