Original Articles Urdu Articles

فیض امن میلہ – بلوچ اور شیعہ نسل کشی پر کوئی قرداد پاس نہ ہوسکی

 

نوٹ:عامر حسینی نے اکثر لیفٹ، فیک لبرلز اور سیکولر حلقوں کی جانب سے ترقی پسندی،روشن خیالی اور سوشلزم کے نام پرکئےجانے والے پروگراموں میں پاکستان کے زمینی حقائق سے چشم پوشی کرنے،خاص طور پر شیعہ ،بریلوی،احمدی ،ہندؤ اور عیسائی جیسی مذھبی برادریوں،بلوچ جیسی قوم کی نسل کشی ،ان پر ریاستی اور غیر ریاستی جبر کے تذکرے اور دیوبندی خارجی تکفیری دھشت گردوں کی شناخت بیان کرنے سے گریز جیسے پہلو پر اپنے اس مضمون میں نظر ڈالی ہے اور بہت ہی کارآمد سوال اٹھائے ہیں

تعمیر پاکستان ویب سائٹ پاکستان کی اربن چیٹرنگ کلاس ،فیک لبرلز،جعلی سیکولر دانشوروں اور نام نہاد مارکسی ٹولے کی موقعہ پرستی اور مجرمانہ غفلت کو پہلے بھی بے نقاب کرتی رہی ہے ،یہ مضمون اس کے موقف کی تائید کرتا ہے(محمد بن ابی بکر مدیر تعمیر پاکستان ویب سائٹ)

عوامی ورکرز پارٹی کے ایک مرکزی رہنماء فاروق طارق نے اپنی وال پر لکھا ہے

One of the best Faiz Aman Mela; for over seven hours, it went on uninterrupted, with over 5000 present; one of largest progressive gathering in Lahore, it was packed all time, with prominent poets as artists of Pakistan. 
Faiz Family present all time, 
Our efforts brought good results. Awami Workers Party was able to do what a Left party should do, promoting progressive culture with a message of equality and socialism. Trade unionists came in processions.
Will share some pictures later when receive, from our friends, Congratulation to all team member of Faiz Aman Mela Committee

ایک اور عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء طارق فتح نے لکھا کہ

“اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا اس الزام کی نفی ہے کہ فیض اشرافیہ کے شاعر تھے”

مجھے خوشی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ فیض امن میلہ میں شریک ہوئے اور ایک جلوس بھی نکالا گیا جس میں ٹریڈ یونینز بھی شریک ہوئیں

فاروق طارق نے لکھا کہ عوامی ورکرز پارٹی نے اور اس میلے کے دیگر منتظمین نے یہ سب کوشش سوشلزم،مساوات اور ترقی پسندانہ کلچر کو فروغ دینے کے لیے کی تھی اور ان کی کوششوں کا بڑا رسپانس ملا

میرے ذھن میں یہ سوال اٹھا کہ کیا اس فیض میلے کے انعقاد کی جگہ پر کہیں بلوچ اور شیعہ کی نسل کشی ،اس ملک کی سنّی بریلوی ،ہندؤ،احمدی کرسچن اور ديگر مظلوم مذھبی و نسلی برادریوں پر ہونے والے مذھبی و نسلی جبر کے خلاف شعور بیدار کرنے والے پینا فلیکس،بینرز،پوسٹرز آویزاں کئے گئے تھے؟

کیا فیض امن میلے میں کوئی ایسا پلے پیش کیا گیا جس میں ملک کے اندر شیعہ نسل کشی کی زمہ دار دیوبندی طالبانی خارجی تکفیری فسطائی آئیڈیالوجی اور اس کے حاملین کے خلاف شعور کی بیداری کا پیغام دیا گیا ہو

کیا اس فیض امن میلے میں کسی نے ریاستی دھشت گردی،خفیہ ایجنسیوں کی ماورائے عدالت و ماورائے قانوں لوگوں کو اٹھانے،ان کو مارنے اور پھر پھینک دینے کے عمل پر کسی آرٹسٹ،کسی دانشور ،کسی سیاسی کارکن نے آواز اٹھائی؟

کیا جو جلوس نکلا اس میں بلوچ،شیعہ،سنّی بریلوی،ہندؤ،احمدی ،عیسائیوں کی مذھبی آزادیوں کو دھشت گردی سے سلب کرنے اور محدود کرنے اور پنجاب حکومت کی جانب سے ان مذھبی آزادیوں کو سلب کرنے والی سپاہ صحابہ پاکستان /اہل سنت والجماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا؟

کیا بلوچ مسنگ پرسنز کی بازیابی کے مطالبے کو اس امن میلے میں اولین جگہ دی گئی ؟

کیا پاکستان کی مذھبی برادریوں کی مذھبی اور ثقافتی آزادیوں کو سلب کرنے کی مربوط مہم کے بارے میں کوئی بیداری پیدا کرنے والا پیغام دیا گیا ؟

یہ سوالات ایسے ہیں جن کے جوابات نفی میں ہی ملے اور ظاہر سی بات ہے یہ سوالات اس لیے بھی اٹھائے گئے کہ جو لوگ فیض امن میلہ میں اکٹھے ہوئے ان کا دعوی ہے کہ وہ اس میں استحصال،جبر کے خلاف اور انتہا پسندی و دھشت گردی کے خلاف بائیں بازو کی سب سے بڑی آواز ہیں

لیکن کیا وجہ ہے کہ فاروق طارق نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اور ان کی پارٹی بلوچ مسنگ پرسنز کے لیے لانگ مارچ کرنے والے قافلے کا استقبال پنجاب-بلوچستان کی سرحد پر کریں گے لیکن وہ تو کہیں نظر نہیں آئے

مجھے مریم نام کی ایک لڑکی کا اسلام آباد سے فون آیا جب قافلہ چیچہ وطنی سے کراس کرکے ساہیوال کی طرف رواں دواں تھا اور ایجنسیوں کے لوگ اس قافلے کے شرکاء کو ڈرا دھمکارہے تھے کیونکہ اب اس قافلے کے ساتھ کوئی سفر نہیں کررہا تھا

اس لڑکی نے مجھے کہا کہ لیفٹ کا کوئی گروپ سوائے انقلابی سوشلسٹ،مزدور کسان پارٹی اور این ایس ایف کے چند لڑکوں کے ان کے استقبال کے لیے تیاری نہیں کررہا اور فاروق طارق ان کا فون نہیں اٹھارہے

میں نے یہ میسج فاروق طارق اور عوامی ورکرز پارٹی کی لیڈرشپ کو ارسال کیا لیکن وہاں خاموشی رہی

اس سے قبل جب شیعہ کے قتل عام اور ان کی نسل کشی کے خلاف دھرنے،اور پورے ملک میں مظاہرے ہورہے تھے تو بھی عوامی ورکرز پارٹی سمیت لیفٹ کے اکثر گروپوں نے ان مظاہروں میں نہ تو شرکت کی نہ ہی دھرنے دئے

یہ اکثر لبرلز،نام نہاد ترقی پسندوں کی طرح شیعہ ،بریلوی ،بلوچ نسل کشی پر سردمہری کا آظہار کرتے رہے اور یہاں تک کہ یہ نام لیکر دیوبندی خارجی تکفیری دھشت گردوں کی مذمت کرنے کو تیار نہیں تھے

میرے لیے فاروق طارق سمیت بائيں بازو کے ان جغادریوں کے فیض امن میلے کو بڑی کامیابی گرداننے کے بیانات اور اس پر مبارکبادیں وصول کرنے کی روش اس لیے بھی حیران کن ہے کہ ابھی کراچی ادبی میلے پر فاروق سلہریا جوکہ فاروق طارق کا دایاں بازو ہیں کا مضمون دی نیوذ انٹرنیشنل میں شایع ہوا تھا جس میں انہوں نے ان ادبی میلوں کو سرمایہ دارانہ کلچرل آپریٹس کا حصّہ قرار دیتے ہوئے یہ تنقید کی تھی کہ انہوں فیض احمد فیض کو ایک مارکیٹ پروڈکٹ بنا ڈالا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ معروف کالم نگار عائشہ صدیقہ نے اس کالم کو اپنی وال پر اس تبصرے کے ساتھ شئیر کیا تھا کہ

“آہ ! فیض کی بیٹیوں نے فیض کو ملٹی نیشنل کمپنی کے براںڈ میں بدل ڈالا ہے”

جب اس طرح کے امن میلوں میں بلوچ ،شیعہ جیسی مظلوم اقوام اور مذھبی برادریوں کی نسل کشی ،ان پر ریاستی ،غیر ریاستی دھشت گردی اور جبر بارے کوئی بات ہی نہیں ہوگی اور دھشت گردی کے مرتکبین کی شناخت کو زیر بحث ہی نہیں لایا جائے گا تو ان کی افادیت کیا رہ جائے گی

فیض امن میلہ ضیا الحق کے دور آمریت میں شروع ہوا تو یہ میلہ اس وقت مذھبی و نسلی و قومی جبر کا شکار گروہوں ،انسانی حقوق کی پامالی ،آمریت کے نفاز کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کی علامت میں بدل گیا اور اس نے بحالی جمہوریت کی تحریک کو حوصلہ دیا

فیض امن میلہ کا آج کے ماحول میں انعقاد اسی وقت موثر اور مفید ہوسکتا ہے جب اس میلے کو مذھبی ور نسلی جبر کا شکار گروہوں کے نام کیا جائے ،اس میلے میں سرمایہ داری کے اس سامراجی ترقی کےماڈل کی کھل کر مذمت کی جائے جس کے متاثر ماہی گیر،مزارعے،کچی آبادیوں ميں رہنے والے اور عام شہری ہیں،جس میں نجکاری کا دشمن ایجنڈا رد کرنے کی بات کی جائے

اس میلے کے ثقافتی شو اور پروگرام بہت واضح طور پر شعیہ نسل کشی ،بلوچ نسل کشی ،سامراجی سرمایہ دارانہ ترقی کے پروجیکٹس کے خلاف شعور اور بیداری پیدا کرنے والے ہوں

یہ سب جہتیں تو ایسے میلوں اور پروگراموں میں یکسر نظرانداز کی جارہی ہیں تو پھر ان کو یہ کہنا کہ اس سے سوشلزم،برابری اور ترقی پسندی کا کلچر پروان جڑھے گا ایک بے معنی اور کھوکھلا دعوی لگتا ہے