Featured Original Articles Urdu Articles

ملائی اپارتھائیڈ حکومت کا اگلا نشانہ عیسائی ہیں-خصوصی رپورٹ

Muslim demonstrators chant slogans outside Malaysia's Court of Appeal in Putrajaya, outside Kuala Lumpur 14 October 2013

ملائیشیا میں جب سے مسلم ملآئی پارٹی کی حکومت بنی ہے تب سے نسل پرستانہ اور مذھبی تعصب میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے

مسلم ملائی پارٹی بنیادی طور پر تکفیری وہابی خارجی نظریات کے زیر اثر ہے اور اس پارٹی پر سعودی عرب کا اثر رسوخ بھی بہت زیادہ نظر آتا ہے

مسلم ملائی پارٹی نے برسراقتدار آنے کے ساتھ ہی سب سے پہلے چینی نژاد،ہندوستانی نژاد اور پاکستانی نژاد ملائی باشندوں کو نسلی تعصب کا نشانہ بنانا شروع کیا

پھر اس پارٹی کی حکومت نے احمدی مذھب کی پریکٹس کو غیر قانونی قرار دے ڈالا

اس کے بعد شیعہ مسلک کو ایک غیر اسلامی فرقہ قرار دیتے ہوئے ملائیشیا میں مذھب تشیع پر عمل پر پابندی لگاڈالی

ملائیشیا میں مسلم ملائی پارٹی کے تکفیری خارجی نظریات کے زیر اثر صوفی سنّی مسلک کے شعائر پر بھی حملے کئے جارہے ہیں

مسلم ملائی پارٹی کی حکومت کی جانب سے اب تازہ ترین مذھبی جبر کا نشانہ سباح اور سرواک صوبوں میں رہنے والی عیسائی آبادی ہے

مسلم ملائی پارٹی کی حکومت نے اس مذھبی جبر کا سلسلہ اس وقت شروع کیا جب اس نے ملائی زبان میں عیسائیوں کی مقدس کتاب بائبل کے 30 ہزار نسخوں کو تقسیم کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ اس میں گاڈ کی جگہ اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے

جبکہ ملائی پارٹی کی حکومت نے کتھولک اخبار”دی ھیرالڈ ” کو عیسائی مذھب کے اندر گاڈ کو اللہ لکھنے سے بھی روک دیا

ملائی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف “دی ھیرالڈ ” اخبار کے مدیر نے کوالالمپور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور اس عدالت نے ملائی حکومت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے ڈالا

ملائی حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ چلی گئی جہاں سپریم کورٹ کے چیف کورٹ نے ہیرالڈ کو عیسائیوں کے خدا کے لیے اللہ کے لفظ کے استعمال کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھا اور عیسائیوں کو اپنے خدا کے لیے اللہ کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا

ملائیشیا میں اس وقت سرکاری فتوی کونسل،ملائی عدالتیں،ملائی اسمبلی اور ملائی حکومت اور اس کی فورسز صوفی سنّی،شیعہ،احمدی،ہندؤ کمیونٹی کے خلاف مذھبی جبر کو نافذ کرنے اور ان کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے سے روکنے کے لیے سرگرم ہیں

ملائیشیا میں ملائی آبادی کی اکثریت ہے اور اس آبادی کے اندر اس وقت وہابی خارجی تکفیری آئیڈیالوجی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملائی آبادی کے اندر وہابی فکر کے نفوز کی سب سے بڑی وجہ سعودی برانڈڈ اسلام اور تبلیغی جماعت کا بڑھتا ہوا اثر ہے جو دیوبندی مسلک کی جماعت ہے

موجودہ ملائی حکومت چینی نژاد ،ہندؤستانی نژاد باشندوں اور مسلکی اعتبار سے شیعہ،صوفی سنّی ،احمدی،عیسائی اور ہندؤں کے بارے میں وہی موقف اختیار کرتی نظر آرہی ہے جو برما میں روہینگا مسلمانوں کے بارے وہاں کے بدھسٹ مونک نے اختیار کررکھا ہے

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کہا ہے کہ ملائیشیا سے پاکستانی،ہندوستانی و بنگلہ دیشی نژاد شیعہ،احمدی ،ہندؤ اور عیسائیوں کی نقل مکانی کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے

ملائیشیا کے صوبے صباح کے ایک کرسچن رہنماء کا کہنا ہے کہ ملائی حکومت کے متعصبانہ فیصلے سے ملائیشیا میں مذھبی ہم آہنگی کو سخت نقصان پہنچا ہے اور مساجد و چرچ پر حملوں کی شرح میں یک دم اضافہ ہوگیا ہے

تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے خیال میں ملائیشا کی حکومت ایک آپارتھائیڈ رجیم ہے جو ملائیشیا میں سنّی صوفی،شیعہ،احمدی،ہندؤ،چینی نژاد ملائی آبادی پرنسلی و مذھبی جبر روا رکھے ہوئے اور ریاستی طاقت کو اس جبر کو آئینی اور قانونی حثیت میں بدل رہا ہے

تعمیر پاکستان ویب سائٹ اپارتھائیڈ ملائی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ سے پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتی ہے