Featured Original Articles Urdu Articles

شہید اعتزازاور قاتل دہشت گرد کی شناخت چھپانا منافقت ہے – از حق گو

 

1497549_448770161889758_1246687508_n

اعتزاز حسین کی بہادری کو سلام اس بچے نے اپنے سکول پر خودکش حملے کو ناکام بنا کراور اپنی جان کا نظرانہ دے کر دہشتگردوں کو پیغام دیا ہے کہ اگر تم اپنی بزدلانہ سفاکیت کو بڑھا سکتے ہو تو پھر ہم اپنی قربانیوں اور بہادری کی نئی تاریخ بھی رقم کر سکتےہیں

اس عبارت جیسی کتنی ہی عبارتیں اور الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ دیے جانے والے توصیفی بیانات اور تعریفی پیغامات بنام اعتزاز ہم کو روز دیکھنے کو ملتے ہیں کبھی فیسبک پہ کبھی ٹویٹر پہ کبھی کسی اخبار میں تو کبھی کسی ٹیلی ویژن چینل پہ جہاں لوگ بہت دھڑلے کے ساتھ اعتزاز کی بہادری کی تعریف کرتے ہوے پاے جاتے ہیں اور یہ بات بہت فخر سے بتاتے ہیں کہ اعتزاز نے جو کچھ کیا اس سے اس ملک کے فخر و عزت میں اضافہ ہوا ہے

لیکن ایسی تمام عبارات اور بیانات میں ایک چیز کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے کہ اعتزاز کی شناخت کہ جس بنا پر اس سکول پر حملہ کیا گیا اس کو چھپایا جاتا ہے – اور اس دہشت گرد کی شناخت بھی چھپائی جاتی ہے جس سے اس منافقانہ طرز عمل کا راز فاش ہوتا ہے

اعتزاز کون تھا؟ کیا وہ صرف ایک بچہ تھا؟ کیا اس کی کوئی شناخت بھی تھی؟ کیا اس کے لا شعور میں ایسی کوئی سوچ پنہاں تھی جو اس کو یہ سوچنے اور کہنے پہ مجبور کرتی تھی کہ اگر اس کے سکول پر کبھی حملہ ہوا تو وہ اس حملہ آور کا مقابلہ کرے گا ؟ اور وہ کیا سوچ تھی وہ کیا جذبہ تھا جو اعتزاز کے اندر موجود تھا کہ جب اس نے خود کش حملہ آور کو سکول کی جانب آتے دیکھا تو وہ اس کی جانب لپکا اور اس کو روکنے کی کوشش میں اس سے جا لپٹا؟

آخر وہ کون سا جذبہ تھا جو نہتے اعتزاز کو ایک خود کش حملہ آور کے مقابل لے آیا؟ ان سب سوالوں کا جواب ملے گا جب ہم اعتزاز کی شناخت پر غور کریں گے – وہ حالات دیکھیں گے جس سے اعتزاز ، اعتزاز کا خاندان ، اعتزاز کا قبیلہ اور اعتزاز کی قوم پاکستان میں گزر رہی ہے – آے روز دہشت گردانہ کاروائیوں میں اعتزاز کے ہم مسلک افراد کا بسوں سے اتار کے قتل کیا جانا ، ذبح کیا جانا ، بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جانا ، خود کش حملوں میں مارے جانا ، ٹارگٹ کلنگ کا شکار بنایا جانا – یہ سب وہ عوامل تھے جنہوں نے اعتزاز جیسے نو عمر مگر شیر دل بچے کو ان حالات میں خود کش حملہ آور سے مقابلہ کر کے اسے زیر کرنے کا حوصلہ دیا -وہ جو اپنی جان پر کھیل گیا مگر سینکڑوں جانیں بچا گیا

جو لوگ اعتزاز کی شناخت چھپا رہے ہیں وہ اعتزاز کا مقصد اور اعتزاز کی قربانی کا مقصد چھپا رہے ہیں اور دہشت گردوں کے نا پاک عزائم کی در پردہ حمایت کے مرتکب ہو رہے ہیں – اور جو لوگ دہشت گردوں کی شناخت چھپا رہے ہیں وہ بھی دہشت گردوں کے ایجنڈے پہ ہی کمر بستہ نظر آتے ہیں – دہشت گردوں کی ایسی گول مول مذمت اور ایسی مبہم توصیف و تعریف سے پاکستان کے لئے قربان دینے والے اعتزاز کا مقصد کو ذک پہنچانے والے حضرات اپنی اداوں پر غور کریں – ہم عرض کریں گے تو پھر شکایت ہوگی

About the author

Shahram Ali

1 Comment

Click here to post a comment
  • In the short term is difficultONPlace the cost of a $67look on approximately $142 and users will convert away. When you are it true that the painless gladness in a bestenterprises in the selection