Featured Original Articles Urdu Articles

پشاور: اہل سنت بریلوی پیر اسرار کا خاندان دیوبندی دھشت گردوں نے ختم کرڈالا

پشاور کے نواحی علاقے شامبو خیل میں میں اہل سنت بریلوی سے تعلق رکھنے والے پیر اسرار کے گھر پر دیوبندی دھشت گرد تنظیم لشکر اسلام کے 20 دھشت گردوں نے حملہ کرکے پیر اسرار سمیت 9 افراد کو شہید کردیا

پیر اسرار علاقے میں خبیر ایجنسی سے پشاور کے نواحی علاقے میں کنٹرول کرنے کی کوششیں کرنے والے دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کے مقابلے میں امن لشکر تشکیل دینے اور علاقے سے دیوبندی دھشت گردی ختم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے تھے

پشاور کی وادی اور خیبر ایجنسی اور اس کی تحصیل باڑہ میں اہل سنت بریلوی مکتبہ فکر کے ماننے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے

وادی پشاور اور خیبر ایجنسی میں پیر آف زکوڑی شریف و نقشبندی سلسلہ کے معروف روحانی خانوادے پیر سیف الرحمان کے ماننے والوں کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے

2002ء میں جب عام انتخابات کا انعقاد ہوا اور ملآّ ملٹری الائنس کے نتیجے میں دیوبندی اکثریت رکھنے والی حکومت خیبر پختون خوا میں بنی تو وادی پشاور میں خصوصی طور پر دیوبندی طالبانی فسطائیت کے پھیلاؤ میں اضافہ شروع ہوگیا

اس دوران پشاور وادی اور خیبر ایجنسی کے اندر اہل سنت بریلوی کے صوفی مزارات ،درگاہوں پر حملے شروع ہوگئے اور 2005ء میں ایک دیوبندی مفتی منیر شاکر نے خیبر ایجنسی جاکر جہاں دیوبندی عقیدے کی تشہیر شروع کی وہیں اس نے ایک ایف ایم ریڈیو کی بنیاد رکھکر آفریدیوں کے بریلوی عقائد کے خلاف جارحانہ پروپیگنڈا شروع کردیا

مفتی منیر شاکر نے اسی دوران خیبر ایجنسی کے اندر ایک مسلح لشکر کی بنیاد رکھی جس کا نام اس نے لشکر اسلام رکھ ڈالا اور اس لشکر نے بندوق کے زور پر خیبر ایجنسی کے اندر دیوبندی طالبانی فسطائیت کو زبردستی نافذ کرنا شروع کردیا

اس ضمن میں یہ بات قابل غور ہے کہ خیبر ایجنسی میں مفتی منیر شاکر کی اس جارانہ مہم اور لشکر سازی کے راستے میں نہ تو خیبر ایجنسی کی پولیٹکل ایڈمنسٹریشن نے کوئی روکاوٹ ڈالی نہ ہی ایف سی نے اسے روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی فوج نے ابتداء میں اس پھیلاؤ کو روکا

لشکر اسلام نے تیزی سے دیوبندی طالبانی فسطائیت کو شریعت کے نام پر خبیر ایجنسی کے اندر نافذ کرنا جاری رکھا اور مفتی منیر شاکر کا نائب منگل باغ جوکہ ایک بس کا ہاکر تھا اس لشکر کا سپریم کمانڈر بن گیا

لشکر اسلام کو پاکستانی ملٹری قیادت اور آئی ایس آئی نے اس وقت خطرہ سمجھنا شروع کیا جب منگل باغ نے تحریک طالبان پاکستان کے طارق آفریدی گروپ سے روابط پیدا کئے اور اس نے اس وقت کے ٹی ٹی پی کے امیر بیت اللہ محسود کو اپنا لیڈر قرار دیکر خود پاکستانی فوج کو نشانہ بنانا شروع کردیا

فوج نے اس پر لشکر اسلام کے خلاف ایک ایسا آپریشن شروع کیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو کرنے کا مقصد خبیر ایجنسی سے مکمل طور پر دیوبندی طالبانی فسطائیت کا حاتمہ نہیں تھا بلکہ لشکر اسلام کے اندر سے ایسے کمانڈرز کی بیخ کنی تھی جو کہ فوج اور آئی ایس آئی کے کنٹرول سے باہر ہوگئے تھے

خبیر ایجنسی اور پشاور کے گردونواح کے علاقوں میں دیوبندی طالبانی فسطائیت کے خلاف اپنے صوفی سنّی بریلوی اسلام کو بچانے کے لیے ایک مزاحمت تو پیر سیف الرحمان کے حامیوں نے انصار الاسلام نامی تنظیم بناکر شروع کی اور پشاور کے گردو نواح میں امن لشکر بنائے گئے

لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک طرف تو فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیاں دیوبندی طالبانی فاشزم کو جڑ سے اکھاڑنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی بلکہ اس میں اچھے اور برے طالبانیوں کی تقسیم کی جاتی رہی ہے دوسری طرف ایم ایم اے کی حکومت سے لیکر اب تک کی تحریک انصاف کی حکومت تک بھی دیوبندی طالبانی دھشت گردی کو بالواسطہ مدد فراہم کرتی آئی ہے

پشاور وادی ،خیبر ایجنسی سمیت ایک طرف پورے فاٹا اور خیبر پختون خوا کے اندر شیعہ آبادی کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف یہاں سے بریلوی سنّی آبادی کے خاتمے کی منظم دیوبندی طالبانی مہم بھی جاری و ساری ہے

بریلوی و شیعہ نسل کشی کا جو سلسلہ خیبر پختون خوا،6 قبائیلی ایجنسیوں ،گلگت بلتستان اور دیگر شمالی علاقہ جات کے اندر دیوبندی طالبانی فسطائیت کے بینر تلے جاری ہے اس پر میڈیا نے خاموشی اختیار کررکھی ہے

مین سٹریم میڈیا یہ بات لکھنے سے قاصر ہے کہ فاٹا،خیبر پختون خوا ،گلگت بلتسان کے اندردیوبندی دھشت گردی اور دیوبندی فاشسٹ آئیڈیالوجی بریلوی ،شیعہ اور ماڈریٹ دیوبندی(جس کے اندر صوفی روائت جاری تھی)رجحانات کو سرے سے جڑ سے اکھاڑنے کا کام کررہی ہے اور المیہ یہ ہے کہ فیڈرل ایڈمنسٹریشن ،صوبائی حکومت ،فوجی قیادت اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی آئی کو اس عمل کو روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے

عمران خان ،پروفیسر منور حسن کے اتحاد سے خیبر پختون خوا میں جو حکومت برسراقتدار آئی ہے وہ اول دن سے دیوبندی طالبانی فسطائت کی وکیل بنی ہوئی ہے اور اس کی فسطائی آئیڈیالوجی کے اثر سے ابھرنے والی دھشت گردی کا سارا ملبہ امریکہ پر ڈالنے کی کوشش کرتی ہے اور اسے صوبے کے بریلوی ،شیعہ،اعتدال پسند عناصر کی کوئی پرواہ نہیں ہے

خیبر پختون خوا،قبائیلی ایجنسیوں کے راستے سے دیوبندی طالبانی فسطائیت کا ٹوکرا سرپر اٹھائے دھشت گردوں کا لشکر عظیم سندھ اور پنجاب پر چڑھائی کی پوری تیاری کئے بیٹھا ہے

دیوبندی دھشت گردی کے سرچشموں کو پورا یقین ہے کہ پاکستانی فوج کی قیادت،موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان کو پاکستانی پاور کی گیم میں ایک اہم سٹیک ہولڈر کے طور پر تسلیم کرنے کو تیار ہوگئی ہیں

دیوبندی تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے نیوز ویک پاکستان کو جو انٹرویو دیا اور عمران خان نے ایک نجی چینل کو انٹرویو کے دوران کیانی ،نواز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے حوالے سے جو انکشافات کئے ہیں اس سے سٹیک ہولڈر بنائے جانے کی بات ٹھیک نظر آتی ہے

مجھے ابھی بھی اس بات کا شک ہے کہ اہل سنت بریلوی اور اہل تشیع کی مذھبی قیادت،ان کے علمائے کرام اور ان کے اہل علم و دانش کو دیوبندی طالبانی فاشزم کے پھیلاؤ کی سمت اور شدت اور پاکستانی ریاست کے اداروں فوج،انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کا اس فاشزم کے آگے سرنڈر ہوجانے اور ان کے مکاتب فکر کے تشخص کی قربانی دینے پر بالواسطہ رضامندی سے کماحقہ شناسائی ہوبھی چکی ہے کہ نہیں؟

کیونکہ ان دونوں مکاتب فکر کو ٹھیک ٹھیک معنوں میں بقا کے سوال کو اب ضرور زیر بحث لانا چاہئیے

پشاور کے نواحی علاقے شامبو خیل میں میں اہل سنت بریلوی سے تعلق رکھنے والے پیر اسرار کے گھر پر دیوبندی دھشت گرد تنظیم لشکر اسلام کے 20 دھشت گردوں نے حملہ کرکے پیر اسرار سمیت 9 افراد کو شہید کردیا

پیر اسرار علاقے میں خبیر ایجنسی سے پشاور کے نواحی علاقے میں کنٹرول کرنے کی کوششیں کرنے والے دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کے مقابلے میں امن لشکر تشکیل دینے اور علاقے سے دیوبندی دھشت گردی ختم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے تھے

پشاور کی وادی اور خیبر ایجنسی اور اس کی تحصیل باڑہ میں اہل سنت بریلوی مکتبہ فکر کے ماننے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے

وادی پشاور اور خیبر ایجنسی میں پیر آف زکوڑی شریف و نقشبندی سلسلہ کے معروف روحانی خانوادے پیر سیف الرحمان کے ماننے والوں کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے

2002ء میں جب عام انتخابات کا انعقاد ہوا اور ملآّ ملٹری الائنس کے نتیجے میں دیوبندی اکثریت رکھنے والی حکومت خیبر پختون خوا میں بنی تو وادی پشاور میں خصوصی طور پر دیوبندی طالبانی فسطائیت کے پھیلاؤ میں اضافہ شروع ہوگیا

اس دوران پشاور وادی اور خیبر ایجنسی کے اندر اہل سنت بریلوی کے صوفی مزارات ،درگاہوں پر حملے شروع ہوگئے اور 2005ء میں ایک دیوبندی مفتی منیر شاکر نے خیبر ایجنسی جاکر جہاں دیوبندی عقیدے کی تشہیر شروع کی وہیں اس نے ایک ایف ایم ریڈیو کی بنیاد رکھکر آفریدیوں کے بریلوی عقائد کے خلاف جارحانہ پروپیگنڈا شروع کردیا

مفتی منیر شاکر نے اسی دوران خیبر ایجنسی کے اندر ایک مسلح لشکر کی بنیاد رکھی جس کا نام اس نے لشکر اسلام رکھ ڈالا اور اس لشکر نے بندوق کے زور پر خیبر ایجنسی کے اندر دیوبندی طالبانی فسطائیت کو زبردستی نافذ کرنا شروع کردیا

اس ضمن میں یہ بات قابل غور ہے کہ خیبر ایجنسی میں مفتی منیر شاکر کی اس جارانہ مہم اور لشکر سازی کے راستے میں نہ تو خیبر ایجنسی کی پولیٹکل ایڈمنسٹریشن نے کوئی روکاوٹ ڈالی نہ ہی ایف سی نے اسے روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی فوج نے ابتداء میں اس پھیلاؤ کو روکا

لشکر اسلام نے تیزی سے دیوبندی طالبانی فسطائیت کو شریعت کے نام پر خبیر ایجنسی کے اندر نافذ کرنا جاری رکھا اور مفتی منیر شاکر کا نائب منگل باغ جوکہ ایک بس کا ہاکر تھا اس لشکر کا سپریم کمانڈر بن گیا

لشکر اسلام کو پاکستانی ملٹری قیادت اور آئی ایس آئی نے اس وقت خطرہ سمجھنا شروع کیا جب منگل باغ نے تحریک طالبان پاکستان کے طارق آفریدی گروپ سے روابط پیدا کئے اور اس نے اس وقت کے ٹی ٹی پی کے امیر بیت اللہ محسود کو اپنا لیڈر قرار دیکر خود پاکستانی فوج کو نشانہ بنانا شروع کردیا

فوج نے اس پر لشکر اسلام کے خلاف ایک ایسا آپریشن شروع کیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو کرنے کا مقصد خبیر ایجنسی سے مکمل طور پر دیوبندی طالبانی فسطائیت کا حاتمہ نہیں تھا بلکہ لشکر اسلام کے اندر سے ایسے کمانڈرز کی بیخ کنی تھی جو کہ فوج اور آئی ایس آئی کے کنٹرول سے باہر ہوگئے تھے

خبیر ایجنسی اور پشاور کے گردونواح کے علاقوں میں دیوبندی طالبانی فسطائیت کے خلاف اپنے صوفی سنّی بریلوی اسلام کو بچانے کے لیے ایک مزاحمت تو پیر سیف الرحمان کے حامیوں نے انصار الاسلام نامی تنظیم بناکر شروع کی اور پشاور کے گردو نواح میں امن لشکر بنائے گئے

لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک طرف تو فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیاں دیوبندی طالبانی فاشزم کو جڑ سے اکھاڑنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی بلکہ اس میں اچھے اور برے طالبانیوں کی تقسیم کی جاتی رہی ہے دوسری طرف ایم ایم اے کی حکومت سے لیکر اب تک کی تحریک انصاف کی حکومت تک بھی دیوبندی طالبانی دھشت گردی کو بالواسطہ مدد فراہم کرتی آئی ہے

پشاور وادی ،خیبر ایجنسی سمیت ایک طرف پورے فاٹا اور خیبر پختون خوا کے اندر شیعہ آبادی کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف یہاں سے بریلوی سنّی آبادی کے خاتمے کی منظم دیوبندی طالبانی مہم بھی جاری و ساری ہے

بریلوی و شیعہ نسل کشی کا جو سلسلہ خیبر پختون خوا،6 قبائیلی ایجنسیوں ،گلگت بلتستان اور دیگر شمالی علاقہ جات کے اندر دیوبندی طالبانی فسطائیت کے بینر تلے جاری ہے اس پر میڈیا نے خاموشی اختیار کررکھی ہے

مین سٹریم میڈیا یہ بات لکھنے سے قاصر ہے کہ فاٹا،خیبر پختون خوا ،گلگت بلتسان کے اندردیوبندی دھشت گردی اور دیوبندی فاشسٹ آئیڈیالوجی بریلوی ،شیعہ اور ماڈریٹ دیوبندی(جس کے اندر صوفی روائت جاری تھی)رجحانات کو سرے سے جڑ سے اکھاڑنے کا کام کررہی ہے اور المیہ یہ ہے کہ فیڈرل ایڈمنسٹریشن ،صوبائی حکومت ،فوجی قیادت اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی آئی کو اس عمل کو روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے

عمران خان ،پروفیسر منور حسن کے اتحاد سے خیبر پختون خوا میں جو حکومت برسراقتدار آئی ہے وہ اول دن سے دیوبندی طالبانی فسطائت کی وکیل بنی ہوئی ہے اور اس کی فسطائی آئیڈیالوجی کے اثر سے ابھرنے والی دھشت گردی کا سارا ملبہ امریکہ پر ڈالنے کی کوشش کرتی ہے اور اسے صوبے کے بریلوی ،شیعہ،اعتدال پسند عناصر کی کوئی پرواہ نہیں ہے

خیبر پختون خوا،قبائیلی ایجنسیوں کے راستے سے دیوبندی طالبانی فسطائیت کا ٹوکرا سرپر اٹھائے دھشت گردوں کا لشکر عظیم سندھ اور پنجاب پر چڑھائی کی پوری تیاری کئے بیٹھا ہے

دیوبندی دھشت گردی کے سرچشموں کو پورا یقین ہے کہ پاکستانی فوج کی قیادت،موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان کو پاکستانی پاور کی گیم میں ایک اہم سٹیک ہولڈر کے طور پر تسلیم کرنے کو تیار ہوگئی ہیں

دیوبندی تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے نیوز ویک پاکستان کو جو انٹرویو دیا اور عمران خان نے ایک نجی چینل کو انٹرویو کے دوران کیانی ،نواز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے حوالے سے جو انکشافات کئے ہیں اس سے سٹیک ہولڈر بنائے جانے کی بات ٹھیک نظر آتی ہے

مجھے ابھی بھی اس بات کا شک ہے کہ اہل سنت بریلوی اور اہل تشیع کی مذھبی قیادت،ان کے علمائے کرام اور ان کے اہل علم و دانش کو دیوبندی طالبانی فاشزم کے پھیلاؤ کی سمت اور شدت اور پاکستانی ریاست کے اداروں فوج،انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کا اس فاشزم کے آگے سرنڈر ہوجانے اور ان کے مکاتب فکر کے تشخص کی قربانی دینے پر بالواسطہ رضامندی سے کماحقہ شناسائی ہوبھی چکی ہے کہ نہیں؟

کیونکہ ان دونوں مکاتب فکر کو ٹھیک ٹھیک معنوں میں بقا کے سوال کو اب ضرور زیر بحث لانا چاہئیے