Featured Urdu Articles

سانحہ نشتر پارک کراچی-8سال گزرنے کے بعد بھی زمہ دار سزا نہ پاسکے

دو ہزار چھے میں اپریل کا مہینہ تھا جب 12 ربیع الاول کو عید میلاد النبی کے تمام جلوس نشتر پارک کراچی آکر اپنے اختتمام کو پہنچے اور وہاں پر تمام شرکاء نے نماز کی نیت باندھی کہ ایک کان پھاڑنے والا دھماکہ ہوا جس میں جے یو پی (نورانی ) کے حافظ  محمد تقی،پاکستان سنّی تحریک کے علامہ عباس قادری اور ديگر کئی علماء سمیت 50 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے

نشتر پارک میں اہل سنت بریلوی کے اجتماع پر حملے کو ہوئے آج 8 سال ہوگئے ہیں اور اس کیس کا اب تک انسداد دھشت گردی کی عدالت میں فیصلہ نہیں ہوسکا

اس کیس کو تھانہ سولجر پارک میں درج کیا گیا تھا اور انسداد دھشت گردی کی عدالت میں یہ کیس زیر سماعت ہے –انسداد دھشت گردی ایکٹ کی شق 19 کی ذیلی شق 7 کے مطابق یہاں ٹرائل کو سات روز میں مکمل ہوجانا چاہئیے لیکن ایسا نہیں ہوسکا

اس کیس کے 200 گواہ ہیں جن میں سے ابھی تک صرف 20 گواہوں کا معائنہ ہوسکا ہے یہ کیس کراچی کی انسداد دھشت گردی کی کام کرنے والی پانچ عدالتوں میں فٹبال بنا رہا ہے

یہ پہلے انسداد دھشت گردی کی عدالت نمبر 5 میں گیا اور کافی عرصہ تک اس کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکشن ہوم ڈیپارٹمنٹ سے جاری نہ ہوسکا اور جب یہ نوٹیفیکشن جاری ہوا تو اے ٹی سی نمبر 5 اے ٹی سی 2 کو منتقل ہوا جہاں جج عبدالغفور میمن نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی مگر پراسیکوشن 2010ء تک ایک بھی گواہ کا معائنہ نہ کرسکا  اور اس دوران جج میمن کا کنٹریکٹ ختم ہوگیا اور اے ٹی سی 2 غیر فعال ہوگئی اور یہ غیر فعالیت 15 ماہ چلی ،مارچ 2013ء میں یہ کیس اے ٹی سی 5 میں پڑا ہے

اس کیس کا مرکزی ملزم سلطان ہے جس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اقرار جرم کیا تھا اور اپنے دیگر ساتھیوں کے نام بتائے تھے اب صحت جرم سے انکاری ہے شیعہ عالم علامہ حسن ترابی کے قتل میں بھی نامزد ملزم ہے جبکہ نشتر پارک میں حملہ کرنے والا صدیق بھی اس کے ساتھ رہا تھا اور باقی کے مفرور ملزم بھی دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کی تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھتے تھے

کورٹ کے زرایع کا کہنا ہے اس کیس کے فیصلے میں تاخیر کا سبب پراسیکوشن ،انوسٹی گيشن ایجنسیوں کی عدم دلچسپی ہے

ابھی تک تین اہم (کیس کے) بنیادی گواہوں کے بیانات درج نہ ہوسکے

جن میں مجسٹریٹ کی گواہی بھی شامل ہے

آج جب پورے ملک میں عید میلاد منائی گئی تو کسی ایک اردو اخبار یا ٹی وی چینل نے اس کیس میں غیر ضروری التواء اور اس کیس میں نامزد تین ملزموں کے اب تک مفرور ہونے اور مرکزی گواہوں کے بیانات نہ لیے جانے بارے کوئی تحقیقی پروگرام نہیں کیا اور نہ ہی اس حوالے سے سوالات حکومت کے سامنے رکھے

اس کیس کے مرکزی مدعی کی فیملی سخت دباؤ اور دھمکیوں کی وجہ سے مدعی کو کیس سے دستبردار ہونے کا کہہ رہی  ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب مدعی بھی اس کیس میں وہی سرگرمی دکھانے سے قاصر ہے جو آغاز میں تھی