Featured Original Articles Urdu Articles

دسمبر

bb

دسمبر

دسمبر کی آخری راتیں ہیں اور مجھے پھر سے راتوں کو نیند نہیں آرہی ہے-یادوں کا ایک ریلا ہے جو میرے دماغ کی ردکوہی میں سیلاب لے آیا ہے اور میں اس ریلے میں دور تک گھیسٹتا چلا جارہا ہوں

کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر ختم کروں،آج سے چار عشرے پہلے ایک کہانی شروع ہوئی جس کے اکثر کردار آج بس میری یادوں میں زندہ ہیں اور میں اپنے وجود کے ساتھ بس ان یادوں کی راکھ کریدنے کے لیے رہ گیا ہوں

شاید دسمبر کی آخری راتوں میں سے کوئی ایک رات تھی جب بہت تیز بارش اور سرد ہوا چل رہی تھی،ہوا سے کوارڑ کبھی کھلتے اور کبھی بند ہوتے اور ان کی چرچراہٹ عجیب سی لگتی تھی

میں بہت چھوٹا تھا لیکن اندھیرے ،سر ہواؤں کی سائیں سائیں سے اور بارش کی بوندوں کی ٹپ ٹپ سے کبھی ڈرنے والا نہیں تھا کیوں کہ میرے دادا اور دادا نے مجھے کبھی ان دیکھی بلاؤں اور بھوت پریت سے ڈرایا نہیں تھا

لیکن اس رات کی سیاہی اور تیز ہواؤں کی سائیں سائیں سے میں میں گبھراکر اپنے سونے کے کمرے سے باہر نکلا تو مجھے اس پرانے سے گھر میں بنے دارالمطالعہ کے اندر ٹیبل لیمپ کی روشنی کھڑکی کے شیشے سے چھن چھن ککر باہر آتی دکھائی دی تو میں اس کمرے کی جانب چل دیا

اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ دادا ٹیبل لمیپ کی روشنی میں میز پر ایک کتاب کھولے پڑھ رہے تھے،میں ان کی پیٹھ کے پیچھے چپکے سے جاکھڑا ہوا

دادا نے پیچھے مڑے بغیر کہا آجاؤ عامی،کیا نیند نہیں آرہی؟

میں اکثر حیران ہوتا تھا کہ دادا پیچھے مڑے بغیر اور کسی کھڑکھڑاہٹ کو سنے بغیر کیسے میری موجودگی محسوس کرلیتے تھے

اس رات دادا نے مجھے اپنے پہلو میں بٹھاکر ایک کہانی سنائی جس میں دسمبر کی آخری سرد اور تاریک اور پھر لمبی راتوں کا تذکرہ تھا جب لوگوں پر سامری جادوگر نے ایسا سحر کیا تھا کہ وہ اپنے دانا اور عقل مند لوگوں کو پاگل خیال کرنے لگے تھے اور ایک دن تنگ آگر سارے دانا اور عقل مند لوگوں نے بھی پاگل سانگ چڑھا لیا اور پاگلوں کے ساتھ پاگل ہوگئے تھےلیکن ایک دانا ایسا بھی تھا جس نے یہ سانگ نہ چڑھایا تو لوگوں نے اسے مہا پاگل گہا اور پھانسی چڑھا دیا اور پھر اس کی پھانسی پر جشن منایا اور جس پاگل جج نے اس دانا کو خطرناک پاگل کہہ کر پھانسی چڑھانے کا حکم دیا تھا اس جج کو تمغہ دانائی دیا گیا

یہ دسمبر 1979ء کی رات تھی جب دادا نے یہ کہانی مجھے سنائی تھی اور میں کچھ بھی تو نہیں سمجھ پایا تھا ،کہانی بس کہانی لگی تھی اور اس کے کردار بھی مجھے دیو مالائی لگے تھے

یہ تو بعد میں جب 4-اپریل 1979ء کی کہانی کھلی تو مجھے پتہ چلا کہ دادا مجھے کون سی کہانی اور کون سے کرداروں سے آشنا کرانے کے خواہش مند تھے

ہم جس کمرے میں ایک حقیقت کو مائیتھالوجی کی شکل میں بیان ہوتا سن رہے تھے وہ کمرہ خود بھی کسی متھ اور اسطور سے کم نہیں تھا

نارتھ ناظم آباد کے پرانے بنگلوں میں سے ایک بنگلہ جو تقسیم سے قبل ایک مالدار ہندؤ ٹھیکے دار نے بنوایا تھا جس میں دیودار کی لکڑی کا وافر استعمال ہوا تھا اور اس بنگلے میں جو مطالعہ کا کمرہ تھا اس میں کتابوں کے ساتھ ساتھ کرشن جی،ہنومان جی،درگادیوی،گنیش جی،سرسوتی اور لکشمی،گیتاجی کے مجسمے موجود تھے،اس کے علاوہ مائیکل اینجلو کے بنائی ہوئی تصویروں کے رپلیکا اور بدھا جی بھی تھے اور اس ہندؤ ٹھیکے دار کی بیٹی لکشمی جی جو ستی ساؤتری یا صوفی ملحد لگتی تھی کی بنائی ہوئی اپنی پینٹگنز جس میں اس کے چہرے میں کہیں کہیں سیفو ،کہیں قرۃ العین طاہرہ،کہیں کنواری مریم،کہیں گیتا ،کہیں درگا اور کہیں سیتا جی جھلکتی نظر آجاتی تھیں اور پھر کہیں اس کی شکل میں سیمون دی بووا ،کلارازیٹکن اور کہیں کروپسکایا تو کہیں روزا جھانکتی ہوئی ملتی تھی ،لکشمی اپنے وجود میں کئی ایک چہرے لیے پھرتی ہوگی اور پھر بھی اپنا چہرہ باقی رکھے رکھتی تھی یہ کمال تھا اس کا

میرے دادا اور دادی نے اس کمرے کی ترتیب کو کبھی نہیں بدلا تھا اور وہ اس کمرے میں ایسے آتے جاتے تھے جیسے کسی اور کے کمرے میں آیا جایا جاتا ہے

میں نے اس لکشمی جی کو اس پرانے سے پراسرار بنگلے میں کئی مرتبہ دیکھا کبھی اسے برش پکڑے کسی پینٹنگ کی تراش خراش کرتے تو کبھی کتاب میں گم،اسکول گيا تو انگریزی کی استانی میں اس کی جھلک دیکھی،پھر کالج میں رومانہ کی آنکھوں میں وہ نظر آئی

اور جب یونیورسٹی پہنچا تو ہما علی کے قالب میں اس کا پورا سراپا جذب نظر آیا

لکشمی میرا بھید تھی جس کو میں نے ہما علی میں کھلتے ہوئے دیکھا تھا

مجھے وہ ماسکو کے پرانے محلے ،ریڈ اسکوائر،لینن کے مقبرے کے اندر اور سب وے میں ریل کی بوگی میں جینز،شرٹ،لمبے کوٹ کے ساتھ اور گلے میں مفلر ڈالے نتاشا کے روپ میں نظر آتی رہی اور جب کبھی اپنی اس فنتاسی کا میں نے ہما علی سے گھنٹوں بعد ملنے والی ٹرنک کال کے زریعے کال بوتھ میں سردی سے کپکپاتے ہوئے زکر کیا تو ہمیشہ اس سے یہ سننے کو ملا

بدھو رام جی،عامی رہو خاص بننے کی کوشش مت کرو،لگتا ہے گوگول کی علام روحوں نے تمہاری روح کو قبضے میں لے لیا ہے

ویسے ٹاسٹائی کی آناکرینینا میں اس کو دیکھنے کی کوشش بے کار بھی نہیں تھی اور دستوفسکی کی کہانیوں میں نہ جانے جبر کی وادی میں گم ایسی عورتیں جو ہر قیمت پر آزاد ہونا چاہتی تھیں مجھے لکشمی لگا کرتی تھیں،ویسے آپس کی بات ہے ماسکو میں مجھے تو موسم بہار بھی دسمبر کی طرح یخ اور کہر زدہ لگتا تھا اور اگنی سے پیار بھی ہوگیا تھا

وقت کا پنچھی کیسے اڑتا چلا جاتا ہے اس کا پتہ بھی نہیں چلتا اور کئی زندہ کردار اب بس کہانی کی حدود میں قید ہوجاتے ہیں

دسمبر کا مہینہ تھا جب ہما علی کی رپورٹس آئیں تھیں اور کینسر کا پتہ چلا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مارچ میں وہ چھومنتر ہوگئی تھی،یاد بس یاد کی پرچھائیں اب باقی ہے

سخت گرمیوں کے دن تھے جب کالج کے ہاسٹل سے سیکنہ علی بنک کرکے رات کو ایک سیٹی کا کوڈ سنکر چلی آتی اور سینٹ جوزف چرچ میں وہ،میں اور وقار بیٹھا کرتے یا اس بستی میں چلے آتے جو امیروں کی سول لآئن اور مڈل کلاسیوں کی کانونیوں کے درمیان بفر زون کی طرح تھی،پھر دسمبر آتا اور آخری راتوں میں کبھی امجد کی نظم ایک پرانے سے اخباری تراشے کی شکل میں وقار کے لانگ کوٹ سے برآمد ہوتی اور کبھی اس کی قرآت میں کرتا تو کبھی سکینہ تو کبھی وقار

سیکنہ کہتی یار !آخری چند دن دسمبر کے ہر برس گراں کیوں گزرتے ہیں؟

اور تین عشروں بعد جب میں اس کو دریائے پراگ کے اوپر بنے پرانے پل پر ملا تو اس نے ریلنگ کو تھامتے ہوئے اچانک مجھ سے کہا

واقعی یار امجد صاحب نے ٹھیک ہی لکھا تھا کہ دسمبر کے آخری چند دن واقعی بہت گراں گزرتے ہیں

میری زندگی میں دسمبر کی جو بھی راتیں گزریں ان میں یقینی بات ہے 27 دسمبر کی شام اور رات سب سے زیادہ بھاری اور دل توڑدینے والی تھی

آج جب یہ کہانی لکھنے بیٹھا تو 27 دسمبر کی رات تھی جو تھوڑی دیر پہلے 28 دسمبر میں بدل گئی ہے

ساؤن کے مہینے میں ایک اور کہانی شروع ہوئی جس کا اینڈ دسمبر کی سرد راتوں میں ہوا

شہر بانو بھی اب عالم بالا میں کہیں بیٹھی ہوگی اور نہج البلاغہ کی مشکل عبارتوں کو آسان کرتی ہوگي

سعید عالم عالم مثال میں منطق و جدلیات کی گتھیاں سلجھاتے ہوں گے

وقار این جی او سیکٹر میں تربیتی کورسز کرارہا ہوگا

شعبی سرگودھا یونیورسٹی میں بچوں کو قانون پڑھاتا ہوگا

رضوان فرشتوں کو اپنی خون آلود وردی دکھاکر ڈیسٹنی کے معنی پوچھتا ہوگا

ندا بنکر میری تخلیق کو مہمیز لگانے والی شا‏ید اب بھی ٹاہلی کے نیچے ایک دور افتادہ چک میں پرائمری کی بچیوں کو پڑھارہی ہوگی

فلسفے میں ڈاکٹریٹ کرنے والی زھراء اب بھی محض نوکری فقط نوکری ڈھونڈ رہی ہوگی

اور منگلا کے پل پر کوئی انتظار کرتا کرتا اب پتھر ہونے کے قریب ہوگا اور جس کا انتظار ہورہا ہوگا وہ سانسوں کی ڈوری کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے تین تین نوکریاں کررہا ہوگا

ہاں اس دوران کچھ نئے قصے بھی شامل ہوئے ہوں گے،جیسے پرانے کرشن نگر کی تلاش میں دسمبر کی سخت دھند والی شام کو کوئی دیوانہ عاطف چوک سے نیلی بار چوک پہنچا ہوگا اور وہاں سے اچانک لاجپت رائے سٹریٹ گیا ہوگا اور پھر بدلے کرشن نگر کا ذکر اپنی فیس بک سٹیٹس پر ڈال کر بیٹھا ہی ہوگا کہ ایک سیدانی جس کا بچپن،لڑکپن اور جوانی کرشن نگر میں گزری ہوگی وہ اس قدر ناسٹیلجک ہوگی کہ کتاب لکھنے کا وعدہ کرنے لگی ہوگی ،زھرہ!سنتی ہو کہ تمہاری ایک ہم نام افسانہ نگار اب کرشن نگر کی داستان رقم کرنے کی ٹھان بیٹھی ہے

ادھر ایک شہر زاد ہے جو بغداد سے لاہور آئی ہے اور مادھو  لال حسین کے لاہور کو دیکھنے کی چاہ میں بولائی بولائی پھرتی ہے جبکہ اس کا حسن کوزہ گھر جو بغداد سے صدیوں پہلے سندھو وادی کے درشن لینے آگیا تھا لاہور چھوڑ چلا ہے

شہر زاد بغداد جاکر کیا کہانی سنائے گی اس کا نہ تو مجھے پتہ ہے نہ ہی اس کے قریب رہنے والوں کو ،ہوسکتا ہے لارنس باغ میں بدھا کے درخت کو یہ راز معلوم ہو

عامر حسینی

About the author

Aamir Hussaini

3 Comments

Click here to post a comment
  • Nice try, but your democratic party is as democratic as the Al-Saud Royal family or Iranian Ayatollahs. Bhutto family has done more harm to this country then all the deranged jahil Deobandi mullahs combined. This family is only in the business of making money and damn the people. We should learn from the end of these Bhuttos, look how they all went to hell. The best business in this country is politics and the Bhuttos and the Zardaris have mastered that art. People like you who shower praises on this scum of the earth family are boot lickers.

  • A truly despicable family which met a truly deserved fate. Hopefully the third generation will meet a similar fate if they do not mend their ways. This family has its claws dug in the psyche of the rural Sindhis, who have never seen a feudal that they do not literally worship. Go to any goth in Sindh and see the wretched condition of the local people there, no jobs, no education and no future. While the people who win from rural Sindh all live in cushy palaces in Karachi near the beaches. Take for example that bas*tard Zulfiqar Mirza, a psychopath by his own admission, and his Benazir wannabe wife, they win from Badin district and live in Karachi, even when Badin was devastated by floods they never bothered to do anything about it. Another one is that Khursheed Shah Har*ami who cut the canals in the direction of villages to save his farmland. If I had my way I would line all these insects and set them on fire.