Featured Original Articles Urdu Articles

جاوید چوہدری کا آدھا سچ-میڈیا طالبانی فاشزم کے سامنے سرنگوں نہ ہو

ایکسپریس میڈیا گروپ کے تین کارکنوں کی تحریک طالبان پاکستان کے دھشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ایکسپریس میڈیا گروپ کے اینکر پرسن اور کالم نگار جاوید چودھری کی احسان اللہ احسان سابق ترجمان تحریک طالبان پاکستان سے موبائل فون پر ہونے والی گفتگو پر سوشل میڈیا اور پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے

بحث کرنے والوں میں ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ جاوید چوھدری کو تحریک طالبان پاکستان کے ایک مبینہ ترجمان کی گفتگو براہ راست چینل پر نشر نہیں کرنی چاہئیے تھی اور ان کی احسان اللہ احسان سے گفتگو معذرت خواہانہ تھی

جاوید چوہدری صاحب نے اس تنقید کے جواب میں ایک انتہائی جذباتی کالم لکھا ہے اور اس کالم کا لب لباب یہ ہے کہ جب تحریک طالبان کے دھشت گردون کا مقابلہ کرنے میں ریاست کے ادارے اور سیاسی جماعتیں( جس میں انہوں نے فوج،پولیس،ایجنسیوں،وفاقی حکومت،صوبائی حکومتوں کو شامل کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی شامل کیا ہے)ہاتھ کھڑے کرکے ناکامی کا اظہار کرہے ہوں اور ان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہوں تو ایسے میں اگر انہوں نے طالبان سے غریب صحافیوں کی جان بخشی کرنے کی التجا کرلی ہے تو کون سا جرم کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ایک بزدل صحافی ہیں

http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1102073722&Issue=NP_LHE&Date=20140119

جاوید جوھدری صاحب نے اپنی صفائی میں جو کچھ کہا وہ سرآنکھوں پر لیکن اس کالم میں انہوں نے احسان اللہ احسان کے جواب کو خاصا بدل ڈالا ہے-چوہدری صاحب جب غریب صحافیوں کی جان کی امان طالبان سے طلب کررہے تھے تو جواب میں احسان اللہ احسان نے یہ نہیں کہا تھا کہ اگر طالبان کو مناسب کوریج دی گئی تو صحافیوں پر حملے نہیں ہوں گے

احسان اللہ احسان نے پاکستان کے میڈیا کے سامنے واضح شرائط رکھی تھیں کہ تحریک طالبان پاکستان نظریات پر قائم ایک تنظیم ہے اور یہ اسلام اور شریعت کے لیے لڑرہی ہے اگر پاکستانی میڈیا تحریک طالبان کے خلاف اپنی مہم بند نہیں کرے گا اور ملک میں گمراہی پھیلائے گا تو ایسے حملے ہوتے رہیں گے

جاوید چوھدری صاحب اپنے اس کالم میں اپنے قارئین کو یہ بھی بتانا بھول گئے کہ وہ “ضرب مومن ” نام کے ایک ہفت روزہ جریدے میں “یاسر خان” کے قلمی نام سے طالبان کے ںظریات اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کی قصیدہ خوانی کرتے رہے ہیں اور 9/11 کے بعد وہ طالبان و القائدہ کی مدح سرائی میں زمین اور آسمانوں کے قلابے ملاتے رہے ہیں

انہوں نے یہ بھی بتانے سے گریز کیا کہ وہ ان صحافیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے “جہاد کشمیر” اور “جہاد افغانستان” اور عالمی جہاد بارے پروپیگنڈا صحافت کے لیے کام کرنے والے ننھے منے جہادیوں کو  صحافتی محاذ کو استعمال کرنے کی تربیت دینے میں اہم ترین کردار ادا کیا

جاوید چوہدری یہ کام اس وقت سے کررہے ہیں جب طالبان پاکستان میں صحافیوں پر حملہ آور نہیں تھے وہ بس لشکر جھنگوی ،جیش محمد جیسی تنظیموں کے دھشت گردوں کو کنٹر اور خوست میں تربیت دے کر شیعہ،کرسچن ،ہندؤں اور احمدیوں اور بریلویوں سے نمٹنے کا ٹاسک دے کر پاکستان بھیجا کرتے تھے-اس وقت بزدلی دکھانے کا کوئی موقع اور محل نہیں تھا

میں جاوید چوہدری صاحب کو یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اچھے اور برے مجاہدوں کی تقسیم کرتے ہوئے ایک کالم لکھا تھا جس پر “مجاہدوں”کا بہت سخت ردعمل آیا تو اگلے کالم میں ان کی جانب سے وضاحتوں کی بھرمار دیکھنے کو ملی تھی

میں جاوید چوہدری پر اس لیے بھی حیران ہوں کہ ابھی 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی برسی پر انہوں نے محترمہ کے جسد خاکی کے راولپنڈی کے ہسپتال میں ایک پھٹے پر پڑے ہونے اور پھر ان کے منہ کے کھلے رہ جانے اور بعد میں ایمبولنس کی خستہ حالی کا زکر بہت تحقیر کے انداز میں کرتے ہوئے سیاست دانوں کو خوف آخرت اور موت کے اٹل حقیقت ہونے کا لمبا چوڑا بھاشن دیا تھا اور یقین جانئیے کہ شہید بی بی کی برسی پر ان کے اندر کی نفرت کے کالم میں منتقل ہوجانے نے مجھے جتنی تکلیف پہنچائی تھی اتنی تکلیف تو مجھے بھٹو دشمنوں کی دشنام طرازی پر کبھی نہ ہوئی تھی

لیکن جاوید جوھدری اپنی بزدلی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ہی دئے ہوئے خوف خدا اور موت کے اٹل ہونے کے بھاشن کو بھول گئے اور اس سمے ان کو اللہ پاک کی زات کے مالک الملک اور اللہ کے ساتھ ہی جڑے رہنے جیسے درس یاد نہ آئے جو وہ اکثر اپنے کالموں میں بیان کرتے رہتے ہیں

یاسر خان کے نام سے لکھے گئے کالموں کا جاوید چوہدری نہ جانے اس وقت کہاں سویا ہوا تھا جو “ضرب مومن” کے پڑھنے والے مخصوص طبقے کو بار بار اقبال کے اشعار سے گرماتا رہتا تھا

محترم جاوید چوہدری صاحب! آپ نے 17 جنوری 2014ء کو ایکسپریس کے میڈیا گروپ کے تین کارکنوں کی ہلاکت سے ایک دن پہلے “مسلم خان”کے نام سے ایک کالم لکھا تھا اور اس کالم میں آپ نے حکومت کے لیے “مسلم خان” اور “محمود خان ” کو ڈھونڈ کر لانے اور ان کو طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے ثالث بنانے کی تجویز دی تھی اور آخر میں آپ نے حکومت کو یہ بھی بتانے کی کوشش کی تھی کہ اگر وہ آپریشن کا آپشن استعمال کرے گی تو اس کے لیے فاٹا سے کراچی تک فوج تعینات اور انٹیلی جنس نیٹ ورک پھیلانا پڑے گا-مطلب آپ نے اس آپشن کو ناقابل عمل قرار دیا تھا

جاوید چوہدری صاحب کا تحریک طالبان کے ساتھ اور ان تمام عناصر کے ساتھ جو پاکستان میں خارجی فکر کے علمبردار اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں اپنا فاشسٹ نکتہ نظر مسلط کرنا چاہتے ہیں  سے بہت پرانے رشتے اور رابطے ہیں

یہ رابطے اسی انداز کے ہیں جو کبھی حامد میر کے ہوا کرتے تھے یا آج کل سلیم صافی صاحب کے ہیں آحر پاکستان کے اندر جہادی صحافتی بریگیڈ کیوں اپنی ہمدردیاں اور اپنا نظریاتی جھکاؤ تحریک طالبان کیطرف رکھنے کے باوجود خود کو ایک غیر جانبدار صحافتی گروہ ثابت کرنا چاہتا ہے

تحریک طالبان پاکستان اور ان کی اتحادی تنظیموں اور ان کے ہمدردوں کی صف میں آپ قلمی ناموں سے جاکھڑے ہوتے ہیں اور جب آپ کا کردار بے نقاب ہونے لگتا ہے تو پھر جذباتی لفاظی سے لوگوں کے استحصال پر تل جاتے ہیں

جاوید چوہدری نے اپنے اوپر تنقید کرنے والے بعض لوگوں کے قلمی ناموں کو جعلی کہنے کی جسارت کرڈالی لیکن وہ خود بھول گئے کہ وہ آپ بھی کئی تحریریں قلمی ناموں سے لکھتے رہے ہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ کا اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس اور انگریزی اخبار ایکسپریس ٹرائیبون جمعہ والے دن کے اپنے ملازمین پر حملے سے پہلے تک جتنے بھی ادارئے تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے لکھ رہا تھا ان میں وہ تحریک طالبان پاکستان کو ایک دھشت گرد اور پاکستان کی قومی سلامتی ک لیے سنگین خطرہ بتلارہا تھا

اخبار نے چوہدری اسلم ایس پی سی آئی ڈی کراچی کی ہلاکت پر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف اپنے ادارئے میں شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا اور اس نے حکومت سے یہ بھی سوال کیا تھا کہ وہ ریاست کی خاطر جان دینے والے بہادر پولیس افسر کے قتل میں نامزد ملزم فضل اللہ سے کیسے مذاکرات کرسکتی ہے ؟

اس قبل یہی اخبار اپنے اداریوں میں 50 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکتوں کے زمہ داروں سے مذاکرات کرنے کی پالیسی پر شدید تنقید کرتا رہا تھا

لیکن ہفتہ اور اتوار کو ایکسپریس میڈیا گروپ کے اخبارات اور ٹی وی چینل کی روش بدلی بدلی سی نظر آنے لگی ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ یہ گروپ بھی اپنی ادارتی رائے سے پسپائی اختیار کررہا ہے

یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان کے حلاف صحافتی محاذ کی پسپائی طالبان کے فاشزم کو اور زیادہ مضبوط کرنے کا سبب بنے گی

پاکستان میں جاوید چوھدری اور ان جیسے بہت سے صحافی ایسے ہیں جو تحریک طالبان پاکستان کے فاشزم کے آگے ڈھے جانے کی بات تواتر سے کررہے ہیں جبکہ وہ اس فاشزم کے خلاف پاکستان کے اندر بتدریج بڑھتے ہوئےاتفاق کو نظر انداز کررہے ہیں

کیا پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر ،اہل تشیع،کرسچن کمیونٹی ،احمدی ،ہندؤ اور اعتدال پسند عوام کا تحریک طالبان پاکستان سمیت ديگر دھشت گردوں کے خلاف آنے والا ردعمل اور ان کی نمائندہ جماعتوں کی جانب سے طالبان سے مذاکرات نہ کرنے اور اسے نہ ماننے کی بات اور اس کے خلاف جدوجہد کا اعلان مثبت اشارے نہیں ہیں؟

اس ملک کے شیعہ،بریلوی،سیکولر لبرل اور دیگر غیر مسلم اقلیتیں پاکستان کے میڈیا گروپوں کے کارکنوں سے زیادہ قربانیاں دے چکے ہیں اور اس ملک کی مسلح افواج،پولیس ،ایجنسیاں اور سیاسی جماعتوں کے کارکن یہاں تک کہ پی پی پی اور اے این پی تو اپنے کہنہ مشق تجربہ کار سیاسی رہنماؤں سے محروم ہوئی ہیں پھر بھی ان کا عزم طالبان کے فاشزم کے خلاف بہت بلند ہے

مین سٹریم میڈیا کو طالبانی فاشزم کے خلاف اور زیادہ مستحکم موقف اپنانے کی ضرورت ہے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صحافت کو اگر صالبانی فاشزم کے آگے سرنگوں کردیا گیا تو پھر اس ملک میں آزادی سے جینے کے تمام امکانات معدوم ہوجائیں گے