Original Articles Urdu Articles

کون کس کو اور کیوں ” بنا ” رہا ہے؟ – از سید عباس حسن

Taliban

جنگ، جنگ اور جنگ دنیا میں اس کے علاوہ بھی کچھ ہورہا ہے کیا؟ نہیں، مگر ہماری مملکت کے علاوہ دوسری جنگوں میں گھرے ملکوں نے کوئی نہ کوئی حکمت عملی ضرور اپنائی ہوئی ہے اور انکے ملک کی عوام کے خلاف ہر آواز کو انکے لیڈران دبانے میں مصروف ہے مگر ہاۓ ہماری قسمت کہ نہ تو لیڈران مظلوموں کی چیخیں سن پا رہے ہیں اور نہ جنگ جیتنے نہ ملک بچانے کیلئے کچھ کر رہے ہیں وہ کر رہے ہیں تو صرف پیسا بنانے،

ریاست کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی چاپلوسی اور ملک کا بیڑا غرق   لیجئے بیڑا غرق حالیہ حکومتی حکمت عملی میں حکومت پاکستان نے 50 ہزار شہدا دینے کے بعد بلآخر تیز ترین آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے..! گھبرائیے مت یہ تیز ترین زبانی آپریشن ہے یعنی ” مذاکرات ” اور اس ارادے کو آگے بڑھانے کیلئے 4 رکنی دستہ بھی تیار کیا ہے جسے فل مینڈیٹ وہ حکومتی مینڈیٹ کا لفظ استمال کر کے عنایت کیا گیا ہے یعنی جو یہ کمیٹی تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات میں فیصلہ لے گی جو یقینا انکا اپنا فیصلہ ہوگا وہ ہی حکومتی فیصلہ کہلاۓ گا

 میں نے، آپ نے اور تقریباً ہم سب ہی نے یہ دیکھا ہے کہ جب بھی کہیں لڑائی ہوتی ہے تو دونوں لڑنے والوں کو گھر/علاقے کے بڑے اپس میں صلح_صفائی کے لئے بٹھاتے ہیں مگر یہاں تو منظر ہی عجیب ہے کہ حکومت بجاۓ اپنے نمائندوں یا طالبان کی دہشتگردی میں شہید ہونے والے شہدا کے لواحقین کے کسی نمائندے یا نیوٹرل آدمی کو مذاکرات کیلئے پیش کرتے حکومت نے انہی کی سوچ رکھنے والے نمائندوں کو انکے آگے بٹھا دیا، دنیا میں یہ کوئی پہلا کیس ہوگا جس میں دو لڑنے والوں کے بجاۓ دو ملنے والوں کو ایک ملک کے امن کا فیصلہ کرنے کو دے دیا گیا  بات پھر بھی قابل قبول ہوتی اگر مذاکرات کے حوالے سے کے حکومت یا تو خود بیٹھتی یا کسی ایسے شخص جو ان جانوروں کی درندگی کا شکار ہوا یا ایسے جو بہتر فیصلہ اور ایک نیوٹرل آدمی ہوتا اسے یہ ٹاسک دیتی اور فیصلے کا حق اپنے پاس محفوظ رکھتی مگر ایسا نہ ہوا

حکومتی ٹیم میں شامل عرفان صدیقی بےشک ایک اچھی چوائس ہونگے مگر انکی سوچ و مکتب وہی طالبان کا دیوبندی سٹائل ہے جو کسی بھی شخص کو انکے فیصلے ماننے سے انکاری بنا سکتا ہے بلکہ ابھی سے ہی انکار کرنا شروع کردیا ہے لوگوں نے، دو سابقہ افسران ان میں وہ ہیں جو طالبان کی پشت_پناہی کرنے کے ساتھ ساتھ انکو جنم دینے میں بھی آگے تھے بلکہ ان میں سے ایک کے والد تو مدرسہ چلاتے ہیں جہاں سے تحریک طالبان پاکستان کے متعدد رہنما علم حاصل کر چکے ہیں اب ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے ایسے لوگوں کا انتخاب عوام پاکستان کو الجھا رہا ہے  ان تمام باتوں سے صرف اتنا معلوم پڑتا ہے کہ ہم تاحال یا بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ لاتوں کے بھوتوں کو لاتوں ہی سے منایا جانے کے حق میں ہیں مگر ہماری حکومت ایک دفعہ مذاکرات کی ناکام کوشش کرنا چاہتی ہے تو کرے مگر کچھ سمجھداری سے کام لیکر نہ کہ عوام کو کچھ ”  بنا  ” کر کچھ اور فیصلہ کرلے اور خود ہی کچھ اور ” بن ” جاۓ