Featured Original Articles Urdu Articles

اہل سنت بریلوی، دیوبندی طالبان کے خودکش اور ثقافت کش حملوں کی زد میں

2

کراچی بلدیہ 12میں اہل سنت بریلوی سے تعلق رکھنے والے ایک آستانے پر کالعدم دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان/اہل سنت والجماعت کے موٹر سائیکل پر سوار 6 دھشت گردوں نے زکر کی ایک محفل پر دستی بموں سے حملہ کیا اور شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 8 افراد شہید ہوگئے جبکہ 20 خواتین اور مرد زخمی ہوگئے

کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان/اہل سنت والجماعت جوکہ دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم ہے اور یہ شیعہ،بریلوی،ہندؤ،احمدی اور عیسائيوں کے خلاف اکثر لشکر جھنگوی کے نام سے یا ٹی ٹی پی یا جنود الحفصہ کے نام سے کاروائی کرتی ہے کی جانب سے یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب اہل سنت بریلوی کو نشانہ بنایا گیا ہے

اس سے قبل کراچی گلشن معمار میں اہل سنت بریلوی کے ایک اور مزار کے مجاور اور زائرین کے گلے کاٹ کر مزار کے احاطے میں پھینک دئے گئے تھے اور موقعہ سے دیوبندی ٹی ٹی پی کا خط ملا تھا جس میں عوام کو مزارات سے دور رہنے کو کہا گیا تھا

کراچی میں ہی معروف صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر بم دھماکے ہوچکے ہیں

سندھ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دیوبندی تکفیری خارجی تنظیموں طالبان،لشکر جھنگوی اور دیگر تنظیموں کے حملوں کا جہاں نشانہ شعیہ مساجد ،امام بارگاہیں ہیں وہیں اہل سنت بریلوی کے مزارات اور آستانے بھی سب سے زیادہ نشانے کی زد میں ہیں

اندرون سندھ میں کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان/اہل سنت والجماعت اور دیگر دیوبندی خارجی دھشت گردوں نے صوفی مزارات اور اہل سنت کی زندہ روحانی شخصیات اور علمائے کرام کو اپنی دھشت گرد کاروائیوں کا نشانہ بنایا ہے

وزرات داخلہ سے منسلک ایک انتہائی قابل اور باخبر افسر کا کہنا ہے کہ لشکر جھنگوی نے 2014ء میں 10 ہزار شیعہ اور اتنی ہی تعداد میں اہل سنت بریلوی کی ٹارگٹ کلنگ کرنے کا منصوبہ بنارکھا ہے

اس افسر کا کہنا ہے کہ اہل سنت بریلوی کے وہ علماء جو کہ دیوبندی خارجی تکفیری عسکری دھشت گرد تنظیموں سے مذاکرات کی مخالفت کررہے ہیں اور رائے عامہ ہموار کررہے ہیں ان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں

باوثوق زرایع کا کہنا ہے کہ سنّی اتحاد کونسل کے چئیرمین صاحبزادہ حامد رضا رضوی،پاکستان سنّی تحریک کے سربراہ علامہ ثروت قادری ،شیعہ تنظیم وحدت المسلمین کے علامہّ راجہ ناصر عباس اور مولانا امین شہیدی کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں جبکہ ان رہنماؤں کو حکومت کی جانب سے خاطر خواہ سیکورٹی بھی فراہم نہیں کی گئی

یاد رہے کہ دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان/لشکر جھنگوی اہل سنت بریلوی کے معروف عالم دین ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو خود کش حملے میں شہید کرچکی ہے ،خودکش حملہ آور بھکر کے ایک دیوبندی مدرسے سے تعلق تھا جو کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان /اہل سنت والجماعت کی جانب سے چلایا جارہا تھا

کراچی میں جیش محمد کے دھشت گردنے سنّی تحریک کے بانی مولانا سلیم قادری کو جب کہ کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے موجودہ مرکزی ترجمان اورنگ زیب فاروقی کے قریبی ساتھی آصف چھوٹو وغیرہ نے نشتر پارک کراچی میں بم دھماکے کرکے پاکستان سنّی تحریک کے سربراہ مولانا عباس قادری ،بلوّ بھائی رہنماء جماعت اہل سنت،حافظ تقی مرکزی رہنماء جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ کو شہید کرڈالا تھا

اہل سنت بریلوی پاکستان میں مسلمانوں کا اکثریتی مکتبہ فکر ہے جس کو مسلم دنیا کے دیگر حصّوں میں صوفی سنّی اسلام کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ مسلم مکاتب فکر میں سب سے اکثریتی مکتبہ فکر ہے اور اعتدال پسند مکتبہ فکر خیال کیا جاتا ہے

80ء کی دھائی سے یہ مکتبہ فکر پاکستان میں سعودی عرب سے برآمد ہونے والے خارجی برانڈ وہابیت سے لبریز دیوبندی متشدد آئیڈیالوجی کے حملے کی زد میں ہے اور اس مسلک کے ماننے والوں،ان کے مقدس مقامات اور ان کے رہنماؤں کو اسی طرح سے نشانہ بنایا جارہا ہے جیسے شیعہ،احمدی،ہندؤ،عیسائی اور دیگر سیکولر لبرل نشانرہ بن رہے ہیں

اہل سنت بریلوی پر ہونے والے حملوں میں اب تک جو شواہد ملے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ حملے ان نام نہاد جہادی دھشت گرد تنظیموں کی جانب سے کئے جارہے ہیں جو دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتی ہیں اور پاکستان میں دھشت گردی کی زیادہ تر وارداتیں لشکر جھنگوی،پنجابی طالبان،ٹی ٹی پی کے نام سے کرتی ہیں

اہل سنت بریلوی کے آستانے کو دیوبندی دھشت گردوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی خبر کو میڈیا نے بالکل اسی طرح سے نشر کیا جس طرح سے یہ شیعہ کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی خبر کو شایع کرتی ہے

کسی ایک میڈیا چینل نے یہ کہنے کی ہمت نہیں کی کہ یہ حملہ اہل سنت بریلوی کو نشانہ بنانے کی واردات ہے اور کسی ایک چینل نے دہشت گردوں کی دیوبندی کالعدم تنظیموں کے دھشت گردوں کی کاروائی ہے

میڈیا نے پہلے یہ خبر شایع کی کہ 5 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 5 موقعہ پر اور 3 ہسپتال پہنچتے پہنچتے شہید ہوگئے تھے جبکہ زخمی ہونے والوں میں عورتیں،معصوم چھوٹی بچیوں کا زکر بھی غائب کیا گیا جن کی تعداد 20 ہے مگر اسے 12 بتایا جاتا رہا

غور طلب بات یہ ہے شیعہ اور اہل سنت بریلوی کو نشانہ بنائے جانے کی خبروں کو نشر کرتے ہوئے میڈیا اکثر ان وارداتوں کو تنہا وارداتوں کا تاثر دیتا ہے اور ان جیسی دیگر ماضی میں ہونے والی وارداتوں کا زکر نہیں کیا جاتا

ایک میڈیا چینل میٹرو نے پاکستان سنّی تحریک کے رہنماؤں کے ہسپتال پہنچنے کا زکر کیا جبکہ باقی کسی چینل نے ان رہنماؤں کے ہسپتال دورے کی خبر جاری نہ کی اور نہ ہی شیعہ رہنماؤں کی جانب سے مذمتی بیانات کو نشر نہیں کیا گیا

اس خاص واقعے کی رپورٹنگ کا جائزہ ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ میڈیا کا دیوبندی دھشت گردی پر ڈسکورس کیا ہے؟یہ دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کی شناخت کو چھپاتا ہے اور اس کا نام لیکر مذمت کرنے والی بریلوی اور شیعہ تنظیموں کو بھی کم کوریج دیتا ہے

اہل سنت بریلوی کے ماننے والوں کی نسل کشی کی بڑھتی ہوئی تازہ وارداتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دیوبندی طالبان دھشت گرد شیعہ اور سنّی بریلوی مذھبی برادریوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور ان کے اندر دیوبندی دھشت گردوں کے بارے میں پیدا ہونے والے وسیع تر اتفاق سے خاصی خوفزدہ ہے اور سعودی عرب بھی اس اتحاد اور اتفاق کو اپنے لیے سٹریٹجک خطرہ سمجھتا ہے

سعودیہ عرب کی پاکستان میں یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ریاستی سطح پر سنّی بریلوی اسلام کی پروجیکشن اور اثر کو کم سے کم کرے اور شیعہ-سنّی مشترکہ مذھبی ثقافتی اثرات کی عکاسی کو بھی کم کیا جائے

مسلم لیگ نواز،پاکستان تحریک انصاف ،دیوبندی و وہابی مذھبی سیاسی جماعتیں اور فوجی اسٹبلشمنٹ کا ایک بڑا حصّہ اس کام میں سعودی عرب کا ہاتھ بٹانے میں بہت آگے رہا ہے

پاکستان کا محکمہ آثار قدیمہ اور محمکہ اوقاف اور متروکہ املاک بورڑ کی غفلت اور نااہلی کا سب سے زیادہ نقصان شعیہ،سنّی مذھبی مقدس ثقافتی آثار اور ہندؤ ،سکھ مندروں،سمادھیوں اور گردواروں اور تاریخی ثقافتی عمارات کو ہوا ہے جبکہ نئی مساجد کی تعمیر اور مزارات کے نئے کمپلیکس کی تعمیر میں بھی سعودی وہابی طرز تعمیر کو فوقیت دیا جانا معمول بن گیا ہے

ایک اندازے کے مطابق سرائیکی بیلٹ میں شیعہ اور اہل سنت بریلوی کی قدیم درگاہوں ،مزارات اور مساجد جو یا تو محکہ اوقاف کے پاس ہیں یا آثار قدیمہ کے پاس کی تزئین و آرائش کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا جارہا جن سے یہ تاریخی ورثہ تباہ ہورہا ہے جبکہ اس خطے میں سعودی امداد سے نئے دیوبندی قلعہ نما مدرسوں اور مساجد کی عمارتوں کا ایک جنگل بس گیا ہے

جبکہ ہندؤ،سکھوں کی قدیم اور مذھبی عمارتوں کا نام و نشان مٹتا جارہا ہے

ایک طرف خارجی فاشزم دیوبندی طالبانی دھشت گردی کی شکل میں شیعہ اور سنّی کی نسل کشی کررہا ہے تو دوسری طرف یہ فاشزم شیعہ اور سنّی بریلوی کی مذھبی،ثقافتی جڑوں کو کھوکلا کرنے کا کام کررہا ہے

About the author

Aamir Hussaini

2 Comments

Click here to post a comment
  • It is time for us to join our shia brothers and get up deal with wahabis heavy handed. Our Army and the government has a very warm relation with Saudis, they will not help us. We need to help ourselves.

  • چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے طالبان اور ان کے ہم خیال علماء سے 19 سوالات کے جواب مانگ لیے۔ انہوں نے اٹھائے گئے سوالات میں کہا ہے کہ خودکش حملے اور دھماکے شرعی لحاظ سے کیسے جائز ہو سکتے ہیں جبکہ دنیا بھر کے علماء خودکش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں۔ مزارات، مساجد، مدارس، مارکیٹوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، چرچوں، سکیورٹی فورسز، پولیو ورکرز اور میڈیا ہاؤسز کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا کیا شرعی جواز ہے؟ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح بغاوت کی اجازت کون سی شریعت دیتی ہے۔کیا بے گناہ عورتوں، بچوں، غیرملکی سیاحوں، فوجیوں، سپاہیوں اور صحافیوں کو شہید کرنا فلسفۂ جہادِ اسلامی کے منافی نہیں ہے؟ کیا مختلف سرکاری و غیرسرکاری افراد کو اغوا کرنا غیراسلامی فعل اور جرم نہیں ۔کیا طالبان کا طرزعمل فساد فی الارض کے زمرے میں نہیں آتا اور اسلام فساد فی الارض کو سنگین ترین جرم اور گناہ قرار نہیں دیتا؟کیا اسلام محض فرقے کے اختلاف کی بنیاد پر بے گناہ افراد کے قتل کی اجازت دیتا ہے؟کیا یہ سچ نہیں کہ طالبان کا طرزعمل اسلامی اصولوں، جہاد فی سبیل اللہ کی شرائط، حضور نبی کریم(ص) کی تعلیمات اور قرآن و سنّت کے سراسر منافی ہے؟ کیا یہ درست نہیں کہ طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان کمزور اور اسلام بدنام ہو رہا ہے؟کیا اسلام نے ایک بے گناہ انسان کے قتل کو ساری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار نہیں دیا؟

    سوال نامے میں پوچھا گیا ہے کہ کیا طالبان اس واضح قرآنی ہدایت کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہو رہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ طالبان کی پھیلائی گئی بدامنی کی آگ میں پورا ملک جل رہا ہے اور اس سے امریکہ اور بھارت سمیت تمام اسلام و پاکستان دشمن طاقتوں کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں؟ کیا پچاس ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قتل میں ملوث مجرموں اور قاتلوں کی رہائی کا مطالبہ قرآن و سنّت کی خلاف ورزی نہیں؟ڈرون حملوں کو بیگناہ پاکستانیوں کے قتل کا جواز کیسے بنایا جا سکتا ہے؟کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکہ کیخلاف جہاد کا میدان پاکستان نہیں افغانستان ہے؟حکومت کی امریکہ نواز پالیسیوں کی سزا عام شہریوں، فوجیوں اور سپاہیوں کو دینا شریعت کی رُو سے کس طرح جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستان کا موجودہ آئین تمام مکاتبِ فکر کے جیّد علماء کا بنایا ہوا متفقہ آئین ہے اور آئین کے اندر رہتے ہوئے نفاذِ شریعت کی پرامن اور کامیاب جدوجہد کی جا سکتی ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ماضی میں حکومتوں سے طے پانیوالے معاہدوں کی طالبان نے پاسداری نہیں کی؟ کیا یہ سچ نہیں کہ طالبان کے بعض گروپوں کے امریکہ اور بھارت کے ساتھ روابط ہیں؟