Original Articles Urdu Articles

ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے ساتھ ایک نشست – خلافت و ملوکیت سے متعلق چند اہم سوالات

7

 

بردار خرم زکی کے ساتھ  2005 میں ہونے والی ایک نشست میں ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم سے خلافت و ملوکیت ، خلیفہ کے انتخاب اور بعیت کے طریقوں پر بحث کی گیی جس کے جواب میں ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے تاریخی حوالوں سے کی مبہم جوابات دیے جن کو تاریخ کا ایک ادنا طالب علم ہونے کے ناطے میں مبہم اور غیر تسلی بخش ہی کہ سکتا ہوں – چند سوالات اور ان کے جوابات پیش خدمات ہیں اب یہ پڑھنے والوں پر ہے کہ وہ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں

قرآن میں انبیاء کرام اور ان کے خلفا سے متعلق سوال کے جواب پر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا کہنا تھا کے نبی اور خلیفہ بنانا الله کا اختیار ہے – اور یہ بات نبی خود الله کے حکم سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے خلیفہ کون ہونگے – لیکن اسلام میں رسول (ص) نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا ، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا کہنا تھا کہ خلافت کا فیصلہ کرنے کے لئے انصار نے جب اکٹھ کیا تھا تو مہاجرین کی طرف سے حضرت ابو بکر (ر) اور حضرت عمر (ر) نے انصار کو حضور (س) کی حدیث مبارکہ سنائی کہ خلافت صرف اور صرف قریش کا حق ہے اور خلافت قریش سے باہر نہیں جا سکتی جس پر حضرت عمر (ر) نے ہاتھ بڑھا کر حضرت ابو بکر (ر) کی بیعت کر لی جس کے بعد باقی حضرت نے ان کی پیروی کی سواے حضرت سعد ابن عبادہ (ر) کے – جب کہ بنی ہاشم اور حضور (ص) کے قریبی رشتےدار اس وقت حضور (ص)  کی تہجیز و تدفین میں مصروف تھے

خلافت اور خلیفہ کے انتخاب کے طریقے سے متعلق کے گیے سوال پر مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کا کہنا تھا کہ حضرت ابو بکر (ر) نے حضرت عمر (ر) کو نامزد کیا تھا اور اس کے بعد حضرت عمر (ر) نے حضرت عثمان (ر) سمیت عشرہ مبشرا اصحاب پر مشتمل ایک شوریٰ بنا دی تھی جس نے خلافت کے اگلے حقدار کا فیصلہ کرنا تھا جس میں حضرت عبدلرحمان بن عوف (ر) نے رسول (ص) اور ابو بکر و عمر (ر) کی سیرت پر عمل کرنے کی شرط رکھی جس پر حضرت علی (ک) نے صرف رسول (ص) کی سیرت کو قابل عمل قرار دے کر اس پر عمل کرنے کا اقرار کیا جب کہ حضرت عثمان نے ابو بکر و عمر (ر) کی سیرت پر عمل کرنے کا اقرار کیا جس پر عبدل رحمان بن عوف (ر) نے حضرت عثمان کی بیعت کر لی جس پر وہ خلیفہ منتخب ہوگیے

  رسول (ص) کی بارہ خلفا سے متعلق حدیث پر ڈاکٹر اسرار کا کہنا تھا کہ وہ بارہ خلفا قریشی ہی تھے جن میں خلفا راشدین اور حضرت امام حسن (ع) بھی شامل تھے – جب کہ معاویہ اور یزید ان بارہ خلفا میں شامل نہیں ہیں – جب ڈاکٹر اسرار سے یہ پوچھا گیا کہ اس طرح تو قریشی خلفا کی تعداد بارہ سے زیادہ ہو جاتی ہے جس میں بنو امیہ اور بنی عباس کے حاکموں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد تیس سے بھی زیادہ بنتی ہے تو ڈاکٹر اسرار اس کا کچھ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ شیعہ مسلمانوں کے ہاں جن بارہ اشخاص کو امام کہا جاتا ہے وہ نہ صرف بارہ ہیں بلکہ ان کے بارے میں روایات بھی ٹھوس اور مضبوط ہیں تو ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے اس سوال کا بھی کوئی اطمینان بخش جواب نا دیا

جب ڈاکٹر اسرار سے خلیفہ کے انتخاب کے مختلف طریقوں کے موازنے کا پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں ہمارے پاس خلیفہ چننے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے اور اس سلسلے میں قرآن و حدیث سے کوئی رہنمائی کی صورت بھی موجود نہیں ہے – جس پر بحث کا اختتام ان الفاظ پر کیا گیا کہ موجودہ صورت حال میں مسلمانوں کے پاس خلیفہ کے انتخاب کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے –

مشکل سوالات پر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم سوال کرنے والے حضرت سے برہم ہوگیے اور انھیں شیعہ مسلمانوں کا ایجنٹ قرار دے دیا جس پر ان سے ایک اور سوال کیا گیا کہ کیا وہ شیعہ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو کافی سوچ بچار کے بعد ڈاکٹر اسرار احمد نے فرمایا کہ میں شیعہ کو کافر نہیں سمجھتا –