Featured Original Articles Urdu Articles

طالبانی فاشزم کے آگے سرنگوں ہونے کا عمل جاری ہے-تجزیہ عامر حسینی

Taliban

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک طرف تو فوج،پولیس ،ایف سی کے خلاف اپنے حملے تیز کئے ہوئے ہے تو دوسری طرف اس نے بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے

تین دنوں میں بنوں،راولپنڈی،کراچی،مستونگ اور لاہور میں دیوبندی تکفیری خارجی گروہ نے دھشت گردی کی وہ واردتیں کی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فاشسٹ ٹولہ کس قدر طاقت پکڑ چکا ہے

روزنامہ ڈان میں حسن عبداللہ نے افغانستان سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے سیاست دان ابھی تک جنگجوؤں سے نمٹنے کی پالیسی بنانے کے بارے میں کسی فیصلے تک نہیں پہنچ پائے مگر دیوبندی تکفیری خارجی گروپ اپنے مقاصد تک پہنچنے میں مدد دینے والے حالات کو پیدا کرنے کے لیے خاموشی سے کام کررہا ہے

بہت سارے تجزیہ نگار اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان سمیت جتنے بھی دیوبندی تکفیری خارجی عسکریت پسند ہیں وہ پاکستانی فورسز سے ایک لمبی لڑائی لڑنے کی تیاری کررہے ہیں

پاکستان میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاست دان جن میں مسلم لیگ نواز کی قیادت بھی شامل ہے کا خیال یہ تھا کہ عسکریت پسندی سے جڑے بہت سے مسائل افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے نکل جانے سے حل ہوجائیں گے

مگر تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈرز کا خیال دوسرا ہے ،ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا خیال ہے کہ امریکہ کی 2014ء کے آخر تک افغانستان سے واپسی ان کی تحریک کے ایک مرحلے کی تکمیل ہوگی اور اس کے بعد وہ پاکستان تک اپنی جنگ کو وسعت دیں گے اور پاکستان میں اپنی حکومت کے قیام کے بعد آگے بڑھیں گے اور ان کا آخری ہدف عالمی خلافت کا قیام ہوگا

روزنامہ ڈان اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کرتا ہے کہ فاٹا اور افغانستان میں تحریک طالبان کے ہنگای اجلاس جاری ہیں اور اس دوران کئی سخت گیر معروف کمانڈرز کو اہم عہدے دئے گئے ہیں

ان سخت گیر معروف طالبانی کمانڈرز میں سے ایک کمانڈر تحریک طالبان پاکستان کی مہمند ایجنسی کی شاخ کا نائب امیر قاری شکیل حقانی ہے جس کو طالبان کی سیاسی مجلس شاورت کا سربراہ بنایا گیا ہے

قاری شکیل حقانی اس سے پہلے طالبان کی گریںڈ شوری کا رکن بھی رہا ہے اور وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے

ٹی ٹی پی کے زرایع کا کہنا ہے کہ قاری شکیل حقانی بہت مہم جو اور اونچی پرواز کرنے والا پرندہ ہے

ڈان کے افغانستان میں نمائندے حسن عبداللہ نے افغانستان میں قاری شکیل حقانی سے ایک ملاقات کی اور اس سے پوچھا کہ ایک طرف تحریک طالبان پاکستان حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتی ہے اور دوسری طرف ان پر حملے جاری ہیں تو ایسے میں مذاکرات کی کامیابی کا کیا امکان رہ جاتا ہے ؟

شکیل حقانی کا کہنا تھا کہ

“جنگ بندی دو طرفہ عمل ہوتا ہے اور ٹی ٹی پی حملے کیسے روک سکتی ہے جبکہ پاکستان کی حکومت فاٹا اور شہروں میں ہمارے خلاف آپریشن کررہی ہے،ہماری جانب سے بات چیت کی دعوت کمزور مقام سے نہیں ہورہی”

خود فاٹا اور افغانستان میں مقیم بہت سے طالبان کمانڈرز مذاکرات بارے ایک جیسی رائے رکھتے ہیں ،ان سب کے خیال میں نفاز شریعت بات چیت کے زریعے نہیں ہوسکتی اور وہ اسے خود کو مضبوط کرنے اور زرا دیر کے لیے سانس لینے کا ایک موقعہ خیال کرتے ہیں

ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان اور اب سیاسی مجلس مشاورت کے رکن احسان اللہ احسان نے بھی کئی پاکستانی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ ان کا ایجنڈا نفاذ شریعت ہے اور اس سے وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنے والے اور ان کے بقول یہ نظریات کی جنگ ہے اس کے آڑے جو بھی آئے گا اس کی زندگی کی ضمانت تحریک طالبان پاکستان نہیں دے سکتی

طالبان کی گرینڈ شوری کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے بیک وقت مذاکرات کی پیشکش اور حملوں کا مقصد “ایک قدم آگے دو قدم پیچھے ” کی حکمت عملی اختیار کرنا ہے

طالبان کے حامی کراچی کے ایک دیووبندی مولوی مفتی طاہر جامی کا کہنا ہے کہ طالبان کے حکومت سے معاہدے اور بات چیت “صلح حدیبیہ ” کی طرز کے ہیں اور اس سے جہاں تیاری کا وقت ملا ہے وہیں پر طالبان کو سیاسی جواز بھی ملا ہے اور عوام سے رابطے بھی ہوئے ہیں

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اور حکومت کا خیال یہ تھا کہ طالبان کے اندر مختلف گروپس کے درمیان اختلافات پیدا ہوجائیں گے ،خاص طور پر حکیم اللہ محسود کے حامی غیر محسود امیر کو قبول نہیں کریں گے

کہا جاتا ہے ہے کہ ٹی ٹی پی نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسا ظاہر کیا کہ طالبان کی مختلف شاخوں میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے اور اس ضمن میں پنجابی طالبان،لشکر جھنگوی،تحریک طالبان مہمند ایجنسی اور طالبان کی مرکزی قیادت کے درمیان اختلافات کی خبریں جان بوجھ کر پھیلائی گئیں

اب اس بات کے ٹھوس ثبوت مل رہے ہیں کہ یہ ایک بلف تھا اور اس طرح سے طالبان نے پاکستان کے فیصلہ کرنے والے اداروں کو چکمہ دئے رکھا

تحریک طالبان پاکستان اور اس کی حامی سیاسی اور مذھبی جماعتوں نے سیاسی محاذ پر رائے عامہ کو تقسیم کرنے کے لیے کامیاب پروپیگنڈا مہم چلائی اور اس حوالے سے اسے مسلم لیگ نواز پر بڑذتے ہوئے دیوبندی تکفیری خارجی اثر کا بھی فائدہ ہوا

فوج کی قیادت میں ایک عرصے سے تحریک طالبان پاکستان سمیت تکفیری ،خارجی دھشت گردوں کے خلاف آپریشن ہی واحد حل کے طور پر دیکھا جارہا تھا مگر مسلم لیگ نواز کی طالبان نوازی اور حزب اختلاف میں تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کی جانب سے فوجی آپریشن کی مخالفت اور آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے نے فوج کو خاموش کرڈالا تھا

راولپنڈی اور بنوں میں حملوں کے بعد فوج کی جانب سے جس تیزی کے ساتھ وزیرستان،خیبر ایجنسی پر فضائی حملے کئے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج نے اپنا فیصلہ مسلم لیگ نواز کو سنا ڈالا ہے

یہ فیصلہ صرف وفاقی حکومت کو ہی نہیں سنایا گیا بلکہ میرے خیال میں یہ فیصلہ کے پی کے کی حکومت کو بھی سنایا گیا ہے

پاکستان تحریک انصاف اور دفاع اسلام کونسل پاکستان دونوں دائیں بازو کے اس رجحان کا نام ہیں جو ایک طرف تو طالبانی فاشزم کو سیاسی جواز اور سیاسی قبولیت دلانے کے درپے ہے اور یہ دونوں اب بھی فوج ،ایف سی اور معصوم لوگوں کی جانوں کے ضیاع کا زمہ دار طالبان کو ٹھہرانے کی بجائے سارا ملبہ نواز شریف کے تذبذب پر ڈال رہے ہیں

دفاع کونسل پاکستان،جے یوآئی ایف اور دیوبندی،وہابی مکتبہ فکر کے سخت گیر عناصر طالبانی فاشزم پر پردہ ڈال رہے ہیں اور ایک طرح سے ان کے لیے سیاسی جواز اور سیاسی تشخص کے لیے راہ ہموار کررہے ہیں

دوسری طرف پاکستان کی سیکولر،لبرل جماعتیں جیسے پی پی پی اور اے این پی ہیں وہ بھی کم کنفیوز نہیں ہیں

یہ جماعتیں ایک طرف تو وزیرستان میں فوجی آپریشن کا مطالبہ پارلیمنٹ میں کرتی ہیں تو دوسری طرف ان کے اپنے دستخط کل جماعتی کانفرنس کے اعلامیے پر موجود ہیں جس میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا اعلان کیا گیا تھا

بلاول بھٹو،آصف زرداری ،اسفند یار ولی طالبانی فاشزم بارے اپنی دوسری قیادت کو صاف اور واضح موقف اپنانے بارے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کرپائے ہیں

ایکپریس میڈیا گروپ کے تین کارکنوں کی شہادت کے بعد پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ان گروپوں اور لوگوں کی جانب سے طالبان کے بارے میں موقف میں تبدیلی بلکہ یوٹرن دیکھنے کو مل رہا ہے جو اس سے پہلے طالبان کو فاشسٹ گروہ قرار دیتے رہے ہیں

بعض تجزیہ نگار اور اخبارات کے اداریہ نویس اور اینکر پرسن تحریک طالبان پاکستان کو شمالی آئرلینڈ کے علیحدگی پسندوں کے مماثل قرار دیکر ان سے بات چیت کرنے پر زور دینے لگے ہیں

گویا مین سٹریم میڈیا طالبانی فاشزم کے آگے سرنگوں ہونے جارہا ہے اور یہ فاشزم معاشرے میں تفرقہ پرستی کو نارمل سیاسی تشحض دینے کا دوسرا نام ہے

تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے تمام دھشت گرد جہادی گروہ ایک ایسی فرقہ پرست فسطائت کو سیاسی تشخص دلوانے کے لیے سرگرم عمل ہیں جس سے پاکستان کے اندر اکثریت کے لیے اپنے نظریات اور عقائد کے مطابق زندگی گزارنا ناممکن ہوجائے گا

یہ فاشزم دیوبندی ،وہابی مسالک کے بہت سے نوجوان طالب علموں،مدرسین اور عام نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بہت سے مولویوں کو بھی اپنی گرفت میں لےچکا ہے اور وہ سب اس فاشزم کو عین اسلام خیال کربیٹھے ہیں اور اس کا نفاذ ہر قیمت پر چاہتے ہیں

سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں طالبانی فاشزم کے مقابلے میں جو بیانیہ یہاں کی اکثریت کی نمائندہ تنظیموں کی جانب سے آرہا ہے اس کو مین سٹریم میڈیا اتنی کوریج نہیں دے رہا جتنی کوریج وہ طالبانی فاشزم  کے علمبرادروں کو دے رہا ہے

مجلس وحدت المسلمین،سنّی اتحاد کونسل،پاکستان سنّی تحریک ،پاکستان پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنماء ،وائس فار شہداء ،جماعت اہل سنت اور پاکستان کے کرسچن،ہندؤ،احمدی تنظیموں کے نمائندوں کا نکتہ نظر اتنی کوریج نہیں پارہا جتنی کوریج طالبانی فاشزم کے حامی یا ان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے پارہے ہیں

بائیں بازو کے بہت سے گروہ جو اپنی اپنی جگہ خود کو ایک جماعت خیال کرتے ہیں ان کے ہاں بھی طالبانی فاشزم کے بارے میں ایک بڑے الجھے ہوئی کنفیوژن کا سماں ہے بلکہ کچھ بائیں بازو کے لوگ تو ایسے ہیں جو تحریک طالبان پاکستان اور دیگر تکفیری خارجی گروپوں کے فاشزم کا جواز مارکسی افکار سے ڈھونڈنے کی سعی کررہے ہیں

یہ ان فاشسٹ گروپوں کے مذھبی جبر اور بربریت کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں اور ان کے ہاں اس جبر وبربریت سے نمٹنے کے لیے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے

ہم ایک مرتبہ پھر واضح کرتے ہیں کہ طالبای فاشزم اور طالبانی دھشتگردوں کی بنیادیں خارجیت اور تکفیری نظریات پر استوار ہیں اور یہ ایسے نظریات ہیں جن سے مطابقت پذیری کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے

ان نظریات کو ریاست کے آئین یا معاشرے میں جگہ دینے کا مطلب اس ملک کے شیعہ،اہل سنت بریلوی،کرسچن،ہندؤ ،احمدی اور سب سے بڑھ کر اس ملک کی اکثریتی اعتدال پسند روادار عوام کو ان کی اپنی مرضی سے جینے اور زندگی گزارنے کا حق چھین لینے کے مترادف ہے