Blogs Cross posted Newspaper Articles

Great example of Sunni-Shia unity in Chiniot, Punjab: All Tazia makers for Shias’ Ahsura procession are Sunnis – by Salman Hyder

16jan_taziya

To witness the wonder of how devotion beautifies art one has to travel to Chiniot. But the place has something more than that to offer.

In a country where every month is turned into a Muharram, owing to the bloodshed and violence across its map, Chiniot presents a reason for the bewilderment of the propagandists. In this town the tazias associated with the tragedy of Karbala are created, decorated and carried by not Shias only, but the Sunnis, too. In fact, it can be easily claimed that they are in majority in these processions.

The mourning of Hussain (AS) and the tazias from the town of Chiniot have a history older than that of Pakistan. Amazingly, and perhaps most fortunately, the former’s history is free of any sectarian divides or violence. This little miracle in the town of Punjab is like sprinkling of peaceful rain over the soil that is burning with violence and hatred.

Distant from the desire of fame or the sectarian hatred, the hands and hearts that create these hallmarks of unity, these masterpieces of art, are themselves creatures of devotion, for it is devotion that kneads man’s essence into purity.

But as important as devotion is from one end, so is praise and appreciation from the other. How hard can it be to realise that it is these creators who, like the poets who created the form marsia (loose variant of elegy) in poetry with a distinguishable place, create these structures in their distinguishable space.

When Mir Anees departed from this world, Dabeer had spoken of him in a couplet that made history, in which Dabeer dubbed Anees the God’s conversationalist.

It is difficult to imagine if there will be a Dabeer for every Anees from Chiniot. In the war of faiths, it is culture that is suppressed and targeted. If culture is martyred, our breaths would not be enough to count us alive. It will be a death that will not be mourned by anyone. There will be no elegies. There will be no tazia. The art of making history is not for the vainly dead. -Translated from Urdu by Aadarsh Ayaz

Source :

http://www.dawn.com/news/1076139/the-tazias-of-chiniot

About the author

Shahram Ali

2 Comments

Click here to post a comment

  • چنیوٹ کے انیس
    سلمان حیدر

    چنیوٹ کے انیس
    سلمان حیدر تاریخ اشاعت 24 دسمبر, 2013
    شیئر کریں ای میل 0 تبصرے پرنٹ کریں

    اگر آپ سے یہ کہا جائے کہ آپ اپنی یادداشت کی پوٹلی کھولیں اور آج کل اور پرسوں کی تہیں ہٹا کر اس پوٹلی میں سے وہ پرانے سے پرانا لمحہ نکالیں جو اپنی زیادہ تر جزیات کے ساتھ آپ کے ذہن میں محفوظ ہے تو آپ کا جواب کیا ہوگا۔

    کیا وہ پل جب آپ کا پہلا کھلونا آپ کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا تھا یا وہ پہلی چوٹ جو آپ کو کھیلتے ہوئے لگی تھی یا کچھ اور۔

    ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ کسی ایسے سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے ہم میں سے اکثر لوگوں کی انگلی کسی زخم کا نشان سہلانے لگتی ہے یا کسی درد سے ٹکرا کر زخمی ہو جاتی ہے۔

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ زخموں کے نشان بوسوں کی مہک سے زیادہ دیرپا کیوں ہوتے ہیں؟

    اس سوال کا جواب دینا تو ابھی شاید ماہرین نفسیات کے بس میں بھی نہیں ہے لیکن وہ اتنا ضرور معلوم کرچکے ہیں کہ یادداشت کی مٹھی سے خوشیوں کی تتلی اڑ جاتی ہے اور ذہن کے چہرے پر آنسوؤں کی لکیر رہ جاتی ہے۔

    کیا یہ معاملہ میری آپ کی یادداشت کے ساتھ ہی ہے؟ غالباً نہیں۔ انسان کی اجتماعی یادداشت بھی رنگ ، نسل، مذہب اور عقیدے کی کسی تفریق کے بغیرکچھ اسی طرح کام کرتی محسوس ہوتی ہے۔

    رام کے بن باس سے آدم کی جنّت بدری تک اور سقراط کے زہر پیالے سے عیسیٰ کے مصلوب ہونے تک تاریخ ایک المیے سے دوسرے المیے تک سفر کرتی ہے۔

    تاریخ اور انسان کا رشتہ کچھ ایسا ہے کہ ایک طرف تاریخ انسان تخلیق کرتی ہے تو دوسرے ہاتھ یہی انسان تاریخ بناتا ہے۔

    نتیجہ یہ کہ جہاں اس المیوں بھری تاریخ نے آج کے انسان کو جنم دیا ہے وہیں اس انسان نے ان المیوں کے پس منظر میں وہ فن پارے تخلیق کیے ہیں جو اب اسی تاریخ کا حصہ ہیں۔

    کپل وستو کا شہزادہ ادھر ٹیکسلا کے سٹوپوں میں ڈھل کر تاریخ بنتا ہے تو ادھر دی لاسٹ سپر کا خالق زندگی کے صلیب سے شہرت کے آسمانوں پر اٹھایا جاتاہے اور تاریخ بناتا ہے۔

    تاریخ فن اور المیے کے اس آواگون میں ایک تاریخی المیہ ایسا بھی ہے جس نے جہاں ایک طرف انیس اور دبیر جیسے تاریخ ساز شاعر پیدا کیے تو دوسری طرف سدھارتھ کو مجسموں میں ڈھالنے والے گمنام فنکاروں کی طرح ایسے فنکاروں کو بھی جنم دیا جن کا فن تو تاریخ کا حصہ ہوگا لیکن ان کا نام شاید کسی کو معلوم نہیں ہوسکے گا۔

    چنیوٹ کے یہ انیس و دبیر مستری کہلاتے ہیں، اس چھوٹے سے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں رہنے والے ان فنکاروں کا سونے جیسا فن وہ سنہری تعزیے تعمیر کرتا ہے جن پے نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کے ماتم گسار عقیدت کے پھول چڑھاتے ہیں۔

    تعزیے کا لفظ یوں تو اس خطے میں مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں ایران میں واقعہ کربلا کی ڈرامائی تشکیل سے لے کر ہندوستان میں دھاتوں سے گھاس تک قسم قسم کی چیزوں سے بننے والی امام حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہوں تک سب کچھ شامل ہے.

    لیکن چنیوٹ میں بننے اور محرم میں جلوسوں کے ساتھ لے جائے جانے والے تعزیے لکڑی کی دلکش نقش و نگار والی کئی منزلہ عمارتوں جیسی شبیہیں ہیں جنہیں امام کے عقیدت مند اپنے کاندھوں پر اٹھا کر چلتے ہیں۔

    منوں وزنی اور پینتیس سے چالیس فٹ بلند یہ تعزیے لکڑی کے منقش تخت، ایسے ہی نقش و نگار والی لکڑی کی منزلوں اور چھتری نما چاند تارے والے حصے پالکی پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں آپس میں جوڑ کر تعزیے کو تیار کیا جاتا ہے۔

    تیار ہونے کے بعد ایک تعزیے کا وزن اتنا ہوتا ہے کہ اسے عام طور پر پینتیس سے چالیس افراد اٹھاتے ہیں۔

    محرم کی آمد کے ساتھ ہی تعزیے سجانے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے جس کا پہلا مرحلہ اس پر کیے گئے سنہرے رنگ کو تازہ کرنا اور پچھلے جلوس کے دوران ہونے والی کسی چھوٹی موٹی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت ہوتا ہے۔

    ان تعزیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تعزیہ خانے بنائے گئے ہیں جن سے ملحق کھلی جگہوں پر تعزیوں پر رنگ ان کی مرمت اور ان کے مختلف حصوں کو جوڑنے کا کام سر انجام دیا جاتا ہے۔

    سنہری رنگنے کے بعد ان تعزیوں کو محرم کے پہلے عشرے کی مختلف تاریخوں میں مختلف شکلوں میں سجایا اور نکالا جاتا ہے۔

    تعزیت کا یہ سفر جو تعزیوں کی تزئین و آرائش سے شروع کیا جاتا ہے مہندی، دربار اور سیج کی رسوم ادا کرتا ہوا محرم کی دس تاریخ کو مکمل تعزیے کی جلوس کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔

    عزاداری کی یہ مختلف رسمیں کربلا کے مختلف شہیدوں اور ان سے منسوب مختلف واقعات سے نسبت رکھتی ہیں۔

    مہندی کی عام طور سے سات محرم کو ادا کی جانے والی رسم امام حسین کے بڑے بھائی امام حسن کے کربلا میں شہید ہونے والے بیٹے حضرت قاسم سے منسوب ہے۔

    مہندی کی اس رسم کے لیے تعزیے کے تخت پر پالکی کو سجا کر تعزیے کو تیار کیا جاتا ہے، اس موقع پر حضرت قاسم کی شادی اور اس کے فوری بعد ان کی شہادت کی مصائب نوحوں کا عنوان ہوتے ہیں اور عزادار نوحے پڑھتے اور ماتم کرتے ہوئے سید شہدا کو کربلا کے نوشہ کا پرسہ دیتے ہیں۔

    اس موقع پر نوحہ خوانی اور ماتم کے علاوہ ادا کی جانے والی رسمیں مہندی کی مقامی رسموں سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہیں، موم بتیوں سے سجے مہندی بھرے تھال لیے کربلا کے دولہا کا پرسہ دینے کے علاوہ اس موقعے پر گھڑولی کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے ۔

    اس رسم میں رنگین کاغذوں اور کاغذی پھولوں سے سجے گھڑوں میں گھروں سے پانی لے کر نوحے پڑھتی اور ماتم کرتی تعزیے پر پرسہ دینے آنے والی خواتین پرسے کے بعد ان گھڑوں کو غم کے اظہار کے طور پر توڑ دیتی ہیں۔

    آٹھ محرم کو تعزیوں کو دربار کی شکل میں سجایا جاتا ہے، یہ دربار امام حسین کی شب عاشور اپنے اصحاب اور دوستوں کے ساتھ اپنے خیمے میں ہونے والی ملاقات سے نسبت رکھتا ہے۔

    مختلف روایات کی مطابق اس آخری ملاقات میں امام نے اپنے ساتھیوں کو اپنی جانیں بچا کر واپس چلے جانے کی اجازت دی تھی ۔ تاریخ اس مجلس کا شب عاشور ہونا لکھتی ہے لیکن تعزیہ داری کی رسم میں دربار آٹھ محرم کی رات سجایا اور فجر سے پہلے بڑھا دیا جاتا ہے۔

    شب عاشور تعزیوں کو سیج کی شکل میں سجایا اور جلوس میں لے جایا جاتا ہے۔ مختلف تعزیوں کے جلوس اپنے راستوں سے ہوتے ہوئے فجر کی اذان سے پہلے ایک میدان میں اکھٹے ہوتے ہیں اور نوحہ خوانی اور ماتم گساری کے بعد اپنے اپنے تعزیہ خانے کو لوٹ جاتے ہیں۔

    یہ سیج امام حسین کے بیٹے حضرت علی اکبر کے بستر عروسی کی علامت کے طور پر سجائی جاتی ہے۔ تعزیے کے تخت اور تین منزلوں پر مشتمل یہ سیج چھتری نما حصے کے ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے کونی سیج یعنی بغیر تاج کی سیج کہلاتی ہے۔

    ان جلوسوں کے رات کو نکالے جانے کی وجہ سے اس موقع پر تعزیے کی سجاوٹ برقی لائٹوں سے کی جاتی ہے۔

    دس محرم کو دوپہر کے قریب یہ تعزیے مکمل تعزیے کی شکل میں دوبارہ اپنے تعزیہ خانوں سے چلتے ہیں اور نوحہ و ماتم اور آہ و بکا کے شور میں اپنے مقررہ راستوں سے گزرتے ہوئے نماز عصر کے وقت اسی میدان میں پہنچ کر شہادت امام حسین علیہ السلام کا سوگ مناتے ہیں۔

    تعزیوں کے ان جلوسوں کی ایک خاص بات ان تعزیوں کے ساتھ ڈھول اور شہنائی کا بجایا جانا ہے۔ غم کے اس موسم میں موسیقی کے ان آلات کو پہلی پہلی بار دیکھ کے حیران ہونے والوں کو ان آلات کی بجانے والے مختلف روایات سناتے ہیں۔

    ان روایات یا وضاحتوں میں شہنائی پر ماتمی موسیقی بجائے جانے سے لے کر ڈھول کے طبل جنگ کی علامت ہونا بھی شامل ہے اور ڈھول کے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی فتح کے نقارے کے طور پر بجایا جانا بھی۔

    ان تعزیوں کی سجاوٹ عقیدت کے پھولوں کے علاوہ موسمی پھولوں کے ہاروں رنگین کپڑوں کی جھنڈیوں خشک میوے کے ہاروں اور برقی روشنیوں سے کی جاتی ہے۔

    عقیدت مند ان تعزیوں پر اجناس، پھلوں اور روپوں کی شکل میں اپنی عقیدت کے نذرانے چڑھاتے ہیں اور منت ماننے کے لیے تعزیے پر چڑھائی گئی چیزیں اٹھاتے ہیں، نذر نیاز کا سلسلہ ان تعزیوں سے جڑا ہوا ہے اور جلوسوں کے دوران جاری رہتا ہے۔

    عقیدت فن کی زلفیں کیسے سنوارتی ہے یہ دیکھنے کے لیے تو چنیوٹ کا سفر کرنا ضروری ہے ہی لیکن ان تعزیوں میں فن کی مہارت کے علاوہ بھی حیرت کے سامان موجود ہیں اور وہ یوں کہ اس ملک میں جہاں مسلک کی بنیاد پر قتل و غارت گری ہر مہینے کو محرم بنائے ہوئے ہے وہاں شہید کربلا سے منسوب ان تعزیوں کو بنانے، سجانے، اٹھانے اور ان پر آلِ رسول کا پرسہ دینے والوں کی اکثریت مسلک اہلسنت سے تعلق رکھتی ہے۔

    چنیوٹ میں تعزیہ داری اور مجالس عزا کے قیام پاکستان سے پہلے سے قائم سلسلے کا مسالک کی کسی تفریق کے بغیر جاری رہنا سلگتے فرقہ وارانہ تنازعات پر کسی پھوار کی طرح ہوسکتا ہے، ایک ایسی پھوار جس کے پس منظر میں عقائد کی رنگا رنگی رواداری کی قوس و قزح میں ڈھلتی ہے تو غم حسین اتحاد کا استعارا بن جاتا ہے۔

    ناموری کی خواہش اور فرقوں کے تعصب سے دور رہتے ہوئے اتحاد کی ان علامتوں اور فن کے ان شہ پاروں کو تخلیق کرنے کے لیے فن کی مٹی کا عقیدت کے پانی سے گوندھا جانا جتنا ضروری ہے اتنی ہی اہم تعزیے کو مرثیے کی طرح اپنے میدان کی ایک علیحدہ صنف بنا دینے والے فنکاروں کے فن کی ستائش ہے۔

    میر انیس جب دنیا سے گئے تو دبیر نے ان کی تاریخ کچھ یوں کہے تھی

    آسماں بے ماہ کامل سدرہ بے روح الامیں

    طور سینا بے کلیم اللہ و منبر بے انیس

    چنیوٹ کے ان انیسوں کو کوئی دبیر مل سکے گا یہ سوچنا بہت مشکل ہے ۔ ہر طرف جاری عقیدے کی جنگ میں ثقافت نشانے پر ہے اور اگر ثقافت شہید ہوگئی تو ہم ہلاک قرار پائیں گے۔

    ہلاک بھی ایسے کہ کہنے کو مرثیہ بچے گا نہ اٹھانے کو تعزیہ رہی تاریخ تو یہ فن تو اب یوں بھی ختم ہی سمجھیں۔

    http://urdu.dawn.com/news/1000869/chiniot-ky-anees-sa