Blogs Cross posted

پاکستان کا شامی جہاد – از ندیم سعید

4syria

تین سال سے جاری شامی خانہ جنگی میں سعودی عرب کے مؤقف کی تائید کر کے وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کو تنگ نظرسلفی اسلام کے اور بھی قریب کرلیا ہے۔سعودی عرب کے اٹھہتر سالہ ولی عہدشہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے حالیہ دورہ پاکستان کے اختتام پر وزیراعظم نواز شریف نے ان کے ساتھ اپنے ایک مشترکہ بیان میں شام میں صدر بشار الاسد کی جگہ ایک عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کردیا ہے۔

سعودی ولی عہد نے پاکستان کی عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں اور اطلاعات یہ ہیں کہ شامی باغیوں کو پاکستانی اسلحہ اور فوجی تربیت فراہم کرنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں سیاسی و جغرافیائی صف بندی بڑی حد تک سنی اور شیعہ اسلام کی بنیاد پر ہے۔ ایک طرف سعودی عرب ہے اور دوسری طرف ایران۔سنی مسلمانوں میں انتہاپسندانہ نظریات سلفی مکتب فکر سے متاثر ہیں جس کی پشت پناہی سعودی عرب کا حکمران ’سعود گھرانہ‘ کرتا ہے۔ پاکستان کے طول و عرض میں گزشتہ تین دہائیوں میں سلفی /دیوبندی مدارس کا جو جال بچھایا گیا ہے اس کے پیچھے سعودی ریال ہی کارفرما ہیں۔

نام نہاد افغان جہاد کے نام پر امریکہ نے سابقہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کا ایندھن زیادہ تر سلفی / دیوبندی مکتب فکر سے ہی حاصل کیا۔سلفی / دیوبندی جو اپنے طور پر ’خالص اسلام‘ کے داعی ہیں انہوں نے امریکہ کی جنگ جیتنے کے بعد اپنے برانڈ کا اسلام پھیلانے کا عزم کیا ہوا ہے۔ تیونس، لیبیا اور مصر کی ’عرب بہار‘ کی فصل سلفیوں اور ان سے جڑے دوسرے مکاتب فکرنے ہی کاٹی ہے۔

شام میں بھی باغیوں کی غالب تعداد سلفی مکتب فکر سے متاثر ہے۔بشارالاسد کے خلاف متحرک سب سے مضبوط مسلح گروہ ’جیش الاسلام‘ کی قیادت زہران الوش کررہا ہے جو ایک سلفی ہے اور اسے سعودی عرب کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔اطلاعات یہ ہیں کہ بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے لیے پاکستانی اسلحہ اور فوجی تربیت جیش الاسلام کے جنگجوؤں کو فراہم کیے جائیں گے۔

شام میں براہ راست مداخلت کی امریکی ہچکچاہٹ سے مایوس ہو کر سعودی عرب اب خود ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان نظر آتا ہے اور پاکستان کو اس نے کنڈکٹر یعنی اپنے معاون کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔اس نوکری کے بدلے میں ریال تو آئیں گے اور یقیناًراولپنڈی اور رائے ونڈ میں رالیں بھی ٹپک رہی ہونگی، لیکن کیا پاکستان کی فوجی و سیاسی اشرافیہ نے افغان جہاد سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا کہ اب وہ ’شامی جہاد‘ کا حصہ بننے جا رہے ہیں؟

آج پاکستان اور اس کے عوام کو دہشت کے جس عفریت کا سامنا ہے وہ افغان جہاد کی ہی پیداوار ہے۔سلفی دیوبندی اور دوسرے ہم خیال مکاتب فکر سے متاثرہ شدت پسند فرقہ وارانہ نسل کشی میں ملوث ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان نے اپنی کارروائیوں کو پھیلاتے ہوئے کئی مرتبہ شام میں باغیوں کی مدد کے لیے اپنی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے۔دیوبندی طالبان جو پاکستان میں امریکہ کی مخالفت کے نام پر آئے دن سکیورٹی اہلکاروں اورعام شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بناتے ہیں وہی شام میں امریکی ایجنڈا پورا کرنے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں، یعنی ناپسند فرقے کی بیخ کنی کے لیے امریکہ کا یار بننے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

ایسے میں عمران خان جیسے دیوبندی طالبان کے معذرت خواہ کیا فرماتے ہیں جو دہشتگردی کا شکار عوام کو دن رات یہ کہتے نہیں تھکتے کہ دیوبندی طالبان کی کارروائیاں خطے میں امریکی اثر و نفوذ کے خلاف ہیں۔نظری و عقلی چشم پوشی کی بجائے انہیں تسلیم کرناپڑے گا کہ مذہبی شدت پسند اپنے طرز کا اسلام بزور بندوق تھوپنا چاہتے ہیں چاہے اس کے لیے انہیں فرقہ وارانہ نسل کشی ہی کیوں نہ پرنا پڑے۔

پاکستانی فوج سعودی عرب کے کہنے پر شام کے جس باغی گروہ ’جیش الاسلام‘ کی عسکری تربیت کرنے جا رہی ہے اس نے دو ماہ قبل شام کے صنعتی علاقے ادرہ میں قبضہ کر کے علاوی شیعہ، عیسائی، اسماعیلی اور دوسرے اقلیتی افراد کا قتل عام کیا۔یہاں یہ بتانا برمحل ہوگا کہ بشارالاسد علاوی شیعہ ہیں۔

افغان جہاد کی طرز پر اگر پاکستانی فوج نے مذہبی شدت پسندوں پر مشتمل اپنے خفیہ ہتھیارکو سعودی مہم جوئی کی خاطر شام میں استعمال کرنے کی سعی کی تو پاکستان میں مذہبی جنونی اوربھی نڈر ہو جائینگے ، اور عوام اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکار لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

Source :

http://urdu.ruvr.ru/2014_02_25/129141042/

ایڈیٹر نوٹ

جیو ٹی وی کہ سنئیر صحافی کامران خان کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اس سے دہشت گردوں کے حوصلے مزید بلند ہونگے اور پاکستان میں دہشت گردی اور قتل و غارت گری میں اضافہ ہوگا جب کہ دفاعی تجزیہ نگار اکرام سہگل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر جانب داری کی پالیسی کو جاری رکھنا چاہیے ورنہ افغانستان فساد کے نتائج کی طرح پاکستان کو شام میں مداخلت کے نتائج بھی بھگتنا ہونگے – تازہ ترین اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مشیر خارجہ اور دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس سلسلے میں نشر کی جانے والی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوے کہا ہے کہ پاکستان شام کے معاملے پر اپنی پوزیشن غیر جانب دار ہی رکھے گا –