Original Articles Urdu Articles

جاوید احمد غامدی، پشتون ثقافت اور طالبان – از خان زمان کاکڑ

ghamidi

Related post: Javed Ghamidi says that Taliban’s beheading is tribal Pashtun cluture

جاويد احمد غامدی کا تعلق مذہب کے اس معذرت خوا ه طبقے سے ہے جو جديد دنيا کے اکثر مقبول رجحانات کو يا تو اسلام سے ماخوذ سمجهتا ہے اور يا قرانی متون کو کهينچ تان کر اس کی مطابقت جديد دنيا کے کچھ مقبول روئيوں، تحريکوں اور نظريوں سے بنانے کی سعی لاحاصل کرتا ہے. غامدی صاحب کا اس کسب کے ساتھ تعلق جماعتِ اسلامی کی رکنيت حاصل کرکے ہی پيدا ہوا تها . اب اپنے آپ کو جماعتِ اسلامی سے بڑھ کرکے کچھ خاص قسم کا صحيح مسلمان سمجهتےہيں ميرے لئے ان کی حثيت اب بهی جماعتِ اسلامی کے کسی عام مُلا سے زياده کچھ نہيں. ليکن مذہبی معذرت خواہوں کے نزديک غامدی صاحب ملاؤں کے تهوڑے معتدل اور عالم طبقے سے تعلق رکهتےہيں اور ان کی کتابيں اور ويڈيوز بهی يہی ماڈرن مذہبی معذرت خواه لوگ خريدتے ہيں. ماڈرن مسلمان جب غامدی صاحب کی کوئی زياده برخلافِ توقع بات سن ليتے ہيں تو مايوسی کے انداز ميں ان کا ردِعمل يہ ہوتا ہے آخر غامدی صاحب بهی

مذہب ميں’ معتدل’ کا مطلب يہ ہے کہ جب کوئی دہشت گردی کی زياده جذباتی حمايت نہيں کرتا ہے يا کم سے کم انصار عباسی يا اوريا مقبول جان جيسا نہيں ہوتا. ‘معتدل’ بذات خود ايک معذرت خواہانہ اصطلاح ہے اور شکست خورده ذہن کے لوگ اس اصطلاح کو بڑے مثبت انسانی وصف کے طور پر استعمال کرتے ہيں

ايک تو ہمارے لوگ ان مُلاؤں سے زياده تنگ آچکے ہيں جو ہر گلی کوچے ميں نفرت، دشمنی، قتل و قتال اور خونريزی کی تبليغ برملا کرتے نظر آتے ہيں اور دوسرا يہ کہ سماجی علوم ميں ان کا مطالعہ ايک ادھ اردو کتاب سے بڑھ کر کچھ نہيں ہوتا اسی وجہ سے وه غامدی برانڈ اسلام کا جلد ہی شيدائی بن جاتے ہيں. غامدی صاحب کی دانشوری اور عمران خان کی سياست صرف ان لوگوں کو اپيل کرسکتی ہے جو اسلام کو ملائيت اور جديديت کے اميزے ميں فالو کرنا چاہتے ہيں. بنيادی معلومات اور تنقيدی شعور کے فقدان ميں جب حسن نثار جيسے لوگ دانشور بن سکتے ہيں توغامدی صاحب جيسے لوگوں کيلئے مذہبی سکالر بننا کوئی مشکل کام نہيں. موجوده دنيا ميں غامدی برانڈ اسلام کی بڑی قيمت بهی ہے. پاکستان کے ايک سابق بيوروکريٹ ڈاکٹر اکبر ايس احمد اسی برانڈ اسلام کی بدولت مغرب ميں ايک بڑی پُر مسرت زندگی گزاررہے ہيں. غامدی اور اکبر ايس احمد دونوں اسلام ميں سائنس، جديديت، جمہوريت، خواتين کے حقوق، قوم پرستی اور روشن خيالی ثابت کرنے کيلئے تاويلات گهڑنے ميں اب اتنے ماہر بن چکے ہيں کہ بيرونی دنيا ميں بهی دونوں کی بڑی خاصی پزيرائی ديکهنے کو ملتی ہے. اکبر ايس احمد کی طرح غامدی بهی طالبان کو پشتون کلچر کی پيداوار سمجهتے ہيں

سماء ٹی وی کے ساتھ ايک حاليہ انٹرويو ميں وزيرستان ميں ۲۳ پوليس اہلکاروں کے کلے گاٹنے کے واقعے اور طالبان کی شريعت پر تبصره کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کہا ہے کہ قبائلی تمدن ميں گلا کاٹنا ايک معمولی بات ہے. قبائلی تمدن ميں انتقام کو بڑی اہميت دی جاتی ہے قبائلی تمدن ميں لوگ چاہتے ہيں کہ ان کی دہشت دوسروں پہ طاری ہوجائے. قيام پاکستان کے بعد قبائلی علاقے کو جديد رياست کا حصہ نہ بننے سے يہ مسئلہ پيدا ہوا ہے

http://www.samaa.tv/programdetail.aspx?v=10006&ID=114&dt=2%2F21%2F2014

http://www.ghamidiji.com/javedahmadghamidi/what-taliban-want-from-pakistan.html

غامدی صاحب کی نظر ميں جو کام ريڈ انڈين اورقديم آسٹریلین قبائل کے ساتھ ہوا وہی فاٹا کے ساتھ بهی اگر ہوتا تو يہ موجوده دہشت گردی ديکهنے کو نہ ملتی . قبائلی علا‎قوں ميں مذہب کی ايک خاص تعبير ہوتی ہے. وہاں پہ سر کاٹنا، لوگوں کو ذبح کرنا اور سنگسار کرنا ايک بہت عام سی بات ہوتی ہے. غامدی صاحب نے خاتون اينکرپرسن کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ ہم اور آپ کو اگر ايک مرغی ذبح کرنی ہو تو ايک تردد محسوس کريں گے اس لئے کہ ہماری پرورش اور تربيت مختلف ہوئی ہے. ليکن ايک سات سالہ قبائلی بچہ بعض اوقات ہم اور آپ کے سامنے ايک آدمی کو ذبح کرينگے ان کو کچھ فرق نہيں پڑے گا، وہاں يہ ايک معمول کی بات ہے، کلچر کا حصہ ہے. غامدی صاحب کے نزديک طالبان باغی ہيں انہوں نے رياست کو چيلنج کيا ہے. ان کے ساتھ معاملہ کرنے کيلئے آپ کو انہيں سمجهنا پڑے گا. افغانستان ميں اگر آپ لوگوں کو لاہور اور کراچی يا لندن اور نيويارک کے لوگ سمجھ کرکےمعاملہ کرينگے تو آپ سمجھ ہی نہيں سکتے کہ آپ کيا کرتے ہيں.

ميں غامدی صاحب کے اس انٹرويو ميں موجود چند تاويلات، مبالغوں اور گمرائيوں کا تجزيہ کرنا چاہوں گا.

غامدی صاحب يہ ثابت کرنا چاہتے ہيں کہ اسلام تو امن ، آشتی اور انسان دوستی کا مذہب ہے. طالبان جو کچھ کرتے ہيں وه ان کے قبائلی تمدن کا حصہ ہے.

وه قبائلی تمدن کی اس يورپی معتصابانہ تشريح پہ يقين رکهتے ہيں جس کے مطابق ٹرائبل کا مطلب تہذيب سے دوری، پسماندگی، قتل و قتال اور بربريت تها. غامدی صاحب تاريخی اور سياسی زاوئيوں پہ غور کرنے کی بجائے قبائلی علاقوں کا ايک معاشرتی اور ثقافتی تجزيہ اس عام معتصبانہ اورينٹلسٹ اور يوروسينٹرک تناظر سے کرنا چاہتے ہيں جونوآبادياتی دور ميں تو بڑا مقبول تها ليکن اب يورپ ميں بهی اس کی نہ صرف کوئی افاديت باقی نہيں رہی ہے بلکہ وہاں ہی پہ اس کے خلاف بڑے موثر تنقيدی تناظربهی ابهر کر سامنے آئے ہيں.

غامدی صاحب ريڈ انڈين اور اسٹرالين قبائل پر بيرونی حملوں کی نہ صرف تعريف کرتے ہيں بلکہ اس کی پيروی کرنے کی تلقين بهی کرتے ہيں.

وه قبائلی کلچر کی تشريح کو جنرلائز کرکے يہ سمجهتے ہيں کہ جہاں پہ بهی کوئی قبائلی معاشره ہوگا وہاں پہ سر کاٹے جائينگے

غامدی صاحب کی نظر ميں قبائلی علاقوں ميں جاری (دیوبندی و سلفی) دہشت گردی ميں رياست کا اس سے بڑھ کر کوئی کردار نہيں کہ اس نے کيوں ابهی تک ان علاقوں کو اپنے باقاعده نظام کا حصہ نہيں بنايا. وه يہ نہيں بتاتے کہ کيا وجہ ہے کہ رياست ابهی تک قبائلی علاقوں کو اپنے باقاعده نظام کا حصہ بنانے سے انکار کرتی ہے؟

غامدی صاحب نے فاٹا ميں ہزاروں کی تعداد ميں موجود ازبک، تاجک، چيچن، عرب اور پنجابی دیوبندی و سلفی دہشت گردوں کا ذکر اس وجہ سے نہيں کيا ہے کہ اس سے پهر ان کے قبائلی تمدن والے مفروضے کو نقصان پہنچتا ہے

غامدی صاحب پشتون کلچر کے بارے ميں کچھ نہيں جانتے. ميں جاننا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ڈيورينڈ لائن کی دونوں طرف موجود قبائلی علاقوں کے کتنے دورے کيے ہيں اور قبائلی تمدن کے حوالے سے جو تاويلات انہوں نے پيش کيے ہيں ان کا کوئی ماخذ ہے بهی؟

غامدی صاحب سر کاٹنا قبائلی تمدن کا ايک حصہ اور ايک عام سی بات سمجهتے ہيں. يہ ايک انتہائی گمراکن بات ہے. ہم جو کہ خود پشتون قبائلی معاشرے کے رہنے والے ہيں بچپن ميں والدين نے بتايا تها کہ سر کو گالی نہيں دينا اس لئے کہ سر کوالله تعالی خود بناتا ہے اور باقی بدن کو فرشتے. ميں نے اپنی زندگی ميں کبهی پورے پشتون وطن ميں طالبان کی دہشت گردی کے واقعات کے علاوه کسی ايسے واقعے کا نہيں سنا ہے جس ميں انسانوں کے سر کاٹے گئے ہوں

سوات جو کہ پاکستان سے پہلے اپنی رياست کا ايک بهرپور تجربہ رکهتا ہے اور اب پاکستان کے باقاعده رياستی نظام کا حصہ بهی ہے، خواندگی کی شرح بهی کافی زياده ہے. غامدی صاحب قبائلی علاقوں اور سوات کے طالبان ميں کتنا فرق محسوس کرتے ہيں؟ طالبان شاہی ميں سر کاٹنے کے واقعات بهی دونوں جگہوں پہ ہوئے ہيں.

غامدی صاحب قبائلی علاقوں ميں انتقام کو کچھ اس طرح کا معاملہ سمجهتے ہيں جس ميں لوگ ايک دوسرے کو قتل کرنے کے بغير کوئی کام ہی نہيں جانتے ہوں گے. غامدی يہ نہيں جانتے کہ وہاں پہ انتقام کا کيا خدوخال اور کيا طريقائے کار ہيں؟ وه اگر غيررياستی معاشروں کے سياسی نظاموں کے بارے ميں کچھ جانتے يا کم از کم افريقی معاشروں کے بارے ميں کچھ پڑهتے تو ان کو انتقام کے معاملے ميں اتنی منفيت کبهی نظر نہيں آتی. انتقام سے بچنے کيلئے پشتون کلچر ميں کشيدگی کو ختم کرنے يا مسائل کو حل کرنے کا جو ميکانيزم ہے غامدی اس کے بار ے ميں کچھ نہيں جانتے. غامدی جوکہ دیوبندی طالبان کو پشتون قبائلی لوگ سمجهتے ہيں ہميں يہ نہيں بتاتے کہ ان طالبان اور رياست کی دشمنی کيا ہے؟ اس رياست نے تو طالبان کا کوئی ايسا نقصان نہيں کيا جس کا طالبان انتقام ليتے ہيں اور ايف سی کے اہلکاروں کو ذبح کرتے ہيں. طالبان قيادت کو تو ڈرون حملوں ميں مار پڑی ہے پاکستانی فوج نے تو ان کو کوئی نقصان نہيں پہنچايا ہے. اس کے علاوه، يہ جو شہروں ميں خودکش حملے اور بم دهماکے ہورہے ہيں يہ کس سے انتقام ليا جارہا ہے؟

غامدی صاحب نے اپنے اس انٹرويو ميں پنجابی کلچر کی بڑی خوب تعريف کی ہے کہ اگران کو ايک مرغی بهی ذبح کرنی ہو تو وه ہچکچائينگے. ليکن يہ جو غيرمسلموں کی بستيوں کی بستياں اجاڑی جاتی ہيں اس کی ہم کيا تشريح کرينگے؟ اقليتوں پہ لوگ کہاں ايک ہجوم کی شکل ميں حملہ آور ہوتے ہيں؟ پنجابی دیوبندی طالبان کون ہيں اور کيسے پيدا ہوئے؟

غامدی صاحب نے اس خطے ميں دہشت گردی کی تمام تاريخ، بين الاقوامی، مذہبی، سياسی اور رياستی وجوہات کو نظر انداز کرکے قبائلی تمدن کو اس لئے ذمہ دار ٹهہرايا ہے کہ اسی ايک طريقے سے پاکستانی اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے. جو کچھ انہوں کہا ہے ايک عرصے سے پنجابی حکمران خصوصاً رانا ثناء الله دیوبندی بهی يہی کچھ فرما رہے ہيں. حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کميٹيوں کو بهی شايد غامدی صاحب نے ہی يہ مشوره ديا ہو کہ طالبان کی شريعت کو “شورش زده علاقے” تک محدود رکها جائے.

غامدی صاحب اگر عمران خان کی پارٹی کے ترجمان ہوتے تو ميں ان پہ ہرگز کچھ نہيں لکهتا. آج ان چند ايک باتوں کو عرض کرنے کی صرف ايک وجہ تهی کہ کچھ ان دوستوں سے ان کا ايک مختصر تعارف کراسکوں جو ان کی کتابيں پڑھ اور ويڈيوز ديکھ کر باقی ملاؤں پر لعنت بهيجتے ہيں

ماخوذ مع معمولی ترمیم از انکار

gh

About the author

SK

4 Comments

Click here to post a comment
  • Mona Naseer’s excellent article except where she misattributes Deobandi LeJ terrorism to Sunnis. Ghamidi’s attribution of beheading to Pashtuns is bad. Attribution of Deobandi terrorism by ASWJ-LeJ to Sunnis is equally bad. #Fact

    MR GHAMIDI SHOW ON PUKHTUN TRIBAL PRACTISES AND MY RESPONSE
    Image

    It was fascinating and disappointing at the same time to see Mr Ghamidi a religious scholar of his calibre trying to answer a political question in his show on Samaa Pakistan TV channel. Mr Ghamidi tried to explain Taliban beheading of 23 Frontier constabulary in the view of tribal culture and its people as primitive and savages, where a 7 years old boy will have no hesitation of beheading another human being .

    Mr Ghamidi tried in his show to explain tribal societies which according to him all over the world are violence prone barbaric, hence throat cutting or beheading is a part of the violence rituals practised by these tribal humanoids.

    He also condemned the Pakistan Govt for keeping Pakistan tribal areas in political, social isolation resulting in society where violence is synonymous with tribal pukhtun culture and is a norm.

    Mr Ghamidi well intentioned explanation of pukhtun tribal culture although goes all politically wrong. And this is I guess what happen if a religious leader is asked to explain a political phenomena with half-baked truth dished out to progressive Muslim all over Pakistan. Or maybe it was an attempt to deflect the blame from the source which lies somewhere in the heart of Pakistan.

    Mr Ghamidi completely forgot in his analysis while responding to one question by the anchor of the show and that was “ how can people behead and kill each other in such manner” Mr Ghamidi justified it that this is part of the tribal culture and has been happening in all primitive societies , but nobody conveniently remembers on the show the fact that those FC beheaded soldiers who were fighting for the state sovereignty against those very same forces , were also from the same tribal culture which Mr Ghamidi justifies and condemns in the same tone.

    The ‘Frontier Corps (FC) are a Federal paramilitary force manned mostly by people from the tribal areas, lest we forget the same area which Mr Ghamidi and the callers equated with violence and beheading .

    Jirga which compromises a major component of tribal justice system, does it condone beheading or prescribe it as form of punishment for any criminal offender? No it does not. At least I have not come across it. I would happily hear from anyone who has seen beheading as official practise of the tribal society. Hundreds of tribal elders were also brutally killed and humiliated in Waziristan, Bajaur, Orakzai and Mohmand agencies, the elders with white beards (speen geeray) were the revered and respected part of the tribal society. . ? Mosques funeral schools ,children women none were spared . Was this a part of tribal culture too?

    A caller in the programme calls the whole society of tribal as mercenaries and paid killers who has been doing killing for years. I think the people sitting and shaping this narrative completely forgo the details that there are at least 3 million people sitting displaced from their homes as IDPs. People who do not wish to be part of that violence, people who are tired of gunpowder, killings and want to have security of lives for themselves and their families. Mr Ghamidi and the anchor did not take the trouble to talk or dissuade the caller that the whole population and society cannot be in one breath declared as mercenaries.

    When the whole society and area was being militarised under the guise of Islamic jihad of 1979, then no voices were heard by calling people from FATA as mercenaries, rather at that time, they were called Nobel savages ready to fight Pakistan and Americanised jihad in Afghanistan .Qabil brothers and children provided or had no choice but to provide human fodder to the jihad on which whole of Pakistan thumped its chest and happily lead the Muslim ulema. An analysis of the economic indicators of tribal areas places them in the fourth world. FATA which comprises of seven political agencies along with FR areas remains Pakistan poorest region, with 3.1 million population which according to unofficial estimate has reached over seven million. Nearly 66 % of the population lives below the poverty line. How did Afghan jihad mercenaries benefited from being the Nobel jihadi. Maybe by letting state establish 1000 debandi madrasah’s which preached jihad and they continued to play the role of jihadi for the state and establishment.

    How do one justify the urban violence in Karachi Pakistan’s largest city, which generates around 70 per cent of national GDP and has been declared the mega violent city in the world according to one major US publication, citing a murder rate of 12.3 per 100,000 residents 25 per cent higher than any other major cities in the world? If violence and beheading is tribal society phenomena then Karachi experienced its deadliest year on record in 2013, with 2,700 casualties, mostly in targeted attacks and we also heard the concept of body bags, which possibly resulted in 40per cent of businesses fleeing the city to avoid growing extortion rackets. However all provincial capitals as well as the national capital suffer from similar problems and threats. So is violence only centric to tribal pukhtun culture? Or are we ready to condemn and berate the culture of people residing in one of the biggest metropolitan city of Pakistan too.

    Taliban which is primarily now only equated with pukhtun and tribal ethnicity, but it is the Punjabi Taliban which drives extremism in the rest of Pakistan and has its strong roots in Punjab. There are approximately 150,000 insurgents belonging to jihadi and fundamentalists organisation active in Punjab province, carrying out their activities in the rest of Pakistan. Quetta Peshawar, Karachi is a major target of violent sectarian groups such as the Lashkar-e-Jhangvi (LeJ), which has its home base in Punjab .The Sunni extremist and southern Punjab-based Lashkar-Jhangvi (LeJ), which was instrumental in the TTP’s formation (now equated with pukhtun and tribal only), continues to be a major player in sectarian violence and minority persecution all over the country.However we chose not to talk about that aspect of violence ,where Ahmadi graves are dug up and Shia are shot on point blank in the civilised cities of Pakistan .

    Pakistan army operation previous and current acknowledges the presence of foreign militant like Uzbek, Chechen and mostly Arab in FATA since more than 15,000 Arabs, Uzbek and Chechen were repatriated to and settled in FATA to fight holy war against the Soviets. So can we assume that instead of being a pukhtun tribal culture, beheading is more of Arab culture and part of their pre Islam and post Islam war ethos? Wasn’t Imam Hussein (ra) head carried on an arch and paraded in the city of Kufa?

    http://monanaseer.wordpress.com/2014/02/24/mr-ghamidi-show-on-pukhtun-tribal-practises-and-my-response/

  • Muslim Unity
    غامدی صاحب نے طالبان کی بربریت اور جہالت کو پختون قبائل کی ثقافت کے نام لگا دیا اور فرمایا کہ ان قبائل کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا جو ریڈ انڈینز کے ساتھ یورپ سے جانے والوں نے کیا، تو آج دیوبندی طالبان کی بربریت دیکھنے کو نہ ملتی،
    انا للہ و انا الیہ راجعون!
    ریڈ انڈینز کے ساتھ جو ظلم ہوا، کسی کا ضمیر کیسے اسکی حمایت کر سکتا ہے؟ ان کی تہذیب انسانوں اور جانوروں سے پیار کرنے والوں کی تہذیب تھی، ان کے ادب سے جو کچھ ترجمہ ہو کر آیا ہے اسکو پڑھا جاۓ تو انکی انسانی عظمت کا اندازہ ہو جاۓ گا!
    یہ نسل کشی اور ظلم یورپ کے قبضہ گروپوں نے کینیڈا میں بھی کیا، آسٹریلیا کے قبائل کے ساتھ بھی، لاطینی امریکا میں بھی اور افریقہ میں بھی، اور آج فلسطین میں آھستہ آھستہ وہی سب ہو رہا ہے_
    یہ گلابی مولوی صاحب پہلے بنی امیہ کی وکالت بھی کر چکے ہیں اور اب یورپی حملہ آوروں کے ہاتھوں ایک کروڑ مظلوم ریڈ انڈینز کے قتل اور امریکا کو یورپی نسل والوں کا ملک بنانے کی وکالت کر رہے ہیں_
    تقسیم کے وقت پنجاب میں جو بربریت ہوئی، وہ کس کے نام لگاؤ گے؟ کیا پنجابیوں کو بھی ریڈ انڈینز کی طرح ظلم کی آگ کا نشانہ بنانے کی تجویز دو گے؟ گلے کاٹنے میں تو کراچی کے دیوبندی بھی ملوث ہیں، پنجاب اور بلوچستان کے بھی!
    سیدھی بات کیوں نہیں کرتے کہ فوج نے اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے سفاک دیوبندی لشکر بناۓ ہیں جو معاشرے میں دہشت پھیلا کر یہ سمجھتے ہیں اس طرح انھیں حکومت مل جاۓگی لیکن فوج انہیں انکی حد میں رکھ کر استعمال کرتی ہے

    https://www.facebook.com/photo.php?fbid=683663855005061

  • Demonising Pakhtuns

    Farooq Sulehria
    Tuesday, February 25, 2014
    From Print Edition

    67 42 16 1

    Demonising PakhtunsIn a recent TV interview, an otherwise sober Allama Javed Ahmad Ghamidi disappointed many by attributing the barbaric beheading of 23 FC personnel by the Taliban to Pakhtun culture.

    While it is the intellectual poverty of our talk shows that they always seek a religious opinion on every topic, there is also a collective contempt for expertise when ulema on TV consider themselves qualified to pass fatwas on matters as varied as science and Veena Malik’s tattooed arms.

    Asked to judge the Taliban’s act of beheadings in the light of the Shariah, Ghamidi Sahib could not restrict himself to the realm of theology. He shot himself in the foot by venturing into an unchartered territory of culture and anthropology.

    Ghamidi, who is known for his attempts to deploy humanist interpretations of the sacred texts, to counter extremists’ literal reading of the scriptures, this time decided to anchor his argument to culture.

    A poor strategy indeed. But my purpose here is not to counter Allama Ghamidi’s views on Pakhtun tribal culture. I want to highlight the general tendency in ‘metropolitan’ Pakistan to demonise, ‘other’, and demean the Pakhtuns and their culture.

    For instance, the clichéd ‘idiot’ in our jokes is almost always either a Pathan or a Sardar. Likewise, in our films and TV dramas, a Pathan character is either a chowkidar or a bumpkin. When glorified on screen, a Pakhtun is presented either as a fanatic patriot or zealous Muslim ready to die/kill for his country/religion. From a ‘metropolitan’ viewpoint, music and poetry, intellect and creativity, civilisation and culture cease to exist west of the Attock Bridge.

    Without glorifying the tribal traditions and archaic traditions that are part of Pakhtun culture (hardly unique if juxtaposed with other cultures in the country), I want to pose the following questions to desi ‘orientalists’.

    How will you reconcile the mass movement spearheaded by Bacha Khan, scornfully dismissed in Punjab as Frontier Gandhi, which upheld the Gandhian ideals and practice of non-violence? Not only was the Khudai Khidmatgar movement, founded by Bacha Khan, non violent, it was also anti-colonial and committed to modern democratic values.

    In fact, while Mahatma Gandhi would conveniently jettison Ahimsa ideals, Bacha Khan and his loyal Khudai Khidmatgars courageously embraced martyrdom instead of betraying the Ahimsa philosophy. Do our anthropologists and metropolitan culture theorists know something about the martyrs of Qissa Khawani?

    Bacha Khan’s movement was not merely non-violent, it was also secular to the core. Even when an enlightened Sindhi feudal lord founded a ‘socialist’ PPP, in collaboration with some progressive Punjabis, one of the four basic principles was: ‘Islam is our faith’.

    Remember the 1978 ‘Saur Revolution’ in Afghanistan? True, Afghanistan is not an exclusively a Pakhtun land. They do not even constitute the majority. However, modern Afghanistan has been effectively dominated by them.

    It was in the tribalised, Pakhtun-dominated Afghanistan that saw a revolution for the last time carried out in the name of Karl Marx. Both factions, Parcham and Khalaq, of the People’s Democratic Party of Afghanistan that led the revolution and ruled for the next 14 years, were spearheaded and dominated by Pakhtuns as was the Maoist opposition organised in the Afghan Liberation Organisation.

    The fact is that beheadings are as alien to Pakhtun culture, even in its tribal form, as reason and knowledge are to our ‘ulema’ and metropolitan chauvinists. If one is really interested in tracing the roots of Taliban-style beheadings, I have a tip. Take a trip to Langley via Aabpara and Riyadh.

    The writer is a freelance contributor. Email: mfsulehria@ hotmail.com

    http://www.thenews.com.pk/Todays-News-9-234738-Demonising-Pakhtuns