Featured Original Articles Urdu Articles

شیعہ اورسنی بریلوی مسلمانوں کے خلاف پولیس اور تکفیری دیوبندی طالبان کا گٹھ جوڑ – از حق گو

2013106155510

کراچی پولیس اور ان کے آفیسرز پر آے روز دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کی جانب سے حملے ہونا ایک معمول کی بات ہے – حال ہی میں سی ائی ڈی کے ایس ایس پی چودھری اسلم پر ہونے والا حملہ اور ابھی جب میں یہ الفاظ لکھنے میں مصروف ہوں تو ابھی بھی کراچی میں چھ پولیس والے سپاہ صحابہ طالبان کے تکفیری دہشت گردوں کی دہشت گردی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور کچھ زخمی حالت میں ہسپتال میں اپنی زندگی کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں

حیران کن طور پر کراچی پولیس کی طرف سے آج ایک اقدام دیکھنے میں آیا جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا – کراچی پولیس کے افسر راجہ عمر خطاب جو خود کافی عرصے سے تنزلی اور دباؤ کا شکار ہونے کے باوجود چودھری اسلم کی پوزیشن پر نظر رکھے بیٹھے تھے انہوں نے ” دہشت گردوں ” کا ایک نیٹورک بے نقاب کیا ہے – اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان تمام ” دہشت گردوں ” کا تعلق انہوں نے ایک خیالی اور فرضی نام پر مبنی تنظیم کے سر پر ڈالا ہے – فرضی اور خیالی اس لئے کہ موجودہ دور میں اس تنظیم کا وجود اور نام سواے سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے اخبار امّت ان کے رسائل اور راجہ عمر خطاب کے بیان کے علاوہ کہیں نہیں ملتا

کراچی میں جاری قتل و غارت گری میں سب سے زیادہ نقصان شیعہ اور بریلوی مسلمانوں کا ہوا ہے جن کو چن چن کر اور کبھی بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا ہے جن میں پولیس والے بھی شامل ہیں اور ان سب کو قتل کرنے والے لوگ ایک گروہ سپاہ صحابہ طالبان سے تعلق رکھتے ہیں – لیکن اس کے باوجود پولیس کی طرف سے آے روز کبھی سنی بریلوی مسلمانوں اور شیعہ مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کرنا یا اغوا کرنا اور ان پر ان کے اغوا کے بعد ہونے والے دہشت گردی کی واقعیات کی ذمہ داری ڈالنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے حامی نہ صرف فوج اور حکومت بلکہ پولیس میں بھی اپنے پر پھیلا چکے ہیں

حال ہی میں شیعہ سنی مسلمانوں کی جانب سے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردانہ کاروائیوں خاص طور پر مستونگ میں زائرین کی بس پر کیے جانے والے حملے کے رد عمل میں کیے جانے والے دھرنوں کے بعد ریاستی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں اور بھیڑیوں نے شیعہ مسلمانوں کو دبانے کے لئے یہ حربہ ایک بار پھر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے

طالبان کی جانب سے چودھری اسلم پر حملے کی ذمہ داری وہ شگاف الفاظ میں قبول کرنا اور پولیس پر آیندہ بھی حملے کرنے کا عندیہ دینے کے بعد پولیس کی جانب سے بے گناہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف کی جانا والی یہ گھناونی کاروایاں اور شیعہ مسلمانوں پر چودھری اسلم پہ حملے الزام یقیناً یہ بات ثابت کر رہی ہیں کہ راجہ عمر خطاب پولیس کی وردی میں رہ کر طالبان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے

جس شخص پر چودھری اسلم پر حملے اور مختلف شخصیات کے قتل کا الزام ڈالا جا رہا ہے وہ دسمبر میں پولیس کی ایک ٹیم کی جانب سے اغوا ہوا تھا جس کی سربراہی راجہ عمر خطاب خود کر رہا تھا – اور اس کے اغوا کے بعد اس شخص کی بیوی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں اس کے شوہر یعنی جوہر حسین کو پولیس کی غیر قانونی گرفتاری سے بازیاب کرنے کی درخواست بھی دائر کی گیی تھی اور راجہ عمر خطاب نے جوہر حسین کی رہائی کو دو لاکھ روپے سے مشروط کیا تھا – جس کی تفصیلات یہاں دیکھی جا سکتی ہیں

http://www.dailytimes.com.pk/sindh/09-Jan-2014/wife-demands-immediate-release-of-illegally-detained-husband

ایک اور حیران کن بات یہ کہ پولیس کی جانب سے جن شیعہ نوجوانوں کو دہشت گرد بتایا جا رہا ہے وہ کیی ہفتوں پہلے اور مہینوں پہلے ہی اپنے گھروں سے لاپتا ہیں جن کو پولیس نے غیر قانونی طور پر اغوا کر کے نہ معلوم مقامات پر رکھا ہوا تھا – اور پھر شیعہ ” دہشت ” گردوں کی تصویریں جاری کرنا جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا حتی کہ کبھی سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کی تصوییں جاری نہیں کی گیں لیکن پولیس کی جانب سے بے گناہ شیعہ نو جوانوں کا اغوا اور پھر ان پر جھوٹے مقدمات بنا کر ان کی تصویریں جاری کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پولیس اس وقت سپاہ صحابہ طالبان کے حامیوں (جو کے فوج سمیت ہر ادارے میں موجود ہیں ) ان کے دباؤ میں آ کر شیعہ مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا میں مصروف ہے جس کا فائدہ بل آخر تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کو ہوگا – اور اس کی قیمت پولیس سمیت سب پاکستایوں کو چکانی ہوگی –