Featured Original Articles Urdu Articles

نواز حکومت نے پاکستان کی خارجہ و سیکورٹی پالیسیوں کو سعودیہ عرب کا تابع کردیا – تجزیہ تعمیر پاکستان

سوموار کی شام پاکستان اور سعودیہ عرب نے علاقائی ایشوز پر مشترکہ موقف اختیار کرنے کا اعلان کیا 

سعودی وزیر دفاع اور ولی عهد پرنس سلیمان بن عبدالعزیز کے پاکستان کے تین روزہ دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا 
اس مشترکہ اعلامیے میں جو حیران کن انکشاف ہے وہ پاکستان کا شام کے اندر شامی حکومت اور باغیوں کےدرمیان جاری سول وار پر موقف کی تبدیلی ہے
اس اعلامیے میں بشار الاسد کو فوری طور پر عبوری حکومت قائم کرنے کو کہاگیا ہے اور بشارالاسد سے اقتدار چهوڑنے کو کہا گیا ہے 
جبکہ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ وہ شام کے ایشو پر غیر جانبدار ہے اور وہ شامی تنازعے کو بشار الاسد و شامی حزب اختلاف کو مل جل کر حل کرنے پر زور دیتا رہا ہے 
مشترکہ اعلامیے میں شام میں غیر ملکی فوجی اڈوں کو ختم کرنے کا مطالبہ بهی کیا گیا 
اس مطالبے کا براہ راست اثر روس ایران پر پڑتا ہے روس کا ایک فوجی اڈا شام میں موجود ہے
جبکہ پاکستان کا یہ موقف روس چین کی پالیسی کے بهی خلاف ہے 
شام پر پاکستان کی پالیسی میں بنیادی بدلاؤ آنے سے ظاہر ہورہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کی تشکیل میں سعودیہ عرب کا کردار اہمیت کا حامل ہوتا جارہا 
مشترکہ اعلامیہ میں دو طرفہ دفاعی تعاون کازکر موجود ہے لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی سعودیہ عرب کے ساته پاکستان کے دفاعی تعاون کی تفصیلات کو پردہ اخفا میں رکهے جانے کی پالیسی بہت پرانی ہے
سعودی ولی عہد نے پاکستان کے جوائنٹ  چیفس آف سٹاف جنرل راشد محمود ،چیف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر عسکری عهدے داروں سے طویل ملاقاتیں کیں لیکن ان ملاقاتوں کی تفصیل کو چهپایا جارہاہے

پاکستانی مین سٹریم میڈیا میں اردو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے پاکستان کے شام تنازعے پرموقف میں تبدیلی جیسی اہم خبر کو سنسر کی نظر کرڈالا جبکہ ڈان نے اس خبر کی اہمیت کے برعکس اعلامیے بارے خبر کو شایع کرتے ہوئے اعلامیے بارے سرخی میں اس کا زکر نہ کیا 
سعودیہ عرب کے ولی عهد کی آمد پر پاکستانی میڈیا نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی سرحد کے قریب واقع کنٹر صوبہ افغانستان میں پانچ هزار دیوبندی طالبان کی تربیت پر خرچ کرنے اور بلوچستان میں ایرانی سرحد کے قریب  دیوبندی دهشت گردوں کی سرپرستی کی خبروں کا بهی بلیک آوٹ کیا 
پاکستان کی موجوده حکومت سعودیہ عرب  کی  گرتی ساکه کو بدلتے عالمی تناظر میں سنبهالنے کی کوشش کررہی ہے

پاکستان میں ریاست ،حکومت اور مین سٹریم میڈیا کی کوشش یہ ہے کہ سعودیہ عرب اور پاکستان کی موجودہ سٹریٹجک شراکت داری کی فرقہ وارانہ جہت کو نمایاں ہونے سے روکا جائے اور پاکستان اور سعودیہ عرب کے درمیان علاقائی ایشوز پر جو ہم آہنگی بڑھ رہی ہے اس میں چھپے ہوئے خدشات کو سامنے آنے سے روکا جائے

اردو اخبارات اور ٹی وی چینلز میں آنے والے فیچرز،کالم ،تجزئے اور خبروں کا اگر اس حوالے سے جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ پاکستان اور سعودیہ عرب کی سٹریٹجک پارٹنر شپ کی فرقہ وارانہ جہت اور اس حوالے سے خطے میں دیوبندی خارجی تکفیری دھشت گردی کے پھیلاؤ کا جو خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اسے مغربی پروپیگنڈا اور بیرونی دشمن کی سازش قرار دیکر بے اثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اور عسکری قیادت مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا میں سعودیہ عرب کی خارجہ پالیسی کی پیروی کرنے اور سعودیہ عرب کو اس حوالے سے درکار لاجسٹک سپورٹ دینے پر رضامندی ظاہر کرچکی ہے

سعودیہ عرب کی مرضی اور منشاء کو پاکستان کی خارجہ و دفاعی پالیسی میں مرکزی حثیت حاصل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان مڈل ایسٹ میں خاص طور پر اور جنوبی ایشیا میں عمومی طور پر سعودیہ عرب کے سٹریٹجک مفادات کے حصول میں ہرممکن مدد فراہم کرے گا

سعودیہ عرب کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ ایران کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے اور اس کے لیے مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا میں وہ سلفی اور دیوبندی تکفیری خارجی دھشت گردوں کو ایک مضبوط پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کو پہلا آپشن قرار دیتا ہے

پاکستان ایسے سلفی اور دیوبندی دھشت گردوں کی گوریلا تربیت میں سعودیہ عرب کا ہاتھ بٹاسکتا ہے

سعودیہ عرب نے زرداری حکومت کو بھی کہا تھا کہ وہ شام میں مداخلت کے لیے اسے سریع الحرکت باغی گوریلا فوج کی تربیت کے لیے فوجی انسٹرکٹر فراہم کرے لیکن زرداری حکومت نے ایسا کرنے سے معذرت کرلی تھی لیکن مسلم لیگ نواز کی حکومت ایسا کرنے پر رضامند نظر آتی ہے

دیوبندی طالبان ،لشکر جھنگوی اور دیگر پاکستانی بیسڈ گوریلے سعودی عرب کے لیے ایران کے خلاف ایک مضبوط گوریلا فورس ثابت ہوسکتے ہیں اگر پاکستان سعودیہ عرب کا ساتھ دینے پر تیار ہو جبکہ ان میں سے بعض گروپوں کے سعودیہ عرب سے پہلے سے تعلقات کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے

سعودیہ عرب اور پاکستان کی موجودہ سٹریٹجک شراکت داری پاکستان ،انڈیا،بنگلہ دیش ،ایران ،افغانستان میں بسنے والی شعیہ،بریلوی،احمدی ،ہندؤ ،عیسائی مذھبی برادریوں کے لیے سخت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ان مذھبی برادریوں کے خلاف کام کرنے والے تکفیری و خارجی سلفی و دیوبندی گروپس مزید طاقت پکڑ کر ان مذھبی برادریوں کی نسل کشی کی مہم مزید پھیلا سکتے ہیں

یاد رہے کہ سعودیہ عرب پاکستان کے اندر ایسے دیوبندی و سلفی مدارس کی مالیاتی اور لاجسٹک مدد کررہا ہے جو پاکستان میں بسنے والی غیر سلفی و دیوبندی مذھبی برادریوں کے خلاف انتہا پسندانہ اور ان کے خلاف تشدد کو فروغ دینے والے خیالات کو پھیلانے میں مصروف ہیں

تحریک طالبان پاکستان ،سپاہ صحابہ پاکستان ،لشکر جھنگوی ،جیش محمد جیسی دھشت گرد تنظیموں کو ںطریاتی اور فکری رہنمائی فراہم کرنے والا دیوبندی مدرسہ جامعہ بنوریہ کے مولویوں بشمول مفتی نعیم کا سعودیہ عرب کے ساتھ بہت گہرا تعلق اور رشتہ ہے اور یہ مدرسہ مرکز ہے تحریک طالبان پاکستان ،لشکر جھنگوی جیسے دھشت گردوں کی ساکھ بنانے کا

اسی طرح سے سعودیہ عرب جماعت اہلحدیث ،جماعۃ الدعوۃ جیسی سلفی وہابی تنظیموں کو بھی مدد دے رہا ہے

پاکستان میں تکفیری اور خارجی آئیڈیالوجی کو فروغ دینے میں سعودی عرب کی امداد سے قائم ہونے والے مدارس و مساجد کا بہت بڑا ہاتھ ہے

اس تکفیری و خارجی آئیڈیالوجی کے دیوبندی مکتبہ فکر میں دخول اور غلبے میں سعودی عرب کا بہت بڑا ہاتھ ہے

پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ ،سول بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ میں سعودی عرب کا اثرورسوخ اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ سعودی عرب کے سفیر کا کردار بعض تجزیہ نگاروں کے سعودی عرب کے وائسرائے کا نظر آنے لگا ہے جبکہ پاکستان سعودیہ عرب کی ایک کالونی نظرآتا ہے

سعودیہ عرب نے پاکستان سے سعودیہ جانے والی ورکنگ فورس کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہوا ہے اور وہاں پر آزادانہ کام کرنے کی آزادی سے جو محروم رکھا گیا ہے اس پر پاکستان کی ریاست اور حکومت نے کبھی سوال نہیں اٹھایا

سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد پر پاکستانی ریاست نے کسی ایک موقعہ پر بھی سعودیہ عرب میں قید ہزاروں پاکستانیوں کی رہائی کا ایشو نہیں اٹھایا اور سعودی سفارت خانے نے پاکستان کی اہم فوجی ،حکومتی ،سیاسی شخصیات کے اعزاز میں جو عیشائیہ رکھا اس میں بھی کسی سیاسی جماعت کے نمائندے نے سعودیہ عرب میں قید پاکستانی شہریوں کی حراست اور ان کی ملک بدری کے خدشے بارے کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا

ادھر یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستانی حکومت ایک لاکھ ایکٹر زرعی رقبہ سعودیہ عرب کے حوالے کرنے کا منصوبہ بناچکی ہے اور سعودیہ عرب پاکستان میں خاص طور پر سرائیکی بیلٹ ،بلوچستان اور سندھ میں زرعی رقبہ حاصل کرکے ایک بہت بڑا فوڈ زون بنانا چاہتا ہے جہاں یہ سعودیہ عرب کی غذائی ضروریات پوری کرنے کا منصوبہ عمل میں لاسکے

سعودیہ عرب اور پاکستان کی مجوزہ سٹریٹجک پارٹنرشپ اور اس کے مضمرات بارے پاکستان کی بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں جیسے سنٹر لیفٹ پارٹی پی پی پی،اے این پی اور سنٹر رائٹ پارٹی ایم کیو ایم ،سیکولر قوم پرست جماعتوں کی جانب سے کوئی مخالفت سامنے دیکھنے کو نہیں ملی

حیران کن طور پر تکفیری خارجی دھشت گردی کا شکار بریلوی ،شیعہ کی مذھبی سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ نے بھی اس مسئلے پر چپ تان رکھی ہے جس سے پاک-سعودی سٹریٹجک شراکت داری کے ممکنہ متاثرین میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے کہ ان کی آواز بننے والا کوئی ںظر نہیں آتا

                                                                              

About the author

Muhammad Bin Abi Bakar

6 Comments

Click here to post a comment
  • Pakistani Government has subordinated its foreign and security policies to Saudi Arabia
    by Muhammad Bin Abi Bakar
    On Monday Pakistan and Saudi Arabia announced to have similar views on regional Issues.
    On last day of visit of Crown Prince of Saudi Arabia Suleman bin Abdulaziz Pakistan and Saudi Arabia issued joint statement.
    We find in that joint statement a surprising revelation made by Pakistan that Pakistan has changed its stance on Syria.
    In joint statement Pakistan has asked Bashar-ul-Asad regime to quit and set up provisional transnational government.
    Before this statement Pakistan always remained neutral on Syria and called it internal issue of Syria and stressed on such solution which is set by Syrian government and rebellion opposition mutually.
    But in joint statement issued on Monday in presence of Crown prince and Pakistani Prime Minister first time Pakistan demanded to abolish all foreign military bases in Syria.
    Such demand of withdrawal of military bases directly affected interest of Russia which has a military base in Syria.
    Position of Pakistan on Syria described in joint statement is against the position of China,Russia and Iran also on Syria.
    This position shows that Saudi Arabia,s position on regional issues now is playing central role in security and foreign policies of Pakistan.
    In joint statement it has been also described the growing mutual cooperation between Saudi Arabia and Pakistan in defense affairs without mention of any detail of this cooperation.And it is ol tradition of both not to inform defense cooperation of both countries.
    Saudi Arabian crown prince met Pakistani military leadership including Army chief,D.G I.S.I and other military officials and these meetings prolonged for many hours but no detail was provided by I.S.P.R about nature of talk during these meetings.
    Pakistani main stream media particularly Urdu print and electronic media censored the important news about change in position of Pakistan on Syria.
    Prominent Pakistan based English newspaper daily Dawn did not mention in headline about this change.
    Pakistani main stream media killed the news of patronizing of Saudi Arabia of 5000 deobandi takfiri kharji militants in kunar a province of Afghanistan along side of Pakistan border.
    While Pakistani media blacked out the news of financing deobandi terrorists in Baluchistan who are involved in terrorism against Iranian border guards and people in Iranian Baluchistan along side of Pakistani border.
    Pakistani government is trying to revive losing position of Saudi Arabia in middle East due to changing in strategy of international power players in Middle East particularly toward Iran.
    Pakistani state,government and main stream media all are trying to hide sectarian dimension of current developing strategic partnership of Saudi Arabia and Pakistan.
    Pakistani government is trying to hide those reservations and possible threats can come on surface due such partner ship .
    If we analyzed fetures,columns,news,analysis and news on this strategic partner ship of Saudi Arab and Pakistan then we get one common thing which is that all called expression of danger of expansion of deobandi kharji takfri terrorism and sectarian dimension of this partner ship as western propaganda and conspiracy of foreign enemy.
    Reality is that present government of Pakistan has agreed to follow foreign and security policy of Saudi Arabia and ready to provide logistic support for this purpose.
    Centrality of Saudi Arabia in foreign and security policy of Pakistan means Pakistan will provide every possible help Saudi Arabia in getting of strategic interests in south asia generally and in middle east particularly.

    Saudi Arabia,s first priority is to encircle Iran and for this purpose Saudi Arabia want to use deobandi terrorists organizations as proxy against Iran.
    Pakistan Military and intelligence agencies have vast experience of training such guerrilla so called Jihadist terrorists.
    Saudi Arabia had requested former Government of Zardari to allow Pakistan Army to provide instructors for training of rapid rebellion guerilla army for intervention in Syria but Zaradari regime did not allow but Nawaz government is ready to do so.
    If Pakistan decided to cooperate Saudi Arabia in training of so called jihadist guerrilla force using as proxy against Iran then such jihadist guerrilla force can be proved very dangerous for Iran.Already many Pakistani deobandi jihadist sectarian terrorist groups has strong links with Saudi Arabia.
    Present nature of strategic partnership between Pakistan and Saudi Arabia can be proved disastrous for Shia,Sufi Sunni,Ahmadi,Hindus,Christians living in South Asia including Pakistan,Iran,Afghanistan,Bangladeshand India as in result of using deobandi takfiri terrorists as proxy these terrorist will expand their campaign of genocide of these communities mentioned above.
    It is noteworthy that Saudi Arabia is financing such religious seminaries and mosques of deobandis and sulfis which are involved in expansion of hate and violence against non-sulfi and non deobandi religious communities.
    Jamia Banuria a important deobandi religious seminary in Karachi which provide ideological guidance to deobandi terrorist organizations has deep links with Saudi Arabia.
    Saudi Arabia also financing Jamat-e-Ahl-e-Hadees and Jamat-ud-dawa.
    It is fact that seminaries and mosques financed by Saudi Arabia are playing great and main role in expanding takfri and khargi ideology.
    Entrance and domination of takfiri kharji ideology among deobandi segments is due to influence of Saudi Arabia in Deobandi people.
    Due to extraordinary influence of Saudi Arabia on military establishment,civil officers and political ruling elite of Pakistan some analyst call Saudi Ambassador Viceroy of Pakistan and Pakistan as a colony of Saudi Arabia.

  • When ever there is an influx in Saudi dignitaries, a tragedy occur in Pakistan. I pray to Allah, this time tragedy comes on Sharif family.

  • ya alah ka ghar sa aya ha is waja sa is izat ha dunya ma aor musalman ka arbi ka kalma ha jis ka waja sa ya awal musalmam ha shukar ganja nawaz sharip na koi sai kam kari