Featured Original Articles

Marvi Sirmed, Raghib Naeemi and the doctrine of Khair-ul-Makireen – by Pejamistri

marvi

I don’t want to break my resolution to have break from social media. But I could not resist to write these few lines after watching this little clip of my favorite Marvi Sirmed.

[youtube id=”gO4fIzUyqqg” width=”600″ height=”340″ position=”left”]

If I had watched this clip two years back, I would have shouted bravo, and had declared Marvi Sarmad as the bravest lady in Pakistan. But after watching this clip today, the first thing I did was to find out who is Maulana Raghib Naeemi. My Google search yielded that Raghib Naeemi is a Sunni Baerlvi cleric, son of Maulana Sarfraz Naeemi who was killed by Takfiri Deobandi ASWJ-TTP terrorists because of his fatwa against suicide bombings. A little smile came on my face.

This battle is very complex in nature. I call it the battle based on the doctrine of Khair-ul-Makireen (a doctrine which allows all types of deceit, lies and pretentions as part of religion). Indeed, I most strongly condemn murder of Salmaan Taseer and its justification on any pretext. But at the same time I am aware that Sunni Barelvis as a community cannot be held responsible for Mumtaz Qadri’s crimes, nor can they be equated with the Takfiri Deobandi killing machine which is massacring Pakistanis of all faiths, sects and ethnicities on daily basis.

In Pakistan, it is always very hard to identify the people’s real motives. Marvi Sirmed who happens to be a close relative of Akram Lahori, the co-founder of banned Deobandi terrorist outfit Lashkar-e-Jhangvi, can not be so bold against a Deobandi molvi, but she can rip apart a Sunni Bralevi molvi, and it is not difficult to understand why. It is important to note that Salmaan Taseer Shaheed was himself a Sunni Bralevi “Muslim”.

Thus, Marvi Sirmed’s bravery against a Sunni Barelvi cleric is also consistent with how certain (fake) liberals eulogized and promoted Veena Mlaik’s aggressive bravado against Mufti Abdul Qawi a few years ago; they wrote songs for Veena Malik, promoted her as an icon of liberalism and gender equality, wrote columns in Pakistani and international media. Once again, Mufti Abdul Qawi was a Sunni Barelvi cleric, yes, the community without guns and Saudi Riyals. https://lubpak.net/archives/38302 https://lubpak.net/archives/38651

This selective bashing of Sunni Barelvis is in stark contrast to the uncritical promotion, criminal subservience or/and silence on Takfiri Deobandi clerics some of whom (such as, Ludhyanvi and Ashrafi) are regularly invited by the same anchor on the same TV station (Capital TV) where the Sunni Barelvi cleric was ripped apart by Marvi Sirmed. https://lubpak.net/archives/286001

Will Pakistani elitist liberals show one-tenth of aggression and boldness in bashing Deobandi hate clerics such as Ahmed Ludhyanvi, Aurangzeb Farooqi and Sami-ul-Haq, the way they bash Sunni Barelvis?

Wallaho khair-ul-makireen!

— (co-authored by Pejamistri and Maria Chishti)

About the author

pejamistri

6 Comments

Click here to post a comment
  • peja ji , if my article could find a place in your columns!!!

    ۔آج کے اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری اور پھر اسکی ویڈو بھی دیکھنے کو مل گیء جس میں ایک حضرت اپنی بیوی کی پٹا ی کر رہے تھے اور ساتھ میں گالیاں بھی ارشاد فرما رہے ثھے ۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ ہمارے معا شرے میں تشدد روز مرہ کا کام ہے خواہ وہ ایک مذہب کا دوسرے مذہب کے ماننے والوں پر ہو، ایک فرقے کا دوسرے فرقے کے ماننے والوں پر،خاوند کا بیوی پر، استاد کا شاگرد پر یا والدین کا اپنی اولاد پر۔ تشدد کی کی ء اقسام ہوتی ہیں جن میں مذہبی، جسمانی اور نفسیاتی یا زبانی تشدد شامل ہیں۔ اور چونکہ ہمارا معاشرہ پادرسری نظام کے تابع ہے مرد بالخصوص تشدد کا راستہ ذیادہ اپنایا کرتے ہیں کیونکہ یہ سہل ہے اور پیشتر اوقات مطلوبہ نتءج حاصل کرنے میں مدگار ثابت ہوتا ہے۔ جہاں پر بحثیت قوم آج ہم مژہبی تشدد کا شکار ہیں یہ بات کم اہمیت کی حامل نہیں کہ تشدد کی دیگر اقسام کا بلا خو ف و خطر نہ صرف ارادی و غیر ارادی طور پر استعمال ہوتا ہے بلکہ وہ طبقات جنکا تعلق ہماری اشرافیہ سے ہے بھی اسکا پرچار کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ بات توجہ کی طالب ہے کہ عموما” اس قسم کے ثشدد کا نشانہ بلاسطہ یا بلواسطہ طور پر عورت ہی نظر آتی ہے۔ اور وہ صاحب درد جو آپکو شیعہ کی نسل کشی یا قادیانیوں کو کافر ٹھراے جانے پر دن رات ماتم کرتے نظر آءیں گے وقت پڑنے پر اسی متشدد سوچ کو نہ صرف اپنا لیتے ہیں بلکہ بلا دریغ اسے استعمال کرتے چلے جاتے ہیں تاوقتیکہ اپنے مقصد میں کامیابی نہ حاصل کرلیں۔
    ضرورت اس امر کو واضح کرنے کی ہے آیا وہ کون سے اہداف ہیں کہ جن کو حاصل کرنے کے لیے ایک متشدد عمل یا سوچ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ بات دلچسبی سے مبرا نہیں کہ تشدد خواہ وہ کسی شکل میں ہو ایک خاص پیٹرن کو اپنا تا ہے ۔یہ ایک مخصوص عمل اور اسکی تکرار کا نتیجہ ہوتا ہے کہ جسکے نتیجہ میں لوگ تشدد سہنے والے اور تشدد کرنے والے رفتہ رفتہ بے حسی کی طرف ماءل ہوتے نظر آتے ہیں۔یہ عمل تشددکی ہر قسم میں کم و بیش یکساں پایا جاتاہے جسکا پہلا مرحلہ ہوتا ہے “آبجیکٹ ایفیکیشن”۔ اس مرحلے کے دوران فرد یا کسی خاص گروہ ، قوم یا ایک جنس کو اسکی “کل ” کی بجاے “جزو ” میں دکھایا جاثا ہے ۔ ان افراد کو اشیا سے تعبیر کیا جاتا ہے یا یک خاص قسم کی فکر کے تابع کیا جا تا ہے یہاں تک کہ مذکورہ بالا شخص یا گروہ کی شناخت ،سوچ اور انفرادیت ایک خاص نکتے پر آکر ٹھر جاے اور وہ گروہ ،قوم یا جنس اسی نام سے پہچانی جاے۔ اس عمل کی ایک ذیلی شاخ دقیاسی یا “سٹیریو ٹاءپ” فکر کی ترویج ہے-
    “کافر کافر شیعہ کافر” مطلب یہ کہ بلا تخصیص ہر شیعہ کافر ہے۔ بالکل ویسے ہی ایک عورت جس کے بارے میں آپکی راے ناپختہ ہے اور کسی بھی ذاتی اختلاف کی بنیاد پر آپ اس عورت کو بد کرداری یا رنڈی بازی ،نوٹنکی والی یا فاتر العقل ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے دیں۔اور اسکے احباب یا جن مرد حضرات کے ساتھ اسکا اٹھنا بیٹھنا ہے انکواسکا تماش بین بنا دیں-
    یہی وہ خاص مکتبہ فکر ہے جو احباب سے لے کر ہمارے میڈیا تک نے اپنایا ہوا ہے ۔جب بھی ایسا کوی واقع رونما ہوتا ہےاسکی رپورٹ سے لے کر دادرسی تک “حوا کی بیٹی ” کی پامالی کازکر ہوتا ہے۔اسکی آبروریزی کارونارویا جاتا ہے اور یہ موقف اپنا لیا جاتا ہے کہ چونکہ یہ ذات کی عورت ہے اس لیے ہمدردی اور ترس کی مستحق ہےاور اس حقیقت کو یکسر نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ ذیادتی کسی بھی وقت کسی کے بھی ساتھ ہو سکتی ہے اور اسکو کسی کی کمزوری سے تعبیر کرنا،کمزوری سمجھا جانایا کمزوری بنانا مناسب عمل نہیں۔ مثال کے طور پر ایک عورت ایسا نہیں سوچنا چاہتی کہ اسکے ساتھ ذیادتی کے بعد اسکی ذندگی ختم ہو کر رہ گی ہے مگر میڈیا دوست رشتے دار اسکو اس کمی کا ایک نا ختم ہونے والا مسلسل احساس دلاتے رہتے ہیں۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ضرورت کو سمجھیں کہ ثشد خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو ناقابل برداشت ہے خواہ وہ لسا نی ہو مذ ہبی ، جنسی یا جسمانی اور بالخصوص عورتیں،اقلیتیں اور بچے جوکسی بھی نا فرمانی کی سزا بھگتتے ہیں وہ کسی بھی لحاظ سے گنہ گار نہیں نہ ہی انہیں احسا س گناہ کا شکار ہونا ہے کہ تشدد کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے ،مقابل کو اپنے تابع کرنا،جبرا” اپنا مطیع کرنا اور اسکو ڈدا یا دھمکا کر یا سرعام بے عزت کر کے اپنے کنٹرول میں لانا۔

    قدوسی صاحب کی بیوہ

  • Superb page and moreover simple to make positive you figure out justification. Exactly how can Document keep performing obtaining concur to make positive you publish element for the document into my approaching e-newsletter? Getting correct credit scores in your direction all of the journalist and furthermore backlink to web site won’t deemed a dilemma.
    Ray Bans Knock Offs http://www.51kara.com/mymessage.php?Nkey=4544