Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ تعمیر پاکستان: نواز شریف کی ثالثی کمیٹی طالبان بچاؤ پروجیکٹ کا حصہ ہے

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ 9-ماہ لاشیں اٹھانے کے باوجود وہ طالبان سے مذاکرات کریں گے اور انہوں نے اس سلسلے میں چار رکنی مذاکراتی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں ان کے معاون خصوصی عرفان صدیقی،دی نیوز کے پشاور میں تحقیقی مدیر رحیم اللہ یوسف زئی ،سول(ر)افسر رستم مہمند اور آئی بی کے سابق افسر میجر عامر شامل ہیں

میاں محمد نواز شریف نے یہ اعلان قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران کیا

(اس تقریر کے بارے میں قومی اسمبلی کی پریس گیلری میں یہ یہ خبر گردش کررہی تھی کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی تقریر ان کے معاون خصوصی عرفان صدیقی نے لکھی اور اپنا نام بھی مجوزہ کمیٹی میں شامل کرڈالا)

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف آٹھ ماہ میں تیسری مرتبہ قومی اسمبلی میں تشریف لائے تھے کیونکہ اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کی طرح وہ اسمبلی میں بیٹھ کر اپنا وقت ضایع کرنا مناسب خیال نہیں کرتے

میاں محمد نواز شریف کے قومی اسمبلی میں خطاب اور اس دوران ملک میں جاری دھشت گردی کی بدترین لہر پر ان کے آئیندہ کے لائحہ عمل کے اعلان کو ملے جلے رد عمل کے ساتھ دیکھا جارہا ہے

ان کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کو ایک مرتبہ پھر ترجیح دئے جانے کی تجویز پر داد و تحسین کے ڈونگرے پاکستان میں ان لوگوں کی جانب سے برسائے جارہے ہیں جو خارجی،تکفیری دیوبندی برانڈ طالبانی فاشزم اور اس کے سائے کے ساتھ ساتھ چلنے والی دھشت گردی کی حمائت کرتے ہیں

یہ عناصر وہ ہیں جو ابھی ایک دن پہلے میاں محمد نواز شریف کو بے اختیار،بے بس اور امریکی دباؤ کے آگے جھک جانے والا ملکی سربراہ قرار دے رہے تھے

مولانا فضل الرحمان ،مولانا سمیع الحق،عمران خان،منور حسن یہ سب کے سب بظاہرمیاں محمد نواز شریف کے خلاف نظر آرہے تھے (اب میاں نواز شریف کی تعریف کررہے ہیں)کیونکہ وجہ صاف دکھائی دے رہی تھی کہ خود فوج کی قیادت ایف سی،فوج پر ہونے والے پے در پے حملوں کی وجہ سے اپنے افسران اور سپاہیوں کے دباؤ میں آگئی تھی اور ان وہاں سخت ردعمل موجود تھا

اس ردعمل اور غصّہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے فوج نے پہلے تو شمالی وزیرستان میں خوب بمباری کی اور بلوچستان کے اندر لشکر جھنگوی کے خلاف آپریشن کے نام پر بلوچ مزاحمت کاروں کو سبق سکھانے کا موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیا

اس لمحے میں میاں محمد نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے بھی پوری اداکاری کا ثبوت دیا اور ان کی جانب سے یہ تاثر پختہ کیا گیا کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت اب دھشت گردوں کو کوئی موقعہ نہیں دے گی اور پوری طرح سے آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں

صوبہ پنجاب میں وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے تو ایک برطانوی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے بلکہ پنجاب میں بھی طالبان کے ٹھکانوں پر آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ آپریشن فوج ،پولیس اور دیگر سیکورٹی افسران کی نگرانی میں ہوگا

گویا پاکستان کے اندر تکفیری خارجی دیوبندی-وہابی فاشزم کے علمبردار اور اس کے حامی ملکر ایک ڈرامہ رچائے ہوئے تھے اور اس کا مقصد پاکستان کے اندر تکفیری خارجی دیوبندی وہابی فاشزم کے خلاف بننے والی متفقہ رائے عامہ کو سبوتاژ کرنا اور اس دوران حکومت اور سیکورٹی فورسز کی قیادت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو خارج کرنا تھا

تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے اپنے انگریزی اور اردو اداریوں میں واضح طور پر نشاندھی کی تھی کہ شمالی وزیرستان آپریشن اور فوج و طالبان کے درمیان جنگ ایک نورا کشتی ہے اور ریاست کے اداروں میں “تزویراتی گہرائی اور چہادی پراکسی” کے حامی کسی صورت بھی تکفیری-خارجی دیوبندی وہابی آئیڈیالوجی کے جھنڈے تلے ابھرنے والی عسکریت پسندی کو ختم ہونے نہیں دینا چاہتے

مولانا فضل الرحمان نے میاں نواز شریف کی تقریر کے جواب میں قومی اسمبلی میں جو تقریر کی اس تقریر کے بہت سے نکات ایسے ہیں جو کافی کچھ بتانے کے لیے کافی ہیں

فضل الرحمان نے فوج کی ڈاکٹرئن جس میں پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ سب سے زیادہ اندرونی ہے پر تنقید کی اور کہا کہ “اپنوں”کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ خیال کیا جانا ٹھیک نہیں ہے

اصل میں پاکستان کی عسکری قیادت میں بہت تھوڑے افسران ایسے ہوں گے جو تحریک طالبان سمیت دیوبندی اور وہابی تکفیری خارجی دھشت گردوں کو ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ خیال کئے جانے والے عناصر میں شمار کرتے ہوں گے

اگر ایسا ہوتا تو پاکستان کی عسکری قیادت کبھی بھی لشکر جھنگوی کے لوگوں کو لشکر طیبہ کی طرح بلوچستان میں پراکسی وار لڑنے کے لیے استعمال نہ کرتی اور اچھے برے طالبان کی تقسیم نہ کی جارہی ہوتی

حال ہی میں کالعدم جیش محمد کی پورے پاکستان میں تنظیم نو نہ ہوتی اور اس تنظیم کی جانب سے مظفرآباد کشمیر میں طاقت کا مظاہرہ نہ ہوتا جہاں پر ایک جلسے سے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر نے ٹیلیفونک خطاب کیا اور اس کے بھائی اصغر نے جلسے کی صدارت کی

http://www.dawn.com/news/1083011/banned-group-holds-rally-in-muzaffarabad

جیش محمد نہ صرف شیعہ برادری کے قتل میں ملوث ہے بلکہ یہ عیسائی برادری کے گرجاگھروں پر حملے،پاکستان سنّی تحریک کے بانی صدر سلیم قادری اور کئی اہم سنّیبریلوی رہنماؤں کے قتل میں ملوث رہی ہے

میاں محمد نواز شریف نے جس چار رکنی ثالثی کمیٹی کا اعلان کیا ہے اس میں رحیم اللہ یوسف زئی وہ صحافی ہے جو اصل میں ضیاءالحق کے آمرانہ دور میں امریکی سپانسرڈ جہاد کے دوران افغانستان کے حوالے سے سوویت یونین کے خلاف پروپیگنڈا خبروں اور دیوبندی-وہابی تکفیری جہادیوں کے حق میں جانے والی من گھڑت خبروں کی وجہ سے نمایاں ہوا اور یہ بعد میں فوج،آئی ایس آئی کے ساتھ جڑ گئے اور ساتھ ساتھ انہوں نے طالبان کو آئیڈیلائز کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا

رحیم اللہ یوسف زئی دیوبندی تحریک طالبان کا پسندیدہ صحافی ہے اور یہ حقانی نیٹ ورک کے بھی بہت قریب رہا ہے جبکہ اس کا طالبان کے نئے سربراہ ملاّفضل اللہ کے ساتھ گہرا سمبندھ ہے

میجر (ر)عامر اور رستم مہمند آئی ایس آئی کے پرانے نمک خوار اور آئی ایس آئی میں تزویراتی گہرائی جیسی پالیسیوں کے خالق اور محافظوں کی صف میں ان کا اہم مقام رہا ہے

عرفان صدیقی کا نام زیب داستاں کے لیے آگیا ہے جبکہ اس کی نوکری نواز شریف خاندان کی جوتیاں سیدھی کرنا اور اپنی نوکری پکی کرنا ہے جبکہ اس کی ضیاءالحقیت سے بیعت کا ایک زمانے کو پتہ ہے

تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے بانی چیف ایڈیٹر عبدل نیشاپوری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیوٹر پر اپنے اکاؤنٹ پر اس کمیٹی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ٹھیک لکھا ہے کہ

“اس کمیٹی کی ساخت ہی ظاہر کرتی ہے کہ نواز شریف نے پاکستان کے شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے دیوبندی تکفیری خارجی طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کا خون بیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے”

تعمیر پاکستان ویب سائٹ مسلم لیگ نواز کی قیادت میاں محمد نواز شریف ،شہباز شریف اور ان کے رائٹ ہینڈ رانا ثناءاللہ اور چوہدری نثار علی خاں کے بارے میں ایک عرصہ سے یہ لکھتی آرہی ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے اشارے پر مسلم لیگ نواز کو خارجی،تکفیری دیوبندی،وہابی برانڈ آئیڈیالوجی کے محافظ میں بدل ڈالا ہے اور میاں نواز شریف اس فکر اور اس کے ماننے والوں کا سیاسی چہرہ ہے

آج میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی میں جو موقف اختیار کیا وہ “تعمیر پاکستان ویب سائٹ”کے تجزئے کی تائید ہے

پاکستان میں خارجی تکفیری فاشزم کی علمبردار دیوبندی اور وہابی جماعتوں اور اس فاشزم کو ایک پراکسی کے طور پر استعمال کرنے والی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کو لیکر چلنے والی عسکری قیادت اور ان کی حمائت سے پاکستان کی پارلیمانی سیاست پر حاوی ہونے والی سیاسی جماعتیں جن میں مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی سرفہرست ہیں ایک زبان ہوکر 50 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کے قاتلوں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں

جبکہ دوسری طرف پاکستان میں سیکولر،لبرل،ڈیموکریٹک،روشن خیال اور بائیں بازو کی ترجمانی کرنے کی دعوے دار سیاسی جماعتوں کی قیادت کا حال یہ ہے کہ ان کے آپس میں بیانات ہی نہیں مل پارہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نواز شریف کو پاکستان کا چیمبرلین کہتے ہیں تو اس پارٹی کا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نواز شریف کو اپنے تعاون کا یقین دلاتا ہے

جبکہ نام نہاد سول سوسائٹی اور فیک لبرل بھی نواز شریف کے گن گاتے نظر آتے ہیں

گویا اس ملک میں دیوبندی تکفیری خارجی فاشزم اور اس کے سائے میں ابھرنے والی دھشت گردی کا نشانہ بننے والے شیعہ،بریلوی،ہندؤ،عیسائی،احمدی،سول و ملٹری فورسز کے نوجوان سب کے نکتہ نظر کی ترجمانی کرنے والا پارلیمنٹ میں کوئی نہیں ہے

یہاں سب یا تو طالبانی فاشزم کے ترجمان یا ان کے لیے عذر تلاش کرنے والے ہیں اور ان سے مذاکرات کے لیے کوئی صلح حدبییہ کی مثال ڈھونڈ کر لاتا ہے تو کوئی فتح مکّہ کے موقعہ پر عام معافی کا اعلان ڈھونڈ لاتا ہے اور آج اس کی گونج قومی اسمبلی میں بھی سنائی دی

جبکہ خارجیت،تکفیریت کے خلاف جو ارشادات اور جو اسوہ رسول کریم ،اصحاب رسول اور خلفائے اسلام نے اختیار کیا اس بارے ان سب نے لب سی رکھے ہیں

گویا یہاں سب تشریحات اور تعبیرات کا ٹھیکہ بھی خارجی تکفیری دیوبندی اور وہابی مولویوں کو دے دیا گیا ہے

پاکستان میں تکثیریت کی رہی سہی ثقافت کو دفن کرنے کے سامان پیدا ہورہے ہیں اور آنے والے دنوں میں غیر دیوبندی و وہابی مسالک اور آئیڈیالوجیز کے لیے جگہ ختم ہوتی نظر آرہی ہے

شیعہ نسل کشی بہت تیزی سے بڑھتی جارہی ہے اور پاکستان کا مین سٹریم میڈیا اس سے آنکھیں چرارہا ہے اور وہ دھشت گردوں کی مسلکی وابستگی اور ان کی دھشت کے پس پردہ کارفرما فکری اور نظریاتی شناخت کو بھی چھپانے کی کوشش کررہا ہے

تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی ادارتی ٹیم اس نازک وقت میں اپنا فرض خیال کرتی ہے کہ وہ پورے سچ کو بیان کرتی رہے اور جس چیز کو سب ملکر چھپانے کی کوشش کررہے ہیں اس کو بیان کرتی رہے

About the author

Aamir Hussaini

4 Comments

Click here to post a comment