Original Articles Urdu Articles

عبداللہ ابن سبا سے بلیک واٹر تک : طالبان دہشت گردی اور تیسرے ہاتھ کی تاریخی حقیقت – از خرم زکی

Taliban-militants-surrend-007

ادارتی نوٹ : بردار خرم زکی نے اپنی تحریر میں ایک اہم نکتے کی جانب تاریخی حوالوں سے توجہ دلائی ہے – خارجی تکفیریوں نے تاریخ اسلامی کو مسخ کر کے ہمیشہ اپنے بڑوں کی غلطیوں کو ایک فرضی کردار عبد اللہ ابن سبا کے کھاتے میں ڈالا ہے اور ان کی یہ روش آج تک چلی آرہی ہے کہ وہ طالبان اور سپاہ صحابہ کی دہشت گردی کا الزام کسی تیسری قوت پہ لگاتے ہیں جب کہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں خود کش حملہ کرنے میں صرف تکفیری دیوبندی طالبان ملوث ہیں

ملاحظہ کریں کس طرح مفتی رفیع عثمانی دیوبندی نے تکفیری سپاہ صحابہ کے ہاتھوں کراچی میں شیعہ مسلمانوں کے قتل کا الزام بلیک واٹر پر دھر دیا

https://lubpak.net/archives/3969

***********

دہشتگردی غلط ہے ہم مذمّت کرتے ہیں لیکن دہشتگرد شہید ہے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے. یہ وہ گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے جو ان نام نہاد مذہبی راہنماؤں کی طرف سے سامنے آ رہا ہے جن کے سارے سیاسی تحرک کا مقصد محض عوام کو شبہ میں ڈالنا اور ان کو بیوقوف بنانا ہے.

قتل کی مذمّت کرتے ہیں لیکن قاتل کو عوام کا ہیرو اور اس کے مقاصد اور اہداف کو شرعی اور اسلامی لبادہ پہنا دیتے ہیں تاکہ عوام کی سمجھ ہی میں نہ آۓ کہ قاتل حق پر ہے یا مقتول. یہ وہی تاریخی حربہ ہے جس سے شروع اسلام سے یہ درباری سرکاری مولوی کام لے رہے ہیں. اور جب کچھ اور نہیں بنتا تو “تیسرے ہاتھ” کی دہائی دے کر عوام کو اس وقت بھی الو بناتے ہیں جب قاتل بھی سامنے، معلوم اور مشخص ہوتا ہے اور مقتول کا مظلوم ہونا بھی.

یہ جو چودہ سو سال سے ایک تخیلاتی کردار “عبد الله بن سبا” کے نام سے گڑھ رکھا ہے اور جس کے کاندھوں پر جنگ جمل، جنگ صفین اور قتل عثمان کی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے وہ آج ہی کی طرح کا خیالی اور دیو مالائی ہاتھ ہے جس کا حقیقت اور خارج میں کبھی وجود نہ تھا مگر کچھ خواص کے مکروہ اور سیاہ چہروں کو چھپانے اور ان کی بدکرداری اور نفاق پر پردہ ڈالنے کے لیۓ اس کردار کو سیف ابن عمر جیسے زندیقوں نے تخلیق کیا. مقصد یہ تھا کہ ظالم اور مظلوم دونوں کو حق پر بتا کر ساری قتل و غارت گری کا سبب یہود و نصاری کو قرار دے دیا جاۓ تاکہ جو اصل ظالم ہے وہ آسانی و سکون سے اپنا کام کرتا رہے اور عوام اسی شنش و پنج میں مبتلا رہیں کہ آخر حق کیا ہے اور کدھر ہے .

ہم سب کی ذمہ داری ہے لوگوں کو دلائل و براہین سے بتائیں اور جناب زینب سلام الله علیھا کی طرح لوگوں کے سامنے ظالم کے ظلم کا پردہ چاک کریں اور اس کے ظلم کو بے نقاب کریں. یہ کربلا جدید ہے، جہاں کچھ لوگ یزید کے پیروکار ہیں اور لوگوں کی گردنیں ذبح کرنے میں مصروف ہیں اور مسلمان لاشوں کی بے حرمتی کر رہے ہیں،، وہیں وہ تاریخی بدکردار مولوی بھی موجود ہیں جو اس ظلم کا شرعی جواز فراہم کر رہے ہیں اپنے فتاویٰ کی صورت میں، اسی طرح وہ درباری مورخ (آج کی زبان میں صحافی) بھی موجود ہیں جو ساری قتل و غارت گری کا ذمّہ دار تخیلاتی اور من گھڑت “تیسرے ہاتھ” پر ڈالنے کی جد و جہد کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ دیکھیں خود یزید قتل حسین کی مذمت کر رہا ہے اور آنسو بہا رہا ہے.

اور کچھ وہ بھی ہیں جو اس تمام خونریزی و دشتگردی کو اجتہادی غلطی ثابت کرنے پر تلے ہیں. ہم یہ سارے کرداروں سے بخوبی واقف ہیں. تاریخ دہرا رہی ہے اپنے آپ کو. ایسے میں اگر ہم نے کار زینبی انجام نہ دیااور صرف آنسو بہاتے اور سینہ کوبی کرتے رہے لیکن آگے بڑھ کر اس یزیدیت کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کی اور کار زینبی انجام نہ دیا تو ہم بھی کوفی ہی کہلائیں گے، حسینی نہیں.

یاد رہے یہ کسی فرقہ کی کسی فرقہ سے جنگ نہیں بلکہ ایک مکتب کی مکتب سے جنگ ہے، ایک طرف چراغ مصطفوی ہے اور دوسری طرف شرار بو لہبی، ایک طرف مکتب رسول و آل رسول صلی الله علیہ و آلہ والسلم ہے تو دوسری طرف مکتب ابو سفیان اور اس کی پلید اولاد کے پیروکار ہیں. اس کو فرقہ وارانہ جنگ بنانا چاہتا ہے آپ کا دشمن، اس کی چالوں سے ہوشیار رہیں.