Culture & Arts Original Articles

My salute to Deobandi 4 plus 3, all-star team negotiating with the Taliban – by Riaz Malik Hajjaji

deobandi

Hajjaji sends his Yazeedi salaam to the Deobandi 4 plus 3, all-star team negotiating with the Taliban.

To these lovers of Hazrat Yazeed Bin Muawiya, I hope you are successful in getting Mummy Daddy Burger Insaafians to don Burqa!

See the look of happiness shared by Irfan Siddiqui and Maulana Sami ul Haq after the latest attack on Shias in Peshawar. It is the same look that is shared by all the other team members on both sides of the Taliban negotiating team.

Should you wish to know their names, here is a complete list the Deobandi4plus3 on BBC Urdu: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140206_who_is_who_in_negotiations_sa.shtml

This combined team of Deobandi All Stars that is deciding the future of Pakistan has many friends in the media, including but not limited to Hamid Mir, Najam Sethi, Mehr Bukhari-Abbasi, Javed Chaudhary etc etc. As Ayaz Amir put it so well, this is the same Football club playing with itself (he he he).

1

2

deobandi

peac

ttp

About the author

SK

3 Comments

Click here to post a comment
  • طالبان اور حکومتی کمیٹی کے اراکین کون ہیں؟
    آخری وقت اشاعت: جمعـء 7 فروری 2014 ,‭ 22:54 GMT 03:54 PST

    کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے امن مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومتی طالبان کی کمیٹیوں کے اراکین پاکستانی سیاست، ذرائع ابلاغ اور مذہبی امور میں جانی پہچانی شخصیات ہیں
    حکومتی کمیٹی

    عرفان صدیقی
    متعلقہ عنوانات
    پاکستان, طالبان
    حکومتی کمیٹی کے سربراہ عرفان صدیقی ہیں جو اس وقت وزیرِاعظم کے خصوصی مشیر برائے قومی امور ہیں۔ عرفاں صدیقی ایک معروف صحافی اور کالم نگار ہیں جو کہ اخبار روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں اور اپنے قدامت پسند نظریات اور افغانستان میں امریکی جنگ پر تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے کئی بار افغانستان میں امریکہ کے خلاف طالبان کی حمایت میں آواز اٹھائی ہے۔

    رحیم اللہ یوسف زئی
    رحیم اللہ یوسف زئی ایک سیاسی اور سکیورٹی کے امور کے تجزیہ کار ہیں اور پاکستان کے قبائلی علاقوں، افغانستان کے ساتھ ساتھ طالبان امور کے ماہر ماننے جاتے ہیں۔ وہ افغانستان کے حالات پر 1979 میں سویت حملے سے آج تک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ القاعدہ کے سابق سربراہ اوساما بن لادن اور افغان طالبان کے سربراہ مُلا عمر کے انٹرویو کر چکے ہیں۔ وہ پشاور میں روز نامہ دی نیوز کے مدیر ہیں اور ٹائم میگزین اور بی بی سی کے لیے نامہ نگار بھی رہ چکے ہیں۔

    رستم شاہ مہمند
    رستم شاہ مہمند افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر ہیں اور صوبے خیبر پختونخواہ میں بر سرِ اقتدار جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے اہم رکن ہیں۔ رستم شاہ مہمند کو افعان امور کا ماہر مانا جاتا ہے اور وہ سکیورٹی معاملات کے حوالے سے ایک معروف تجریہ کار بھی ہیں۔ تقریباً دس سال کے عرصے تک وہ پناہ گزینوں کے لیے پاکستان کے چیف کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔

    میجر محمد عامر
    میجر محمد عامر پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق اہلکار ہیں جنہوں نے افعانستان میں سویت مداخلت کے دوران افغان مجاہدین کی تربیت اور معاونت کی تھی۔ میجر عامر کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد نے ایک مدرسہ تشکیل دیا تھا جو کہ دیوبندی اور وہابی مکتبۃ فکر سے منسلک تھا۔ پاکستانی طالبان کے موجودہ سربراہ مُلا فضل اللہ نے اپنی مذہبی تعلیم اسی مدرسے سے حاصل کی تھی۔
    طالبان کی مذاکراتی کمیٹی

    مولانا سمیع الحق
    مولانا سمیع الحق کو پاکستانی میڈیا میں ’طالبان کا موجد‘ کہا جاتا ہے۔ وہ ایک بااثر مذہبی رہنما اور سیاست دان ہیں جن کی تعلیمات کو طالبان تحریک کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ مولانا سمیع الحق پاکستان کے ایک اہم ترین مدرسے دارالعلوم حقانیہ کے سرپرستِ اعلیٰ بھی ہیں جسے 1990 کی دہائی میں افغان جہاد کی نرسری تصور کیا جاتا ہے۔ ماضی میں ایک بار مولانا سمیع الحق نے مُلا عمر کو اپنے بہترین طالبعلموں میں سے ایک قرار دیا تھا اور انہیں ایک ’فرشتہ نما انسان‘ بیان کیا تھا۔ وہ جمیعت علما اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ ہیں اور پاکستان کے ایوانِ بالا میں دو مرتبہ رکنیت حاصل کر چکے ہیں۔

    مولانا عبد العزیز
    مولانا عبد العزیز پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے سخت حامی ہیں۔ وہ 2007 میں پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں فوج کے ساتھ کیشدگی میں ملوث اسلام آباد کی لال مسجد کے امام تھے۔ لال مسجد آپریشن میں مولانا عبد العزیز کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک برقعہ پہن کر وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ 21 ماہ قید کے بعد انہیں 2009 میں رہا کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے متعدد فتوے جاری کر رکھے ہیں جن میں موسیقی، فلموں اور خواتین کی تصاویر کو حرام قرار دیا جا چکا ہے۔

    ابراہیم خان
    ابراہیم خان بنوں سے سابق سینیٹر ہیں۔ وہ اسلام پسند سیاسی جماعت، جماعتِ اسلامی کے صوبائی صدر ہیں اور طالبان اور القاعدہ کے حامی ہیں۔ جماعتِ اسلامی کی قیادت نے حال ہی میں ایک بیان دیا تھا جس میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا گیا تھا۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140206_who_is_who_in_negotiations_sa.shtml

  • I think it,s unfair to put Imrans picture. The guy has condemned both ttp and lej. Which other politician has the guts to do so.