Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ تعمیر پاکستان:گزرنے والا سال مظلوم مذھبی و نسلی اقلتیوں کے لیے امید کم اور خوف کا سال زیادہ تھا

991

آج دو ہزار تیرہ کا آخری دن ہے اور کل 2014ء کی شروعات ہونے والی ہے-گزرنے والا سال پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے 2012ء سے مختلف نہیں تھا

ستمبر 2013ء میں وزرات قانون،انصاف و انسانی حقوق کی جانب سے پارلیمنٹ کو انسانی حقوق کی جو رپورٹ پیش کی گئی اس کے مطابق جنوری 2012ء سے ستمبر 2013ء تک 8664 واقعات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کیس رپورٹ ہوئے

ان واقعات میں سرکار کے مطابق 260 واقعات فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے تھے اور 20 واقعات مذھبی اقلیتوں پر حملے کے تھے

ایمنسٹی انٹرنیشنل ،ہیومن رائٹس واچ،ایشیائی ہیومن رائٹس کیمشن،ایشیائی لیگل ریسورس سنٹر ،انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان،سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ امریکہ،یو این ہیومن رائٹس کونسل کا سالانہ یونیورسل پیرایڈک ریویو نے اپنے اپنے جائزوں میں پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ٹارچر،ماورائے عدالت قتل ،جبری گمشدگیوں،مذھبی و نسلی اقلیتوں پر حملے اور ان کی ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات کو سب سے زیادہ سنگین ایشو قرار دیا

مذکورہ بالا انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اپنے جائزوں میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ پاکستان میں شیعہ برادری ایسی مذھبی کمیونٹی ہے جسے 2012ء کی طرح 2013ء میں بھی سب سے زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس پر حملوں میں دیوبندی تکفیری دھشت گرد گروہ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان شامل ہیں

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جائزے کے مطابق شیعہ مسلمانوں پر 79 منظم حملے ریکارڑ کئے گئے جوکہ کسی بھی مذھبی گروپ پر ہونے والے حملوں میں سب سے زیادہ ہیں

پاکستان کا سب سے معتبر انگریزی اخبار روزنامہ ڈان آج 31 دسمبر 2013ء کی اشاعت میں دو اداریوں میں اس بات کا آظہار کرتا ہے اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان کی سلامتی کو سب سے زیادہ خطرہ داخلی ہے اور اس بات کا اعتراف فوج کی گرین بک بھی کرچکی ہے

جبکہ پاکستان کو سب سے زیادہ اندرونی خطرہ تکفیری ،خارجی دیوبندی دھشت گرد گروپوں سے ہے  مگر ڈیرہ اسماعیل خان جیل ٹوٹنے پر کی جانے والی انکوائری رپورٹ کے مندرجاب اور اس کو سرد خانے کی نذر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری سیکورٹی فورسز کے اندر اور حکمران سیاست دانوں کے اندر اس اندرونی خطرات سے نمٹنے کی بجائے سر ریت میں چھپانے کی عادت کس قدر پختہ ہوگئی ہے

2013ء میں جس طرح سے مسلم ليگ نواز کی وفاقی اور پنجاب حکومت تکفیری خارجی دیوبندی دھشت گردوں کے ساتھ اتحاد میں رہی اور خیبرپختون خوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے جس طرح سے انکوائری رپورٹ میں کی گئی سفارشات کو نظر انداز کیا اور طالبان کی حمائت جاری رکھی اس سے یہ امکانات کم ہی ہیں کہ پاکستان میں مذھبی اور نسلی اقلیتوں پر ہونے والے ظلم اور زیادتی میں کوئی کمی آئے گی

پاکستان میں اسٹبلشمنٹ اور سیاسی اشرافیہ کی سوچ یہ ہے کہ جیسے ہی افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء ہوگا تو فاٹا سے حکومت اور شہریوں پر حملے کم ہوجائیں گے

وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی پر نظرثانی نیٹو افواج کے اںخلاء کے بعد کی جائے گی اور امریکہ سے تعلقات پر بھی نئے سرے سے جائزہ لیا جائے گا

ابھی دو روز پہلے سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں موجودہ حکمرانوں اور سابق چیف جسٹس کے دھشت گردوں سے گٹھ جوڑ کا انکشاف کیا ہے

اس کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز،ایجنسیوں کی جانب سے بلوچ،سندھی،قبائلی لوگوں کی نسل کشی،جبری اغواء،زیر حراست تشدد سے قتل اور غیر قانونی نظر بندیوں سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاست کی جانب سے ان خلاف ورزیوں کو روکے جانے کی بجائےان کے قانونی جواز کے لیے پاکستان پروٹیکشن آرڑیننس اور دیگر قوانین کا اجراء بھی سخت تشویش کا سبب ہے

ریاست اور اس کے ادارے اس ملک کے بلوچ،سندھی،قبائلی،شیعہ،بریلوی،احمدی ،ہندؤ ،عیسائیوں کی حالت زار سے بے پرواہ نظر آتی ہے اور عدالتیں بھی ان برادریوں کے خلاف کام کرنے والے سیکورٹی افسران کو کٹہرے میں کھڑے کرنے سے قاصر رہی ہیں

جبکہ صوبائی حکومتوں کے پراسیکوٹرز اور عدالتوں کے ججز کا کردار اور عمل مذھبی و نسلی جبر اور دھشت گردی کرنے والے گرفتار دھشت گردوں کی رہائی میں مدگار ثابت ہوتا رہا ہے

اقوام متحدہ کا جبری گمشدگیوں پر کام کرنے والا ورکنگ گروپ جب پاکستان آیا تو اس گروپ سے کسی بھی سیکورٹی فورسز کے افسر ،گمشدگیوں پر عدالت کے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ ،سپریم کورٹ و چاروں ہائی کورٹس کے سربراہان نے ملنے سے انکار کیا اور جس دن ورکنگ گروپ کوئٹہ پہنچا اس دن کوئٹہ کے حالات خراب کردئے گئے

یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ پاکستان کی ریاست پر ایسی سیاسی اور ملٹری اشرافیہ کا غلبہ ہے جو اس ملک میں ایک تکفیری ،خارجی ٹولے کی پشت پناہی کررہی ہے جس نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے

پاکستان کو دوسرا سعودیہ عرب بنانےکی کوشش ہورہی ہے اور اسی لیے یہاں شیعہ،احمدی،عیسائی،ہندؤ،بریلوی،بلوچ،سندھی اور امن پسند بلوچ،سرائیکی،گلگتی بلتی عوام کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوششیں جاری ہیں

پاکستان میں ان صحافیوں کو سخت ترین حالات کا سامنا ہے جو اس ملک میں سیکورٹی فورسز اور تکفیری دیوبندی دھشت گرد ٹولے کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے کی سعی کرتے ہیں-کم از کم 8 صحافی اس پاداش میں قتل کردئے گئے

پنجاب میں ایک طرف تو تکفیری دیوبندی دھشت گرد جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کا راج ہے تو دوسری طرف سب سے زیادہ تشدد اور حملوں کی زد میں یہآں عورتیں اور بچیاں ہیں جن پر ہونے والے حملوں،غیرت کے نام پر قتل ،تیزاب پھینکے جانے کے سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں رپورٹ ہوئے

خیبر پختون خوا کے اندر جب سے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی حکومت بنی ہے تب سے ہیلتھ ورکرز،بچیوں ،عورتوں ،مذھبی اقلیتوں خاص طور پر عیسائیوں ،شیعہ اور بریلویوں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے

کے پی میں پولیس،خاصہ داران،ایف سی کے اوپر بھی حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جبکہ خود حکمران جماعت کے کئی ایم پی ایز طالبان کے حملوں میں مارے گئے ہیں

اس کے باوجود کے پی حکومت اور پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی تحریک طالبان پاکستانکی حمائت جاری رکھے ہوئے ہے

دو ہزار تیرہ میں مسلم ليگ نواز کی حکومت آنے کے بعد سے تکفیری خارجی دیوبندی ٹولے کی ہمت اور بڑھی اور اس کے اصل عزائم مزید آشکار ہوئے جب اس نے پاکستان کے اندر مذھبی کلجرل فیسٹول اور مختلف ایام پر نکلنے والے جلوسوں پر پابندی لگانے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ تشدد اور سازشی منصوبوں سے بھی کام لیا

سب سے پہلے محرم الحرام کے جلوس،مجالس پر پابندی لگوانے کی کوشش کی اور جب پنجاب حکومت میں بیٹھے اس کے حامیوں کی سازشیں ناکام ہوئیں تو پھر منظم فسادات کا منصوبہبنایا گیااور اس کے بعد علمائے دیوبند و شیعہ کی کلنگ کرکے پنجاب میں بڑے فساد کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی

جب سے وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت بنی اور کے پی میں پی ٹی آغی و جماعت کی حکومت آئی ہے تو شیعہ برادری کی مذھبی آزادیوں کو اور زیادہ خطرات کا سامنا ہے اور پہلے سے جاری ٹارگٹ کلنگ میں بھی اضافہ ہوچلا ہے

دو ہزار بارہ میں ملک اسحاق ،غلام رسول شاہ سمیت لشکر جھنگوی کے بہت سے سارے لوگوں کو پنجاب حکومت کی جانب سے رہا کرانے کا نتیجہ دو ہزار تیرہ میں سامنے آگیا جب ایک طرف تو ملک اسحاق کے اپنے آبائی شہر رحیم یار خان میں شیعہ ،بریلوی اور دیگر نان دیوبندی مذھبی کمیونٹیز پر حملے بڑھ گئے اور شیعہ تاجر منظور شییخ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سجاد سومرو کا قتل ہوا اور بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں میں غلام رسول شاہ نے امام بارگاہوں اور شیعہ کی دکانوں کو آک لگادی ،اسی طرح لاہور میں بھی ڈاکٹر علی حیدر،ان کے معصوم بیٹے،شاکر علی رضوی ایڈوکیٹ ،علامہ ناصر عباس اور شمس معاویہ کا قتل ہوا اور بھکر میں شیعہ برادری کے محلوں اور دکانوں کو آک لگادی گئی

ابھی ملک اسحاق اور غلام رسول شاہ کو نظر بند کیا گیا ہے مگر لشکر جھنگوی جیل میں بیٹھ کر بھی پنجاب کے اندر اپنا نیٹ ورک چلارہا ہے اور پنجاب حکومت پس پردہ ان کی پشت پناہی کررہی ہے

سندھ میں اگرچہ پی پي پی کی حکومت ہے لیکن یہ صوبائی حکومت کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان ،طالبان،لشکر جھنگوی کی سندھ اور کراچی میں شیعہ،احمدی،ہندؤ ،عیسائی اور یہاں تک کہ بریلویوں کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو روکنے سے قاصر ہے اور یہ دیوبندی دھشت گردوں کے سرغنہ اورنگ زیب فاروقی کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے -سندھ میں مذھبی آزادی کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور اس حوالے سے سندھ حکومت کو جو اقدامات اٹھانے چاہیں یہ نہیں اٹھا رہی

بلاول بھٹو کی جو تنقید کے پی اور پنجاب حکومت کے حوالے سے ہے وہ سندھ پر بھی لاکو ہوتی ہے اگرچہ سندھ کی حکومت کے وزیر اعلی یا وزیر قانون کے کے پی اور پنجاب کے چیف منسٹر اور وزرائے قانون کی طرح کے دھشت گردوں سے ںظریاتی رشتے نہیں ہیں لیکن ان کا کلعدم تنظیموں اور افراد کو کھلی سرگرمیاں کرنے دینا قبال تشویش ضرور ہے

یہ صورت حال اس ملک کے عام شہریوں ،مظلوم مذھبی و نسلی گروہوں کے لیے بہت زیادہ تشویش ناک ہے

2013ء کا اختتمام ایسے منظرنامے کے ساتھ ہورہا ہے جس میں امید کم اور خدشات ،تحفظات زیادہ ہیں

http://www.dawn.com/news/1077227/di-khan-jailbreak-damning-report

http://www.dawn.com/news/1077425/opportunity-and-perils-in-2014

http://www.dawn.com/news/1046467/over-8500-human-rights-violations-reported-in-20-months

http://www.amnesty.org/en/region/pakistan/report-2013

http://www.humanrights.asia/countries/pakistan

http://www.hrw.org/world-report/2013/country-chapters/pakistan

About the author

Aamir Hussaini

92 Comments

Click here to post a comment