Blogs Cross posted Newspaper Articles Original Articles Urdu Articles

چنیوٹ کے انیس – از سلمان حیدر

16jan_taziya

ایڈیٹر نوٹ : تاریخ شاہد ہے کہ تعزیہ برداری اور تازیا سازی ہمیشہ سے سنی مسلمانوں کا شیوا رہا ہے – محرم میں تعزیہ سازی اور مجلس کا انتظام و انصرام ہمیشہ سے سنی مسلمانوں نے اپنی ذمہ داری سمجھا ہے – جلوس کے راستے میں دودھ ، پانی اور شربت کی سبیلیں لگانا بھی زیادہ تر سنی مسلمانوں کے ہی انتظامات میں شامل ہوتا ہے – سنی مسلمان سواۓ زنجیر زنی اور ماتم کے محرم کے تمام معمولات میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے ہیں اور لیتے رہے ہیں اور  یہ ہمیشہ سے سنی مسلمانوں کا خاصہ رہا ہے

اگر آپ سے یہ کہا جائے کہ آپ اپنی یادداشت کی پوٹلی کھولیں اور آج کل اور پرسوں کی تہیں ہٹا کر اس پوٹلی میں سے وہ پرانے سے پرانا لمحہ نکالیں جو اپنی زیادہ تر جزیات کے ساتھ آپ کے ذہن میں محفوظ ہے تو آپ کا جواب کیا ہوگا۔

کیا وہ پل جب آپ کا پہلا کھلونا آپ کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا تھا یا وہ پہلی چوٹ جو آپ کو کھیلتے ہوئے لگی تھی یا کچھ اور۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ کسی ایسے سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے ہم میں سے اکثر لوگوں کی انگلی کسی زخم کا نشان سہلانے لگتی ہے یا کسی درد سے ٹکرا کر زخمی ہو جاتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ زخموں کے نشان بوسوں کی مہک سے زیادہ دیرپا کیوں ہوتے ہیں؟

اس سوال کا جواب دینا تو ابھی شاید ماہرین نفسیات کے بس میں بھی نہیں ہے لیکن وہ اتنا ضرور معلوم کرچکے ہیں کہ یادداشت کی مٹھی سے خوشیوں کی تتلی اڑ جاتی ہے اور ذہن کے چہرے پر آنسوؤں کی لکیر رہ جاتی ہے۔

کیا یہ معاملہ میری آپ کی یادداشت کے ساتھ ہی ہے؟ غالباً نہیں۔ انسان کی اجتماعی یادداشت بھی رنگ ، نسل، مذہب اور عقیدے کی کسی تفریق کے بغیرکچھ اسی طرح کام کرتی محسوس ہوتی ہے۔

رام کے بن باس سے آدم کی جنّت بدری تک اور سقراط کے زہر پیالے سے عیسیٰ کے مصلوب ہونے تک تاریخ ایک المیے سے دوسرے المیے تک سفر کرتی ہے۔

تاریخ اور انسان کا رشتہ کچھ ایسا ہے کہ ایک طرف تاریخ انسان تخلیق کرتی ہے تو دوسرے ہاتھ یہی انسان تاریخ بناتا ہے۔

نتیجہ یہ کہ جہاں اس المیوں بھری تاریخ نے آج کے انسان کو جنم دیا ہے وہیں اس انسان نے ان المیوں کے پس منظر میں وہ فن پارے تخلیق کیے ہیں جو اب اسی تاریخ کا حصہ ہیں۔

کپل وستو کا شہزادہ ادھر ٹیکسلا کے سٹوپوں میں ڈھل کر تاریخ بنتا ہے تو ادھر دی لاسٹ سپر کا خالق زندگی کے صلیب سے شہرت کے آسمانوں پر اٹھایا جاتاہے اور تاریخ بناتا ہے۔

تاریخ فن اور المیے کے اس آواگون میں ایک تاریخی المیہ ایسا بھی ہے جس نے جہاں ایک طرف انیس اور دبیر جیسے تاریخ ساز شاعر پیدا کیے تو دوسری طرف سدھارتھ کو مجسموں میں ڈھالنے والے گمنام فنکاروں کی طرح ایسے فنکاروں کو بھی جنم دیا جن کا فن تو تاریخ کا حصہ ہوگا لیکن ان کا نام شاید کسی کو معلوم نہیں ہوسکے گا۔

چنیوٹ کے یہ انیس و دبیر مستری کہلاتے ہیں، اس چھوٹے سے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں رہنے والے ان فنکاروں کا سونے جیسا فن وہ سنہری تعزیے تعمیر کرتا ہے جن پے نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کے ماتم گسار عقیدت کے پھول چڑھاتے ہیں۔

تعزیے کا لفظ یوں تو اس خطے میں مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں ایران میں واقعہ کربلا کی ڈرامائی تشکیل سے لے کر ہندوستان میں دھاتوں سے گھاس تک قسم قسم کی چیزوں سے بننے والی امام حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہوں تک سب کچھ شامل ہے.

لیکن چنیوٹ میں بننے اور محرم میں جلوسوں کے ساتھ لے جائے جانے والے تعزیے لکڑی کی دلکش نقش و نگار والی کئی منزلہ عمارتوں جیسی شبیہیں ہیں جنہیں امام کے عقیدت مند اپنے کاندھوں پر اٹھا کر چلتے ہیں۔

منوں وزنی اور پینتیس سے چالیس فٹ بلند یہ تعزیے لکڑی کے منقش تخت، ایسے ہی نقش و نگار والی لکڑی کی منزلوں اور چھتری نما چاند تارے والے حصے پالکی پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں آپس میں جوڑ کر تعزیے کو تیار کیا جاتا ہے۔

تیار ہونے کے بعد ایک تعزیے کا وزن اتنا ہوتا ہے کہ اسے عام طور پر پینتیس سے چالیس افراد اٹھاتے ہیں۔

محرم کی آمد کے ساتھ ہی تعزیے سجانے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے جس کا پہلا مرحلہ اس پر کیے گئے سنہرے رنگ کو تازہ کرنا اور پچھلے جلوس کے دوران ہونے والی کسی چھوٹی موٹی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت ہوتا ہے۔

ان تعزیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تعزیہ خانے بنائے گئے ہیں جن سے ملحق کھلی جگہوں پر تعزیوں پر رنگ ان کی مرمت اور ان کے مختلف حصوں کو جوڑنے کا کام سر انجام دیا جاتا ہے۔

سنہری رنگنے کے بعد ان تعزیوں کو محرم کے پہلے عشرے کی مختلف تاریخوں میں مختلف شکلوں میں سجایا اور نکالا جاتا ہے۔

تعزیت کا یہ سفر جو تعزیوں کی تزئین و آرائش سے شروع کیا جاتا ہے مہندی، دربار اور سیج کی رسوم ادا کرتا ہوا محرم کی دس تاریخ کو مکمل تعزیے کی جلوس کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔

 

 

Source :

http://urdu.dawn.com/news/1000869/chiniot-ky-anees-sa