Original Articles Urdu Articles

لاہور- سنّی بریلوی اور شیعہ جماعتوں نے جمعہ 28 فروری کو یوم انسداد طالبان منانے کا اعلان کردیا

bb

تحفظ ناموس رسالت محاذ پاکستان کے زیر اہتمام لاہور میں ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں 50 سے زائد مذھبی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی

اس کانفرنس کے آخر میں اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں طالبان سے مذاکرات کو مسترد اور ان کے خلاف فوری طور پر آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا گیا

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت طالبان سے خفیہ یا اعلانیہ ہر طرح کے مذاکرات کو بند کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو پورے ملک میں طالبان کے خلاف آپریشن کے لیے دھرنے دئے جائیں گے

50 سے زائد مذھبی سیاسی جماعتوں نے 28 فروری بروز جمعہ کو اینٹی طالبان ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کردیا

یہ کانفرنس واضح طور پر لاہور میں ایک روز قبل ہونے والے علماء کنونشن اور اس سے پہلے علماء مشائخ کانفرنس کا جواب تھی جوکہ دیوبندی ،سلفی وہابی جماعتوں کا اجتماع تھا جس میں سنٹر رائٹ کی پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز بھی طالبان نوازی کی وجہ سے شامل ہوئیں تھیں اور ان دو کانفرنسوں کو بظاہر شیعہ،سنّی بریلوی کی نمائندہ جماعتوں کی شرکت والی کانفرنس دکھانے کی کوشش کی گئی تھی

ایک طرح سے تکفیری خارجی دیوبندی دھشت گردوں کی حامی جماعتوں نے مذاکرات کے مطالبے کو متفقہ مطالبہ بناکر دکھانے کی کوشش کی تھی

آج قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد جے یوآئی ایف کے دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مذاکرات بارے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ متفقہ فیصلہ تھا اور آپریشن پر اتفاق نہیں ہے اور آپریشن کو امریکی اشارہ قرار دینے کی کوشش کی

جب میڈیا پر اینٹی طالبان ڈے منائے جانے کی خبر نشر ہوئی تو تھوڑی دیر کے بعد دھشت گرد دیوبندی تکفیری تنظیم اورنگ زیب فاروقی کے بیان کی پٹی چلنے لگی جس میں اورنگ زیب نے طالبان سے مذاکرات کے مخالفوں کو ملک دشمن قرار دے ڈالا اور طالبان کے حق میں بیان بازی کی

اس عمل سے ایک مرتبہ پھر یہ ظاہر ہوگیا کہ دیوبندی مکتبہ فکر کی کوئی ایک نمائندہ مذھبی سیاسی تنظیم اور فورم یا گروہ مفتیان دیوبندی تکفیری خارجی طالبان ،اہل سنت والجماعت کے خلاف بیان دینے کو تیار نہیں ہے لیکن ان کا دفاع کرنے پر ہر دم تیار ہیں اور ان کو ملک میں شیعہ ،بریلوی کی نسل کشي ،ہندؤ،احمدی،عیسائی ،سیکولر بلوچ اور پشتونوں پر ہونے والے دیوبندی تکفیری خارجی حملوں پر کوئی زیادہ تشویش نہیں ہے اور دیوبندی دھشت گردوں کے خلاف وہ کسی بھی کاروائی کو ہر قیمت پر رکوانا چاہتے ہیں

جس دوران دیوبندی مکتبہ فکر کی جانب سے دیوبندی طالبان کا دفاع کیا جارہا تھا تو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے میڈیا کو بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کسی آپریشن کا منہ توڑ جواب دے گی اور اس نے پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان کی مقبولیت میں اضافے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک پاکستان میں غیر اسلامی اور غیر شرعی نظام مسلط ہے جس سے نجات ٹی ٹی پی کا منشور ہے اور عوام میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے

ادھر نوشہرہ میں جے یوآئی ف کی جانب سے تحفظ اسلام و نفاذ شریعت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان اور اکرم درانی سمیت دیوبندی علماء نے کہا کہ حکومت اگر امن سے شریعت نافذ نہیں کرتی تو لوگ بندوق اٹھاکر زبردستی شریعت کا نفاز شروع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں

یہ بیان بھی واضح طور پر دیوبندی مکتبہ فکر کی جانب سے تحریک طالبان سمیت دیوبندی دھشت گردوں کے لیے عذر پیش کرتا نظر آتا ہے

لاہور میں منعقدہ 50 سے زائد مذھبی سیاسی جماعتوں کی کانفرنس سے دیوبندی مکتبہ فکر کی جماعتوں اور سلفی وہابی جماعتوں کی غیر حاضری ان جماعتوں کے مکاتب فکر کے دیوبندی تکفیری دھشت گردی کی جانب جھکاؤ کا واضح اظہار ہے جس سے ہمارے بہت سے سیکولر ،لبرل اور قوم پرست دانشور انکاری ہیں