Original Articles

تکفیریت زدہ دیوبندیت نے سماج کا تشخص برباد کردیا ہے

three books

نوٹ:عامر حسینی پاکستان کے صوبے پنجاب کے سرائیکی خطّے کے ترقی پسند معروف صحافی و کالم نگار ہیں ،اور وہ اپنی تحریروں کے زریعے سے ادب،سیاست،معاشیات کے باہمی رشتوں پر بات کرتے ہوئے عصریت کی کشاکش کو جوڑنے کا کام کرتے رہتے ہیں ،اس مرتبہ انہوں نے معروف نقاد شمیم حنفی ،محمد شاہد حمید کی تحریروں کے آئینے میں خاص طور پر دیوبندی تکفیری خارجیت کے حوالے سے جو نکتہ طرازی کی ہے وہ بہت اہمیت کی حامل ہے،یہ ہمیں ایک نئی جہت سے روشناس کراتی ہے اگرچہ اس میں کچھ اور مباحث درآتے ہیں-محمد بن ابی بکر مدیر تعمیر پاکستان ویب سائٹ

میں اس مرتبہ بہت دنوں کے بعد کتب خریدنے نکلا تو میں نے ایک طرف تو اردو کا معروف ادبی جریدہ “دنیا زاد “خرید کیا تو دوسری طرف میں نے “میلان کنڈیرا” کے ناول پر لکھے گئے تنقیدی مجموعے “آرٹ آف ناول” کا محمد عمر میمن کا کیا ہوا ترجمہ خرید کیا اور ساتھ ہی منٹو پر لکھی علی احمد فاطمی کی کتاب “کامریڈ منٹو” اور شمس الرحمان فاروقی کی کتاب “ہمارے لیے منٹو صاحب”اور محمد حمید شاہد کے منٹو پر لکھے مضامین کا مجموعہ”جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ”بھی لیے

آرٹ آف ناول میں نے انگریزی میں پڑھا ہوا ہے اور اس قدر مشکل تنقیدی مجموعے کو اردو زبان میں ڈھال کر عمر میمن نے ایک مرتبہ پھر اپنے خلاّق مترجم ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے

جبکہ دنیا زاد میں میں نے ابھی تک ممتاز حسین یادگاری خطبہ شمیم حنفی کا پڑھا جس میں انہوں نے “نئے ادبی رجحانات اور نوآبادیاتی فکر”پر بات کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ

“اردو کی فکری روایت کے ارتقامیں ایک غلطی بار بار دوھرائی گئی ،اپنے اختیار کردہ رجحانات کو اجتماعی زندگی کے اصل پس منظر سے الک کرکے دیکھنے کی روش تھی

انسیویں صدی کی نشاۃ ثانیہ کے دوران جدید کاری کی مہم کے ادھورے نتائج اس لیے مرتب ہوئے کہ ہم نے اپنی روحانی احتیاج کے مطابق جدید کاری کا خاکہ مرتب کرنے کی کوشش چھوڑ دی تھی

بقول شخصے یہ کوشش کالی داس کی شکنتلا کو اسکرٹ پہنانے کے مترادف تھی-ڈپٹی نذیر احمد نے ابن الوقت کا صرف قیاس نہیں کیا تھا –اسے دیکھا بھی ہوگا،راجہ موہن رائے سے لیکر علی گڑھ تحریک تک ایک پورا جال بچھا ہوا ہے کچے،نامانوس تجربوں کواپنی ذھنی و معاشرتی زندگی می جذب کرنے کا

شمیم حنفی کے خیال میں ترقی پسند تحریک میں یہ غلطی پھر دوھرائی گئی ،ان کا کہنا ہے ہماری ترقی پسندی زیادہ تر بیرونی مقاصد اور ہدایات کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی اور ان کے خیال میں ترقی پسندی کے بیج اگر اپنی زمینی سچائی اور باطن کی کوکھ سے جنم لیے ہوتے تو یہ غلطی دوہرائی نہیں جاسکتی تھی

ان کا مشورہ ہے کہ ہمیں اپنی ثقافتی یارداشت اور تہذیبی نسیان کے مضمرات پر “کسی قسم کی قدامت پرستی کا شکار”ہوئے بغیر پھر سے غور کرنے کی ضرورت ہے

شمیم حنفی نے یہ گفتگو ادب اور ادبی رجحانات کے تناظر میں کی ہے اور میں ان کی اس گفتگو ہمارے معاشرے کی عمومی سماجی و سیاسی صورت حال کے تناظر میں رکھ کر دیکھتا ہوں جس میں ایک طرف تو بہت زیادہ پیورٹن جسے ہم اپنی آسانی کے سلفی خالصیت کا رجحان کہہ سکتے ہیں کا بہت شور اور غلغہ ہے اور اس رجحان میں سخت قسم کی قدامت پرستی کا شکار ہوئے بغیر بات بنتی نہیں ہے اور اسی کے بطن سے آج کی تکفیریت،خارجیت کا ظہور ہوتا ہے اور پورے معاشرے میں آگ و خون کا ایک دریا بہا نظر آتا ہے

اس تکفیریت اور خارجیت نے حنفی فقہ پر عامل اور اہل سنت کے عقائد پر عمل پیرا ہونے والی ایک برادری جوکہ دیوبندی کہلاتی ہے کے اندر اس طرح کایا کلپ کی ہے کہ وہاں ننھے منّے بچے بھی تکفیری خارجیت پر مبنی انتہا پسند متشدد پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے پاکستان کی موجودہ حکومت اس تکفیریت و خارجیت زدہ دیوبندیت کو پاکستانی معاشرے لازمی جزو بنانے پر تل گئی ہے

جبکہ دوسرا رجحان مکمل طور پر اجنبیت،نامانوسیت اور بیرونی مقاصد اور ہدایات کو قبلہ و کعبہ بنا لینے کا ہے اور یہ دونوں رجحان باہم دست وگریبان ہیں ہمیں ان دونوں پیراڈائم سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے جس سے معاشرہ امن و آشتی کی جانب آسکتا ہے

مجھے یہاں انتظار حسین کی یہ بات بہت بھلی لگتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں جس تہذیب و ثقافت نے مسلمانوں،سکھوں،ہندؤں،عیسائیوں،پارسیوں،احمدیوں سیکولرز،مذھبی لوگوں اور برادریوں کے باہمی لین دین سے جنم لیا اسے ہند اسلامی تشخص کہا جاسکتا ہے اور یہ تشخص نہ تو خالص عرب ہے نہ ہی یہ فارسی تشخص ہے اور نہ ہی وسط ایشیائی ہے اور نہ ہی ماقبل مسلم کا خالص آریائی پلس درواڑی تشحض ہے بلکہ ان سب سے ملکر بننے والا یہ تشخص اپنی مثال آپ ہے تو جو اس تشخص کی شدھی یا اس کو سلفی خالص کرنے کی خواہش رکھتے ہیں وہ سنگین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں اور پورے معاشرے کو عدم توازن اور فساد فی الارض کا ارتکاب کرتے نظر آتے ہیں

مجھے اپنے اس کالم میں محمد شاہد حمید کے منٹو پر لکھے مضامین میں بیان کئے جانے والے بہت سارے نکتوں پر بات کرنا تھی لیکن چونکہ کالم کا مقصد ذاتی حظ اٹھانے سے کہیں زیادہ اپنے قاری تک اجتماعی صورت حال اور عصریت کا شعور منتقل کرنے کی کوشش ہوتا ہے تو میں یہاں صرف محمد حمید شاہد کے مضمون “منٹو :ہمارا ہم عصر”پر بات کرنی ہے

حمید شاہد کا کہنا ہے کہ سعادت حسن منٹو عصر حاضر میں اپنی پوری تخلیقی توانائیوں کے ساتھ ہمارے درمیان سانس لے رہا ہے

منٹو کے بارے حمید شاہد نے لکھا ہے کہ وہ منٹو جو چکلے کی عورتوں کے لین دین کرنے والے دلالوں،ٹیٹوال کے کتّے،جمعدار ہرنام سنگھ اور صوبیدار ہمت سنگھ کو پہچان سکتا تھا تو اس میں کیا تعجب اس نے چچا سام کو بھی ٹھیک ٹھیک پہچان لیا تھا

ہم ایوب کے زمانے سے لیکر ،افغان جہاد سے کزرتے ہوئے نائن الیون کے بعد سے چچا سام جسے دنیا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے نام سے جانتی ہے پہچاننے کی کوشش کررہے ہیں مگر پہچان نہیں پارہے لیکن منٹو نے اسے خوب پہچانا تھا اور کہا تھا

“آپ نے ہائیڈروجن بم صرف اس لیے بنایا تھا کہ دنیا میں مکمل امن و امان ہوجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں پوچھتا ہوں ،اگر آپ نے دنیا میں امن و امان کردیا تو کتنے ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوجائيں گے”

منٹو نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ ملّاؤں کو روسی کمیونزم سے نمٹنے کے لیے مسلح کرے گا اور یہ ملآّ پہلے روس سے لڑیں گے اور پھر اسی سٹائل میں اپنوں پر چڑھ دوڑیں گے،منٹو امریکی درآمد شدہ روشن خیالی کے ایجنڈے سے بھی بہت آگاہ تھا اور امریکی برانڈ جہاد اور میڈ ان امریکہ روشن خیالی دونوں کو زہر ہلال کہا کرتا تھا

آج اگر حکومت کی مذاکراتی کمیٹیوں کو دیکھا جائے اور پھر دوسرے لمحے میں حکمرانوں کی نام نہاد روشن خیالی کو دیکھا جائے تو زرا منٹو کا چچا سام کے نام لکھے گئے خطوط ميں یہ جملہ پڑھ لیجئیے

“ہماری حکومت ملاّؤں کو بھی خوش رکھنا چاہتی ہے اور شرابیوں کو بھی حالاں کہ مزے کی بات یہ ہے کہ شرابیوں میں کئی ملّا موجود ہیں اور ملاّؤں میں اکثر شرابی”

حمید شاہد کہتے ہیں ک منٹو بیچ کی کئی دھائیاں پھلانگ کر ہمارے عصر میں ہمارے ساتھ شریک ہے اور اس کی بصیرت کی روشنی میں اپنے سماج کو دیکھ سکتے ہیں

لیکن کیا ہماری حکومت اس بصیرت کی روشنی میں دیکھنے پر تیار ہے مجھے اس بارے میں شک ہے بلکہ سعادت حسن منٹو کی طرح نجانے مجھے بھی کیوں یہ لگتا ہے یہ حکومت بھی رندوں اور زاہدوں دونوں کو خوش کرنے کی کوشش کررہی ہے اور شاید اس کا انجام نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم،نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے