Original Articles Urdu Articles

بلوچ قومی تحریک،مارکس ازم،اور سامراج

نوٹ:شبانہ یوسف اور عمران شاہد بھنڈر نے یکے بعد دیگرے روزنامہ ایکسپریس لاہور میں “بلوچستان،قوم پرستی۔سامراج” اور مارکسزم اور بلوچ قوم پرستی”کے عنوان سے دو مضمون لکھے اور روزنامہ ایکسپریس لاہور نے ان کو بہت جلدی شایع بھی کردیا جبکہ میں نے اس کے جواب میں جو مضمون لکھا اس کو تاحال روزنامہ ایکسپریس نے شایع نہیں کیا ہے اور اس کی وجہ مجھے سمجھ میں آتی ہے اور وہ یہ ہے ہمارے مین سٹریم میڈیا کے مالکان کو بخوبی معلوم ہے کہ فوجی اسٹبلشمنٹ کس قدر بلوچستان کے حوالے سے حساس ہے اور اگر ایسی کوئی بھی تحریر جوکہ بلوچشتان کی قومی تحریک کی حمائت کرنے والی ہو اور بلوچ قوم کے حق خود ارادیت کی مانگ کرتی ہو اور مارکسی ڈسکورس سے یہ ثابت بھی کردیتی ہو کہ پاکستان کی ریاست ایک ظالم اور جابر ریاست کے طور پر بلوچ قوم پر قومی جبر اور ظلم کا ارتکاب کررہی ہے تو ایسی تحریر کو کسی بھی طرح سے ایک قومی روزنامے میں شایع ہونے کا حق نہیں ہوتا کیونکہ یہ غداری،حب الوطنی کے منافی ہے اور راقم جو بلوچ نہیں ہے،نہ ہی سندھی ہے نہ ہی سرائیکی بولنے والا ہے نہ ہی پشتو بولتا ہے بلکہ وہ اردو بولنے والا ہے جس کا قوم پرستی سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے وہ اسی غداری کا مرتکب ہوا ہے اور اس نے مارکسی ڈسکورس سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ بلوچ قوم کے حق خودارادیت کی حمائت کرنا کسی بھی طرح سے انقلابی اشتراکیت کے منافی نہیں ہے اور نہ ہی یہ ورکنگ کلاس کی بین الاقوامیت کے خلاف ہے (ع-ح)

بلوچ نوجوانوں کی گولیوں سے چھلنی ایسی لاشیں روز ملتی ہیں

بلوچستان کی قومی تحریک کی مخالفت میں دائیں بازو کی جانب سے سازشی مفروضات کو پیش کئے جانے کا سلسلہ تو بہت پرانا ہے اور آج کل بھی اس میں کوئی کمی نہیں آئی ہے

لیکن اس تحریک کی مخالفت میں مارکسزم کے کیمپ سے ہونے والا حملہ کسی حد تک نیا بھی ہے اور زرا حیرانی کا سبب بھی

اس حوالے سے ایک معاصر روزنامے میں عمران شاہد بھنڈر صاحب کا ایک مضمون پڑھنے کو ملا جس میں انہوں نے بلوچ قومی تحریک کے بارے میں کمال مہارت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی یہ اصل میں ایک نوزائیدہ ریاست کی بورژوازی کے خلاف کسی اور ریاست(مراد امریکی ریاست اور اس کی سرمایہ دار کلاس)کے مفادات پورا کرنے کی سازش ہے

عمران شاہد بھنڈر نے اپنے مدعا اور مقصد کو بیان کرنے کے لیے عظیم انقلابی مارکس اور اینگلس کے راستے کے عظیم ،دانشور راہی ولادی میر لینن کے معروف تھیسس “قومی سوال پر مقالہ”کے دو اقتباسات درج کئے ہیں اور مجھے انہوں نے مجبور کیا ہے کہ میں اسی مقالے کو سامنے رکھکر عمران شاہد بھنڈر کے فکری مغالطوں کا جواب دینے کی کوشش کروں

ولادی میر لینن کے قومی سوال پر تھیسس میں قومی سوال پر بنیادی مارکسی نظریہ جند انتہائی اہم مقدمات پر قائم کیا گیا ہے

ان بنیادی مقدمات کا خلاصہ یوں کیا جاسکتا ہے

تمام انقلابی اشتراکی اقوام کے حق خود ارادیت (جس سے مراد سیاسی حق خود ارادیت ہے اور اس کا مطلب الگ ہونے اور جداگانہ ریاست کی تشکیل کرنے کا حق ہے)کی حمائت کرتے ہیں

روس بہت سی اقوام کا ملک ہے اور اس میں سب سے بڑی قوم روس ہے جس کے علارہ باقی سب قومیتیں زار شاہی کے جبر کا شکار ہیں

لینن نے اپنے اس تھیسس میں واضح  کیا جب اشتراکی انقلابی مارکسی حق خودارادیت کی حمائت کرتے ہیں تو اس کا صاف صاف مطلب کسی مغلوب قوم یا اقوام  پر غالب قومی کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کی مخالفت کرنا ہوتا ہے اور مظلوم و مجبور اقوام کے حق علیحدگی  کی آواز اٹھانا ہوتا ہے

لینن نے مظلوم قوم کی بورژوازی ،جاگیردار طبقے کی موقعہ پرستی بارے بات کرتے ہوئے یہ ضرور لکھا تھا کہ 1905ء کے انقلاب کے تجربے نے ان کو یہ دکھایا ہے کہ مظلوم اور محکوم اقوام کے حکمران طبقات یعنی سرمایہ دار اور جاگیردار بھی اپنی اقوام کی نجاب اور آزادی کے خواہاں نہیں ہوتے بلکہ وہ غالب قوم کے حکمران طبقات کے ساتھ سمجھوتوں اور ڈیل کے چکر میں ہوتے ہیں

لینن کی جانب سے مظلوم اقوام کے حکمران طبقات کی بورژواقوم پرستی کی مذمت اور ان کی قوم پرستی کو رد کرنے کا مطلب مظلوم اقوام پر ہونے والے جبر اور ظلم کا انکار کرنا نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے ان کی قومی تحریک کو کلی طور پر رد کرنا ہوا کرتا ہے

ولادی میر لینن جب مظلوم اقوام کی قومی تحریک میں میں موجود بورژوا قوم پرستی پر تنقید کرتا ہے اور اس قوم کی بورژوازی کے ظالم اور غالب مہا قوم پرستی کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا ہے تو وہ قومیتی تضاد اور اس سے پیدا ہونے والے قومی سوال کے وجود سے انکار نہیں کرتا

جس طرح سے روس میں قومیتی تضاد اور اس سے جنم لینے والے قومی سوال کا مارکسی تجزیہ کرتے ہوئے لینن نے یہ تسلیم کیا تھا کہ روس کسی ایک قوم کا ملک نہیں ہے بلکہ یہ کثیر القومی اور کثیر لسانی ملک ہے اور اس ملک میں روسی قوم سب سے بڑی اور غالب قوم ہے اور باقی سب اقوام جبر اور ظلم کا شکار ہیں سوائے روسی قوم کے تو اس نے یہ واضح کرڈالا تھا کہ مارکسی نظریہ انقلاب کی پرولتاری بین الاقوامیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مارکسی انقلابی کسی قوم یا کسی نسلی و مذھبی گروہ پر غالب قوم کی جارحیت،یا ظلم یا جبر کے وجود کا انکار کردیں اور چونکہ ظالم قوم اور مظلوم اقوام ایک ہی فیڈریشن میں ہیں اور اس فیڈریشن کی بورژوازی کمزور ہے اور اس فیڈریشن کے ٹوٹ جانے سے عالمی سرمایہ دار قوت کا غلبہ مزید مستحکم ہوجائے گا تو مارکسیوں کو قومی جـبر اور ظلم کے شکار سماجی گروہ کے حق خودارادیت کی حمائت نہیں کرنی چاہئیے اور ان کے الگ ریاست کے حق کی نفی کردینی چاہئیے

یہ بھی ایک حقیقت ہے جب لینن قومی سوال پر تھیسس لکھا اور حق خود ارادیت کی حمائت کی اور زار شاہی کے ظلم و جبر کا شکار روسی فیڈریشن میں موجود اقوام کے الگ ہونے کے حق کی حمائت کی تو روسی بورژوازی بھی ایک پسماندہ بورژوازی تھی اور اس وقت جرمن توسیع پسندی کا اسے سامنا تھا اور یہ امر آنے والے دنوں میں زیادہ سامنے آیا تھا مگر لینن یا ان کے کسی ساتھی نے قوموں کے حق خودارادیت کی حمائت واپس لینے کا اعلان نہیں کیا تھا

عمران شاہد بھنڈر نے لینن کے قومی سوال ،قومی جبر اور قومیتی تضاد بارے ان تصورات کو اپنے مضمون میں پیش کرنے کی بجائے لینن کی ان دو عبارتوں کو پیش کیا جو اصل میں قومی جبر کا شکار قوم کے سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے کی موقعہ پرستی اور ان کے قومی خود مختاری کی چھوٹی حمائت کو بے نقاب کرنے کے تناظر میں لکھے گئے تھے

اسی طرح سے پاکستان بھی ایک کثیرالقومی ملک ہے اور پنجابی قوم اس میں سب سے غالب قوم ہے باقی سب اقوام مظلوم اور جبر کا شکار ہے جن میں سے ایک بلوچ قوم بھی ہے

لینن کا قومی سوال پر تھیسس بہت واضح ہے جس میں لینن قومیتی تضاد کو ختم کرنے کے لیے حل یہ بتاتا ہے کہ جس ریاست کا ڈھانچہ ہی ایسا ہو جس سے ایک قوم غالب اور ظالم ہو اور دوسری اقوام مظلوم اور جبر کا شکار ہوں تو اس ڈھانچے کو بدلنا لازم ہے

لینن بہت واضح کہتا ہے کہ ایسا جمہوری نظام آئے جس میں تمام اقوام کے لیے برابر کے حقوق ہوں اور سٹیٹ کی قومی زبانیں اس میں بسنے والی تمام اقوام کی زبانیں ہوں

کسی ایک یاکئي اقوام کے لیے خاص مراعات نہ ہو اور لینن روس کے پرانے ریاستی سٹرکچر کو بدل کر ایسے سٹرکچر میں بدلنےکی بات کرتا ہے جس میں  قومی ترکیب سے ہم آہنگ علاقے سیلف گورنمنٹ ،خود مختاری کے حامل ہوں اور ان کو خفیہ رائے شماری کے زریعے الگ ہونے کا حق حاصل ہو

لینن کے نزدیک اوپر جو جمہوری ریاست کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا گیا اس سے صاف نظر آتا ہے کہ لینن کو پرولتاریہ کی بین الاقوامیت کے ںظرئیے میں قومی تضاد اور قومیتی جبر کا خاتمہ کرتے ہوئے قوموں کو سیلف گورنمنٹ ،خود مختاری کے ساتھ ساتھ الگ ہونے کا اور اپنی الگ ریاست تشکیل کرنے کا حق جیسے مطالبات شامل کرنا ہرگز قوم پرستی کے گڑھے میں گرنا نہیں تھا

بلوچ قوم کے حکمران طبقات یعنی بلوچ سردار،ٹھیکے دار ،سرمایہ دار اور بورژوا سیاست دانوں کو دیکھا جائے تو وہ اپنی مظلوم قوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے پاکستان کی بورژوازی کے ساتھ سمجھوتوں اور ڈیل میں مصروف ہیں اور پاکستان کی بورژوازی کے عالمی سامراجی سرمائے سے جو ڈیل ہے اس میں شریک ہونے کے لیے بے تاب دکھائی دیتے ہیں

بلوچ قوم پر ریاستی جبر پاکستانی ریاست کی جانب سے مسلط کیا گیا ہے اور اس جبر کے خلاف بلوچ قوم میں بیداری کے زبردست آثار ہیں اور اس بیداری کا ہراول دستہ بلوچ قوم کے عام آدمی ،عورتیں ہیں

بلوچ قوم کی جانب سے بلوچستان کی آزادی،بلوچستان کے حق کے لیے خودارادیت کا مطالبہ کیا جانا ایک ایسی حقیقت ہے جسے شاہد بھنڈر ،شبانہ یوسف اور کئی اور ایسے دانشور (جو اپنی تحریروں میں مارکسی ڈسکورس کا اہتمام کرتے ہیں)ایسے پیش کررہے ہیں جیسے یہ مطالبہ بلوچستان کی مزاحمتی تحریک کے اس مرحلے میں اچانک سامنے آگیا ہے اور اس کی قوت متحرکہ امریکی سامراج اور اس کی ہمنواء عالمی قوتیں ہیں-وہ اس کو عالمی سازش کے طور پر پیش کررہے ہیں

یہ ایک ایسا نقطہ نظر ہے جس میں بہت سی تاریخی حقیقتوں سے انکار کیا گیا ہے اور بلوچستان کے حقوق اور اس کی خودمختاری کی تحریک کے تاریخی تناظر سے بھی چشم پوشی کی گئی ہے

سب سے پہلے تو یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بلوچستان کی آزادی اور الگ ملک ہونے کا مطالبہ پہلی مرتبہ قلات نیشنل اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد منظور کرکے کیا گیا تھا اور بلوچستان کو صوبہ سرحد کی طرح کسی ریفرنڈم کے زریعے الگ ہونے یا دو ڈومینن سے ملنے کا حق نہیں دیا گیا یا اس وقت چونکہ بلوچستان میں واحد نمائندہ ریاست قلات تھی اور اس کی ایک منتخب نیشنل اسمبلی تھی تو یہ حق اس کو حاصل تھا کہ اسے یہ حق دیا جاتا اور خود برٹش حاکموں نے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی برصغیر کو برٹش چھوڑ کر جائیں گے تو بلوچستان کو یہ حق ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا خود فیصلہ کریں مگر ایسا نہ ہوا

بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد میں بغاوت کے دورانیے وقفوں وقفوں سے آتے رہے اور یہ پہلی مرتبہ 1948ء میں آیا جب بلوچ قوم کے نمائندوں نے آزادی کا پرچم بلند کیا اور پاکستانی فوج وہاں بھیج کر اس بغاوت کو کچل دیا گیا اور نیشنل قلات اسمبلی کیسے کالعدم کی گئی اور استمان گل پارٹی پر کیسے پابندی لگی اور کیسے نوزائیدہ ریاست بالکل وہی جابرانہ کردار ادا کیا جو بھارت نے کشمیر ی عوام کی بغاوت کو کچلنے کے لیے اپنایا تھا

بلوچ قوم کی قومی نجات کی تحریک میں بلوچ قوم کی حکمران طبقات کا کردار بالکل وہی تھا جس کو لینن نے 1905ء میں انقلاب کے دنوں میں فن لینڈ اور پولینڈ کے حکمران طبقات کے کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے زکر کیا تھا اور اسے بورژوا قوم پرستی قرار دیتے ہوئے رد کیا تھا اور ساتھ ہی پولینڈ اور فن لینڈ کی قومی تحریک کے ترقی پسندانہ اور ریڈیکل انقلابی عنصر کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے فن لینڈ اور پولینڈ کے الگ ریاست ہونے یا ان کے کسی دوسری فیڈریشن کا حصّہ بننے کے حق کی حمائت سے دستبردار ہونے سے انکار کیا تھا

شاہد بھنڈر اور شبانہ یوسف قومی پرستی کو مارکس ازم کے متضاد قرار دیتے ہیں تو وہ ساتھ ہی بلوچ قوم کے حق خود ارادیت اور ان کے حق علیحدگی کی نفی بھی کردیتے ہیں اور اسے بھی مارکس ازم کے منافی قرار دیتے ہیں تو یہاں پر وہ ایک فاش غلطی کے قرتکب ہوتے ہیں

لینن جب بورژوا قوم پرستی اور مزدوروں کی بین الاقوامیت کو دو ایسے نعرے قرار دیتا ہے جو کبھی ایک دوسرے کے ساتھ کبھی سمجحھوتے میں نہیں آسکتے تو اس کی مراد قومی جبر ،قومی استحصال اور قومی سوال کی نفی نہیں ہوتا بلکہ اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ بورژوا قوم پرستی اور مزدروں کی بین الاقوامیت کی پالیسیاں اس سوال کی جانب مختلف اور متضاد ہیں

لینن کسی بھی مظلوم قوم کی بورژوازی کی قوم پرستی کے بارے میں اپنے قومی سوال کے تھیسس میں ایک طرف تو یہ واضح کردیتا ہے کہ اس کا مقصد اس قوم کی آزادی،جبر و استحصال سے نجات نہیں ہوا کرتا بلکہ وہ اس سے مراد صرف اس بورژوازی کے مفادات کو اقتدار اعلی پر قبضہ کرکے زیادہ طاقت سے پورا کرنا لیتا ہے اور اس لیے لینن کہتا ہے کہ بروژوا قوم پرستی “نام نہاد تہذیبی خود مختاری ” کا نعرہ لگاکر مزدروں کی صفوں میں بورژوا قوم پرستی پھیلانے کا آلہ کار بنتا ہے

لینن کہتا ہے کہ پرولتاریہ کی بین الاقوامیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک جمہوری قوت کی حثیت سے پروتاری طبقے کا اٹل فرض بنتا ہے کہ وہ تمام جاگیردارنہ جبر وظلم کی ،تمام قومی ظلم وستم و زبردستی کی،کسی ایک قوم یا زبان کے امتیازی حقوق و رعائت کی بیخ کنی کی جائے

لینن کہتا ہے کہ مارکسی انتہائی اور محدود بندھی ٹنکی تاریخی حدوں تک قوم پرستی سے آگے بورژوا قوم پرستی کی حمائت اگر کرتے ہیں تو یہ پرولتاری طبقے سے غداری ہوگی

لینن کہتا ہے کہ تمام قسم کے قومی ظلم و جبر کے خلاف لڑو مگر قوی کلچر کے  لیے نہيں جس سے اس کی مراد کسی قوم کے کلچر میں حکمران طبقات کا کلچر ہے اور اگر ہم ان دو وضاحتوں پر غور کرلیں تو بات بہت واضح ہوجائے گی اور پتہ چل جائے گا کہ میرے محترم شاہد بھنڈر صاحب اور شبانہ یوسف کہاں غلط ہیں

اب میں لینن نے روزا لکسمبرگ کی جانب سے قوموں کے حق خودارادیت کے رد میں لکھے گئے مضمون کے جواب میں جو مقالہ لکھا تھا اس سے ایک ایسا اقتساب پیش کررہا ہوں جو نہ جانے کیسے شبانہ یوسف اور بھنڈر صاحب کی نظر سے اوجھل ہوگیا اور میں چونکہ دونوں کے بارے میں علمی بددیانتی کے مرتکب ہونے کا خیال نہیں رکھتا اس لیے کہتا ہوں کہ اگر وہ لینن کے حق خود ارادیت ،قومی سوال پر لکھے گئی تحریروں کا زیادہ غور سے مطالعہ کرلیتے اور لینن کی معروضات پر زیادہ تفصیل سے روشنی ڈال لیتے تو کبھی بھی شاید بلوچستان کی قومی تحریک بارے لکھتے ہوئے ایسی فاش غلطیاں نہ کرتے

شبانہ یوسف اور بھنڈر صاحب کے خیال میں بلوچستان کی آزادی اور خود مختاری سے بلوچ قوم کو حقیقی آزادی اور خودمختاری نہیں ملے گی اور وہ عالمی سامراج کے دست نگر رہیں گے اور عالمی سامراج زیادہ شدت سے ان کا استحصال کرے گا

میں اسے اتفاق کہوں یا بدقسمتی کہ روزا لکسمبرگ اور کئی اور مارکسیوں کا لینن کے زمانے میں یہی خیال تھا اور وہ پولینڈ،فن لینڈ سمیت بہت سے ایسے علاقوں کی روس یا جرمنی سے آزادی اور ان کی حق خودارادیت کی حمائت کرنے کو اسی دلیل کی بنیاد پر رد کرنے کی کوشش کرتے تھے تو لینن نے اپنے مقالے میں لکھا کہ

“کاؤتسکی کو بڑی سنجیدگی سے یہ سبق پڑھانا کہ چھوٹی ریاستیں اقتصادی طور پر بڑی ریاستوں کی دست نگر ہیں ،بورژوا ریاستوں کے درمیان دوسری قوموں کو زبردستی دبانے اور کچلنے کے لیے جدوجہد جاری ہے ،سامراج اور نوآبادیوں کا وجود ہے-ہاں ان سارے سبقوں سے چتر بننے کی مضحکہ خیز کوشش نظر آتی ہے کیونکہ ان ساری باتوں کا موضوع سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے

صرف چھوٹی ریاستیں ہی نہیں بلکہ روس بھی اقتصادی طور پر مال دار بروژوا ملکوں کے سامراجی مالیاتی سرمائے کی طاقت کا پورے طور پر دست نگر ہے جیسا کہ مارکس نے “سرمایہ “میں کہا ہے کہ صرف چھوٹی بلقان ریاستیں ہی نہیں بلکہ 19ویں صدی میں امریکہ بھی یورپ کی نوآبادی تھا –کاؤتسکی سمیت ہر مارکسی اس سے خوب واقف تھا لیکن جہاں تک قومی تحریکوں کا تعلق ہے اور قومی ریاست کا تعلق ہے تو اس کا دور دور اس سوال سے کوئی واسطہ نہیں ہے

روزالکسمبرگ (یہاں آپ شبانہ یوسف/بھنڈر بھی کہہ سکتے ہیں)نے بورژوا(سرمایہ دار)سماج میں قوموں کی سیاسی خودارادیت کے بجائے ،ریاستوں کی حثیت سے ان کی آزادی کے سوال کی بجائے اقتصادی آزادی کا سوال اٹھادیا ہے-یہ تو ویسی ہی ذھانت ہوئی کہ کسی سرمایہ دار ریاست میں کوئی پارلیمنٹ یعنی عوامی نمائندوں کی اسمبلی کے اقتدار کے بارے پروگرام کے مطالبے پر بحث کے دوران بالکل ٹھیک اور مانے ہوئے عقیدے پر روشنی ڈالنا شروع کردے کہ سرمایہ دار ملک میں سرکار کیسی بھی ہو ،بڑے سرمایے کا غلبہ ہی رہتا ہے”

میرا خیال ہے کہ لینن کا یہ اقتساب عمران شاہد بھنڈر اور شبانہ یوسف جیسے دوستوں کے اس اعتراض کا شافی جواب ہے جو بلوچستان کی آزادی اور ان کے حق خودارادیت کی مخالفت یہ کہہ کرتے ہیں کہ ایسی آزادی سے وہ سامراج کی دست نگری سے آزاد نہیں ہوسکتے اور یہ بات بھی بہت واضح ہوجاتی ہے کہ جب مارکسی انقلابی بلوچ قوم کے حق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں اور ان کو اپنی الگ قومی ریاست کی تشکیل کا حق دینے کی بات کرتے ہیں تو یہ حمائت ہرگز بلوچ قوم کے حکمران طبقات یا بلوچ بورژوازی یا ان کے سرداروں کی قوم پرستی کی حمائت ہرگز نہیں ہوتی اور یہ باقاعدہ ترقی پسند حمائت ہے

لینن نے اپنے مقالے”قومی مسئلے کا تنقیدی جائزہ اور قوموں کا ح خود ارادیت ” میں آخر میں قوموں کو زبردستی بپنے ساتھ ملانے اور ان سے الحاق کرلینے کی جابر اور ظالم و غالب و حاکم قوم کی پالیسی کی شدید مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ کوئی مارکسی اس عمل کی اس بنیاد پر حمائت نہیں کرسکتا کہ اس سے پسماندہ ریاست تیزی سے سرمایہ داری کی جانب بڑھے گی

لینن جدید سرمایہ داری دور میں پرانے  جاگیرداری انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے چھیڑی جانے والی بحث کا جواب بھی دیتا ہے

میں آخر میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں پاکستان بہت واضح طور پر ایک ایسی ریاست ہے جس میں پنجابی قوم ایک غالب قوم ہے اور اس کا جبر اور ظلم اس ملک کی دیگر اقوام جن میں بلوچ،سرائیکی،سندھی ،پشتون اور سرائیکی ،گلگتی-بلتی،کشمیری ان پر بہت واضح ہے اور یہ سب اس ملک کی مظلوم اور مجبور اقوام ہیں اور بلوچ قوم تو پاکستان کی ریاست (جس پر پنجابی قوم کا غلبہ اور تسلط بہت ظاہر وباہر ہے)کی ننگی جارحیت،جبر ،ظلم،نسل کشی ،اور دیگر مظالم اور وسائل کی لوٹ مار کا نشانہ بن رہی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں اور مارکسی دانشوروں کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ پاکستان کی ریاست میں رہنے والی مظلوم اقوام کے اوپر ڈھائے جانے والے قومی ظلم و جبر کے خلاف لڑیں اور ان اقوام کے حق خودارادیت اور الگ ریاست کی تشکیل کی حمائت کریں اور اس کو سازشی تھیوریز کا سہارا لیکر رد کرنے کی کوشش نہ کریں

ریاستوں کی جیوپالٹیکس کی تبدیلی سے حقیقت بدلتی نہیں ہیں اور کیا یہ حقیقت کسی کی نظر سے اوجھل ہوسکتی ہے کہ پاکستان کی ریاست جب سے وجود میں آئی ہے اس وقت سے یہ ریاست پنجابی اور اردو بولنے والوں کو چھوڑ کر باقی نسلی،لسانی گروہوں پر جبر کرنے اور ان پر قومی جبر اور ظلم کرنے کی روش پر عمل پیرا ہے اور اس نے ان اقوام کی خود مختاری کے مطالبے کو ریاستی طاقت سے کچلنے اور دبانے کی کوشش کی ہے اور ہم نے پہلے بنگالی قوم کی آزادی کو فوجی آپریشن سے کچلنے کی کوشش کا مظاہرہ اپنی آنکھوں سے دیکھا  اور آج بلوچ قوم سے ریاست کا سلوک دیکھ رہے ہیں اگر اس ساری حقیقت کے باوجود سنٹرل پنجاب سے تعلق رکھنے والے دانشور جو مارکسی ڈسکورس کو بھی اپنے ماتھے کا جھومر بنائے رکھیں اور وہ پاکستان کی مظلوم اقوام کے حق خودارادیت کے خلاف ہوں اور قومی جبر اور ظلم کی حقیقت کو بلوچستان کے شاؤنسٹ مظہر کی زیادتیوں سے کم کرکے دکھانے کی کوشش کریں اور اس آڑ میں بلوچ قومی تحریک کے وجود کو امریکی سازش یا عالمی سرمایہ داری کے مفادات کی تکمیل کا راستہ قرار دینے کی کوشش کریں تو اس پر سوائے افسوس کرنے کے اور کیا کیا جاسکتا ہے

About the author

Aamir Hussaini

2 Comments

Click here to post a comment
  • Don’t we need to think beyond Lenin or Rosa? There are strong arguments on nationalism reaching chauvinism, besides class struggle should be the main point from Marxist point of view, otherwise if a movement is hijacked by elite you end up continue to face the same devil and getting weaker. Case in point is Pakistan, which was supported by Communist party of India on same pretext, and then they saw helplessly the country getting hijacked by the elite of Punjab and North India and later Punjab and Pushtoons; urdu speaking were shown the sea by time of Ayub and since then they are on back foot . All administrative gear is controlled by an elite Nexus from all provinces comprising of the land lords mainly. So it is a valid question what if Baluchistan end up in hands of Baloch elite and the global powers? Elite in this part of land have enormous capacity to deal with any power which could ensure them lease of life.
    So although baloch’s right of self determination should be respected, it nevertheless should be supported critically, and question which shall be asked again and again is why we do not see a greater class based union from among all parts of Pakistan? Where is that failing? If Balochis are considered to be alone, why they are alone? Are/Were there any sincere efforts from any side of a larger movement and why it failed? what is the role of elite in failure of efforts such as NAP, ANP, PPP ?