Original Articles Urdu Articles

ارجمند آراء کا مکتوب نئی دلّی سے

جب سے میں نے شعور کی آنکھیں کھولیں تب سے مجھے اس بات کا احساس ہے کہ ہر شخص ایک ایسی شناخت لے کر پیدا ہوتا ہےجو سماج نے اُس پر تھوپی ہے ، آپ لاکھ اپنی شخصیت کی تعمیرِ نو کرلیں، سماج نے آپ پر جو لیبل لگا دیا ہے اس سے فرار ممکن نہیں۔ میں بھی مسلمان ہونے کے لیبل کے ساتھ پیدا ہوئی اور پلی بڑھی ہوں۔ ہر طرح کے مسلمان اور ان کے رویےّ، وہ سارے لیبل اور خصوصاً منفی امیج جو ساری دنیا نے ان پر چسپاں کیے ہیں یا مسلمانوں نے خود ہی اپنے گلے میں لٹکالیے ہیں، میری پسند یا ناپسندکے بغیرمیری شناخت ہیں۔

 

شاید یہی میری پہلی، آخری اور مستقل پہچان ہے۔ چنانچہ جب مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان کا مشاہدہ ایک اکائی کے روپ میں کرتی ہوں تو کئی باران میں موجود طبقاتی فرق اور استحصال کے رشتے پس منظر میں چلے جاتے ہیں ۔ لیکن جب اپنی اپروچ کی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو پسِ دیوارِ چمن جھانکنے کی جسارت کرتی ہوں اور پاتی ہوں کہ پوری ہندستانی قوم کا احوال مسلمانوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں— معاشی، تعلیمی اور تہذیبی ہراعتبار سے — یہاں تک کہ سماجی لسانی رویےّ بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔

 

اگر مختلف ہوتے تو ہندی کی حمایت میں انگریزی کے بائیکاٹ کی تحریک چلاکر اسکولی بچوں کو اے بی سی ڈی سیکھنے تک سے محروم کرنے والے اتّر پردیش کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور مسلمانوں کے مسیحا ”ملّا “ملائم سنگھ یادو کے بچے ّ سینک اسکول (جہاں اعلیٰ طبقے کے بچوں کو انگریزی میں تعلیم دی جاتی ہے) اور غیر ملکی یونی ورسٹیوں (یقینا انگریزی میڈیم کی)  کے پروڈکٹ نہ ہوتے

زمین کے سپوت ’لالو‘ پرساد یادَو (بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور پس ماندہ طبقات کے مسیحا) اور گاوں میں بسے حقیقی ہندستان کی جائی ’رابڑی‘ دیوی (بہار کی وزیرِ اعلیٰ) کی بیٹی ایک زقند میں روہنی ’ آچاریہ ‘ بن کر سنسکرتی کرن کے عمل کا بے مثال نمونہ نہ بن گئی ہوتی ،کوئی دھنیا یا منیا ہوتی ؛ اردو کی حمایت میں ساڑھے بائیس لاکھ کی دستخطی مہم کے چلانے والے سابق صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹرذاکر حسین کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تاریخ کے پرچے کے اردو قالب میں آج ’حد‘ کی جگہ ’ہد‘ اور ’عروج‘ کی جگہ ’اروج‘ دیکھنے کو نہ ملتا

 

یہ ہے ہم ہندستانیوں کے عروج اور ترقی کی داستان — یہاں ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ جانے والے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے لیکن پیچھے رہ جانے والوں کی رگوں میں ہر لمحے ماضی کی افیون کا زہر اتارتے رہتے ہیں — یاد دلاتے ہیں کہ ہم نے شونیہ (صفر) ایجاد کرکے دنیا کو بِرہمانڈ (کائنات) کا گِیان دیا ہے، برہماستر (ہندستانی دیو مالا کا ایسا ہتھیار جس کا نشانہ کبھی نہیں چوکتا) کے روپ میں میزائل کی تکنیک مغرب کو دی ہے، سُسرت جیسا پہلا عظیم سَرجن دیا ہے، ایٹم کا ذکر ہمارے مقدس وَیدوں میں موجود ہے، ہماری تہذیب ساری تہذیبوں کی جَننی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

 

مذہبی اکائی کے روپ میں مسلمانوں کے ماضی کی داستان اور رویے بھی ہندو دیو مالائی تاریخ سے کچھ مختلف کہاں ہیں؟ دیکھیے —علم ِہندسہ ہم نے دیا، طبِ یونانی کے موجد ہم ، تحقیق کی روایت ہم نے ڈالی، مثالی حکومتیں ہم نے قائم کیں، فنِ تعمیر کے لازوال نمونے ہم نے دیے ، میر و غالب کی شاعرانہ عظمتوں میں ہمارا ہی عکس جلوہ گر ہے، اردو جیسی ثروت مند زبان ہم نے دی، وغیرہ، وغیرہ۔ یوں ہم تمام ہندستانیوں کا تشخص ایک ہی ہے —ایک سا ماضی، ایک سا حال —اور مستقبل؟ واللہ عالم بالصواب۔

 

قدیم قصوں میں ایک معروف قصہ ہے کہ ایک بار ایک شہزادہ ہزار دشواریوں کا سامنا کرتا، جناّتوں اور بدروحوں کا مقابلہ کرتا اپنی نیکی اور مستحکم ارادے کے سبب بزرگوں اور رشیوں منیوں کی دعائیں لیتا گوہرِ مقصود کی تلاش میں چلا جاتا تھا کہ چلتا چلتا ایک شہرِ ویراں میں پہنچا جہاں پتھر کے انسان جہاں تہاں ایستادہ تھے۔ وہ حیران و پریشان ابھی اس اسرار کو سمجھنے کی تگ ودو ہی کر رہا تھا کہ ایک بزرگِ باریش پر نظر پڑی۔ وہ ان کے قریب گیا اور بعد صاحب سلامت کے استعجاب کا اظہار کیا۔

 

اس کے استفسار پر بزرگِ باریش نے بتایا کہ تمھاری طرح یہ سب بھی گوہرِ مقصود کی تلاش میں یہاں آئے اور حمام ِ بادگرد کے سحر سے پتھر ہو گئے۔ بزرگ نے وارننگ دی کہ جب تم آگے بڑھوگے تو غولِ بیابانی تمھارا پیچھا کریں گے، تمھیں پکاریں گے۔ خبردار! پیچھے مڑ کر ہرگز نہ دیکھنا، ورنہ تم بھی پتھر ہو جاوگے۔ شہزادے نے ہدایت پر عمل کرنے کا وعدہ کیا، آگے بڑھا لیکن جب کسی کو اپنا نام لے کر پکارتے سنا ، وعدہ بھول گیا اور پتھر ہو گیا۔ کتنی سچی داستان ہے یہ! شہزادے کی نفسیات ہم میں سے ہر ایک کی نفسیات ہے اور آج ہماری ساری قوم پتھر ہو چکی ہے۔

 

حال کے المیوں سے چشم پوشی کرکے ہم سب کی نظر صرف ماضی پر ٹھہر گئی ہے، ہمارے جسم شل اور ذہن ماوف ہو چکے ہیں۔ یوں ہمارا کوئی حال نہیں، اور مستقبل پتھر ہے۔ اُس کو بھی کسی حاتم طائی کاانتظار ہے جو ایک دن آئے گا اور حمامِ باد گرد کے پنجرے میں قید طوطے کی آنکھ کو نشانہ بناکر ہم پتھر شہزادوں کو پھر سے انسان بنا دے گا۔ لیکن حاتم طائی کوئی مسیحِ موعود تو نہیں ہے کہ دوبارہ جنم لے گا؟

 

اس صورت میں ہم پتھر کے مجسّموں کے لیے ا مید کی کرن بس ایک ہی ہے۔ ہندستان کی مٹی مادرِ مہربان ہے۔ کوئی بات نہیں اگر ہم پتھر ہوگئے، یہاں راستے کے پتھروں تک کی پوجا ہوتی ہے، تو کیا ہماری قدر نہ ہوگی؟ کیوں نہیں، ضرور ہوگی لیکن کون جانے سالہا سال بعد اچانک پتا چلے کہ آپ تو مسلمان پتھر ہیں اور آپ عیسائی پتھر، آپ گوتم بدھ کے پیرو کار تھے اور آپ گرو نانک کے۔

 

تب آپ میں کیا اتنی سکت ہوگی کہ اپنے وجود کو بچا سکیں؟ کسی مذہبی جنون، کسی لسانی تعصب کی بجلی آپ پر گرے گی اور آپ بابری مسجد کی طرح زمیں بوس ہو جائیں گے، اچانک’ ’ولی دکنی‘ ‘سے” مسلمان‘ ‘ بن جائیں گے، ولی کے مزار کی طرح آپ کو مسمار کردیا جائے گا، آپ کے ذروں کو وطنِ عزیز کی فضاوں میں بکھرنے تک کا موقع نہیں دیا جائے گا کیوں کہ آپ پر بلڈوزر چلاکر زمین ہموار کردی جائے گی اور اس پر تارکول ڈال کرکنکریٹ کی پکی سڑک ہندوتوا کی فتح کے جھنڈے گاڑ دے گی۔

 

 ایسے میں آپ کس سے فریاد کریں گے، کس سے منصفی چاہیں گے؟ کیاایسے راجیو گاندھیوں سے جنھیں نئی نسل اور نئی نظر کا نمائندہ کہا جاتا ہے لیکن جو ملک کا مستقبل ڈھونگی جیوتشیوں کی پیش گوئیوں میں اور مچان پر بیٹھے اپنے حصاروں کے قیدی ،اندھ وِشواسی سادھووں سے لات کھا کر آشیرواد لینے میں تلاش کرتے ہیں؟ ان اٹل بہاری واجپائیوں سے جنھیں وزیرِ اعظم کے عہدے کا پاس نہیں اور جن کی پہلی شناخت ہندستان کے عوام اور آئین نہیں بلکہ سویم سیوک اور سنگھی ہونا ہے؟ ان نریندر مودیوں سے جن کو بے بس عوام کی حفاظت سے زیادہ پرچارک کے طور پر آرایس ایس کے ایجنڈے کا نفاذ عزیز ہے؟

 

ان فاروق عبداللہ ‏ؤں سے جن کی نظریں راشٹر پتی بھون تک کا سفر بے گناہوں اور معصوموں کی لاشوں سے گزر کر طے کرنا چاہتی ہیں اور جن کو ”میکبتھ “کی ڈائنوں کی اس پیش گوئی کا انتظار ہے جس کی روسے میکڈف کی آئندہ نسلوں کو راج پاٹ ملنے کی خوش خبری مل جائے گی ؟ سولی سوراب جی جیسے ان اٹارنی جنرلوں سے جو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ذمےّ دار عہدوں ہر مامور ہیں، عوام کے حقوق کی اور انصاف کی سر بلندی کی علامت ہیں لیکن جو وقت پڑنے پرعدالتِ عالیہ میں انصاف اور ایمان داری کے بجاے  His Master’s voice کو ذاتی نظریات کا نام دیتے ہیں ، گویا عدالتِ عالیہ کو ایک یہی تو شوق رہ گیا تھا ایودھیا میں شِلا پوجن جیسے حسّاس مسئلے پر سرکار کا موقف جاننے کے بجائے سرکار کے نمائندے کے ذاتی افکار سے بصیرت افروز ہونے کا؟

 

جی ہاں، تو کیا انصاف مانگنے آپ شہاب الدّین جیسے ان مسلم رہ نماو¿ں کے پاس جائیں گے جن کو اپنے فہم و ادراک کی پاسداری نہیں اور شریعتِ محمدی اور اجماعِ امت کی روح سے واقف ہونے کے باوجود، ابن الوقت کی طرح اپنی لیڈری چمکانے کے لیے جنھیں بوڑھی مطلقہ عورتوں کا سڑکوں پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنا مرغوب ہے،بجاے اس کے کہ وہ بے سہارا عورتیں دو جون عزت کی روٹی کھا کر عالمِ انسانیت کو شرمندہ ہونے سے بچالیں؟

 

شاید ان مسلم پرسنل لا بورڈوں کے پاس آپ انصاف کی دہائی دیں گے جو شریعت کے نام پر عورتوں کے استحصال کا حق حاصل کرنے کا سودا بابری مسجد کے تالے کھلوا کر کرتے ہیں، اور پھر جلتے ہوئے گجرات کے مسلمانوں کی لاشوں پر وزیرِ اعظم کے ساتھ فوٹو سیشن کرتے ہیں۔اخباروں میں ان کے دمکتے ہوئے چہرے بتا تے ہیں کہ یہ اہرمن سرکار کی کارکردگی سے پوری طرح خوش اورمطمئن ہیں۔ کتنے سچے ہیں اختر الایمان کے یہ الفاظ:

 

دلّی سے لاہور کے بازاروں کا فاصلہ کچھ اور بڑھا ہے

عشق کی سب راہیں ویران ہوئیں ، اب ہر جا خاک اڑتی ہے

جابر شاہوں کے تابوت ان کی قبروں میں گل کر خاک ہو گئے سب

لیکن ان کی روحیں دوسرے جسموں میں در آئی ہیں

کوچہ کوچہ قاتل مشعل لے کر گھوم رہے ہیں

(آثارِ قدیمہ)

 

حوالہ اسکینڈل، مویشی پروری (چارا ) گھوٹالا،بوفورس توپ سودا، تہلکہ ڈاٹ کام، کفن چوروں کے کمیشن کا معاملہ اور رشوت خوری جیسے اسکینڈلوں نے آج مجھ جیسے عام آدمی کو اس ذہنی کیفیت اور اعصابی تشنج میں مبتلاکردیا ہے جس میں یا تو سب ہسٹیریا کا شکار نظر آتے ہیں یا پھر لگتا ہے کہ ہم ہی پاگل ہو گئے ہیں۔ یا شاید استحصال اور کرپشن تو ہر زمانے میں یوں ہی رہا ہے، لیکن آج انفارمیشن کے وسائل نے عام آدمی کی ان لعنتوں تک رسائی کرکے اس کا جینا محال کردیا ہے۔ بے خبری یقینا کسی نعمت سے کم نہیں

 

غلامی کے دور میں عام ہندستانی آزادی کی لڑائی اس امّید پر لڑ رہا تھا کہ انگریز حکومت کے خاتمے کے ساتھ ایک استحصالی نظام کا خاتمہ ہوجائے گا، سوراج ملے گا تو مساوات آئے گی، سب کو انصاف ملے گا، سب کے حالات سدھریں گے۔ آزادی ملے ۵۵ سال ہونے کو آئے۔ کتنے لوگوں کو پیٹ بھر روٹی ملتی ہے، دلی جیسے مرکزی شہروں تک میں کتنے لوگوں کو پینے کا پانی میسر ہے؟ کتنے فی صد لوگ حرف شناس ہیں (تعلیم یافتہ ہونے کی بات تو بعد کی ہے) ؟ کتنے ڈگری یافتہ نوجوانوں کو روزگار ملا ہے؟ کتنے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے کاروبار اور صنعتیں پھلی پھولی ہیں؟ اتنے برسوں میں کیا ہمارے غریب بالکل کنگال نہیں ہو گئے ہیں؟

 

کیا ایسے ہی معاشرے کا تصور ہمارے رہنماوں نے کیا تھا؟ جمہوریت اور سماجی انصاف کی اقدار، مساوات ، سماجی بہبود اور سیکولرزم کے نصب العین کو حاصل کرنے کا جو خواب آئین کی آنکھوں میں سجایا گیا،کیا وہ کبھی پورا ہوگا؟ سوال چیخ رہے ہیں لیکن ان کی چیخ ایڈورڈ منک کی پینٹنگ ’دی اسکریم‘ میں غصے اور کرب سے بیتاب ہوکر پوری قوت سے چیختی ہوئی اس نوجوان لڑکی کی چیخ کے مانندہے جس کی آواز کسی تک نہیں پہنچتی۔ اس کے مقابلے میں بنیاد پرستی ، فرقہ وارانہ تعصب اورسیکڑوں قسم کے علاقائی، لسانی اور مذہبی تعصبات نے جتنا فروغ پایا ہے اس کے ثبو ت تو ہر روز ہی فراہم ہوتے رہتے ہیں۔

 

بہروں کو سنانے کے لیے انقلاب کے متوالے بھگت سنگھ اور اس کے رفیقوں نے اسمبلی ہال میں بم پھوڑا تھا اور پمفلٹ بانٹے تھے تو اس کے مقدمے کی گونج تمام ملک میں سنائی دی تھی، آزادی کے لیے ایک نیا ولولہ لوگوں میں پیدا ہوا تھا، حکومت کے ایوان لرز اٹّھے تھے۔ آج کے بہروں تک اپنی بات پہنچانے کی ہمت کس میں ہے، اس کے لیے کون سی حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی!! آج کون سا بھگت سنگھ آگے بڑھ کر جھوٹی اور سطحی سیکولرزم ،نقلی جمہوریت اور فاشسٹ رویوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرے گا؟

 

جی ہاں یہ ذمے داری تو ہم سب کی ہے مگر بارش کا پہلا قطرہ کوئی نہیں بننا چاہتا۔ بلّی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا خطرہ آخر کوئی کیوں مول لے؟ ہاں جن کو خوف ہے کہ یہ عصبیتیں انھی کو سب سے پہلے لقمہ اجل بنائیں گی، وہ بھی اگر آواز بلند کرنا نہیں چاہتے تو پھر انجام معلوم ہے اور انتظار کی گھڑیاں محدود۔ گذشتہ دنوں گجرات کے حوالے سے اخبارات میں شائع ہونے والے بہت سے مضامین میں مارٹن نیمولیرکے الفاظ نقل کیے گئے ہیں۔ یہاں انھی کو دہرانے پر اکتفا کروں گی:

 

 جب وہ کمیونسٹوں (کو مارنے )کے لیے آئے

میں نے احتجاج نہیں کیا کیوںکہ میں کمیونسٹ نہیں تھا

جب وہ سماجی جمہوریت پسندوں کے لیے آئے

تو میں نے احتجاج نہیں کیا

کیوں کہ میں سماجی جمہوریت پسند نہیں تھا

وہ جب یہودیوں کے لیے آئے

تب بھی میں نے احتجاج نہیں کیا

کیوں کہ میں یہودی نہیں تھا

پھر وہ میرے لیے آئے

تب کوئی احتجاج کرنے والا نہیں بچاتھا۔

 

کیا اسی صورتِ حال کا انتظار ہم بھی کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو پھرآواز بلند کرنی ہی ہوگی۔ یہ جنگ کئی سطحوں پر لڑنی ہوگی۔ کہتے ہیں کہ ادب اپنے معاشرے کا عکاس ہوتا ہے۔ اس دورِ رستخیز کی عکاسی ہندستان کے کتنے ادیب کس حد تک اور کتنے موثر ڈھنگ سے کر رہے ہیں یہ موضوع اپنے آپ میں مفصل تجزیے کا متقاضی ہے۔ دانش وروں اور تخلیق کار وں کو رہنما کہا جاتاہے، سماجی انصاف، بہترین اقدار کا سرچشمہ کہا جاتا ہے، مظلوموں کا حامی اور سسکتی انسانیت کا وکیل کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ حسّاس ہوتے ہیں،ان کا شعور زیادہ بیدار ہوتا ہے اور ان کی نظریں زیادہ دوررس ہوتی ہیں ۔

 

ہمارے کتنے ادیب اور دانش ور اپنی ذمے داریوں کو سمجھتے ہیں؟ بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کتنے جینون ادیب ہمارے پاس ہیں،کوئی دانش ور ہے جو راہ سُجھائے؟ صورتِ حالات یہ ہے کہ اردو کا کوئی بھی معیاری رسالہ، مجلہ اٹھا کر دیکھ لیں، اگر آپ اس میں معاصر معاشرے کا عکس تلاش کرنا چاہیں ، ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنا چاہیں جو آپ کی روح کو بے قرار رکھتے ہیں تو بیشتر صورتوں میں مایوسی ہی ہاتھ لگے گی۔ وہی گھسی پٹی گروہ بندیاں، کہیں ترقی پسندی کو گالیاں تو کہیں جدیدیت کی مخالفت ۔

 

مخالفت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ہوڑ میں رجعت پسندی اور فاشسٹ رویو ں سے بھی گریز نہیں۔ اول جلول ادبی تھیوریوں اور لا یعنی بحثوں میں گھرے ہمارے ادیب اورر دانش ور اپنے اپنے جزیروں کے قیدی ہیں، خود ہی قیدِ تنہائی کا طوق گلے میں پہنے اپنے اپنے مفادات کے حساب سے ادب کے کیننائزیشن میں مصروف ہیں۔ شخصی وفاداریوں اور ذاتی چشمکوں اور رنجشوں کو باقاعدہ تحریکوں کا نام دیا جا رہا ہے۔ یا الٰہی یہ کیسا ادب ہے، یہ کیسی حسّیت ہے، یہ کیسے تخلیقی روبے ہیں!! میرا ور غالب کی عظمتوں کو سلام کرنے کے لیے اردو کے عشق میں گرفتار ہونے والا ایک غیر اردو داں اگر ہمارے ان رجحانوں سے دوچار ہوگا تو کیا اردو کو ڈی لرن کرنے کے بارے میں نہ سوچے گا؟

 

ہمارے لہو میں ہرے، لال، پیلے بہت سارے پرچم گھلے ہیں

کہیں سے مگر حق کی آواز آتی نہیں ہے

ہماری زباں دل کی ساتھی نہیں ہے

 (اخترالایمان کی نظم ’میرادوست—ابوالہول‘)

 

ہمارا معاشرہ ہرے، لال، پیلے پرچموں کے تلے اپنے ہی خلاف صف آرا ہے۔ اگر اس کی سلامتی ہمیں منظور ہے تو ایک طرف اگر مذہبی انتہا پسندی، فرقہ وارانہ تعصب اور گروہی وفاداریوں سے اوپر اٹھ کر ہر کمزور طبقے، ہر مظلوم کی حمایت میں پیش قدمی کرنا ہوگی تودوسری طرف اپنے اندر موجود کالی بھیڑوںکو پہچان کر ان کوآئسولیٹ کرنا ہوگا جو تعصب اور فرقہ پرستی کا زہر ہم سب کی رگوں میں مختلف حیلوں سے اتار رہی ہیں، ہمارے کمزور لمحوں اور آزمائش کی گھڑیوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ یقینا یہ بہت مشکل کام ہے مگر کام تو کرنا ہی ہوگا، وجود کا سوال اس سے وابستہ جو ہے۔

 

اپنے اس شعور کو بیدار کرنے کے لیے ہمیں نہ صرف تعلیم کی جانب متوجہ ہونا پڑے گا بلکہ اپنے تعلیمی نظام کو ازسرِ نو مرتب کرنا ہوگا جو واقعی ان مسائل کا ادراک ہمیں کرا سکے جن پر غور کرنا ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے۔ مسائل بہت ہیں، کام بہت پھیلا ہوا ہے مگر کوئی اور چارہ بھی تو نہیں۔ یہ چیلنج اقلیتوں خصوصا ًمسلمانوں کو زیادہ شدومد سے درپیش ہے ، انھی کو آگے بڑھ کر مثبت قدم اٹھانے میں پہل کرنی ہوگی کیوں کہ ان ساری عصبیتوں کا خمیازہ بھی انھی کو سب سے زیادہ بھگتنا پڑاہے۔ اپنے لیڈروں کی جذباتی تقریروں اور اپنے اخباروں کی اشتعال انگیز تحریروں سے متاثر ہو کر خود ترسی میں مبتلا ہونا اور اپنی حمایت کے لیے سیکولر ہندووں کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

 

ایسا کرنے سے ہمارے تعلیمی اور معاشی مسائل حل نہیں ہو جائیں گے۔ ملکی اور قومی ترقی کے عمل میں ناکارہ عضو سے کام لینا نہیں چھوڑا جا تا بلکہ ایسی تدبیریں کرنی ہی ہوتی ہیں کہ کمزور طبقہ سماجی عمل میں بھر پور شرکت کر سکے۔ مسلمانوں کے بیشتر بنیادی مسائل دوسرے فرقوں کے ، یہاں تک کہ اکثریتی فرقے تک کے مسائل سے جدا نہیں ہیں، اس بات کو سمجھنے اور اسی فہم کے ساتھسماجی تعامل کا حصہ بننے کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

 

(ارجمند آراجواہر لال نہرو یونیورسٹی میں استاد ہیں اور انہوں نے رالف رسل کی آب بیتی کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے )