Featured Original Articles Urdu Articles

پیغمبر اسلام کے مولد کو شہید نہیں ہونے دیں گے- اہل سنت، شیعہ، مسیحیوں سمیت مختلف مذاہب کے انسانیت پرستوں کا عزم

save muslim heritage

مکّہ مکرمہ میں توسیع حرم کی آڑ میں پیغمبر اسلام کی جائے پیدائش کو مسمار کرنے کے خلاف پوری دنیا سے نہ صرف مسلم برادری کا رد عمل آنا شروع ہوگیا ہے بلکہ سعودی حکومت کے اس غیر ثقافتی۔تاریخ دشمن اور غیر شرعی اقدام کے خلاف رائے عامہ ہموار ہونے کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں

پاکستان میں اولیائے کرام کے شہر ملتان میں حضرت شاہ رکن عالم ملتانی کے سالانہ عرس مبارک کی اختتمامی نشست میں ملک بھر سے تشریف لائے ہوئے اہل سنت بریلوی کے علماء و مشائخ و حاضرین نے متفقہ طور پر قراردار منظور کی کہ سعودی عرب کی حکومت مولد پیغمبر اسلام کو مسمار کرکے اس پر میٹرو اسٹیشن بنانے سے باز رہے ،قرارداد منظور کرنے والوں میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،امیر جماعت اہل سنت صاحبزادہ مظہر سعید کاظمی ،مولانا شاہ احمد نورانی کے صاحبزادے مولانا اویس نورانی بھی شامل تھے

جبکہ ادھر حیدرآباد دکن سے ایک تحریک “ہم مسلم امّہ مولد پیغمبر کو گرانے کے خلاف ہیں “کے نام سے شروع ہوئی ہے جس کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی ایک آفیشل پیج بنا ہوا ہے

اس آفیشل پیج پر یہ اطلاع دی گئی ہے کہ حیدرآباد دکن ریاست کی حکومت نے ریاست کے سرکاری اخبارات میں سعودی عرب کے مولد پیغمبر کو مسمار کرنے کے منصوبے کو بے نقاب کرنے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے لٹریچر شایع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے سرکاری اخبارات میں بھی ایسے مضامین کی اشاعت کے لیے اجازت لینے کی کوشش کی جارہی ہے

birthplace of muhammad

برطانیہ کے اندر مسلمان سعودی عرب میں قدیم اسلامی ثقافتی ورثے اور وہاں پر مقدس تاریخی مقامات کو بچانے کے لیے ایک منظم مہم چلارہے ہیں اور اس سلسلے میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے بھی تعاون مانگا جارہا ہے

برطانیہ کی کئی جامعات اور ادارے بھی سعودیہ عرب کے اندر ثقافتی ورثے کو لاحق خطرات کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے سامنے آئے ہیں

وہابی اور دیوبندی تکفیری خارجی آئیڈیالوجی سے مسلمانوں کا مشترکہ ثقافتی تاریخی ورثہ خطرے میں پڑا ہوا ،اس ورثے کی حفاظت اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے برمنگھم یونیورسٹی اور کئی ایک اور تنظیموں کے تعاون سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے جو 21 مارچ کو منعقد ہوگی

اس کانفرنس میں اہل سنت بریلوی کے معروف عالم دین و روحانی شخصیت پیر مولانا محمد اسحاق ،اہل تشیع کے علامہ سید علی رضوی اور عیسائی برادری کے ندیم نصر شریک ہوں گے اور یہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا عظیم اجتماع ہوگا

پیر مولانا اسحاق یورپ میں معروف نفشبندی صوفی سلسلے کی شاخ حجازیہ کے بانی پیرعبدالوہاب صدیقی کے خلیفہ مجاز ہیں اور عبدالوہاب صدیقی پاک و ہند میں معروف اہل سنت بریلوی کی عظیم مذہبی شخصیت مولانا محمد عمر اچھروی کے تیسرے بیٹے تھے ،ا

مولانا اسحاق جہاں علم دین سے بہرہ ور ہیں وہیں پر دریاؤں اور کوسٹلز انجینیرنگ کی ڈگری کے حامل بھی ہیں اور وہ سعودی عرب کی توسیع حرم پروجکیٹ پر سخت تنقید کرتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ سعودیہ عرب کی وہابی حکومت کئی سالوں سے حجاز میں اسلامی تاریخ،ثقافتی ورثے کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور وہ یہ سب حرم کی توسیع اور حجاج کرام کی سہولت کے نام پر کرنے کا ڈھونگ رچاتی ہے اصل میں وہ اسلامی شعائر،تاریخی عمارتوں اور ثقافتی ورثوں کو شرک اور بدعت کا ونبع خیال کرتی ہے جو بہت بڑی جہالت اور گمراہی ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مولد پیغمبر کو مسمار کرنے کے منصوبے سے آل سعود دست بردار نہ ہوئے تو ان کو پوری دنیا کے مسلمانوں کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا

220px-Hazrat_Sahib_and_Yassir_Arafat_2

پیر عبدالوہاب صدیقی فرزند عمر اچھروی کے ساتھ یاسر عرفات کی یادگار فوٹو

معروف شیعہ عالم علامہ سید علی عباس رضوی جوکہ تقابلی فلسفے میں تخصص اور تاریخ کے علم پر دسترس رکھتے  ہیں نے کہا کہ مولد پیغمبر مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم ورثہ ہے اور اس سے عقیدت و ناموس دونوں جڑی ہوئی ہیں،یہ نہ صرف عالم اسلام کا ورثہ ہے بلکہ یہ پوری دنیا کا مشترکہ ورثہ ہے اس لیے اس کی مسماری کی مخالفت عالم اداروں اور بین الاقوامی برادری کو بھی کرنی چاہئیے

فادر ندیم نصر جو کہ بیداری آرگنائزیشن کے بانی سربراہ اور چرج آف انگلینڈ کے واحد شامی نژاد پریسٹ ہیں کا خیال ہے  کہ

اصل میں سلفی تکفیری وہابی جہاں بھی جاتے ہیں وہاں جاکر یہ قدیم تاریخی ثقافتی ورثوں کو مٹانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں جیسے ٹمبکٹو میں ہزاروں سال پرانے تاریخی مذھبی ورثوں کو الشباب نامی وہابی سلفی تنظیم نے تباہ کردیا ،افغانستان میں طالبان نے بامیان میں بدھا کے پہاڑوں پر بنے پوٹریٹ کو بم سے اڑا دیا اور پاکستان،شام کے اندر معروف اسلامی شخصیات کے مزارات پر حملے کئے گئے

برطانیہ میں کئی ایک تنظیموں نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے دستخطوں کے ساتھ خطوط تحریر کرکے برطانوی پی ایم ہاؤس ،وزرات حارجہ کے دفتر کو ارسال کئے ہیں

جس میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن سمیت برطانوی حکام سے کہا گیا کہ وہ سرکاری سطح پر سعودی عرب کو آگاہ کریں کہ مولد پیغمبر کو مسمار کرنے کی خبروں پر مسلم امّہ ،تاریخی و مذھبی ورثوں کی حفاظت کے لیے کام کرنے والے سول سوسائٹی کے اداروں کو بہت تشویش ہے اور سعودیہ عرب کے خلاف جذبات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے