Original Articles Urdu Articles

شریعت یا آئین؟ طالبان کے ترجمان شاہد الله شاہد نے عمران خان کو طمانچہ رسید کر دیا

ik6

کالعدم دیوبندی دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس بیان کو رد کر دیا جس میں عمران خان نے کہا تھا کہ طالبان پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہیں اور حکومت سے ان کے امن مذاکرات آئین کی حدود کے اندر رہ کر ہو رہے ہیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہد اللہ شاہد دیوبندی نے کہا کہ اگر طالبان کو شریعت کے علاوہ کوئی قانون منظور ہوتا تو جنگ ہی نہ کرتے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کااصل مقصد شریعت کے نافذ کے لیے ہے:’ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ شریعت کے لیے ہی لڑ رہے ہیں۔۔۔ابھی جو ہم مذاکرات کریں گے تو وہ شریعت ہی کے لیے کریں گے۔‘

اس سے قبل امن مذاکرات کے لیے طالبان کی طرف سے نامزد کردہ کمیٹی کے رکن اور لال مسجد کے سابق خطیب عبدالعزیز دیوبندی نے مذاکراتی کمیٹی کے نکات میں شریعت کے نفاذ کی شرط کی شمولیت تک مذاکرات سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ جمعے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات میں شریعت کے نفاذ پر بات نہیں کی جاتی وہ مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انھوں نے کہا: ’ہم مذاکرات سے علیحدہ نہیں ہوئے لیکن تب تک مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے جب تک حکومتِ پاکستان وعدہ نہ کرے کہ آئین پاکستان نہیں بلکہ قرآن اور سنت کی روشنی میں مذاکرات ہوں گے۔‘

عبدالعزیز دیوبندی کا کہنا تھا کہ ’حکومت اسلامی یا شرعی نظام کے نفاذ کا وعدہ کرے گی تو میں مذاکرات کا حصہ بنوں گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں کمیٹی کا حصہ رہوں گا جب تک طالبان مجھے کمیٹی چھوڑنے کو نہیں کہتے مگر میں مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنوں گا۔‘

یاد رہے کہ حکومت اور طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے طالبان سے کہا ہے کہ تمام بات چیت پاکستان کے آئین کے دائرہ کار کے اندر رہ کر کی جائے گی اور اس کا اطلاق صرف شورش زدہ علاقوں تک محدود رہے گا۔ اسی طرح کا بیان طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے والے سیاستدان عمران خان نے بھی دیا تھا جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ طالبان پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہیں

یاد رہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران طالبان نے دہشت گردی کاروائیوں کو ترک نہیں کیا – گزشتہ روز پشاور میں دیوبندی طالبان کے حملے میں دس شیعہ اور سنی بریلوی شہید ہو گئے اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے – پاکستان مساوات اور انسانی حقوق کے کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کی 7 مہینے کی حکومت میں خیبرپختوان خواہ میں93 دہشتگردی کی واقعات میں 441شہری جابحق ہوئے،جن میں208 شیعہ مسلمان تھے۔ حملوں کی نتیجےمیں 365 شیعہ زخمی بھی ہوئے۔

کالعدم دیوبندی دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ اہلسنت والجماعت کے رہنما احمد لدھیانوی دیوبندی نے طالبان کی جانب سے دیوبندی شریعت کے نفاذ کے مطالبے کی حمایت کی ہے اور دیوبندی شریعت کے نفاذ تک سنی بریلوی، احمدی، شیعہ اور مسیحی پاکستانیوں پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے

ik1

ik2

ik3

ik4

ik5

ik8

ik7

About the author

SK

18 Comments

Click here to post a comment
  • Sadiq Ali
    جتنا عمران خان طالبان کو بچانے کی کوشش کرتے ھیں۔اتنا ھی طالبان ان کو شرمندہ کرتے ھیں–موصوف نےبیان دیا کہ جو لوگ کہتے تھے طالبان آئین کو نہیں مانتے، وہ بے نقاب ہوگئے، معاہدوں میں طالبان نے کبھی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کیا-لیکن کچھ ھی لمہوں بعد کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ مذاکرات شریعت ہی کے لیے کریں گے،اگرطالبان کوشریعت کے علاوہ کوئی قانون منظور ہوتا تو جنگ ہی نہ کرتے۔

  • ‘If we followed Constitution war wouldn’t have been waged’
    DAWN.COM
    TTP spokesman Shaihidullah Shahid Friday said that Taliban were fighting for Islamic Sharia and talks with the govt were for the same objective. – File Photo
    Published
    2014-02-07 23:24:38

    Share
    Email
    0 Comment(s)
    Print
    ISLAMABAD: Central spokesman of the Tehreek-i-Taliban Pakistan (TTP) Shahidullah Shahid on Friday said that Taliban wouldn’t be waging a war against the government if they followed a law or a constitution other than Islamic Sharia.

    According to a report on BBC Urdu website, he said the real purpose behind holding dialogue with Pakistani government was to enforce the Islamic Sharia in the country.

    “The war we are fighting is for enforcement of Sharia….and talks with the government we will be holding will be for the same objective,” said Shahidullah.

    Commenting on the conditions put forward by government negotiators, he said those were being consulted upon, however, he added that any decision in this regard would be made after his meeting with TTP negotiators.

    Talks to end the militants’ bloody seven-year insurgency formally kicked off Thursday between a four-member government committee and a three-man Taliban team, amid much scepticism over whether dialogue can yield a lasting peace deal.

    The first round of talks ended with both sides charting a roadmap for future negotiations, with the government team proposing that peace talks be pursued within the framework of the Constitution of Pakistan.

    When he was asked how enforcement of Islamic Sharia was possible with an already imposed Constitution in the country? He replied: “This is simple because the other party we are holding peace talks with claim that they are Muslim…..and Pakistan was created in Islam’s name…so this task shouldn’t be difficult for any Muslim.”

    “If we demand Americans to enforce Sharia in their country then it would be understandably difficult for them to do so but not for people who call themselves Muslims,” said the TTP spokesman.

    Expressing optimism about outcome of peace talks, he said a meeting with Taliban negotiators was due in next four to five days in which further course of action would be directed to them.

    Answering a query regarding dissociation of Maulana Abdul Aziz from peace talks, Shahidullah said Aziz was still his representative and that his reservations will be addressed soon.

    “Maulana (Abdul) Aziz is not wrong in his stance,” he added.

    Expressing his reservations over the dialogue process, saying he won’t be part of further negotiations, Aziz urged the government earlier today to remove the condition of holding talks under the constitution.

    “There would be no problems if our constitution were the Quran and Sunnah. But the Taliban say they do not recognise the prevailing constitution,” Aziz told a press conference in Islamabad. “The people should not be misled into believing that our constitution is Islamic,” he had said.

    http://www.dawn.com/news/1085522

  • Asma Malik
    ایک لڑکی جس کا گھر سے بھاگنے کا پروگرام تھا۔۔ چند روز پہلے سے اُس نے گھر میں کہنا شروع کر دیا کہ “مجھے خدشہ ھے ھمارے گھر کا ایک فرد کم ھو جائے گا”

    اس لڑکی کے بھاگنے کیبعد میں گھر والوں نے کہا ۔۔ جو ھوا سو ھوا پر لڑکی بڑی پہنچی ھوئی اللہ لوک تھی۔۔

    عمران خان بھی اُسی لڑکی کی طرح پہنچے ھوئے معلوم پڑتے ھیں ابھی سے فرمانے لگ گئے ھیں کہ “حکومت طالبان مذاکرت کی ناکامی کا خدشہ ھے”

    Muhammad Shahzad Shafi
    ﮨﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﮯ – ﻃﺎﻟﺒﺎﻥ
    ﻃﺎﻟﺒﺎﻥ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ – ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ

    ﯾﮧ ﺑﺰﺩﻝ ﺧﺎﻥ ﺗﻮ ﻃﺎﻟﺒﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ شلوار اتار كر بالكل اوندها منه ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ