Featured Original Articles Urdu Articles

خارجیت کا قدیم تکفیری ڈسکورس اور عصر حاضر کی دیوبندی تکفیری خارجیت کے باہمی رشتے

FACTORIES

تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے مسلم دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص مذھبی بنیادوں پر ہونے والی دھشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں اور ان کے لیےعذر تراش کرنے والے نظریہ سازوں کے بارے میں جب دیوبندی خارجی تکفیری وہابی جیسی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی اور اس پر اصرار بھی کیا تو اس پر فرقہ پرستی کا الزام لگنے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ہمیں کہا گیا کہ اس سائٹ کی ادارتی ٹیم اور معاون لکھاری دیوبندی،وہابی سلفی فرقوں کے ہاں سے اٹھنے والی عسکریت پسندی کو خارجیت اور تکفیریت کے ساتھ غلط جوڑ رہے ہیں

تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے خلاف یہ پروپیگنڈا اور اعتراضات کو ایک منظم طریقے سے پھیلانے والوں کا تعلق ان لوگوں سے تھا جو خود بھی خارجی اور تکفیری نظرئیے سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن بظاہر وہ لبادہ اہل سنت کا اوڑھے ہوئے ہیں

تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی جانب سے اس اصطلاح کے استعمال پر ان لوگوں نے بھی بہت شور کیا جن کو اس ویب سائٹ نے جعلی،کاغذی ،فیک سول سوسائٹی،نام نہاد لبرل کے طور پر بے نقاب کیا اور ان کی اسٹبلشمنٹ نوازی اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے اندر بیٹھی تکفیری خارجی آئیڈیالوجی کی حامل لابی سے تنخواہیں وصول کرنے کی عادت کو بے نقاب کیا

(نجم سیٹھی،اعجاز حیدر ،رضا رومی،ماروی سرمدوغیرہ اس جعلی فیک لبرل دانشوری کی اہم مثالیں ہیں)

اس اصطلاح نے بہت سے غلط اور گمراہ کن مفروضات کا ابطال کرنے میں مدد دی جیسے تکفیری خارجی بنیادوں پر ہونے والی دھشت گردی کو ایران-سعودیہ جھگڑے اور پراکسی کا نتیجہ قرار دینے کا مفروضہ تھا

اس پروپیگنڈے کے تحت مین سٹریم میڈیا ایک طرف تو دھشت گردوں کو دیوبندی تکفیری خارجی لکھنے اور ان کا نشانہ بننے والے کمیونٹی خاص طور پر شیعہ کی ٹارگٹ کلنگ کو “شیعہ نسل کشی”لکھنے اور تسلیم کرنے سے بھی انکاری رھا

تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے اس تند وتیز مخالفت،دشنام طرازی اور طرح طرح کے الزامات کے باوجود اپنا کام جاری رکھا

یہ اسی مستقل مزاجی اور جدوجہد کا نتیجہ کہ آج بہت سارے لوگ دھشت گردی کے پس منظر میں کارفرما”خارجیت اور تکفیریت” کو ایک ٹھوس اور ناقابل تردید ٹھوس وجود تسلیم کرنے لگے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ دیوبندی مدارس و مدارس کے اندر اس تکفیری خارجی آئیڈیالوجی کے پنپنے اور یہاں پر ان کے کارخانے موجود ہیں

تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے دیوبندی خارجی تکفیری ٹولے کی اصطلاح اور اس ٹولے کی آئیڈیالوجی کو تکفیری خارجیت سے تعبیر کیا تو یہ خيالی پلاؤ ہرگز نہیں تھی بلکہ اس سائٹ کی ادارتی ٹیم اور اس کے معاون لکھاریوں بہت علمی محنت کا کشٹ کاٹ کر “عصر حاضر کی خارجیت و تکفیریت” کو دریافت کیا

“عصر حاضر کی خارجیت و تکفیریت”کی دریافت کو جب تعمیر پاکستان کی ادارتی ٹیم کے اراکین نے جمہور اور سواد اعظم اہل سنت بریلوی،شیعہ ،معتدل دیوبندیوں اور اہل حدیث کے سامنے رکھا تو ان سب نے بھی اس دریافت کو سچی دریافت تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا

آج شعیہ،بریلوی سنّی،اعتدال پسند دیوبندی و اہلحدیث کے ساتھ ساتھ کرسچن،ہندؤ اور احمدیوں کی اکثریت کے درمیان دیوبندی تکفیری خارجیت کے رد میں جو اتفا‍ق رائے تشکیل پارہا ہے تو اس میں تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی کاوشوں کا بڑا کردار بنتا ہے

تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے “انتہا پسندی اور دھشت گردی ” کے ڈسکورس کو “دیوبندی تکفیری خارجی وہابی ڈسکورس “کا نام دیا تو اب اس نام سے اس ڈسکورس کو بیان کرنے کا عمل سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور کہیں کہيں مین سٹریم میڈیا میں بھی رجحان ترقی پر ہے

عصر حاضر کی دیوبندی تکفیری خارجی فکر اور عواقب کے ڈسکورس کے پرانی خارجیت و تکفیریت کے ڈسکورس کے ساتھ ملاکر دیکھنے کی تصدیق مسلمانوں کی متداول کتب ہائے تاریخ (ابو جعفر طبری کی کتاب طبری،تاریخ الکامل از ابن اثیر،البدایہ والنھایہ و کتاب الفتن از حافظ عماد الدین ابن کثیرشاگرد ابن تیمیہ،مروج الذھب از مسعودی،تاریخ بغداد از خطیب ابوبکر بغدادی)کتب ہائے احادیث جیسے صحیح بخاری و مسلم و نسائی و سنن ابی داؤد وغیرھم،کتب ہائے فقہ مذاہب اربعہ جیسے علامہ ابن عابدین شامی کی کتاب الدرالمحتار وغیرہ سے بھی ہوتی ہے

جدید آن لائن انسائیکلو پیڈیا جیسے دائرۃ المعارف ،برٹینکا،وکی پیڈیا آکسفورڑ کے لنکس بھی عصر حاضر کی خارجیت و تکفیریت کے ڈانڈے قدیم خارجیت سے ملاتے اور ان کی جڑیں دیوبندی اور وہابی حلقوں میں ڈھونڈ رہے ہیں

سپاہ صحابہ پاکستان،لشکر جھنگوی،تحریک طالبان پاکستان،جنودالحفصہ،انصار المجاہدین،حقانی نیٹ ورک،القائدہ،المہاجرون،عراق،شام،لبنان،افریقہ ،قفقاز،ازبکستان ،لیـبیا،ملائیشیا،الجزائر میں جن دھشت گرد گروپوں اور ان کے سیاسی نیٹ ورکس کا ظہور ہوا ہے وہ سب کے سب اسی تکفیری اور خارجی آئیڈیالوجی سے تعلق رکھتے ہیں

ان نیٹ ورکس کا جمہور اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کے حلقہ ،ابو بکر صدیق کے منکرین اور علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں صفین اور نہروان میں سامنے آنے والے گروہوں کی خارجی و تکفیری روش کا موازنہ محمد بن عبدالوہاب کی تحریک توحید اور اسماعیل دھلوی کی تحریک جہاد سے کرتے ہوئے آج کی نفاز شریعت و گلوبل خلافت کے علمبرداروں کی آئیڈیا لوجی سے کیا جائے تو ان سب میں تین اصول مشترک نظرآتے ہیں جن کو ہم خارجیت کی بنیاد کہہ سکتے ہیں

جمہور مسلمانوں سے الگ راہ چلنا اور اس کو تحکیمی ڈسکورس بھی کہہ سکتے ہیں

ہر اس فرد اور گروہ کی تکفیر جو ان کی رائے سے اختلاف کرے

اس تکفیر کی بنیاد پر اختلاف کرنے والوں کا قتل جائز اور اسے بنیادی تقاضہ قرار دے دیا جائے

کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان،لشکر جھنگوی،تحریک طالبان پاکستان سمیت پاکستان میں مذھبی بنیادوں پر دھشت گردی کرنے والوں اور نام نہاد جہاد کا علم بلند کرنے والوں کے ہاں یہ تین کلیدی اصل بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں

تعمیر پاکستان نے طالبان کی اس خارجی و تکفیری فکر کو اسلامو فوبیک فاشزم بھی کہا

یہ بات تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی ادارتی ٹیم اور اس کے معاون لکھاریوں کے لیے حوصلہ افزاء ہے کہ بہت سارے ترقی پسند،روشن خیال حق،حقیقی لبرل و سیکولر حلقے اس ڈسکورس کو بیان کرنے لگے ہیں

فیس بک پر روشنی کا آفیشل پیج اس کی روشن مثال ہے جو مذھبی فاشزم کو پھیلانے والوں کی اصل شناخت کے ساتھ ساتھ اس فاشزم کا نشانہ بننے والوں کی مذھبی شناخت کو بھی اپنی پوسٹنگ میں بہت واضح کرکے شایع کررہا ہے

خارجیت اور تکفیری آئیڈیالوجی نے اپنے اوپر جو جہادی و غیر فرقہ وارانہ نقاب چڑھا رکھے تھے وہ ایک ایک کرکے بے نقاب ہوتے جارہے ہیں اور تو اور “غیر فرقہ پرست و اسلامی انقلاب کی داعی کہلانے والی فاشسٹ تنظیم کے امیر منور حسن کے منہ سے بھی سچ نکل گيا کہ طالبان و لشکر جھنگوی دیوبندی(تکفیری و خارجی) ہیں اور نفاذ شریعت خودکش بم دھماکوں کے زریعے سے ںافذ کرنا چاہتے ہیں

From their essentially political position, the Kharijites developed extreme doctrines that further set them apart from both mainstream Sunni and Shiʿa Muslims. The Kharijites were particularly noted for adopting a radical approach to Takfir, whereby they declared other Muslims to be unbelievers and therefore deemed them worthy of death

(http://en.wikipedia.org/wiki/Khawarij)

( the Khārijites were known for their puritanism and fanaticism. Any Muslim who committed a major sin was considered an apostate. Luxury, music, games, and concubinage without the consent of wives were forbidden. Intermarriage and relations with other Muslims were strongly discouraged. The doctrine of justification by faith without works was rejected, and literal interpretation of the Qurʾān was insisted upon.)

(http://www.britannica.com/EBchecked/topic/316391/Kharijite)

“The Kharijite Rebirth”-Shaykh Abdullah Ali

The Kharijites (or Khawarij) throughout most of Islamic history was considered by the majority of Muslims to be a deviant sect of Islam. For those unfamiliar with who they were, the Kharijites first appeared during the first Muslim civil war for succession between Imam ‘Ali b. Abi Talib (r), the Prophet Muhammad’s cousin (pbuh), and Mu’awiya b. Abi Sufyan.
The Kharijites and their leader, ‘Abd Allah b. Wahab al-Rasibi, incensed by Imam ‘Ali’s willingness to accept human arbitration in his dispute with Mu’awiya split from the former’s ranks declaringthem both to be unbelievers, and later plotted their assassination the success of which claimed the life of only Imam ‘Ali (r). On one occasion when asked whether or not the Kharijites were unbelievers (kuffar), Imam ‘Ali responded, “No!” When pressed, “Then they must be hypocrites (munafiqun)?”, he responded with remarkable balance and wisdom, “Rather, they are our brothers. They transgressed against us. So, we fought them in light of their transgression (baghy).”

(http://www.lamppostproductions.com/the-kharijite-rebirth-shaykh-abdullah-ali/)

The salient characteristics of the Kharijites that led them to be labeled a heretical group were: 1) their belief that the commission of major sins made a person an apostate; 2) their concomitant declaration that the blood of the said sinners held no sanctity,

When one reflects upon these characteristics, it is easy for many of us to see a similar trend develop amongst Muslims in recent times. To be called a Kharajite has always meant to be one who finds it easy to declare a Muslim to be an unbeliever, and as a consequence paving the way for the massacre or murder of those given the label. We can see this at work with the fatwa of Muhammad b. ‘Abd Al-Wahhab which facilitated the establishment of the Kingdom of Saudi Arabia by declaring so many of the peninsula’s Sufi inhabitants to be “grave-worshipers” and therefore “unbelievers.” We see this again during the Iran-Iraq War when so-called Sunni muftis justified Saddam Hussein’s instigation of the war with his Iranian “Shiite” neighbor based on the argument that Shiites were not Muslims, and therefore the shedding of their blood was lawful.

 The extreme Kharijite position was that Muslims who commit grave sins effectively reject their religion, entering the ranks of apostates, and therefore deserve capital punishment.

(http://www.oxfordbibliographies.com/view/document/obo-9780195390155/obo-9780195390155-0047.xml)

(Salem considers the Wahhabis of Saudi Arabia the modern manifestation of the Kharijites.

While a number of writers – both past and present – are of the opinion that this sect is extinct, others are of the view that its not. I share the latter view. The influences of this sect have always been present, in different guises and in varying degrees, throughout the history of Islam. But it appears to have gained a renewed momentum with the emergence of Muhammad Abdul Wahhab during the latter part of the 18th century.

This series will attempt to explore the relationship between the two and also to critically examine the position of Abdul Wahhab himself.

(http://www.sunnah.org/aqida/kharijites1.htm)

Hurqus – the first Khariji

The origins of Kharijism date back to the time of the Prophet (s). Amongst the clearest indications we have of this is the Hadith of Hurqus ibn Zuhair in Bukhari and Muslim.

After the Battle of Hunain the Prophet (s) – in distributing the booty – gave preference to a number of non-Muslims. His aim was to attract them to Islam. Hurqus rebuked the Prophet (s) by saying to him: “Be just in your distribution O Messenger of Allah.”

The Prophet was incensed by this remark and responded by saying:
“Then who can be called just if I am not just?”
To this the Prophet added:
“There will come a time when a group of people will leave our ranks. They will recite the Quran with fervour and passion1 but its spirit will not go beyond their throats. They will leave our ranks in the manner of an arrow when it shoots from its bow.”

It is significant that this selfsame Hurqus was elected as one of the heads of the Kharijites after the Battle of Siffin

Suffice it for us at this stage to know that by now this group of Kharijites – known as the “Muhakkima”- had already resolved upon the following principles:
a) The declaration of Kufr (unbelief) on Sayyidna Ali, Muawiyyah, and all those who had participated in and agreed to the process of arbitration
b) Takfir (charging with unbelief) of all those who disagreed with them on any theological issues
c) The right to kill any of the above.

In this context the response of Sayyidna Ali to their view that the “prerogative of command belongs to Allah alone”2 by saying that it was “a word of truth with a devious end” becomes quite apparent.

About the author

Aamir Hussaini

13 Comments

Click here to post a comment